تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

دوسروں کی رائے

مزاحمتی ادب کی ایک وقیع مثال ۔ عابد جعفری

مزاحمتی ادب کا تصور ہمارے یہاں زیادہ کثرت سے نہیں لایا گیا شاید اس لئے بھی کہ ہمارے ملک کی تاریخ جن غلط اطراف میں رواں دواں رہی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے بعد ان اطراف کی نشان دہی ہمارے مجموعی ادب کا ایک نمایاں پہلو چلی آ رہی ہے۔ اور اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے۔ تو قومی زندگی کی صحیح سمت متعین نہ ہونے کی صورت میں ذہنوں کو جلا بخشنے والا جو ادب بھی وجود پذیر ہوتا رہا ہے۔ وسیع تر معنوں میں آپ اسے مزاحمتی ادب سے ہٹ کر کوئی دوسرا نام نہیں دے سکتے۔ مگر مخصوص تر معنوں میں مزاحمتی ادب کا تعین جبر و استبداد کے کسی ایک عہد کے حوالے سے زیادہ نمایاں حیثیت احتیار کر لیتا ہے۔ پاکستان میں پہلے بڑے مارشل لاء کے نفاذ کا دورانیہ بھی 1958ء سے 1962ء تک اور پھر مرضی کی جمہوریت کا دور 1962ء سے 1972ء تک برقرار رہا۔ اس طویل اور شخصی حکومت کے دور میں مزاحمتی ادب کے بہت سارے یادگار نقوش اجاگر ہوئے۔ مگر اس دور میں بھی زیادہ متانت تو اس عہد کے مجموعی ادب میں پڑھنے کو ملتی ہے۔ البتہ حبیب جالب کے یہاں جذباتی شاعری کے بہت سارے نمونے معرضِ تخلیق میں بھی آئے۔ اور زبان زد خاص و عام بھی ہوئے۔ اس میدان میں بھی حبیب جالب اکیلے نہیں تھے۔ بہت سارے اور لوگوں نے بھی قومی اور علاقائی زبانوں میں تند و تیز مزاج رکھنے والے ادب کی تخلیق میں نمایاں حصہ لیا۔ حبیب جالب کا کمال یہ ہے۔ کہ وہ اس قافلے میں ایک سرخیل کی حیثیت رکھتے تھے۔ جنرل یحیٰ کا دور حکومت ہنگامی مزاج کا حامل تھا۔ شاید اس لئے کہ پچھلے ڈیڑھ دو عشروں میں ادبی سطح پر جو کچھ لکھا جا چکا تھا۔ اسے عملی صورت دینے لئے ایک طوفانی سیاسی محاذ دور ایوبی ہی میں انتہائی فعالانہ پس منظر کے ساتھ سامنے آ چکا تھا۔ بہر حال 1969ء سے دسمبر 1970ء تک کے عرصے میں بھی مزاحمتی ادب کی انڈر کرنٹس ہمارے ملکی ادب میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر رہیں۔

1971ء کا سال انتہائی ذہنی خلفشار کا سال تھا۔ جس کے اختتام پر ہمارا ملک دولخت ہوا۔ اور مزاحمتی ادب نے فریادی ادب کی شکل و صورت احتیار کر لی۔ 1971ء سے 1977ء تک کا عرصہ جمہوریت کی بحالی کا عرصہ قرار دیا جاتا ہے مگر ایسا نہیں کہ اس دور میں اہلِ قلم حضرات حاموش رہے ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دور میں تخلیق ہونے والا ادب اس مفہوم میں مزاحمتی ادب نہیں تھا۔ کہ یہ ادب کسی جابر حکمران کے جبر و استبداد کے خلاف لکھا جاتا۔ بلکہ اس دور میں حکومتی سطح پر جو گمراہ کن سازشیں عمل میں آئیں اہل قلم حضرات نے ان سازشوں کے حلاف شکائتی انداز میں اپنے اپنے مقامات پر یقیناً قلم کو جنبش دی۔ شاید اس لئے کہ جن طاقتوں کے خلاف مزاحمتی ادب تخلیق ہوتا رہا تھا۔ وہی طاقتیں دوبارہ جمہوری عمل کے درپے تھیں۔

تاریخی اعتبار سے مزاحمتی ادب کا مطالعہ اپنے اندر بہت سارے تقاضے رکھتا ہے۔ مگر زیادہ توجہ ہمیشہ اس مزاحمتی ادب پر مرکوز رہتی ہے۔ جو قریب ترین عہدِ ظلم و ستم میں ظہور پذیر ہوا ہو۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو 1977ء سے 1988ء تک کے طویل دو رانئے میں جتنا ادب تخلیق ہوا اس میں دو طرح کے عوامل بڑی واضح صورت میں موجود ہیں جن میں سے پہلا تو یہ ہے کہ ابتدائی سالوں میں بہت سارے لوگوں نے ملک میں تیسرے بڑے مارشل لاء کے خلاف آواز اٹھائی مگر جوں جوں مارشل لاء کی گرفت مضبوط ہوتی گئی مزاحمتی ادب کی تخلیق بھی ماند پڑتی گئی شاید اس لئے کہ اس طرح کا ادب تخلیق کرنے والوں پر ملک کی چاندنی تک حرام قرار دے دی گئی مؤقف یہ تھا کہ حب وطن کے نام پر اہلِ قلم حضرات مارشل لائی قوتوں کا ساتھ دیں۔ بصورتِ دیگر انہیں غدار قرار دیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ اکاومی ادیبات پاکستان کے اجتماعی جشنوں اور میلوں کے باوجود مزاحمتی ادب نے انڈرکرنٹس کا رُوپ دھار لیاا جس کی بے شمار مثالیں ہمارے ادب میں شبِ تاریک میں ستاروں کی طرح جگمگاتی دکھائی دیتی ہے۔

ماجد صدیقی کا نیا مجموعہ غزل ’’آنگن آنگن رات‘‘ اس دورِ سیاہ کے آخری ایام میں مرتب اور اشاعت پذیر ہوا۔ جو دور قومی زندگی کے ساڑھے گیارہ سالوں پر چھایا ہوا تھا۔ اس کتاب میں مزاحمتی ادب کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ بلکہ کتاب کے مطالعے کے بعد یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے۔ کہ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کا اسی (80)فیصد حصہ انتہائی سنجیدہ اور معیاری مزاحمتی ادب کا ایک وقیع نمونہ ہے جس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے۔ کہ اس کے کسی ایک شعر پر بھی کھوکھلے پراپیگنڈے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کے تفصیلی مطالعے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے۔ کہ ماجد صدیقی کے نظم کے مجموعوں کے علاوہ غزل کے مجموعوں میں سے وہ نقوش ضرور تلاش کئے جائیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ان کے کچھ نمونے یقینا پیش کئے جا سکتے ہیں۔

ماجد صدیقی کے تیسرے مجموعہ غزل ’’ہوا کا تخت‘‘ میں سنجیدہ مزاحمتی ادب کی چند بہترین مثالیں ملاحظہ ہوں۔

