تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

دوسروں کی رائے

مزاحمتی ادب کی ایک وقیع مثال ۔ عابد جعفری

مزاحمتی ادب کا تصور ہمارے یہاں زیادہ کثرت سے نہیں لایا گیا شاید اس لئے بھی کہ ہمارے ملک کی تاریخ جن غلط اطراف میں رواں دواں رہی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد ان اطراف کی نشان دہی ہمارے مجموعی ادب کا ایک نمایاں پہلو چلی آ رہی ہے۔ اور اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے۔ تو قومی زندگی کی صحیح سمت متعین نہ ہونے کی صورت میں ذہنوں کو جلا بخشنے والا جو ادب بھی وجود پذیر ہوتا رہا ہے۔ وسیع تر معنوں میں آپ اسے مزاحمتی ادب سے ہٹ کر کوئی دوسرا نام نہیں دے سکتے۔ مگر مخصوص تر معنوں میں مزاحمتی ادب کا تعین جبر و استبداد کے کسی ایک عہد کے حوالے سے زیادہ نمایاں حیثیت احتیار کر لیتا ہے۔ پاکستان میں پہلے بڑے مارشل لاء کے نفاذ کا دورانیہ بھی 1958ء سے 1962ء تک اور پھر مرضی کی جمہوریت کا دور 1962ء سے 1972ء تک برقرار رہا۔ اس طویل اور شخصی حکومت کے دور میں مزاحمتی ادب کے بہت سارے یادگار نقوش اجاگر ہوئے۔ مگر اس دور میں بھی زیادہ متانت تو اس عہد کے مجموعی ادب میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ البتہ حبیب جالب کے یہاں جذباتی شاعری کے بہت سارے نمونے معرضِ تخلیق میں بھی آئے۔ اور زبان زد خاص و عام بھی ہوئے۔ اس میدان میں بھی حبیب جالب اکیلے نہیں تھے۔ بہت سارے اور لوگوں نے بھی قومی اور علاقائی زبانوں میں تند و تیز مزاج رکھنے والے ادب کی تخلیق میں نمایاں حصہ لیا۔ حبیب جالب کا کمال یہ ہے۔ کہ وہ اس قافلے میں ایک سرخیل کی حیثیت رکھتے تھے۔ جنرل یحیٰ کا دور حکومت ہنگامی مزاج کا حامل تھا۔ شاید اس لئے کہ پچھلے ڈیڑھ دو عشروں میں ادبی سطح پر جو کچھ لکھا جا چکا تھا۔ اسے عملی صورت دینے لئے ایک طوفانی سیاسی محاذ دور ایوبی ہی میں انتہائی فعالانہ پس منظر کے ساتھ سامنے آ چکا تھا۔ بہر حال 1969ء سے دسمبر 1970ء تک کے عرصے میں بھی مزاحمتی ادب کی انڈر کرنٹس ہمارے ملکی ادب میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر رہیں۔

1971ء کا سال انتہائی ذہنی خلفشار کا سال تھا۔ جس کے اختتام پر ہمارا ملک دولخت ہوا۔ اور مزاحمتی ادب نے فریادی ادب کی شکل و صورت احتیار کر لی۔ 1971ء سے 1977ء تک کا عرصہ جمہوریت کی بحالی کا عرصہ قرار دیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں کہ اس دور میں اہلِ قلم حضرات حاموش رہے ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں تخلیق ہونے والا ادب اس مفہوم میں مزاحمتی ادب نہیں تھا۔ کہ یہ ادب کسی جابر حکمران کے جبر و استبداد کے خلاف لکھا جاتا۔ بلکہ اس دور میں حکومتی سطح پر جو گمراہ کن سازشیں عمل میں آئیں اہل قلم حضرات نے ان سازشوں کے حلاف شکائتی انداز میں اپنے اپنے مقامات پر یقیناً قلم کو جنبش دی۔ شاید اس لئے کہ جن طاقتوں کے خلاف مزاحمتی ادب تخلیق ہوتا رہا تھا۔ وہی طاقتیں دوبارہ جمہوری عمل کے درپے تھیں۔

تاریخی اعتبار سے مزاحمتی ادب کا مطالعہ اپنے اندر بہت سارے تقاضے رکھتا ہے۔ مگر زیادہ توجہ ہمیشہ اس مزاحمتی ادب پر مرکوز رہتی ہے۔ جو قریب ترین عہدِ ظلم و ستم میں ظہور پذیر ہوا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 1977ء سے 1988ء تک کے طویل دو رانئے میں جتنا ادب تخلیق ہوا اس میں دو طرح کے عوامل بڑی واضح صورت میں موجود ہیں جن میں سے پہلا تو یہ ہے کہ ابتدائی سالوں میں بہت سارے لوگوں نے ملک میں تیسرے بڑے مارشل لاء کے خلاف آواز اٹھائی مگر جوں جوں مارشل لاء کی گرفت مضبوط ہوتی گئی مزاحمتی ادب کی تخلیق بھی ماند پڑتی گئی شاید اس لئے کہ اس طرح کا ادب تخلیق کرنے والوں پر ملک کی چاندنی تک حرام قرار دے دی گئی مؤقف یہ تھا کہ حب وطن کے نام پر اہلِ قلم حضرات مارشل لائی قوتوں کا ساتھ دیں۔ بصورتِ دیگر انہیں غدار قرار دیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ اکاومی ادیبات پاکستان کے اجتماعی جشنوں اور میلوں کے باوجود مزاحمتی ادب نے انڈرکرنٹس کا رُوپ دھار لیاا جس کی بے شمار مثالیں ہمارے ادب میں شبِ تاریک میں ستاروں کی طرح جگمگاتی دکھائی دیتی ہے۔

ماجد صدیقی کا نیا مجموعہ غزل ’’آنگن آنگن رات‘‘ اس دورِ سیاہ کے آخری ایام میں مرتب اور اشاعت پذیر ہوا۔ جو دور قومی زندگی کے ساڑھے گیارہ سالوں پر چھایا ہوا تھا۔ اس کتاب میں مزاحمتی ادب کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ بلکہ کتاب کے مطالعے کے بعد یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے۔ کہ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کا اسی (80)فیصد حصہ انتہائی سنجیدہ اور معیاری مزاحمتی ادب کا ایک وقیع نمونہ ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے۔ کہ اس کے کسی ایک شعر پر بھی کھوکھلے پراپیگنڈے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کے تفصیلی مطالعے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کہ ماجد صدیقی کے نظم کے مجموعوں کے علاوہ غزل کے مجموعوں میں سے وہ نقوش ضرور تلاش کئے جائیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ان کے کچھ نمونے یقینا پیش کئے جا سکتے ہیں۔

ماجد صدیقی کے تیسرے مجموعہ غزل ’’ہوا کا تخت‘‘ میں سنجیدہ مزاحمتی ادب کی چند بہترین مثالیں ملاحظہ ہوں۔

ہیں لبوں پر خامشی کی کائیاں

زنگ آلودہ زباں ہے اور ہم

اے پیڑ تیری خیر کہ ہیں بادِ زرد کی

پیوست انگلیاں تری شاخوں کے بور میں

ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ

جنوں کے مرغ نہ تو بال و پر نکال اپنے

اُکتا کے زوالِ گلستاں سے

کر لی ہے مفاہمت حزاں سے

دیوار اک اور سامنے ہے

لے چاٹ اسے بھی اب زباں سے

کچھ ایسا رُک سا گیا عہد بے بسی جیسے

جمی ہے لمحوں کے چہروں پہ گرد صدیوں کی

کون سا سرچشمۂ آلام ہے اس قوم کا

دم بخود سارے ہیں لیکن سوچتا کوئی نہیں

مان لیتے ہیں کہ دیوار قفس سخت سہی

سر تو تھا پھوڑنے کو مُرغ گرفتار کے پاس

تنے بھی خیر سے زد میں اسی ہوا کی ہیں

شکست شاخ سے اندازۂ عتاب کریں

زباں کے زخم پرانے یہی سجھاتے ہیں

کہ اب کسی سے بھی دل کا نہ مدعا کہئے

کٹی جو ڈور تو پھر حرص اوج کیا معنی

کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا

یہ اور اس طرح کی بیسیوں اور مثالیں ماجد صدیقی کے مجموعہ غزل ’’ہوا کا تخت‘‘ میں بڑی آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اسی دور میں ماجد صدیقی کے ’’انگن آنگن رات‘‘ سے پہلے دوا اور مجموعہ ہائے غزل بھی منظر عام پر آئے جو ’’سخناب‘‘ اور غزل سرا کے ناموں سے اشاعت پذیر ہوئے۔

سخناب کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

مجرم نے پہلی پیشی پر

جو بھی کہا اس سے مکرا ہے

لوٹایا اک ڈنک میں سارا

سانپ نے جیتا دودھ پیا ہے

کڑوے پھل دینے والے کا

رشتہ باغ سے کب ملتا ہے

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لئے شہسوار کا ہے

ہوا بھی آئے تو کانٹے سی لگے بدن کو

وہ خوف زنداں میں تیغِ قاتل کی دھار کا ہے

چرخ سے وہ حدتیں برسیں کہ اب ایسا لگے

چاندنی سے بھی بدن جیسے ہو جل جانے لگا

کمالِ فن ہے یہی عہد نو کے منصف کا

کہ جو پکار بھی اٹھی کہیں دبا دی ہے

کوئی تو معجزہ دکھلائے گا فراق اس کا

ہر ایک رگ میں لہو جس سے اضطراب میں ہے

معاملہ ہی رہائی کا اس بیاں پر تھا

مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا

حق بجانب بھی ٹھہرتا ہے وہی بعد ستم

وصف طرفہ یہ مرے عہد کے سفاک میں ہے

کم نہ تھا وہ بھی جو ارضِ جاں کے ہتھانے میں تھا

پر کرشمہ اور ہی اس کے مکر جانے میں تھا

جاں نہ تھی صیاد کو مطلوب اتنی جس قدر

اشتیاق اس کا ہمارے پر کتروانے میں تھا

پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں

خوف سب گرداب کے ہم تک چلے آنے میں تھا

تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم

کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے

بس اتنا یاد ہے قصہ گرانی شب کا

کوئی گلاب نہ کھلتا دم سحر دیکھا

پنجرے میں صبا لا کر خوشبو یہی کہتی ہے

مشکل ہے گلستاں سے کچھ اور خبر لانا

شدتِ اشتہا سے جسم اپنا

کب سزاوار سنگ سار نہ تھا

وقت فرعون بنانے کسی کو کتنا ہی

ایک نہ اک دن وہ بھی ٹھکانے لگتا ہے

وہ بھی کیا شب تھی کہ جس کے حشر زا انجام پر

کانپتے ہاتھوں میں میرے صبح کا احبار تھا

ادھر فساد سبک اور گھنے اندھیروں میں

ادھر گماں کہ سیاہی فلک سے چھٹنے لگی

شباب پر ہے سفر واپسی کا ہر جانب

مہک بھی باغ میں اب سوئے گل پلٹنے لگی

یہ سورج کون سے سفاک دن کا

مرے صحنِ نظر میں آ ڈھلا ہے

اس کے ستم کا خوف ہی اس کا ہے احترام

چرچا جبھی تو اس کا سبھی چار سُو کریں

جب سے دیوانہ مرا ہے شہر میں

پاس بچوں کے کوئی پتھر نہیں

کم نہیں کچھ اس کی خو کا دبدبہ

ہاتھ میں قاتل کے گو خنجر نہیں

ایسا بگڑا نظام اعضاء کا

نت کمک کو ہمیں بخار آئے

انہیں کے سامنے جھکتے تھے عدل والے بھی

سلوک جن کا سرِ ارض غاصبانہ تھا

عدل ہاتھوں میں ایا تو اپنے لئے

جو بھی شے ناروا تھی روا ہو گئی

یہ لفظ تھے کل ایک جنونی کی زباں پر

بسنے سے ہے اس شہر کا ہونا بھسم اچھا

پہنچ گئے ہیں یہ کس مہرباں کی سازش سے

سکوں کی آس لئے جبر کی پناہوں میں

سر ہوئے تھے کبھی اتنے تو نہ عریاں پہلے

آندھیاں لے کے اڑیں اب کے ردائیں جتنی

آسماں ٹوٹا نہ گر پھٹ جائے گی خود ہی زمیں

آنگنوں کے حبس نے یہ راز ہے افشا کیا

ابھی مشکل ہے صحرا سے نکلنا

کہ چھاؤں میں ابھی پانی بہت ہے

چھین لی تھی کمان تک جس سے

آ گئے پھر اسی کے داؤ میں

کیا یہ شب ہے کہ جس میں جگنو بھی

دور تک راستہ سجھاتا ہے

سامنا ہے ہمیں اس عادل کا

دے نہ مہلت بھی جو صفائی کی

دھار تلوار کی نگاہ میں ہے

شوسر پر ہے تازیانے کا

ہاتھ لتھڑے تھے لہو سے جن کے

مرنے والوں کے عزادار بنے

دھجیاں اس کی بکھر کر رہ گئیں

جس ورق پر عکس تھا اقرار کا

ماجد صدیقی کے مجموعے ’’غزل سرا‘‘ کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ بجائے خود ایک مجموعہ غزل ہے اور دوسری یہ کہ ماجد صدیقی نے اس عنوان کے تحت اپنے پانچ مجموعہ ہائے غزل کو یک جا کر دیا ہے اور اب اس کا 1987ء تک کا کُلیاتِ غزل اس عنوان سے مطبوعہ صورت میں موجود ہے کلیات غزل میں شامل مجموعوں کے نام ہیں۔ -1آغاز، -2تمازتیں، -3ہوا کا تخت، -4سخناب، -5غزل سرا۔

مجموعہ ’’غزل سرا‘‘ میں ماجد صدیقی نے مزاحمتی ادب کی شاید اس لئے بھی زیادہ منور مثالیں قائم کی ہیں کیونکہ ملکِ عزیز میں حبس دوام کی صورتحال کافی حد تک حوصلہ شکن اور ناگوار ہو چکی تھی مزاحمتی ادب پر مشتمل غزل سرا کے بہت کم منتخبہ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

ہوئی ہے دم بخود یوں خلق جیسے

کوئی لاٹو زمیں پہ سو گیا ہے

عدالت کو وہی دامانِ قاتل

نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دھلا ہے

جو خود لہج رو ہے کب یہ فرق رکھے

روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے

عصمتوں کی دھجیاں کیا کیا اڑیں اس شہر میں

دیکھنے سے جن کے مائیں مرگئیں اس شہر میں

دور لگے وہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں

پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھائے گا

جو بھی قیمت ہے کسی کی وہ جبیں پر لکھ لے

یہ منادی بھی سر شہر کرائی جائے

وسعتِ شب کو بڑھتا دیکھ کے ہے ہم نے بھی

اپنا اک اک حرف سحر آثار کیا

مرضی کا برتاؤ اندر والوں سے

باہر والوں سے ہے جنگ اصولوں کی

دن کو بھی اب یوں ہے جیسے آنکھوں میں

سرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے

پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھانے کی سوچتے

بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز دیکھ لینا

جو خبر بھی آتی ہے ساتھ اپنے لاتی ہے بات اس قدر یعنی

قافلہ اُمیدوں اب تلک یونہی لپٹا گردِ رہ گزر میں ہے

ہونٹوں نے بھی لو زہرِ خموشی سے چٹخ کر

سیکھا وہی انداز جو مرغوب شہاں ہے

کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھول جدا

سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی

کیا خبر ذلتِ پیہم ہی جگا دے ان کو

شہر کے لوگ نہ کیوں اور ستائے جائیں

خلقت شہر سے کیوں ایسی بری بات کہے

اس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے

اوروں کو بھی مجھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو

فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی

یہ بھید وسعت صحرا میں ہم پہ جا کے کھلا

کہ شہرِ درد میں ہم بے زبان کیا کیا تھے

شب المکے تصور سے یوں لگے جیسے اسی حیات میں اک اور ہو جنم دیکھا جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں

ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے

اثر جس کا مرض کی ابتداء تک ہی مسلم تھا

ملے بھی گر تو وہ نسخہ بھلا اب کارگر کب ہے

وہ مرے ٹوٹے ہوئے پر دیکھ کر

کھل اٹھا ہے حاصل شر دیکھ کر

خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے

اس شہر کا اک شخص بھی بیدار نہ دیکھا

یہی دعا ہے کہ بے آب ہوں نہ حرف مرے

سزا کوئی بھی وہ دے عجزِ بے نوائی نہ دے

جھول رہے ہیں جس کے تُند بہاؤ پر

دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں

کشتی کے پتوار نہ ل ہی سے جل جائیں

ہر راہ رو کے ذہن میں ایک یہی چنتا ہے

مبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

کرنی کر کے ہے یوں آمر بھول گیا

ڈنک چھبو کر جیسے اژدر بھول گیا

ایک سی چپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو

کچھ ہو نہ جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں

نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا

ہمیں لگا ہے جو روگ ماجد سخنوری کا

ماجد صدیقی کا تازہ مجموعہ غزل غزل سرا کی اشاعت کے بعد کا سرمایۂ فکر ہے جو 1988ء کے دوران منظرِ عام پر آیا ہے ملک عزیز میں یہ سال انتہائی حبس کا سال تھا اس لئے کہ تمناؤں کا سبزہ ہر کہیں سنگِ گراں کے تلے ہمیںہ ہمیشہ کے لئے دبتاکھائی دے رہا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے حبس کی جڑیں شریانوں تک میں اُتر چکی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ 1958ء کے مارشل لاء کے جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانے والا ماجد صدیقی اگست 1987ء اور اگست 1988ء کی مدت کے دوران آنگن آنگن رات کے عنوان سے ایک اور مجموعۂ غزل ہمارے سامنے لایا یہ بات طے ہے کہ ماجد صدیقی واویلا بھی کرتا ہے تو اتنی فنی مہارت کے ساتھ کہ:

جو غم ہوا اسے غمِ جاناں بنا دیا

کی تصویر صاف صاف آنکھوں میں لہرانے لگتی ہے اور یہ فیضان انتہائے کرب کا ہے یا ماجد صدیقی کی دردمندانہ مشاقی کا کہ اس کا یہ مجموعہ اوّل سے آخر تک سرتاپا انہی دو خوبیوں سے لیس ہے اور یہ بات بڑے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آنگن آنگن رات کا کوئی بھی دیانت دار نقاد اس کتاب کی خوبیوں کا احاطہ کسی ایک مقالے کی صورت میں نہیں کر سکتا ہمارے اس دعوے کا یقین نہ آئے تو آنگن آنگن رات کا انتہائی محدود انتخاب دیکھ لیجئے جو آئندہ سطور میں دیا جا رہا ہے ماجد صدیقی کا فن بذاتہ آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گا انتخاب ملاحظہ ہو۔