ہیں لبوں پر خامشی کی کائیاں

زنگ آلودہ زباں ہے اور ہم

اے پیڑ تیری خیر کہ ہیں بادِ زرد کی

پیوست انگلیاں تری شاخوں کے بور میں

ہوا کی کاٹ بھی دیکھ اور اپنی جان بھی دیکھ

جنوں کے مرغ نہ تو بال و پر نکال اپنے

اُکتا کے زوالِ گلستاں سے

کر لی ہے مفاہمت حزاں سے

دیوار اک اور سامنے ہے

لے چاٹ اسے بھی اب زباں سے

کچھ ایسا رُک سا گیا عہد بے بسی جیسے

جمی ہے لمحوں کے چہروں پہ گرد صدیوں کی

کون سا سرچشمۂ آلام ہے اس قوم کا

دم بخود سارے ہیں لیکن سوچتا کوئی نہیں

مان لیتے ہیں کہ دیوار قفس سخت سہی

سر تو تھا پھوڑنے کو مُرغ گرفتار کے پاس

تنے بھی خیر سے زد میں اسی ہوا کی ہیں

شکست شاخ سے اندازۂ عتاب کریں

زباں کے زخم پرانے یہی سجھاتے ہیں

کہ اب کسی سے بھی دل کا نہ مدعا کہئے

کٹی جو ڈور تو پھر حرص اوج کیا معنی

کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا

یہ اور اس طرح کی بیسیوں اور مثالیں ماجد صدیقی کے مجموعہ غزل ’’ہوا کا تخت‘‘ میں بڑی آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اسی دور میں ماجد صدیقی کے ’’انگن آنگن رات‘‘ سے پہلے دوا اور مجموعہ ہائے غزل بھی منظر عام پر آئے جو ’’سخناب‘‘ اور غزل سرا کے ناموں سے اشاعت پذیر ہوئے۔

سخناب کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

مجرم نے پہلی پیشی پر

جو بھی کہا اس سے مکرا ہے

لوٹایا اک ڈنک میں سارا

سانپ نے جیتا دودھ پیا ہے

کڑوے پھل دینے والے کا

رشتہ باغ سے کب ملتا ہے

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لئے شہسوار کا ہے

ہوا بھی آئے تو کانٹے سی لگے بدن کو

وہ خوف زنداں میں تیغِ قاتل کی دھار کا ہے

چرخ سے وہ حدتیں برسیں کہ اب ایسا لگے

چاندنی سے بھی بدن جیسے ہو جل جانے لگا

کمالِ فن ہے یہی عہد نو کے منصف کا

کہ جو پکار بھی اٹھی کہیں دبا دی ہے

کوئی تو معجزہ دکھلائے گا فراق اس کا

ہر ایک رگ میں لہو جس سے اضطراب میں ہے

معاملہ ہی رہائی کا اس بیاں پر تھا

مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا

حق بجانب بھی ٹھہرتا ہے وہی بعد ستم

وصف طرفہ یہ مرے عہد کے سفاک میں ہے

کم نہ تھا وہ بھی جو ارضِ جاں کے ہتھانے میں تھا

پر کرشمہ اور ہی اس کے مکر جانے میں تھا

جاں نہ تھی صیاد کو مطلوب اتنی جس قدر

اشتیاق اس کا ہمارے پر کتروانے میں تھا

پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں

خوف سب گرداب کے ہم تک چلے آنے میں تھا

تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم

کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے

بس اتنا یاد ہے قصہ گرانی شب کا

کوئی گلاب نہ کھلتا دم سحر دیکھا

پنجرے میں صبا لا کر خوشبو یہی کہتی ہے

مشکل ہے گلستاں سے کچھ اور خبر لانا

شدتِ اشتہا سے جسم اپنا

کب سزاوار سنگ سار نہ تھا

وقت فرعون بنانے کسی کو کتنا ہی

ایک نہ اک دن وہ بھی ٹھکانے لگتا ہے

وہ بھی کیا شب تھی کہ جس کے حشر زا انجام پر

کانپتے ہاتھوں میں میرے صبح کا احبار تھا

ادھر فساد سبک اور گھنے اندھیروں میں

ادھر گماں کہ سیاہی فلک سے چھٹنے لگی

شباب پر ہے سفر واپسی کا ہر جانب

مہک بھی باغ میں اب سوئے گل پلٹنے لگی

یہ سورج کون سے سفاک دن کا

مرے صحنِ نظر میں آ ڈھلا ہے

اس کے ستم کا خوف ہی اس کا ہے احترام

چرچا جبھی تو اس کا سبھی چار سُو کریں

جب سے دیوانہ مرا ہے شہر میں

پاس بچوں کے کوئی پتھر نہیں

کم نہیں کچھ اس کی خو کا دبدبہ

ہاتھ میں قاتل کے گو خنجر نہیں

ایسا بگڑا نظام اعضاء کا

نت کمک کو ہمیں بخار آئے

انہیں کے سامنے جھکتے تھے عدل والے بھی

سلوک جن کا سرِ ارض غاصبانہ تھا

عدل ہاتھوں میں ایا تو اپنے لئے

جو بھی شے ناروا تھی روا ہو گئی

یہ لفظ تھے کل ایک جنونی کی زباں پر

بسنے سے ہے اس شہر کا ہونا بھسم اچھا

پہنچ گئے ہیں یہ کس مہرباں کی سازش سے

سکوں کی آس لئے جبر کی پناہوں میں

سر ہوئے تھے کبھی اتنے تو نہ عریاں پہلے

آندھیاں لے کے اڑیں اب کے ردائیں جتنی

آسماں ٹوٹا نہ گر پھٹ جائے گی خود ہی زمیں

آنگنوں کے حبس نے یہ راز ہے افشا کیا

ابھی مشکل ہے صحرا سے نکلنا

کہ چھاؤں میں ابھی پانی بہت ہے

چھین لی تھی کمان تک جس سے

آ گئے پھر اسی کے داؤ میں

کیا یہ شب ہے کہ جس میں جگنو بھی

دور تک راستہ سجھاتا ہے

سامنا ہے ہمیں اس عادل کا

دے نہ مہلت بھی جو صفائی کی

دھار تلوار کی نگاہ میں ہے

شوسر پر ہے تازیانے کا

ہاتھ لتھڑے تھے لہو سے جن کے

مرنے والوں کے عزادار بنے

دھجیاں اس کی بکھر کر رہ گئیں

جس ورق پر عکس تھا اقرار کا

ماجد صدیقی کے مجموعے ’’غزل سرا‘‘ کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ یہ بجائے خود ایک مجموعہ غزل ہے اور دوسری یہ کہ ماجد صدیقی نے اس عنوان کے تحت اپنے پانچ مجموعہ ہائے غزل کو یک جا کر دیا ہے اور اب اس کا 1987ء تک کا کُلیاتِ غزل اس عنوان سے مطبوعہ صورت میں موجود ہے کلیات غزل میں شامل مجموعوں کے نام ہیں۔ -1آغاز، -2تمازتیں، -3ہوا کا تخت، -4سخناب، -5غزل سرا۔

مجموعہ ’’غزل سرا‘‘ میں ماجد صدیقی نے مزاحمتی ادب کی شاید اس لئے بھی زیادہ منور مثالیں قائم کی ہیں کیونکہ ملکِ عزیز میں حبس دوام کی صورتحال کافی حد تک حوصلہ شکن اور ناگوار ہو چکی تھی مزاحمتی ادب پر مشتمل غزل سرا کے بہت کم منتخبہ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