وہ فرطِ قحط نم ہے کہ ہر شاخ ہے سلاخ

پنجرے کو مات کرنے لگا ہے چمن تمام

ناتوانوں کے کوائف جام میں کر لے کشید

ہم ہوئے جس عہد میں اس عہد کا جم اور ہے

مجھ پہ کھل پائی نہ جوہڑ کی سیاست ماجد

گرچہ تھا رفعت ہر کوہ کا ادراک مجھے

آئے نہیں ہیں بس میں ابھی ضابطے تمام

سانچے میں اپنے ڈھال عدالت کچھ اور بھی

ناخلف لوگوں پہ جب سے پھول برسائے گئے

شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اگنے لگیں

کب کوئی سانپ دبا لے کوئیں شاہیں آلے

چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا

وہ دیکھ فکر کو ماجد نئی جِلا دینے

فضا سے اور بگولے نظر پہ اُترے ہیں

صیدِ تخریب ہوا میں تو ہوا عدل یہی

پرسش شاہ کا اعزاز مرے نام لگا

وہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے

لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے

راندۂ خلق ہے جو پاس تمہارا نہ کرے

درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا

اے کاش وہ نوعیتِ بخشش بھی سمجھ لے

ہم پر جو سخی لطف و کرم کنرے لگا ہے

ہوئے تھے حرص سے پاگل سبھی کیا دوڑتا کوئی

لگی تھی شہر بھر میں آگ جو، اس کے بجھانے کو

نوالے کیا یہاں خالص نہیں حرفِ تسلی تک

سبھی میں ایک سی افیون ملتی ہے سُلانے کو

کام میں لا کر عمریں بھی اب کون سمیٹے گا اس کو

پھیل چکی ہے جو بے سمتی نصف صدی کے سالوں پر

گھر گھر فریادی بانہوں کی فصل اُگی تھی

شہر کا موسم کیوں ایسا تھا یاد نہیں ہے

جُگنو جُگنو روشنیوں پر لوٹ مچاتے

اس کا ماتھا کب چمکا تھا یاد نہیں ہے

وہ جس کے ہاتھ میں کرتب ہیں اس کی چالوں سے

لُٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گماں کیا کیا

کون کہے بیوپاری سودا اغواء ہونے والی کا

کن کن سنگ دلوں کے آگے کس کس طور چکائے گا

شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت

کرنے کو اچھا بھی کرے تو کیا اچھا کر پائے گا

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ

کس مغوی طیارے میں محصور ہوئے ہم آپ

کیا یہ میرا ہی نگر ہے اسے ہوا کچھ تو بتا

ساری دیواریں سلامت ہیں چھتیں اتری ہوئی

اک جانب پچکار لبوں پر ہاتھ میں دُرہّ اس جانب

تانگے والا جان چکا گر گھوڑا تیز چلانے کا

وہی جو سانپ کی یورش سے اٹھے آشیانوں میں

سماعت درسماعت بس وہی چہکار غالب ہے

مجھے اک عمر جس شاطر نے پابند قفس رکھا

وہی اب منتظم بھی ہے مرے جشنِ رہائی کا

پتھر کے تلے اُگتے اور زیر عتاب آئے

جُگ بیت گئے ماجد اس جاں پہ عذاب آئے

حرص کی بین پہ کھنچ کر نکلے تو یہ کُھلا

دیش پٹاری میں بھی اژدر کیا کیا تھا

خدشہ ہے نہ کٹ جائے شعلے کی زباں تک بھی

ہر رنج پہ رسی سا چپ چاپ جلا جائے

جوابر بانجھ ہے اس سے کہو کہ ٹل جائے

تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی

دستک سے، سرِ شہر پڑاؤ کو جو دی تھی

ایسے بھی ہیں کچھ جن کو یہاں راج ملا ہے

شر سلیقے سے سجا ایسا نہ رحل خیر پر

جیسی اب ہیں ظلم کی دلداریاں ایسی نہ تھیں

جھوٹ کا عفریت یوں سچ پر کبھی غالب نہ تھا

جابجا خلقت کی دل آزاریاں ایسی نہ تھیں

چاہے وہ جائے دفن بھی سب سے الگ تھلگ

نخوت ہے اس طرح کی دل تاجدار میں

ریوڑوں نے کی نہ تھی یوں پاسبانی گرگ کی

ظلم کو ماجد تحفظ یوں بہم دیکھا نہ تھا

گل پریشاں ہیں تو جھونکے نارہیں اب کے برس

سارے ارکانِ سکوں نادار ہیں اب کے برس

لب و زبان پہ چھالوں جبیں پہ سجدوں کی

غلامیوں نے ہمیں دیں نشانیاں کیا کیا

غرض اس سے نہیں ہے سلطنت رہتی ہے یا جائے

یہاں جو مسئلہ ہے وہ بقائے تاجور کا ہے

تا حشر نفرتوں کا نشانہ رہے جہاں

ایسی جگہ مزار ستم گر بنا دیا

وکھری خوشبو کی شاعری ۔ خالدہ ملک

احمد علی سائیں اور باقی صدیقی کے دیس کا ایک شاعر آج کل تھوک کے بھاؤ اپنی تخلیقات کے انبار لگا رہا ہے اور وہ خوش نصیب بھی ہے اس لئے کہ اس کی کتابیں دھڑا دھڑ چھپ کر اہل شوق کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہیں۔

وہ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں مقفیٰ اور مسجح نظموں کے علاوہ آزاد نظمیں بی تخلیق کرتا ہے۔ اس کی کتاب ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ کے آغاز میں اس کی ’’پہلی گل‘‘ ملاحظہ ہو۔

ایتھے بیبا اوہ ائی بول سچجڑے نیں

چھاپ جنہاں تے ہووے نگھے چھل ول دی

اچیاں باتاں دی تھاں اپنی چنگیاں نیں

وکھری وکھری خوشبو ایتھے گل گل دی

اور یہی ’’وکھری خوشبو‘‘ اس کے اشعار میں جا بہ جا بکھری پڑی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی یہ خوشبو خالصتاً اس کی اپنی ہے۔ ماجد صدیقی کا ذوقِ جمال ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی مشق نہیں کرتا بلکہ:

بدلاں ورگی اوس کڑی نوں کیہ کیہ پیچے پاندا سی

شوق ساڈا سینے دے وچ بلدی اگ بجھاون دا

یہ بات مسلمہ ہے کہ ابھی پنجابی غزل کی عمر کچھ زیادہ نہیں مگر ماجد صدیقی نے پنجابی غزل کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کو کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غزل کی تخلیق میں وہ محض خیال بندی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے تجربات و مشاہدات کے علاوہ غمِ ذات کو بھی ایک ایک شعر میں سمو دیتا ہے۔

کس سیمو دھرتی تے سکھ عمارت دی نینہہ رکھی سی

مکن وچ ائی کاج نہ آوے گارے اٹاں ڈھوون دا

ماجد کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے احساسات کو نہایت سادگی و آسودگی سے لگی لپٹی رکھے بغیر الفاظ کا جامہ پہنا دیتا ہے۔

ماجد بن سچیار

گل کریئے دو ٹوک

وہ جھوٹ کی اس نگری میں سچ کا ڈھنڈورا پیٹنے نکلتا ہے مگر اس راہ میں بھی اس کا سامنا جن جن کڑوے اور کسیلے حقائق و واقعات سے ہوتا ہے وہ ان سے صرفِ نظر نہیں کرتا انہیں اپنے شعروں میں پروتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک وارداتِ دل کو چھپائے بغیر کہہ دالنا ہی عظیم صداقتوں کی آئینہ داری ہے۔

ایس نتھانویں شوق نے رکھیا وچ فریب دے

ریشم جہنوں جانیاں اوہ منجیاں دا وان سی

ماجد ایک ایسا شاعر ہے جو عصر حاضر کے ایک ایک تقاضے سے بخوبی آگاہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کی ہر حکایت بھی انتہائی خوش سلیقگی سے برابر کہتا چلا جا رہا ہے۔

ماجد چپ دا اوڑھنا کرئیے لیر و لیر

ہسیئے اتھرو روک کے اکھیاں لئے دھو

زندگی جدائی دیاں

کندھاں پئی اساردی

ماجد کا مشاہدہ غم وہ اندوہ کے جملہ عناصر سے ہمکنار ہے وہ بظاہر کسی بھی بے حقیقت واقعہ کو بے مثال شعر کا قالب بخش دیتا ہے جیسے کوئی اچھا صحافی ادنیٰ سی بات کو یادگار خبر بنا دیتا ہے۔

آہلنیوں اک بوٹ سی ڈگا

چڑیاں چڑ چڑ چوں چوں لائی

کال کلوٹا کا گا ہسیا

چڑیاں دی اکھیاں وچ پھر گئی

بھڑی موت دی کال سیاہی

کوئی اخباری مل جاندا تے

ایہہ وی خبر تے واہ واہ آہی

ماجد کے یہاں تشبیہہ کا حسن اور اظہار کی شدت یوں گھل مل جاتے ہیں جیسے ہوا میں خوشبو۔

شعر ہون ماجدا

جئوں گل دکھی نار دی

دھرتی کا دکھ ماجد کا حقیقی دکھ ہے مگر کبھی کبھی مزاحیہ اشعار سے بھی وہ اپنی شاعری میں چکا چوند پیدا کرنے سے نہیں چوکتا۔ شاید اس لئے کہ مزاحیہ شاعری بھی وہی شخص کر سکتا ہے جو اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہو۔ ماجد کے پنجابی کلیات ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ میں مزاحیہ شاعری کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے جس کا عنوان ہے۔ ’’ہاسے دا سبھا‘‘ جس کی بیشتر نظمیں انتہائی وقیع مزاح کی مثالیں ہیں۔

غرض ماجد صدیقی اپنے پنجابی کلیات میں اپنی شش جہات سمیت کھل کر سامنے آیا ہے لہذا اگر ہمیں ساتویں رستے پر جانے سے روکا بھی جائے تو ہم رک نہیں سکتے اس لئے کہ ماجد کی شاعری ایسی جادو اثر صدا ہے جسے سن کر بڑھا تو جا سکتا ہے رکا نہیں جا سکتا۔

انسان اور انسانیت ۔ ناصر زیدی

ماجد صدیقی کی نظموں کا مجموعہ ’’یہ انسان‘‘ 35 نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں میں طویل بی ہیں، مختصر بھی اور طویل ترین بھی۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے نظموں کا موضوع بیشتر انسان اور انسانیت ہے۔ متعدد نظمیں شاعر کی اس درد مندی اور گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں جو اسے اپنی مادر وطن سے ہے۔ اور جس کی بہترین اور بسیط مثال ایک طویل نظم ’’یاور کے نام‘‘ ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اپنے ننھے بچے سے تخاطب کے رنگ میں وطنِ عزیز کو موضوع سخن بنایا ہے اور بیک وقت تاریخی حوالوں اور خوش آئند ذائقوں کو یک جا کر دیا ہے۔ اس نظم کے خالق کا اندرونی کرب پڑھنے والے پر بھی بخوبی منکشف ہو سکتا ہے۔

زیر نظر مجموعے کی دوسری بلکہ پہلی بڑی نظم ’’یہ انسان‘‘ ہے جس سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ اس نظم کو بھی بلاشبہ اردو کی طویل ترین نظموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس نظم کا تناظر، موضوع کے اعتبار سے بے حد وسیع نظر آتا ہے اور قوموں کی بقاء کے تقاضوں کی روشنی میں شاعر ہمیں عالمی امن کا شیدائی دکھائی دیتا ہے۔

طویل نظموں میں بالعموم یہ نقص رہ جاتا ہے کہ و ہ قاری کو ساتھ لے کر چلنے سے بعض حالات میں قاصر نظر آتی ہیں لیکن زیر تبصرہ مجموعے ’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ماجد صدیقی نے کیونکہ پنجابی زبان میں بھی اسی طرح کی طویل نظمیں کہی ہیں اور انہیں تنوع کا ایک ایسا پیکر عطا کیا ہے کہ قاری اکتاتا نہیں چنانچہ ماجد نے اپنی پنجابی نظموں کا وہی انداز ان اردو نظموں میں بھی برقرار رکھا ہے۔

’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا جو لہجہ ہمارے سامنے آیا ہے۔ وہ خاصا توانا ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ماجد صدیقی نے اپنی آواز کی اس گمبھیرتا کو اردو میں بھی سلامت رکھا ہے جو اس کی پنجابی نظموں کا خاصہ ہے۔ ماجد صدیقی چونکہ پنجابی شاعری کے راستے اردو میں در آیا ہے لہذا اس کے زیادہ تر موضوعات بھی اس کی پنجابی شاعری کی طرح اس کے نہایت قریبی ماحول سے ابھرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’خدا کرے‘‘ ایک ایسی نظم ہے جو شہید خدمت ڈاکٹر متین صدیقی مرحوم کی ادائیگی فرض سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے جو مشہور پنڈی وائرس کا شکار ہو گئے تھے۔ نظم ان مصرعوں پر ختم ہوتی ہے۔

خدا تری اس مثالِ یکتا کو

اور ذہنوں میں بھی بسائے

ہمارے چاروں طرف جو عیاریوں کا ایک جال سا بچھا ہے

وہی کہ آکاس بیل بن کر پنپتی شاحوں کے درمیاں ہے

کی کا دستِ شفیق

تیری شہادتِ بے مثال کو منتہائے صدق و صفا سمجھ کر

خدا کرے

ان رگوں تلک بھی پہنچنے پائے

کہ جن میں کتنے طویل برسوں سے

ناتواں اور علیل و فاسد لہو رواں ہے

گلاب کی پتیوں جیسی کم سنی ۔ بیدار سرمدی

ماجد صدیقی ہمارے عہد کے ان شعراء میں سے ہیں جو عصر حاضر کی واردتوں اور دل کی واردتوں کو ایک ساتھ اپنا موضوع سخن بنا تے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جس میں سکون کا لمحہ ایک بڑے دائرے کے بعد آتا ہے چنانچہ پت جھڑ کی سنگینیوں، رِستے ہوئے زخموں، گرد آلود ہوا کے جھونکوں اور ناہموار زمین کی مسافتوں کے تجربے دوسرے حساس ذہنوں کی طرح ماجد صدیقی کے یہاں بھی ہمیں بڑی بہتات سے ملتے ہیں ماجد صدیقی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے کلام میں کہیں بھی بوجھل ن نہیں آنے دیتے۔ یوں لگتا ہے جیسے گلاب کی پتیوں جیسی کم سنی ان کے سارے کلام کا خاصہ ہے وہ کسی سے شکوہ کریں کسی کو یاد کریں یا کسی کو اپنے دل میں آباد دیکھیں ہر کسی کا ذکر انتہائی رواں اور شُستہ زبان میں کرتے ہیں اور پڑھنے والا یوں سمجھتا ہے جیسے ماجد صدیقی کا کلام اس کا اپنا کلام ہو جسے اس نے اپنے بے تاب جذبوں کی ترجمانی کے لئے خود تخلیق کیا ہو۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔۔۔

قبر پہ جل مرنے والے کی

ایک دیا اب تک جلتا ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

سبھی رُتوں کی طرف سے اسے سلام کہ جو

کھلے گلاب کی مانند کشت خواب میں ہے

ہمیں گوارا ہے عمر جیسے بھی کٹ رہی ہے

کسی سے کرنا ہے ذکر کیا کرب کے سفر کا

یہ اور اس طرح کے ان گنت اشعار ماجد کے کلام میں جا بہ جا نگینوں کی طرح دمک رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس گراں بہا سرمائے کو برابر بڑھاتے چلے جائیں گے۔

کھلی آنکھوں کی شاعری ۔ ذوالفقار احمد تابش

گزشتہ دس پندہ سال کے عرصے میں جو شاعر متعارف ہوئے ہیں۔ ان میں ماجد صدیقی ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ان کی اُردو شاعری کا پہلا مجموعہ ہے۔ جو آغاز کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

ماجد کی شاعری شعور اور کھلی آنکھوں کی شاعری ہے۔ ان کو اپنے عہد کی سنگینی کا ادراک ہے اور یہ ادراک بڑے سہج سبھاؤ کے ساتھ ان کی شاعری میں رچا ہوا نظر آتا ہے نعرے بازی غلغلہ اور شور کہیں نہیں ہے۔ بلکہ ایک گہرے دریا کی خاموش اتھاہ روانی ہے جو شاعر کی وسعتِ نظر اور عمق دل کا احساس دلاتی ہے۔ گو بعض بعض جگہوں پر روائیتی انداز کے رومانی یا نیم رومانی شاعری کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں مگر ان سے مفر شاید اس لئے بھی ممکن نہ تھا کہ اپنی روائت سے یکسر رشتہ توڑ لینا بھی تو کوئی آسان کام نہیں۔۔۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ ایسے اشعار میں بھی ماجد کے ہاں سلیقہ اور طریقہ ہے۔ شاید اسی بات کو کرنل محمد خاں صاحب نے بڑے خوبصورت انداز میں، ماجد کی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے، یوں بیان کیا ہے۔

روایت کے زینے پر کھڑے ہو کر وہ جدت کے نئے نئے اُفق تراشتا ہے اس کا ہر شعر ہماری انفرادی یا سماجی زندگی کی ایک ایسی تصویر ہے جو ہمیں نہ صرف لطفِ نظارہ بخشتی ہے بلکہ دعوتِ فکر بھی دیتی ہے۔

ماجد کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

میں خود ہی کھل اٹھوں گا شگفت بہار پر

موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے

میں آسمان بھی تھا اور تو چاند بھی لیکن

گھرا تھا ابر سے برسوں میں آ کھلا ہوں میں

تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا

مجھے یہ دکھ ہے کہ اس میں الجھ گیا ہوں میں

مرے عذاب کو ماجد یہ سوچ کیا کم ہے

کہ ہوں تو پھول مگر دشت میں کھلا ہوں میں

ماجد غزل اور نظم یکساں مہارت سے لکھتے ہیں۔ ان کی شاعری نرم اور دھیمے انداز کی شاعری ہے۔ بلند بانگی اور کرختگی ان کی شاعری میں تقریباً معدوم ہے لیکن جذبہ اور سوچ ان کی شاعری میں کھل کر سامنے آتے ہے۔ وہ محض جذباتی سطح کی شاعری کے قائل نہیں ہیں بلکہ ناقدانہ اور تجزیاتی رو ان کے پورے کلام میں ساتھ ساتھ چلتی ہے چند شعر ملاحظہ ہوں۔

کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو

کوئی نمو کا بھی رُخ دیجئے زمانے کو

لہو سے لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے

گیا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو

پہلو میں تھے بہار کے خیمے تنے ہوئے

ہاتھوں میں تھا مرے ترا چہرہ گلاب سا

معیار اور مقدار کا موازنہ ۔ انوار فیروز

’’آنگن آنگن رات‘‘ اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ماجد صدیقی کی اردو غزلوں کا مجموعہ ہے جس میں 93غزلیں اور چند نا تمام اشعار شامل ہیں۔ ماجد صدیقی کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ کہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے کلام میں کہیں جھول نہیں آتا۔ اور نہ ہی ان کے کسی شعر کو بھرتی کا شعر قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں یہ کتاب غالباً ان کی چالیسویں کتاب ہے جو مارکیٹ میں آئی ہے یعنی بقول جمیل الدین عالی ان کا کلام کیا معیار اور کیا مقدار ہر دو اعتبارات سے بہت کچھ لکھنے کا متقاضی ہے۔

ماجد صدیقی کا فنی سفر جاری اور اللہ کرے مدتوں تک جاری رہے۔ ان کی شاعری اردو اور پنجابی ادب میں گراں بہا اضافہ ہے۔ ان سے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ مسلسل سرگرم سفر ہیں تھک ہار کر بیٹھ نہیں رہتے۔ ان کی شاعری میں آج کے دور کی دھڑکنیں اور جذبے کار فرما ہیں ان کی تازہ شاعری کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں۔

وہ خوف ہے کہ شدت طوفاں کے بعد بھی

دبکے ہوئے ہمیں باغ میں سرود سمن تمام

ماجد یہ کس قبیل کے مہتاب ہم ہوئے

لکھے ہیں اپنے نام ہی جیسے گہن تمام

ان کی خاطر ہی ملا دیدہ نمناک مجھے

یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے

ہاتھ فریاد کے اٹھنے پائے نہ تھے اور لب سل گئے

دیکھ کر ہم نے ماجد یہی بے بسی فیصلہ لکھ دیا

میں اس سے چاہتوں کا ثمر لے کے آ گیا

آنکھوں میں آنسوؤں کے گہر لے کے آ گیا

جہاں بھی سر انجمن شاہ بولے

بھلا ہے اسی میں کوئی لب نہ کھولے

زعم ذہنوں سے عدل خواہی کا

خاک اور خوں کے درمیاں اترا

سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے

منہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

نشتر جیسی تیز

ماجد تیری بات

بھولنے پر بھی دھیان جابر کا

پاس رہتا ہے پاسباں جیسا

ایسا تو اتلاف نہ دیکھا جانوں کا

انسانوں نے چکھا ماس انسانوں کا

گزارش احوال واقعی ۔ نثار احمد جمیل

ماجد ثدیقی کا نام اردو اور پنجابی شاعری کے حوالے سے اجنبی یا نامانوس نہیں۔ یہ شخص ایک طویل عرصے سے کسی نہ کسی طور پر شعر و ادب کی خدمت کر رہا ہے پچھلے چند سالوں میں ماجد صدیقی کی کئی کتابیں منظرِ عام آ چکی ہیں اس وقت میرے پیش نظر ماجد صدیقی کے دو مجموعے ’’ہوا کا تحت‘‘ اور ’’یہ انسان‘‘ ہیں آج ان دونوں پر گفتگو مقصود ہے ’’ہوا کا تخت‘‘ 225صفحات پر مشتمل اور دل آویز ٹائٹل کی حامل ہے اس میں 111غزلیں ہیں اور ان میں حروف تہجی کی ترتیب کار فرما ہے ماجد صدیقی کا یہ شعری مجموعہ دیکھ کر اس کی پہلی کتاب آغاز کا یہ شعر یاد آ رہا ہے۔

بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصورِ حسن

یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے

اور اب احساس ہوتا ہے کہ شاعر کے فکری اوج کی منزل اگرچہ دور ہے لیکن اس کا سفر بڑی صحیح بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے ماجد صدیقی کی غزل کو دیکھ کر اس الزام کی نفی ہوتی ہے کہ اردو غزل انحطاط اور بحران کا شکار ہے غزل کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حالات کی کروٹوں اور سماجی تغیرات پر بے ساختہ ردِعمل زندگی کی محرومیوں اور پیچیدگیوں کے خلاف بھرپور احتجاج اور روشن نظامِ حیات کے لئے نعرۂ مستانہ اردو غزل کا نشانِ امتیاز رہا ہے۔ جب کبھی انسانی تفکر پر جمود اور بے حسی کے آثار طاری ہوئے ہیں غزل کے خیال انگیز نغموں نے ہی زندگی کی لہریں رواں دواں کی ہیں ماجد صدیقی کی غزل سے یہ تصور واضح طور پر اُبھرتا ہے کہ وہ انسانیت کے عالمگیر رشتوں کا پرستار ہے اور محبت فاتح عالم کو جزو ایمان سمجھتا ہے میرے خیال میں یہی اس کی شاعری کا اساسی جذبہ ہے اس کی غزل کے مجموعی پیکر پر جس جذبے کا غلبہ ہے وہ انسانیت یا ہیومن ازم ہے۔ شاعر کے وژن میں جو وسعت اور پھیلاؤ ہے اس کی وجہ فن سے آگہی، مزاجِ غزل سے آشنائی اور تاریخِ غزل پر عبور ہے اپنے لب و لہجہ اور جذبے کے پھیلاؤ کے لحاظ سے ماجد غزل کو نئی جہت اور نئی روشنی عطا کرنے والا شاعر ہے کچھ شعر ملاحظہ کیجئے۔

پوچھا یہ کس نے حال مری بود و باش کا

چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنور میں

چمن میں برق نے پھر کی ہے کوئی صناعی

ہوا کے ہونٹ جبھی واہ واہ کرتے رہے

غزل کی تہذیبی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے نئے احساس و رحجان کے ساتھ اس کے تجربوں کا سفر جاری ہے ان اشعارپر غور کیا جائے تو ماجد صدیقی جہاں غزل کی روائتی سج دھج کے ساتھ نئے لہجے اور نئی زبان کے پیوند سے سامنے آتا ہے وہاں یہ احساس بھی اُبھرتا ہے کہ اس نے ہر نئی بات کو دل نشیں انداز اور ہر پرانی بات کو ایک نیا رنگ دیا ہے اس کے ان اشعار میں اسلوب کا جو نیا پن اور جذبے کی جو شان ہے وہ والہانہ داد و تحسین کے قابل ہے۔

پسِ خوشبو بھی مرگِ گل کا منظر دیکھتے ہیں ہم

بہت مہنگا پڑا ماجد، ہمیں اہل نظر ہونا

ان اشعار میں مصحفی کی دھیمی دھیمی حسن کاری آتش کی مرصع سازی میر کی کسک یا ناصر کاظمی کی درد مندی کا احساس ہو تو ہو لیکن نفسیاتی مطالعہ سے شاعر کی ذات پوری انا کے ساتھ ان شعروں میں نمایاں نظر آتی ہے ماجد صدیقی جس لطافت سے غزل میں انفرادیت کا موڑ کاٹتا ہے میرے خیال میں اردو غزل کو پنجابی ذائقے سے آشنا کیا ہے وہاں الفاظ اور اظہار کے سلیقے نے ڈکشن کو لطیف اور سبک بھی بنا دیا ہے حالات کی سنگینی ہو یا جذبات کی لطافتیں، نوائے غم ہو یا خروش مسرت سوچ اور فن کا گہرا رشتہ ماجد صدیقی کے ہاں ٹوٹنے نہیں پاتا معاشرے کے خارجی ڈھانچے کی شکست و ریخت اور آشوبِ ذات کے تصادم سے الفاظ جب تصویروں میں ڈھلتے ہیں تو ماجد کے ذہنی زاویوں کی نشاندہی کچھ اس طرح ہوتی ہے۔

کیا سوچ کر زمیں سے اکھڑ سا گیا ہوں میں

اڑتی پتنگ ہی تو گری ہے مکان پر

اور پھر ؎

دیوار اک اور سامنے ہے

لے چاٹ اسے بھی اب زباں سے

یا یہ شعر:

نہیں ضرور کہ الفاظ دل کا ساتھ بھی دیں

یہ ذائقہ تو سخن میں کبھو کبھو آئے

میرے خیال میں ماجد صدیقی کو یہ کریڈٹ ضرور ملتا ہے کہ غزل کے وسیع کینوس کو رنگین اور چمکدار بنانے میں وہ انتہائی محنت سے کام لے رہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی انفرادیت اس کے مستقبل کی غمازی کرتی ہے۔