ہوئی ہے دم بخود یوں خلق جیسے

کوئی لاٹو زمیں پہ سو گیا ہے

عدالت کو وہی دامانِ قاتل

نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دھلا ہے

جو خود لہج رو ہے کب یہ فرق رکھے

روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے

عصمتوں کی دھجیاں کیا کیا اڑیں اس شہر میں

دیکھنے سے جن کے مائیں مرگئیں اس شہر میں

دور لگے وہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں

پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھائے گا

جو بھی قیمت ہے کسی کی وہ جبیں پر لکھ لے

یہ منادی بھی سر شہر کرائی جائے

وسعتِ شب کو بڑھتا دیکھ کے ہے ہم نے بھی

اپنا اک اک حرف سحر آثار کیا

مرضی کا برتاؤ اندر والوں سے

باہر والوں سے ہے جنگ اصولوں کی

دن کو بھی اب یوں ہے جیسے آنکھوں میں

سرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے

پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھانے کی سوچتے

بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز دیکھ لینا

جو خبر بھی آتی ہے ساتھ اپنے لاتی ہے بات اس قدر یعنی

قافلہ اُمیدوں اب تلک یونہی لپٹا گردِ رہ گزر میں ہے

ہونٹوں نے بھی لو زہرِ خموشی سے چٹخ کر

سیکھا وہی انداز جو مرغوب شہاں ہے

کرو نہ شاخِ بدن سے سروں کے پھول جدا

سدا بہار تمہارے ہی سر کا تاج سہی

کیا خبر ذلتِ پیہم ہی جگا دے ان کو

شہر کے لوگ نہ کیوں اور ستائے جائیں

خلقت شہر سے کیوں ایسی بری بات کہے

اس کو پاگل ہی کہو رات کو جو رات کہے

اوروں کو بھی مجھ سی ہی شاید دکھلائی دیتی ہو

فصل کٹے کھیتوں جیسی ہر صورت خالی خالی سی

یہ بھید وسعت صحرا میں ہم پہ جا کے کھلا

کہ شہرِ درد میں ہم بے زبان کیا کیا تھے

شب المکے تصور سے یوں لگے جیسے اسی حیات میں اک اور ہو جنم دیکھا جانے کس کا خوف ہے جو کر دیتا ہے محتاط ہمیں

ہونٹوں پر اٹکی اٹکی ہر بات دکھائی دیتی ہے

اثر جس کا مرض کی ابتداء تک ہی مسلم تھا

ملے بھی گر تو وہ نسخہ بھلا اب کارگر کب ہے

وہ مرے ٹوٹے ہوئے پر دیکھ کر

کھل اٹھا ہے حاصل شر دیکھ کر

خدشوں نے جہاں دی نہ مری آنکھ بھی لگنے

اس شہر کا اک شخص بھی بیدار نہ دیکھا

یہی دعا ہے کہ بے آب ہوں نہ حرف مرے

سزا کوئی بھی وہ دے عجزِ بے نوائی نہ دے

جھول رہے ہیں جس کے تُند بہاؤ پر

دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں

کشتی کے پتوار نہ ل ہی سے جل جائیں

ہر راہ رو کے ذہن میں ایک یہی چنتا ہے

مبتلا عدل بھی اب جبر کے آزار میں ہے

دیکھ اعلان یہی آج کے اخبار میں ہے

کرنی کر کے ہے یوں آمر بھول گیا

ڈنک چھبو کر جیسے اژدر بھول گیا

ایک سی چپ ہر سمت ہے چاہے سانپ نگل لے چڑیا کو

کچھ ہو نہ جائے ہونے کو برپا ہی کہیں کہرام نہیں

نظر کا آشوب جب تلک ہے نہ جا سکے گا

ہمیں لگا ہے جو روگ ماجد سخنوری کا

ماجد صدیقی کا تازہ مجموعہ غزل غزل سرا کی اشاعت کے بعد کا سرمایۂ فکر ہے جو 1988ء کے دوران منظرِ عام پر آیا ہے ملک عزیز میں یہ سال انتہائی حبس کا سال تھا اس لئے کہ تمناؤں کا سبزہ ہر کہیں سنگِ گراں کے تلے ہمیںہ ہمیشہ کے لئے دبتاکھائی دے رہا تھا اور یوں محسوس ہوتا تھا جیسے حبس کی جڑیں شریانوں تک میں اُتر چکی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ 1958ء کے مارشل لاء کے جبر و استبداد کے خلاف آواز اٹھانے والا ماجد صدیقی اگست 1987ء اور اگست 1988ء کی مدت کے دوران آنگن آنگن رات کے عنوان سے ایک اور مجموعۂ غزل ہمارے سامنے لایا یہ بات طے ہے کہ ماجد صدیقی واویلا بھی کرتا ہے تو اتنی فنی مہارت کے ساتھ کہ:

جو غم ہوا اسے غمِ جاناں بنا دیا

کی تصویر صاف صاف آنکھوں میں لہرانے لگتی ہے اور یہ فیضان انتہائے کرب کا ہے یا ماجد صدیقی کی دردمندانہ مشاقی کا کہ اس کا یہ مجموعہ اوّل سے آخر تک سرتاپا انہی دو خوبیوں سے لیس ہے اور یہ بات بڑے اعتماد کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ آنگن آنگن رات کا کوئی بھی دیانت دار نقاد اس کتاب کی خوبیوں کا احاطہ کسی ایک مقالے کی صورت میں نہیں کر سکتا ہمارے اس دعوے کا یقین نہ آئے تو آنگن آنگن رات کا انتہائی محدود انتخاب دیکھ لیجئے جو آئندہ سطور میں دیا جا رہا ہے ماجد صدیقی کا فن بذاتہ آپ کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دے گا انتخاب ملاحظہ ہو۔