یہ تھرتھری سی کیوں ہے ابھی تک بروئے آب

ڈوبا ہے جو اسی کی پریشاں صدا نہ ہو

زباں کے زخم پرانے یہی سُجھاتے ہیں

کہ اب کسی سے بھی دل کا نہ مدعا کہئے

بھنور بھی جھاگ سی بس سطح آب پر لایا

جو تہہ میں ہے وہ ابھی تک ابھر سکا ہی نہیں

ماجد صدیقی کی کتاب ’’یہ انسان‘‘ اس کی نظموں کا مجموعہ ہے جس کا انتساب حضرت ابو ذر غفاریؓ کے نام ہے اور یہ نام جہاں شاعر کے مزاج کی عکاسی کر رہا ہے وہاں خارجی سطح پر علامت کے طور پر اہلِ نظر کو بہت کچھ سمجھا بھی رہا ہے ماجد صدیقی کی نظمیں ایک خاص جذبے خلوص اور درد مندی کی پیداوار ہیں ان نظموں کے مطالعہ سے ایک بات جو واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ شاعری کا اپنی دھرتی سے بے پناہ پیار، اور امن و آشتی کے آشتی کے پرچار کا جنون سماجی انصاف کے لئے جہد و عمل اور شاعرانہ ایمان ہے۔

نظموں کے اس مجموعے میں طویل تر نظم ’’یہ انسان‘‘ اسلوب کی وجہ سے جدید نظم کی خوبصورت مثال قرار دی جا سکتی ہے اس نظم میں نا آسودہ خواہشوں کی کسک جہاں شدید ہے وہاں معاشرتی مسائل پر نشتر زنی کا انداز بھی فنکارانہ ہے نظم ’’یہ انسان‘‘ دراصل ذات کے کرب، طبقاتی آویزش، معاشرتی ناانصافیوں اور انسانی شکست و ریخت کی المناک داستان ہے اس نظم میں فکر و خیال کے جو دائرے پھیلتے اور نئے اسلوب کے نئے پن کی جو لہریں رقصاں ہیں انہوں نے نظم میں ایمائیت اور ڈرامائیت کے خوبصورت امتزاج سے عجیب تاثر پیدا کیا ہے میرے خیال میں یہ نظم ایک لحاظ سے استحصالی نظام کے خلاف ایک اعلان نامہ ہے شاعر کے ذہنی اور فکری میلانات کی بھرپور عکاسی ’’لہولہو‘‘ حرفِ دعا ’’یاور کے نام‘‘ نظموں میں بھی ہوتی ہے ان تمام نظموں میں ماجد صدیقی کے داخلی آہنگ کی گونج پوری طرح سنائی دیتی ہے ہر چند یہ نظمیں موضوعاتی ہیں لیکن تخیلاتی حسن اور تخلیقی تموج کی مظہر بھی ہیں ان نظموں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں اُلجھے ہوئے علامت پسند شعراء کی روش کو اپنانے سے گرز کیا گیا ہے یہ نظمیں نہ صرف اسلوب کے لحاظ سے تازہ منفرد ہیں بلکہ مطالب کے لحاظ سے بھی دلکش اور دلفریب ہیں میرے خیال میں یہ انسان کا شاعر اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس نے پنجابی زبان اور شاعری کی حلاوت و حرارت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اُردو کے قالب میں ڈھال کر اُردو کو جہاں نیا ذائقہ فراہم کیا ہے وہاں زبان کے ایک پروموٹر کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔۔۔ ماجد صدیقی کے غزل اور نظم کے مجموعی تاثر سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ترسیل اور ابلاغ کے معیاروں پر پورا اترنے کے لئے شاعر ہمہ تن مصروف عمل ہے یہ الگ بات کہ آج کے نقاد کی نظر اس پر نہیں میرے خیال میں اگر ماجد صدیقی کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اس جرم میں اس پر مقدمہ چلایا جائے کہ تمہارے پاس شعر کہنے کا جوا کیاہے تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ماجد صدیقی کو عظیم قدروں کی ترجمانی اور انسانیت کا پرستار ثابت کرنے کے لئے اس کے وکیل کے پاس بے شمار مواد ہو گا اور ادب کی عدالت میں یہ سرخروئی کچھ کم اعزاز نہیں۔ ماجد کی شاعری کے متعلق میرا یہ تاثر محض جذباتی بیان نہیں بلکہ گذارش احوال واقعی ہے۔

ماجد صدیقی کا حسب نسب ۔ نثار احمد جمیل

ماجد صدیقی کا نثر نامہ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ میرے سامنے ہے کتاب کو دیکھ کر۔۔۔ گویا دلبستاں کھل گیا۔۔۔ مجھے چوبیس سال ادھر کا وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب عاشق محمد خاں نے بقائمی ہوش و حوا س ماجد صدیقی بننے کا ارتکاب کیا تھا۔

عصری لحاظ سے اس لالہ صحرائی کا ابتدائی جغرافیہ دھندلکے میں ہے۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عاشق محمد خاں قسم کی کسی چیز سے کم از کم ہمارا رشتہ کبھی نہیں رہا تکلف برطرف، ذوقی اعتبار سے ایسی سنگلاح زمین کے ناموں سے ہم کچھ محتاط ہی رہے ہیں البتہ ماجد صدیقی سے اپنی آشنائی اس وقت سے ہے جب وہ نہ کسی اخبار کا کالم نویس تھا نہ ریڈیو ٹی وی پر چہکنے والا شاعر اور نہ کسی کالج کا معلم، البتہ معصوم، خوش ادا اور پر بہار طبیعت کا نوجوان جو اساتذہ کو اس لئے عزیز کہ شرافت اس کا جوہر تھا یا لوگوں میں اس لئے مقبول کہ مرنجان مرنج، خوش وضع و خوش گفتار ہیئت ترکیبی میں دھان پان قسم کا نستعلیق نوجوان جو۔۔۔ تصویر کے پردے میں بھی عریاں۔۔۔ لیکن اپنے کھنکتے لہجے اور متحیر آنکھوں کی بنا پر سب سے مختلف اور منفرد یعنی وہی ماجد صدیقی جو کالج مشاعروں کی راہ سے مقبولیت کے ایوان میں داخل ہوا اور جلد ہی اہلِ دل نے اس کے اضطراب کو بھانپتے ہوئے یہ فتویٰ دے دیا۔

زندگی کے بیکراں سمندر میں جو تموج و تلاطم ہے۔ اس سے لڑنے، ٹکرانے اور سر پھوڑنے والے عام روش سے ہٹ کر چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی عمر اور شعور کا سفر توازن و تربیت کا پابند نہیں ہوتا۔ مشکلات و مسائل کی مہیب اور محکم چٹانیں ان کے عزم و حوصلہ کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ راہوں کے خوفناک پتھر ان کی آبلہ پائی کو ذوقِ سفر سے محروم نہیں کر سکتے۔۔۔ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے حوالے سے ماجد صدیقی کا حسب نسب کچھ ایسے ہی لوگوں سے ملتا جلتا ہے یوں تو۔

چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں لیکن ماجد صدیقی کی بے قرار طبیعت چونکہ صراطِ مستقیم پر چلنے سے الرجک تھی، لہذا انکشافِ ذات اور انکشافِ حیات کے جنون میں وہ ہم سے دور نکل گیا یعنی 

اوبہ صحرا رفت و مادر کوچہ ہا رسوا شدیم

یادش بخیر ہمیں یہ اطلاعات ملتی رہیں کہ اس شخص کو اپنی طَرفہ طبیعت کی بنا پر کسی مڈل سکول میں معلمی کی سزا بھی سنائی گئی۔ لیکن نالہ پابند نے نہ ہو سکا، اس شخص کے تیور نہ بدلے، ہر چند احباب اس کی اصلاح احوال کے لئے اپنی سی کوشش کرتے رہے اور محکمہ اپنی رایات کے مطابق اسے راہ پر لانے کے لئے حد سے گزرتا رہا۔ بعض جہاں دیدہ بزرگوں نے بھی مشورہ دیا کہ میاں جس راہ پر چل رہے ہو وہ مکے کو نہیں ترکستان کو جاتی ہے کیرئر کے تقاضے اور سودوزیاں کی نزاکتوں پر بھی چند عاقبت اندیش دوستوں نے عالمانہ لیکچر دیا اس شخص کو شوقِ فضول سے محفوظ رکھنے کے لئے یارانِ نکتہ دان نے غالب کا حکیمنہ مشورہ بھی دیا کہ:

کام اچھا ہے وہی جس کا مآل اچھا ہے

پس منظر کی یہ گفتگو آؤٹ لائنز کے طور پر اس لئے ضروری تھی کہ ماجد صدیقی کی تازہ نثری تصنیف صورت احوال آنکہ کے مطالعہ سے سرمستی و سربشاری کی جو کیفیت مجھ پر طاری ہوئی اس کے اسباب و محرکات واضح ہو سکیں اور یوں بھی کہ یہ کتاب میرے خیال میں مصنف کی تسبیح روز و شب کا بائیو ڈاٹا ٹائپ چیز ہے جسے علامتی اعتبار سے حیاتیہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مصنف نے اسے زندگی کی گرمر کہہ کر تسلیم کیا ہے کہ یہ اس کے احساسات و جذبات کا نگار خانہ ہے۔

اس کتاب میں ہر مرحلے اور ہر موڑ پر مصنف کی ذات نمایاں ہے احوال و واقعات کا خمیر جس فضا اور ماحول کا پیدا کردہ ہے وہ ہمارے لئے اجنبی نہیں ہمارے مروجہ نظامِ تعلیم میں تمام تر توجہ انسان کو محض عالم بنانے کی ضرورت پر مرکوز رہتی ہے تعلیم کے اس یکطرفہ عمل کے نتیجہ میں روحانیت اور مادیت میں خلا پیدا ہو چلا ہے تہذیب کا صورت گر یعنی معلم احساس محرومی اور شکست خوردگی کا شکار ہے معلم کے ساتھ معاشرتی سطح پر جو نا انصافیاں روا رکھی جا رہی ہیں ان کی سنگینی بالائے زخم ہائے دگرہے یہی کچھ نہیں بلکہ :

ہر کوئی چاک گریباں کا تماشائی ہے

ماجد صدیقی (جو کہ خداوند ان مکتب کا محرم راز اور نبض شناس ہے۔) کی نگاہ ان نفرتوں اور کدورتوں پر بہت گہری ہے جو اس طبقے کے بعض برخود غلط افراد کی وجہ سے علم و حکمت کے ایوانوں کو دھواں دھار کر رہی ہے۔

’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے معلم کا المیہ یہی ہے کہ وہ اس گھٹن اور تلخی کو محبت و ذہانت کی زمردیں وادی میں بدلنا چاہتا ہے اسی مقصد کے پیش نظر اس نے اپنے زخم ہائے پنہاں کو بھی نمایاں کیا ہے اور ان فتنوں کی یاد بھی تازہ کی ہے جو اہلِ مدرسہ کے طفیل بپا ہوئے۔

ہر کس ازدستِ غیر نالہ کند

سعدی ازدستِ خویشتن فریاد

صورت احوال آنکہ مصنف کے تجربات وہ مشاہدات ا ایکس رہے ہے جس میں حق و صداقت کی جھلکیاں بھی ہیں اور حالات کی سازشوں کے خلاف احتجاج بھی خوبصورت پہلو یہ ہے کہ مصنف کی شخصیت کا ارتقائی عمل ہیجان اور بحران کے شدید لمحوں میں بھی جاری ہی رہتا ہے کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں معاشی الجھنوں اور شعور و لاشعور کی کشمکش سے پیدا ہونے والی بد خوابی (Night Mare)کا احساس موجود ہے لیکن غم و الم کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرت کو ہی نہیں، غم و ام کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرک کو ہی نہیں، غم کو بھی گلے لگاتا ہے وہ سکون کو ہی نہیں تغیر کو بھی زندگی سمجھتا ہے غموں اور محرومیوں سے بھری ہوئی یہ زندگی اس کے لئے ایک نشاطیہ تجربہ ہے وہ جانتا ہے کہ غم کی پہچان ہو تو وہ بھی نشاط بن جاتا ہے۔

یہ کتاب ماجد صدیقی کا نیا سائیڈ پوز ہے اس سے پہلے پنجابی شاعری اور اردو غزل کے حوالے سے یہ شخص جانا پہچانا جاتا رہا نثر کے کوچے میں ماجد صدیقی کا یہ پہلا قدم ہے لیکن وہ اس کوچے کے آداب سے پوری طرح واقف ہی نہیں پورے رکھ رکھاؤ اور ایٹی کیٹ کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے جن لوگوں کو ماجد صدیقی سے کسی طور رابطہ و تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ شعر و ادب کی وادی میں اس نے بغیر کسی سہارے اور سرپرستی کے ایک طویل سفر تنہا طے کیا ہے زندگی اور ذہن کے اس سفر میں وجدان، علم اور مہارت کے جو چراغ جلے، خیال احساس اور تجربے کے جو پھول کھلے یہ کتاب ان کا گلشن صدرنگ یا مصنف کے جمالیاتی رُوپ کا دوسرا نام ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ اردو ادب میں مزاج اور معنویت کے اعتبار سے ایک ایسا تجربہ اور اضافہ ہے جو اسلوب کی دلاویزی اور پنجابی ذائقے کی وجہ سے منفرد بھی ہے، اور شگفتہ و شاداب بھی۔۔۔ واقعات کی بوقلمونی اور بیان کی دلکشی نے کتاب کو کیف آور اور خیال انگیز مزاج کا ایسا کیپسول بنا دیا ہے جس کے استعمال سے مردنی و بے کیفی، اعصابی کشیدگی و افسردہ خاطری جیسے ذہنی اور نفسیاتی عوارض سے نجات مل سکتی ہے۔

مزاحیہ ادب کی سپلائی لائن اگرچہ بڑی مضبوط ہے اور نئے مال کی آمد آمد کا ہر سو چرچا ہے۔ لیکن گرمیٔ بازار کے باوجود صورت احوال آنکہ اپنے گوناگوں محاسن اور مخصوص ڈکش ن کے پیش نظر بلاشبہ چیزدے دیگر ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ میں ماجد صدیقی کی تخلیقی زرخیزی جہاں جہاں بھی ہے وہ ہنوز سفر میں ہے اس کے فنی شعور کو دیکھ کر اس کے مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں

قومی آشوب کا شاعر ۔ پروفیسر سرور کامران

یہ ہماری ادبی بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آغاز ہی سے انسانی نفسیات کی خصوصی یافت اس کے ذکر و فکر اور اس کی گرمی ء گفتگو ہی کو صرف ادب اور شاعری کا نام دے دیا گیا ہے۔۔۔ نتیجتاً جو ادب اور شاعری پیدا ہوئے یا جنہیں ادبی ناقدین اور شارحین نے شاعری یا ادب کہا ان میں عمومی نفسیات اور انسانی نفسیات کا ذکر ہی نہیں ملتا بلکہ ادیب نے ارادتاً اس سے گریز کیا۔ اور شعوری اور لاشعوری طور پر یہ توجیہہ کی کہ عمومی انسانی مسائل کے ذکر سے بڑی شاعری یا بڑا ادب پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ اس صورت حال نے ہماری صحافیانہ سیاسی اور رزمیہ شاعری کو درجہ دوم کی شاعری قرار دے کر ادبی نقادوں کی آنکھوں سے دور کر دیا ہے۔ میرے خیال میں وقت آ پہنچا ہے کہ ادبی محقق اس صورت حال کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسی تحریروں کی ادبی قدر و قیمت کا تعین کرے۔

ہم ایک مارشل قوم ہیں اور طبل جنگ کی آواز دوسری قوموں کی نسبت ہمارے خون کو زیادہ گرماتی ہے۔ اور یہ چیز اس بات کی متقضی ہے کہ وطن کے بارے میں کی گئی شاعری کو اس کا جائزہ مقام دیں۔

ماجد صدیقی کی کتاب۔ ’’شاد باد منزل مراد۔‘‘ وطن اور وطن میں جینے بسنے والے لوگوں کے عمومی مسائل عمومی سوچ اور عمومی فکر و خیال کا احاطہ کرتی ہے۔ لیکن ماجد نے طبل جنگ بجا کر نہیں بلکہ قومی بے حسی اور بے ضمیری پر تازیانے برسا کر ہمارے لہو کو گرمایا ہے۔ جس کا تفصیلی تذکرہ اگلی سطور میں آئے گا۔ آئیے پہلے کتاب دیکھتے ہیں۔ کتاب کا پہلا صفحہ الٹتے ہی فیض احمد فیض نظر پڑتے ہیں جن کے خیال میں ’’ماجد صدیقی خوش فکر اور خوش گو شعرا میں سے ہیں اردو اور پنجابی میں یکساں سلیقے اور سہولت سے لکھتے ہیں۔ منظوماتِ داد و تحسین کی مستحق ہیں۔‘‘

لہجہ مربیانہ اور مشفقانہ ہے مگر اس خیر خواہانہ جذبے کے باوصف شاعر اور اس کی شاعری کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔

کتاب کا دوسرادیباچہ افضل رندھاوا کا تحریر کردہ ہے جس میں ماجد صدیقی کو۔ ’’ایک نہایت خطرناک شاعر۔‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

’’خطرناک اس لئے کہ وہ اردو پنجابی اور جانے اور کون  کون سی زبانوں میں شاعری کرتا ہے۔ نہایت اس لئے کہ وہ شاعری کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتا ہے۔‘‘

دوستانہ لہجے کی یہ شوخی ماجد اور ماجد کی منظومات کا کوئی بھید قاری پر نہیں کھولتی۔ ماجد میرا بھی دوست ہے اس لئے مجھے اور ماجد کے قاری کو لفطوں کی سیڑھیاں لگا کر خود ہی ماجد کے دل تک پہنچنا پڑے گا۔

ماجد ہم پر ایک شاعر کی حیثیت میں منکشف ہوا ہے لیکن اگر اس کی شاعری کے پس منظر میں کارفرما ماجد کا کسی قدر وقت سے مطالعہ کیا جائے۔ تو رفتہ رفتہ ہماری ملاقات اس ماجد صدیقی سے ہونے لگتی ہے۔ جو بیک وقت افسانہ طراز مصور اور موسیقار ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک اداکار بھی ہے ایک ایسا اداکار جو کسی دوسرے کے محسوس کردہ جذبات کو تمثیلی رنگ نہیں دیتا بلکہ یہ جذبات سرا سر اس کے اپنے ہوتے ہیں کھرے اور سچے جذبات۔ جو اس کے اپنے وجدان ہی سے پھوٹتے اور اس کے شعری قالبوں میں ڈھل کر حقیقی صداقتوں کے نقش بن جاتے ہیں۔