وہ فرطِ قحط نم ہے کہ ہر شاخ ہے سلاخ

پنجرے کو مات کرنے لگا ہے چمن تمام

ناتوانوں کے کوائف جام میں کر لے کشید

ہم ہوئے جس عہد میں اس عہد کا جم اور ہے

مجھ پہ کھل پائی نہ جوہڑ کی سیاست ماجد

گرچہ تھا رفعت ہر کوہ کا ادراک مجھے

آئے نہیں ہیں بس میں ابھی ضابطے تمام

سانچے میں اپنے ڈھال عدالت کچھ اور بھی

ناخلف لوگوں پہ جب سے پھول برسائے گئے

شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اگنے لگیں

کب کوئی سانپ دبا لے کوئیں شاہیں آلے

چونچ پر پڑنے لگے خوف کے چھالے کیا کیا

وہ دیکھ فکر کو ماجد نئی جِلا دینے

فضا سے اور بگولے نظر پہ اُترے ہیں

صیدِ تخریب ہوا میں تو ہوا عدل یہی

پرسش شاہ کا اعزاز مرے نام لگا

وہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے

لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے

راندۂ خلق ہے جو پاس تمہارا نہ کرے

درس اب یہ بھی کسی اور بہانے دینا

اے کاش وہ نوعیتِ بخشش بھی سمجھ لے

ہم پر جو سخی لطف و کرم کنرے لگا ہے

ہوئے تھے حرص سے پاگل سبھی کیا دوڑتا کوئی

لگی تھی شہر بھر میں آگ جو، اس کے بجھانے کو

نوالے کیا یہاں خالص نہیں حرفِ تسلی تک

سبھی میں ایک سی افیون ملتی ہے سُلانے کو

کام میں لا کر عمریں بھی اب کون سمیٹے گا اس کو

پھیل چکی ہے جو بے سمتی نصف صدی کے سالوں پر

گھر گھر فریادی بانہوں کی فصل اُگی تھی

شہر کا موسم کیوں ایسا تھا یاد نہیں ہے

جُگنو جُگنو روشنیوں پر لوٹ مچاتے

اس کا ماتھا کب چمکا تھا یاد نہیں ہے

وہ جس کے ہاتھ میں کرتب ہیں اس کی چالوں سے

لُٹیں گے اور بھی ہم ایسے خوش گماں کیا کیا

کون کہے بیوپاری سودا اغواء ہونے والی کا

کن کن سنگ دلوں کے آگے کس کس طور چکائے گا

شور زمینِ فکر ہے جس کی اور سینے میں زور بہت

کرنے کو اچھا بھی کرے تو کیا اچھا کر پائے گا

آنکھ تلک جھپکانے سے معذور ہوئے ہم آپ

کس مغوی طیارے میں محصور ہوئے ہم آپ

کیا یہ میرا ہی نگر ہے اسے ہوا کچھ تو بتا

ساری دیواریں سلامت ہیں چھتیں اتری ہوئی

اک جانب پچکار لبوں پر ہاتھ میں دُرہّ اس جانب

تانگے والا جان چکا گر گھوڑا تیز چلانے کا

وہی جو سانپ کی یورش سے اٹھے آشیانوں میں

سماعت درسماعت بس وہی چہکار غالب ہے

مجھے اک عمر جس شاطر نے پابند قفس رکھا

وہی اب منتظم بھی ہے مرے جشنِ رہائی کا

پتھر کے تلے اُگتے اور زیر عتاب آئے

جُگ بیت گئے ماجد اس جاں پہ عذاب آئے

حرص کی بین پہ کھنچ کر نکلے تو یہ کُھلا

دیش پٹاری میں بھی اژدر کیا کیا تھا

خدشہ ہے نہ کٹ جائے شعلے کی زباں تک بھی

ہر رنج پہ رسی سا چپ چاپ جلا جائے

جوابر بانجھ ہے اس سے کہو کہ ٹل جائے

تمام خلق اسی بات کی سوالی تھی

دستک سے، سرِ شہر پڑاؤ کو جو دی تھی

ایسے بھی ہیں کچھ جن کو یہاں راج ملا ہے

شر سلیقے سے سجا ایسا نہ رحل خیر پر

جیسی اب ہیں ظلم کی دلداریاں ایسی نہ تھیں

جھوٹ کا عفریت یوں سچ پر کبھی غالب نہ تھا

جابجا خلقت کی دل آزاریاں ایسی نہ تھیں

چاہے وہ جائے دفن بھی سب سے الگ تھلگ

نخوت ہے اس طرح کی دل تاجدار میں

ریوڑوں نے کی نہ تھی یوں پاسبانی گرگ کی

ظلم کو ماجد تحفظ یوں بہم دیکھا نہ تھا

گل پریشاں ہیں تو جھونکے نارہیں اب کے برس

سارے ارکانِ سکوں نادار ہیں اب کے برس

لب و زبان پہ چھالوں جبیں پہ سجدوں کی

غلامیوں نے ہمیں دیں نشانیاں کیا کیا

غرض اس سے نہیں ہے سلطنت رہتی ہے یا جائے

یہاں جو مسئلہ ہے وہ بقائے تاجور کا ہے

تا حشر نفرتوں کا نشانہ رہے جہاں

ایسی جگہ مزار ستم گر بنا دیا

Advertisements

وکھری خوشبو کی شاعری ۔ خالدہ ملک

احمد علی سائیں اور باقی صدیقی کے دیس کا ایک شاعر آج کل تھوک کے بھاؤ اپنی تخلیقات کے انبار لگا رہا ہے اور وہ خوش نصیب بھی ہے اس لئے کہ اس کی کتابیں دھڑا دھڑ چھپ کر اہل شوق کے ہاتھوں میں پہنچ رہی ہیں۔

وہ اردو اور پنجابی ہر دو زبانوں میں مقفیٰ اور مسجح نظموں کے علاوہ آزاد نظمیں بی تخلیق کرتا ہے۔ اس کی کتاب ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ کے آغاز میں اس کی ’’پہلی گل‘‘ ملاحظہ ہو۔

ایتھے بیبا اوہ ائی بول سچجڑے نیں

چھاپ جنہاں تے ہووے نگھے چھل ول دی

اچیاں باتاں دی تھاں اپنی چنگیاں نیں

وکھری وکھری خوشبو ایتھے گل گل دی

اور یہی ’’وکھری خوشبو‘‘ اس کے اشعار میں جا بہ جا بکھری پڑی ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کی یہ خوشبو خالصتاً اس کی اپنی ہے۔ ماجد صدیقی کا ذوقِ جمال ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی مشق نہیں کرتا بلکہ:

بدلاں ورگی اوس کڑی نوں کیہ کیہ پیچے پاندا سی

شوق ساڈا سینے دے وچ بلدی اگ بجھاون دا

یہ بات مسلمہ ہے کہ ابھی پنجابی غزل کی عمر کچھ زیادہ نہیں مگر ماجد صدیقی نے پنجابی غزل کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کو کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ غزل کی تخلیق میں وہ محض خیال بندی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ اپنے تجربات و مشاہدات کے علاوہ غمِ ذات کو بھی ایک ایک شعر میں سمو دیتا ہے۔

کس سیمو دھرتی تے سکھ عمارت دی نینہہ رکھی سی

مکن وچ ائی کاج نہ آوے گارے اٹاں ڈھوون دا

ماجد کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے احساسات کو نہایت سادگی و آسودگی سے لگی لپٹی رکھے بغیر الفاظ کا جامہ پہنا دیتا ہے۔

ماجد بن سچیار

گل کریئے دو ٹوک

وہ جھوٹ کی اس نگری میں سچ کا ڈھنڈورا پیٹنے نکلتا ہے مگر اس راہ میں بھی اس کا سامنا جن جن کڑوے اور کسیلے حقائق و واقعات سے ہوتا ہے وہ ان سے صرفِ نظر نہیں کرتا انہیں اپنے شعروں میں پروتا چلا جاتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک وارداتِ دل کو چھپائے بغیر کہہ دالنا ہی عظیم صداقتوں کی آئینہ داری ہے۔

ایس نتھانویں شوق نے رکھیا وچ فریب دے

ریشم جہنوں جانیاں اوہ منجیاں دا وان سی

ماجد ایک ایسا شاعر ہے جو عصر حاضر کے ایک ایک تقاضے سے بخوبی آگاہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ غمِ جاناں کے ساتھ ساتھ غمِ دوراں کی ہر حکایت بھی انتہائی خوش سلیقگی سے برابر کہتا چلا جا رہا ہے۔

ماجد چپ دا اوڑھنا کرئیے لیر و لیر

ہسیئے اتھرو روک کے اکھیاں لئے دھو

زندگی جدائی دیاں

کندھاں پئی اساردی

ماجد کا مشاہدہ غم وہ اندوہ کے جملہ عناصر سے ہمکنار ہے وہ بظاہر کسی بھی بے حقیقت واقعہ کو بے مثال شعر کا قالب بخش دیتا ہے جیسے کوئی اچھا صحافی ادنیٰ سی بات کو یادگار خبر بنا دیتا ہے۔

آہلنیوں اک بوٹ سی ڈگا

چڑیاں چڑ چڑ چوں چوں لائی

کال کلوٹا کا گا ہسیا

چڑیاں دی اکھیاں وچ پھر گئی

بھڑی موت دی کال سیاہی

کوئی اخباری مل جاندا تے

ایہہ وی خبر تے واہ واہ آہی

ماجد کے یہاں تشبیہہ کا حسن اور اظہار کی شدت یوں گھل مل جاتے ہیں جیسے ہوا میں خوشبو۔

شعر ہون ماجدا

جئوں گل دکھی نار دی

دھرتی کا دکھ ماجد کا حقیقی دکھ ہے مگر کبھی کبھی مزاحیہ اشعار سے بھی وہ اپنی شاعری میں چکا چوند پیدا کرنے سے نہیں چوکتا۔ شاید اس لئے کہ مزاحیہ شاعری بھی وہی شخص کر سکتا ہے جو اندر سے ٹوٹ پھوٹ چکا ہو۔ ماجد کے پنجابی کلیات ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ میں مزاحیہ شاعری کا ایک مجموعہ بھی شامل ہے جس کا عنوان ہے۔ ’’ہاسے دا سبھا‘‘ جس کی بیشتر نظمیں انتہائی وقیع مزاح کی مثالیں ہیں۔

غرض ماجد صدیقی اپنے پنجابی کلیات میں اپنی شش جہات سمیت کھل کر سامنے آیا ہے لہذا اگر ہمیں ساتویں رستے پر جانے سے روکا بھی جائے تو ہم رک نہیں سکتے اس لئے کہ ماجد کی شاعری ایسی جادو اثر صدا ہے جسے سن کر بڑھا تو جا سکتا ہے رکا نہیں جا سکتا۔

انسان اور انسانیت ۔ ناصر زیدی

ماجد صدیقی کی نظموں کا مجموعہ ’’یہ انسان‘‘ 35 نظموں پر مشتمل ہے۔ ان نظموں میں طویل بی ہیں، مختصر بھی اور طویل ترین بھی۔ جیسا کہ کتاب کے نام سے ظاہر ہے نظموں کا موضوع بیشتر انسان اور انسانیت ہے۔ متعدد نظمیں شاعر کی اس درد مندی اور گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہیں جو اسے اپنی مادر وطن سے ہے۔ اور جس کی بہترین اور بسیط مثال ایک طویل نظم ’’یاور کے نام‘‘ ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اپنے ننھے بچے سے تخاطب کے رنگ میں وطنِ عزیز کو موضوع سخن بنایا ہے اور بیک وقت تاریخی حوالوں اور خوش آئند ذائقوں کو یک جا کر دیا ہے۔ اس نظم کے خالق کا اندرونی کرب پڑھنے والے پر بھی بخوبی منکشف ہو سکتا ہے۔

زیر نظر مجموعے کی دوسری بلکہ پہلی بڑی نظم ’’یہ انسان‘‘ ہے جس سے کتاب کا آغاز ہوتا ہے۔ اس نظم کو بھی بلاشبہ اردو کی طویل ترین نظموں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس نظم کا تناظر، موضوع کے اعتبار سے بے حد وسیع نظر آتا ہے اور قوموں کی بقاء کے تقاضوں کی روشنی میں شاعر ہمیں عالمی امن کا شیدائی دکھائی دیتا ہے۔

طویل نظموں میں بالعموم یہ نقص رہ جاتا ہے کہ و ہ قاری کو ساتھ لے کر چلنے سے بعض حالات میں قاصر نظر آتی ہیں لیکن زیر تبصرہ مجموعے ’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ ماجد صدیقی نے کیونکہ پنجابی زبان میں بھی اسی طرح کی طویل نظمیں کہی ہیں اور انہیں تنوع کا ایک ایسا پیکر عطا کیا ہے کہ قاری اکتاتا نہیں چنانچہ ماجد نے اپنی پنجابی نظموں کا وہی انداز ان اردو نظموں میں بھی برقرار رکھا ہے۔

’’یہ انسان‘‘ کی نظموں کا جو لہجہ ہمارے سامنے آیا ہے۔ وہ خاصا توانا ہے۔ شاید اس لئے بھی کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ماجد صدیقی نے اپنی آواز کی اس گمبھیرتا کو اردو میں بھی سلامت رکھا ہے جو اس کی پنجابی نظموں کا خاصہ ہے۔ ماجد صدیقی چونکہ پنجابی شاعری کے راستے اردو میں در آیا ہے لہذا اس کے زیادہ تر موضوعات بھی اس کی پنجابی شاعری کی طرح اس کے نہایت قریبی ماحول سے ابھرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’’خدا کرے‘‘ ایک ایسی نظم ہے جو شہید خدمت ڈاکٹر متین صدیقی مرحوم کی ادائیگی فرض سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے جو مشہور پنڈی وائرس کا شکار ہو گئے تھے۔ نظم ان مصرعوں پر ختم ہوتی ہے۔

خدا تری اس مثالِ یکتا کو

اور ذہنوں میں بھی بسائے

ہمارے چاروں طرف جو عیاریوں کا ایک جال سا بچھا ہے

وہی کہ آکاس بیل بن کر پنپتی شاحوں کے درمیاں ہے

کی کا دستِ شفیق

تیری شہادتِ بے مثال کو منتہائے صدق و صفا سمجھ کر

خدا کرے

ان رگوں تلک بھی پہنچنے پائے

کہ جن میں کتنے طویل برسوں سے

ناتواں اور علیل و فاسد لہو رواں ہے

گلاب کی پتیوں جیسی کم سنی ۔ بیدار سرمدی

ماجد صدیقی ہمارے عہد کے ان شعراء میں سے ہیں جو عصر حاضر کی واردتوں اور دل کی واردتوں کو ایک ساتھ اپنا موضوع سخن بنا تے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جس میں سکون کا لمحہ ایک بڑے دائرے کے بعد آتا ہے چنانچہ پت جھڑ کی سنگینیوں، رِستے ہوئے زخموں، گرد آلود ہوا کے جھونکوں اور ناہموار زمین کی مسافتوں کے تجربے دوسرے حساس ذہنوں کی طرح ماجد صدیقی کے یہاں بھی ہمیں بڑی بہتات سے ملتے ہیں ماجد صدیقی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے کلام میں کہیں بھی بوجھل ن نہیں آنے دیتے۔ یوں لگتا ہے جیسے گلاب کی پتیوں جیسی کم سنی ان کے سارے کلام کا خاصہ ہے وہ کسی سے شکوہ کریں کسی کو یاد کریں یا کسی کو اپنے دل میں آباد دیکھیں ہر کسی کا ذکر انتہائی رواں اور شُستہ زبان میں کرتے ہیں اور پڑھنے والا یوں سمجھتا ہے جیسے ماجد صدیقی کا کلام اس کا اپنا کلام ہو جسے اس نے اپنے بے تاب جذبوں کی ترجمانی کے لئے خود تخلیق کیا ہو۔ نمونہ کلام ملاحظہ ہو۔۔۔