شاد باد منزل مراد کا شاعر ماجد بھی ان سارے خصائص کے ساتھ ہم پر کھلتا ہے۔ وہ ایک ایک اُداس منظر میں رچا بسا دکھائی دیتا ہے۔ وہ خود ستم رسیدہ ہے اور ہر ستم رسیدہ شخص کی آواز اس کے اپنے درد کی آواز بن جاتی ہے۔ شاید اس لئے کہ اس کی ستم رسیدگی ان دیر پا زیادتیوں اور ناہمواریوں کے بطن سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ جن سے اسے جنم جنم کا واسطہ ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے اسے ٹی بی کا ایک مریض صاحب استطاعت شخص سمجھتے ہوئے امداد طلب انداز میں پکارتا ہے تو ماجد اس بظاہر معمولی واقعے کو بھی انتہائی اہم قومی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً اس کی نظم ’’معذرت‘‘ کے آخری دو شعر دیکھئے۔

ہاں مگر اتنا کہوں گا کہ خداوند جہاں

کب تری عرض مری بات کو سن پائے گا

کب تری چیخ پہ دھڑکے گا دل ارض وطن

میری فریاد پہ کب رحم اسے آئے گا

وہ بھکارن کو دیکھتا ہے تو اس کی اپنی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہ اس بظاہر معمولی منظر پر بھی پوری وابستگی سے پکار اٹھتا ہے۔

میری آنکھوں کے اشکوں سے اوکوں دامن بھر لے تو

ایک یہی خیرات ہے میرے پاس قبول جو کر لے تو

(نظم خیرات سے اقتباس)

قومی آشوب مقابلتاً ماجد صدیقی کی نظموں۔ ’’مامتا سے محرومی کا دکھ۔‘‘ ’’آج کے دن‘‘۔۔۔ ’’بنام قائد‘‘۔۔۔ ’’اے مرے فسردہ وطن‘‘۔۔۔ ’’دل دو نیم‘‘۔۔۔ عذاب و عتاب‘‘ میں زیادہ گونج دار شکل میں ابھرتا ہے۔ اور اذہان و اعصاب پر دائرے پھیلاتا چلا جاتا ہے۔۔۔ ’’اے مرے فسردہ وطن‘‘ مجموعے کی دوسری طویل نظم ہے۔۔۔ یہ نظم آٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے جس کے لئے شاعر نے اک رواں بحر کا انتخاب کیا ہے۔ نظم کے ہر بند سے شاعر کا شعلہ احساس تند و بے باک ہو کر لپکتا ہے۔ نظم جذبے کی شدت بہاؤ اور وانی کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ اور ہمارے منافقانہ دوغلے اور مصنوعی قومی کردار کی عکاس ہے۔

میں اس مقام سے پلٹا ہوں اے وطن کہ جہاں

سکوتِ مرگ سے بڑھ کر سکوت طاری تھا

جسے جہاں بھی کوئی اختیار تھا حاصل

وہ شخص جذبہ انسانیت سے عاری تھا

’’دل دو نیم‘‘ المیہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ اور اس کے لئے بھی طویل بحر کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اور اسے کامیابی سے نبھایا گیا ہے۔ شاعر ایک طرف احساسِ تفاخر کا ذکر کرتا ہے جبکہ دوسر طرف اس احساس کے چھن جانے کی ندامت ہزیمت اور شرمندگی کا بھی۔

اے وطن تیری آنکھوں سے آنکھیں مری چار ہونے سے عاری ہوئیں ان دنوں

ریزہ ریزہ ہوئیں سانس کی ڈوریاں ساعتیں مجھ پہ بھاری ہوئی ان دنوں

سال ہا سال کی سر فرازی مری دیکھتے دیکھتے خاک میں مل گئی

جس کی تعمیر نسلوں سے منسوب تھی اس عمارت کی بنیاد تک ہل گئی

(دل دو نیم)

اور یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لئے کہ:

قوم کا درد جس کو بھی لاحق ہوا قید خانوں کے در اس پہ کھولے گئے

خشک میزان پردار کی اہلِ دل بے ثبوت خطا روز تو لے گئے

قومی سطح پر ہم پر مصیبتیں ٹوٹ ٹوٹ پڑتی ہیں مگر بے حسی کا عالم دیدنی ہے۔ یہاں تک کہ آسمانی عتاب بھی ہماری بے حسی کے جمود کو توڑنے سے عاری ہے۔ 1973ء میں پنجاب میں سیلاب آیا جو عذاب الٰہی سے کم نہ تھا مگر احساس کی سطح پر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔

ہماری سانس اکھاڑی گئی ہے حیلوں سے

ہماری کھال ادھیڑی گئی ہے رہ رہ کر

کچھ اس ادا سے بہایا گیا ہے جسم سے خوں

کہ پتھروں پہ چلے جیسے تیشۂ آذر

ترے ہی نام پہ جو قرض غیر سے مانگا

ترے زوال کے اسباب پر وہ صرف ہوا

جواریوں کی طرح ہاتھ جو بھی کچھ آیا

بنام اوج اسے داؤ پر لگایا گیا

ہر ایک شخص ہے سنگ فتادۂ تہ آب

وہ بے حسی کا نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں

یہ کس مہیب سفر پر رواں ہیں ہم سارے

کہ چل دئے تو جنہیں کوئی روکتا ہی نہیں

یہ کس طرح کا سکوں ہے ہمارے چہروں پر

کہ جیسے قافلہ اپنا کہیں لٹا ہی نہیں

کس آئنے کے یہ ٹکڑے ہیں میرے دیس کے لوگ

بکھر گئے تو جنہیں کوئی جوڑتا ہی نہیں

لیکن ماجد صدیقی جو اس آشوب کی آگہی رکھتا ہے اس کے درمیان کے اسباب بھی جانتا ہے کبھی کبھی یہ اسباب مشکل ہوتے نظر آتے ہیں اور کبھی کبھی خواب نامے کی صورت احتیار کر جاتے اور شاعر آنے والے اچھے وقت کی آرزو میں کھو جاتا ہے چنانچہ ماجد کی نظموں۔۔۔ ’’حصارِ شب سے نجات کا نغمہ‘‘۔۔۔ ’’یوسفانِ وطن کے نام‘‘ (جنگی قیدیوں کے استقبالیہ نظم) ۔۔۔ ’’دوسری تعبیر‘‘ (اسلامی سربراہی کانفرنس کے پس منظر میں)۔۔۔ ’’نغمۂ تشکر‘‘ (قیدیوں کی واپس مکمل ہونے پر)۔۔۔ ’’میں ایک ماں ہوں‘‘ سے جہاں قومی آشوب سے بچاؤ کی کوششیں سامنے آتی ہیں وہاں مستقبل اور اچھے خواب کا وہ خواب نامہ بھی ابھرتا ہے جس کے ہم سب آرزو مند ہیں۔ محولہ بالا نظموں سے قوم کے ماضی قریب کا علم ہوتا ہے اور ان کوششوں کا بھی جن کے طفیل ہم بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔۔۔ ’’حصارِ شب سے نجات کا نغمہ‘‘۔۔۔ اس سلسلے کی روشن مثال ہے۔

’’میں ایک ماں ہوں‘‘ اس مجموعے کی طویل ترین نظم ہے جو تیرہ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے نظم ایک ماں کی خود کلامی سے شروع ہوتی ہے اور خود کلامی ہی پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ ماں کا بیٹا فوج کا سپاہی ہے اور دشمنوں کی قید میں ہے لیکن وہ اپنے تمام تر ذہنی اور جذباتی کرب کے باوجود دوسری ماؤں کا دکھ بھی ذہن میں رکھتی ہے اس کا بیٹا استعارہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ ہر جنگی قیدی کا چہرہ اس میں جھلملانے لگتا ہے اس طرح ذاتی کرب کا احساس قومی کرب میں ڈھل جاتا ہے۔ نظم اس لئے کامیاب ہے کیونکہ وہ اپنی طوالت کا سارا سفر مربوط دائروں کی صورت میں طے کرتی ہے ورنہ طویل نظموں میں اکثر اوقات شاعر کو یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے بات شروع کہاں سے کی اور اسے سمیٹنا کہاں ہے۔

’’میں ایک ماں ہوں‘‘ کا ایک بند لاحظہ ہو۔

وہ میں ہی ماں ہوں

جحو ایک جیالے محافظ مادر وطن کی

عظیم قربانیوں کے جذبوں کا

اولیں چشمہ رواں ہوں

ہزاروں بچوں کی

توتلی بولیوں سے لبریز اک زباں ہوں

نظم میں جا بجا ان باتوں کے اشارے بھی ملتے ہیں جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے اس طرح اس کتاب میں وطن دوستی وطن کے آشوب اور قومی آشوب سے آگاہی اور اس سے نجات اور مستقبل کے خواب نامے کا تصور سبھی کچھ موجود ہیں اور میرے نزدیک قومی نظمیں اپنے اندر یہی تقاصا رکھتی ہیں۔

کتاب میں چھ اردو غزلیں اور دو پنجابی نظمیں بھی ہیں غزلیں بھی خوب ہیں اور نظمیں بھی۔ بالخصوص وہ غزل جو غالب کی نذر کی گئی ہے۔

دی مجھ کو شناساؤں نے زک جیسی

یوں بخت رقیباں کبھی یاور نہ ہوا تھا

ماجد صدیقی اس لحاظ سے مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشرتی حالات میں ان قومی نظموں کا پہلا پھول برسایا ہے دیکھیں اب اس کی تقلید میں اور کون سرِ میدان آتا ہے۔

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