قبر پہ جل مرنے والے کی

ایک دیا اب تک جلتا ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

سبھی رُتوں کی طرف سے اسے سلام کہ جو

کھلے گلاب کی مانند کشت خواب میں ہے

ہمیں گوارا ہے عمر جیسے بھی کٹ رہی ہے

کسی سے کرنا ہے ذکر کیا کرب کے سفر کا

یہ اور اس طرح کے ان گنت اشعار ماجد کے کلام میں جا بہ جا نگینوں کی طرح دمک رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس گراں بہا سرمائے کو برابر بڑھاتے چلے جائیں گے۔

کھلی آنکھوں کی شاعری ۔ ذوالفقار احمد تابش

گزشتہ دس پندہ سال کے عرصے میں جو شاعر متعارف ہوئے ہیں۔ ان میں ماجد صدیقی ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔ زیرِ نظر کتاب ان کی اُردو شاعری کا پہلا مجموعہ ہے۔ جو آغاز کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

ماجد کی شاعری شعور اور کھلی آنکھوں کی شاعری ہے۔ ان کو اپنے عہد کی سنگینی کا ادراک ہے اور یہ ادراک بڑے سہج سبھاؤ کے ساتھ ان کی شاعری میں رچا ہوا نظر آتا ہے نعرے بازی غلغلہ اور شور کہیں نہیں ہے۔ بلکہ ایک گہرے دریا کی خاموش اتھاہ روانی ہے جو شاعر کی وسعتِ نظر اور عمق دل کا احساس دلاتی ہے۔ گو بعض بعض جگہوں پر روائیتی انداز کے رومانی یا نیم رومانی شاعری کے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں مگر ان سے مفر شاید اس لئے بھی ممکن نہ تھا کہ اپنی روائت سے یکسر رشتہ توڑ لینا بھی تو کوئی آسان کام نہیں۔۔۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ ایسے اشعار میں بھی ماجد کے ہاں سلیقہ اور طریقہ ہے۔ شاید اسی بات کو کرنل محمد خاں صاحب نے بڑے خوبصورت انداز میں، ماجد کی شاعری کا ذکر کرتے ہوئے، یوں بیان کیا ہے۔

روایت کے زینے پر کھڑے ہو کر وہ جدت کے نئے نئے اُفق تراشتا ہے اس کا ہر شعر ہماری انفرادی یا سماجی زندگی کی ایک ایسی تصویر ہے جو ہمیں نہ صرف لطفِ نظارہ بخشتی ہے بلکہ دعوتِ فکر بھی دیتی ہے۔

ماجد کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

میں خود ہی کھل اٹھوں گا شگفت بہار پر

موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے

میں آسمان بھی تھا اور تو چاند بھی لیکن

گھرا تھا ابر سے برسوں میں آ کھلا ہوں میں

تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا

مجھے یہ دکھ ہے کہ اس میں الجھ گیا ہوں میں

مرے عذاب کو ماجد یہ سوچ کیا کم ہے

کہ ہوں تو پھول مگر دشت میں کھلا ہوں میں

ماجد غزل اور نظم یکساں مہارت سے لکھتے ہیں۔ ان کی شاعری نرم اور دھیمے انداز کی شاعری ہے۔ بلند بانگی اور کرختگی ان کی شاعری میں تقریباً معدوم ہے لیکن جذبہ اور سوچ ان کی شاعری میں کھل کر سامنے آتے ہے۔ وہ محض جذباتی سطح کی شاعری کے قائل نہیں ہیں بلکہ ناقدانہ اور تجزیاتی رو ان کے پورے کلام میں ساتھ ساتھ چلتی ہے چند شعر ملاحظہ ہوں۔

کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو

کوئی نمو کا بھی رُخ دیجئے زمانے کو

لہو سے لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے

گیا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو

پہلو میں تھے بہار کے خیمے تنے ہوئے

ہاتھوں میں تھا مرے ترا چہرہ گلاب سا

معیار اور مقدار کا موازنہ ۔ انوار فیروز

’’آنگن آنگن رات‘‘ اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر ماجد صدیقی کی اردو غزلوں کا مجموعہ ہے جس میں 93غزلیں اور چند نا تمام اشعار شامل ہیں۔ ماجد صدیقی کی خوبی یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ کہتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے کلام میں کہیں جھول نہیں آتا۔ اور نہ ہی ان کے کسی شعر کو بھرتی کا شعر قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے الفاظ ان کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں یہ کتاب غالباً ان کی چالیسویں کتاب ہے جو مارکیٹ میں آئی ہے یعنی بقول جمیل الدین عالی ان کا کلام کیا معیار اور کیا مقدار ہر دو اعتبارات سے بہت کچھ لکھنے کا متقاضی ہے۔

ماجد صدیقی کا فنی سفر جاری اور اللہ کرے مدتوں تک جاری رہے۔ ان کی شاعری اردو اور پنجابی ادب میں گراں بہا اضافہ ہے۔ ان سے لوگوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ مسلسل سرگرم سفر ہیں تھک ہار کر بیٹھ نہیں رہتے۔ ان کی شاعری میں آج کے دور کی دھڑکنیں اور جذبے کار فرما ہیں ان کی تازہ شاعری کے کچھ نمونے ملاحظہ ہوں۔

وہ خوف ہے کہ شدت طوفاں کے بعد بھی

دبکے ہوئے ہمیں باغ میں سرود سمن تمام

ماجد یہ کس قبیل کے مہتاب ہم ہوئے

لکھے ہیں اپنے نام ہی جیسے گہن تمام

ان کی خاطر ہی ملا دیدہ نمناک مجھے

یاد تا دیر کریں گے خس و خاشاک مجھے

ہاتھ فریاد کے اٹھنے پائے نہ تھے اور لب سل گئے

دیکھ کر ہم نے ماجد یہی بے بسی فیصلہ لکھ دیا

میں اس سے چاہتوں کا ثمر لے کے آ گیا

آنکھوں میں آنسوؤں کے گہر لے کے آ گیا

جہاں بھی سر انجمن شاہ بولے

بھلا ہے اسی میں کوئی لب نہ کھولے

زعم ذہنوں سے عدل خواہی کا

خاک اور خوں کے درمیاں اترا

سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے

منہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

نشتر جیسی تیز

ماجد تیری بات

بھولنے پر بھی دھیان جابر کا

پاس رہتا ہے پاسباں جیسا

ایسا تو اتلاف نہ دیکھا جانوں کا

انسانوں نے چکھا ماس انسانوں کا

گزارش احوال واقعی ۔ نثار احمد جمیل

ماجد ثدیقی کا نام اردو اور پنجابی شاعری کے حوالے سے اجنبی یا نامانوس نہیں۔ یہ شخص ایک طویل عرصے سے کسی نہ کسی طور پر شعر و ادب کی خدمت کر رہا ہے پچھلے چند سالوں میں ماجد صدیقی کی کئی کتابیں منظرِ عام آ چکی ہیں اس وقت میرے پیش نظر ماجد صدیقی کے دو مجموعے ’’ہوا کا تحت‘‘ اور ’’یہ انسان‘‘ ہیں آج ان دونوں پر گفتگو مقصود ہے ’’ہوا کا تخت‘‘ 225صفحات پر مشتمل اور دل آویز ٹائٹل کی حامل ہے اس میں 111غزلیں ہیں اور ان میں حروف تہجی کی ترتیب کار فرما ہے ماجد صدیقی کا یہ شعری مجموعہ دیکھ کر اس کی پہلی کتاب آغاز کا یہ شعر یاد آ رہا ہے۔

بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصورِ حسن

یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے

اور اب احساس ہوتا ہے کہ شاعر کے فکری اوج کی منزل اگرچہ دور ہے لیکن اس کا سفر بڑی صحیح بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے ماجد صدیقی کی غزل کو دیکھ کر اس الزام کی نفی ہوتی ہے کہ اردو غزل انحطاط اور بحران کا شکار ہے غزل کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ حالات کی کروٹوں اور سماجی تغیرات پر بے ساختہ ردِعمل زندگی کی محرومیوں اور پیچیدگیوں کے خلاف بھرپور احتجاج اور روشن نظامِ حیات کے لئے نعرۂ مستانہ اردو غزل کا نشانِ امتیاز رہا ہے۔ جب کبھی انسانی تفکر پر جمود اور بے حسی کے آثار طاری ہوئے ہیں غزل کے خیال انگیز نغموں نے ہی زندگی کی لہریں رواں دواں کی ہیں ماجد صدیقی کی غزل سے یہ تصور واضح طور پر اُبھرتا ہے کہ وہ انسانیت کے عالمگیر رشتوں کا پرستار ہے اور محبت فاتح عالم کو جزو ایمان سمجھتا ہے میرے خیال میں یہی اس کی شاعری کا اساسی جذبہ ہے اس کی غزل کے مجموعی پیکر پر جس جذبے کا غلبہ ہے وہ انسانیت یا ہیومن ازم ہے۔ شاعر کے وژن میں جو وسعت اور پھیلاؤ ہے اس کی وجہ فن سے آگہی، مزاجِ غزل سے آشنائی اور تاریخِ غزل پر عبور ہے اپنے لب و لہجہ اور جذبے کے پھیلاؤ کے لحاظ سے ماجد غزل کو نئی جہت اور نئی روشنی عطا کرنے والا شاعر ہے کچھ شعر ملاحظہ کیجئے۔

پوچھا یہ کس نے حال مری بود و باش کا

چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنور میں

چمن میں برق نے پھر کی ہے کوئی صناعی

ہوا کے ہونٹ جبھی واہ واہ کرتے رہے

غزل کی تہذیبی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے نئے احساس و رحجان کے ساتھ اس کے تجربوں کا سفر جاری ہے ان اشعارپر غور کیا جائے تو ماجد صدیقی جہاں غزل کی روائتی سج دھج کے ساتھ نئے لہجے اور نئی زبان کے پیوند سے سامنے آتا ہے وہاں یہ احساس بھی اُبھرتا ہے کہ اس نے ہر نئی بات کو دل نشیں انداز اور ہر پرانی بات کو ایک نیا رنگ دیا ہے اس کے ان اشعار میں اسلوب کا جو نیا پن اور جذبے کی جو شان ہے وہ والہانہ داد و تحسین کے قابل ہے۔

پسِ خوشبو بھی مرگِ گل کا منظر دیکھتے ہیں ہم

بہت مہنگا پڑا ماجد، ہمیں اہل نظر ہونا

ان اشعار میں مصحفی کی دھیمی دھیمی حسن کاری آتش کی مرصع سازی میر کی کسک یا ناصر کاظمی کی درد مندی کا احساس ہو تو ہو لیکن نفسیاتی مطالعہ سے شاعر کی ذات پوری انا کے ساتھ ان شعروں میں نمایاں نظر آتی ہے ماجد صدیقی جس لطافت سے غزل میں انفرادیت کا موڑ کاٹتا ہے میرے خیال میں اردو غزل کو پنجابی ذائقے سے آشنا کیا ہے وہاں الفاظ اور اظہار کے سلیقے نے ڈکشن کو لطیف اور سبک بھی بنا دیا ہے حالات کی سنگینی ہو یا جذبات کی لطافتیں، نوائے غم ہو یا خروش مسرت سوچ اور فن کا گہرا رشتہ ماجد صدیقی کے ہاں ٹوٹنے نہیں پاتا معاشرے کے خارجی ڈھانچے کی شکست و ریخت اور آشوبِ ذات کے تصادم سے الفاظ جب تصویروں میں ڈھلتے ہیں تو ماجد کے ذہنی زاویوں کی نشاندہی کچھ اس طرح ہوتی ہے۔

کیا سوچ کر زمیں سے اکھڑ سا گیا ہوں میں

اڑتی پتنگ ہی تو گری ہے مکان پر

اور پھر ؎

دیوار اک اور سامنے ہے

لے چاٹ اسے بھی اب زباں سے

یا یہ شعر:

نہیں ضرور کہ الفاظ دل کا ساتھ بھی دیں

یہ ذائقہ تو سخن میں کبھو کبھو آئے

میرے خیال میں ماجد صدیقی کو یہ کریڈٹ ضرور ملتا ہے کہ غزل کے وسیع کینوس کو رنگین اور چمکدار بنانے میں وہ انتہائی محنت سے کام لے رہا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ اس کی انفرادیت اس کے مستقبل کی غمازی کرتی ہے۔

یہ تھرتھری سی کیوں ہے ابھی تک بروئے آب

ڈوبا ہے جو اسی کی پریشاں صدا نہ ہو

زباں کے زخم پرانے یہی سُجھاتے ہیں

کہ اب کسی سے بھی دل کا نہ مدعا کہئے

بھنور بھی جھاگ سی بس سطح آب پر لایا

جو تہہ میں ہے وہ ابھی تک ابھر سکا ہی نہیں

ماجد صدیقی کی کتاب ’’یہ انسان‘‘ اس کی نظموں کا مجموعہ ہے جس کا انتساب حضرت ابو ذر غفاریؓ کے نام ہے اور یہ نام جہاں شاعر کے مزاج کی عکاسی کر رہا ہے وہاں خارجی سطح پر علامت کے طور پر اہلِ نظر کو بہت کچھ سمجھا بھی رہا ہے ماجد صدیقی کی نظمیں ایک خاص جذبے خلوص اور درد مندی کی پیداوار ہیں ان نظموں کے مطالعہ سے ایک بات جو واضح طور پر سامنے آتی ہے وہ شاعری کا اپنی دھرتی سے بے پناہ پیار، اور امن و آشتی کے آشتی کے پرچار کا جنون سماجی انصاف کے لئے جہد و عمل اور شاعرانہ ایمان ہے۔

نظموں کے اس مجموعے میں طویل تر نظم ’’یہ انسان‘‘ اسلوب کی وجہ سے جدید نظم کی خوبصورت مثال قرار دی جا سکتی ہے اس نظم میں نا آسودہ خواہشوں کی کسک جہاں شدید ہے وہاں معاشرتی مسائل پر نشتر زنی کا انداز بھی فنکارانہ ہے نظم ’’یہ انسان‘‘ دراصل ذات کے کرب، طبقاتی آویزش، معاشرتی ناانصافیوں اور انسانی شکست و ریخت کی المناک داستان ہے اس نظم میں فکر و خیال کے جو دائرے پھیلتے اور نئے اسلوب کے نئے پن کی جو لہریں رقصاں ہیں انہوں نے نظم میں ایمائیت اور ڈرامائیت کے خوبصورت امتزاج سے عجیب تاثر پیدا کیا ہے میرے خیال میں یہ نظم ایک لحاظ سے استحصالی نظام کے خلاف ایک اعلان نامہ ہے شاعر کے ذہنی اور فکری میلانات کی بھرپور عکاسی ’’لہولہو‘‘ حرفِ دعا ’’یاور کے نام‘‘ نظموں میں بھی ہوتی ہے ان تمام نظموں میں ماجد صدیقی کے داخلی آہنگ کی گونج پوری طرح سنائی دیتی ہے ہر چند یہ نظمیں موضوعاتی ہیں لیکن تخیلاتی حسن اور تخلیقی تموج کی مظہر بھی ہیں ان نظموں کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں اُلجھے ہوئے علامت پسند شعراء کی روش کو اپنانے سے گرز کیا گیا ہے یہ نظمیں نہ صرف اسلوب کے لحاظ سے تازہ منفرد ہیں بلکہ مطالب کے لحاظ سے بھی دلکش اور دلفریب ہیں میرے خیال میں یہ انسان کا شاعر اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس نے پنجابی زبان اور شاعری کی حلاوت و حرارت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اُردو کے قالب میں ڈھال کر اُردو کو جہاں نیا ذائقہ فراہم کیا ہے وہاں زبان کے ایک پروموٹر کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔۔۔ ماجد صدیقی کے غزل اور نظم کے مجموعی تاثر سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ترسیل اور ابلاغ کے معیاروں پر پورا اترنے کے لئے شاعر ہمہ تن مصروف عمل ہے یہ الگ بات کہ آج کے نقاد کی نظر اس پر نہیں میرے خیال میں اگر ماجد صدیقی کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اس جرم میں اس پر مقدمہ چلایا جائے کہ تمہارے پاس شعر کہنے کا جوا کیاہے تو میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ماجد صدیقی کو عظیم قدروں کی ترجمانی اور انسانیت کا پرستار ثابت کرنے کے لئے اس کے وکیل کے پاس بے شمار مواد ہو گا اور ادب کی عدالت میں یہ سرخروئی کچھ کم اعزاز نہیں۔ ماجد کی شاعری کے متعلق میرا یہ تاثر محض جذباتی بیان نہیں بلکہ گذارش احوال واقعی ہے۔

ماجد صدیقی کا حسب نسب ۔ نثار احمد جمیل

ماجد صدیقی کا نثر نامہ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ میرے سامنے ہے کتاب کو دیکھ کر۔۔۔ گویا دلبستاں کھل گیا۔۔۔ مجھے چوبیس سال ادھر کا وہ زمانہ یاد آ رہا ہے جب عاشق محمد خاں نے بقائمی ہوش و حوا س ماجد صدیقی بننے کا ارتکاب کیا تھا۔

عصری لحاظ سے اس لالہ صحرائی کا ابتدائی جغرافیہ دھندلکے میں ہے۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عاشق محمد خاں قسم کی کسی چیز سے کم از کم ہمارا رشتہ کبھی نہیں رہا تکلف برطرف، ذوقی اعتبار سے ایسی سنگلاح زمین کے ناموں سے ہم کچھ محتاط ہی رہے ہیں البتہ ماجد صدیقی سے اپنی آشنائی اس وقت سے ہے جب وہ نہ کسی اخبار کا کالم نویس تھا نہ ریڈیو ٹی وی پر چہکنے والا شاعر اور نہ کسی کالج کا معلم، البتہ معصوم، خوش ادا اور پر بہار طبیعت کا نوجوان جو اساتذہ کو اس لئے عزیز کہ شرافت اس کا جوہر تھا یا لوگوں میں اس لئے مقبول کہ مرنجان مرنج، خوش وضع و خوش گفتار ہیئت ترکیبی میں دھان پان قسم کا نستعلیق نوجوان جو۔۔۔ تصویر کے پردے میں بھی عریاں۔۔۔ لیکن اپنے کھنکتے لہجے اور متحیر آنکھوں کی بنا پر سب سے مختلف اور منفرد یعنی وہی ماجد صدیقی جو کالج مشاعروں کی راہ سے مقبولیت کے ایوان میں داخل ہوا اور جلد ہی اہلِ دل نے اس کے اضطراب کو بھانپتے ہوئے یہ فتویٰ دے دیا۔

زندگی کے بیکراں سمندر میں جو تموج و تلاطم ہے۔ اس سے لڑنے، ٹکرانے اور سر پھوڑنے والے عام روش سے ہٹ کر چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کی عمر اور شعور کا سفر توازن و تربیت کا پابند نہیں ہوتا۔ مشکلات و مسائل کی مہیب اور محکم چٹانیں ان کے عزم و حوصلہ کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ راہوں کے خوفناک پتھر ان کی آبلہ پائی کو ذوقِ سفر سے محروم نہیں کر سکتے۔۔۔ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے حوالے سے ماجد صدیقی کا حسب نسب کچھ ایسے ہی لوگوں سے ملتا جلتا ہے یوں تو۔

چمن میں ہم بھی زنجیری رہے ہیں لیکن ماجد صدیقی کی بے قرار طبیعت چونکہ صراطِ مستقیم پر چلنے سے الرجک تھی، لہذا انکشافِ ذات اور انکشافِ حیات کے جنون میں وہ ہم سے دور نکل گیا یعنی 

اوبہ صحرا رفت و مادر کوچہ ہا رسوا شدیم

یادش بخیر ہمیں یہ اطلاعات ملتی رہیں کہ اس شخص کو اپنی طَرفہ طبیعت کی بنا پر کسی مڈل سکول میں معلمی کی سزا بھی سنائی گئی۔ لیکن نالہ پابند نے نہ ہو سکا، اس شخص کے تیور نہ بدلے، ہر چند احباب اس کی اصلاح احوال کے لئے اپنی سی کوشش کرتے رہے اور محکمہ اپنی رایات کے مطابق اسے راہ پر لانے کے لئے حد سے گزرتا رہا۔ بعض جہاں دیدہ بزرگوں نے بھی مشورہ دیا کہ میاں جس راہ پر چل رہے ہو وہ مکے کو نہیں ترکستان کو جاتی ہے کیرئر کے تقاضے اور سودوزیاں کی نزاکتوں پر بھی چند عاقبت اندیش دوستوں نے عالمانہ لیکچر دیا اس شخص کو شوقِ فضول سے محفوظ رکھنے کے لئے یارانِ نکتہ دان نے غالب کا حکیمنہ مشورہ بھی دیا کہ:

کام اچھا ہے وہی جس کا مآل اچھا ہے

پس منظر کی یہ گفتگو آؤٹ لائنز کے طور پر اس لئے ضروری تھی کہ ماجد صدیقی کی تازہ نثری تصنیف صورت احوال آنکہ کے مطالعہ سے سرمستی و سربشاری کی جو کیفیت مجھ پر طاری ہوئی اس کے اسباب و محرکات واضح ہو سکیں اور یوں بھی کہ یہ کتاب میرے خیال میں مصنف کی تسبیح روز و شب کا بائیو ڈاٹا ٹائپ چیز ہے جسے علامتی اعتبار سے حیاتیہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ مصنف نے اسے زندگی کی گرمر کہہ کر تسلیم کیا ہے کہ یہ اس کے احساسات و جذبات کا نگار خانہ ہے۔

اس کتاب میں ہر مرحلے اور ہر موڑ پر مصنف کی ذات نمایاں ہے احوال و واقعات کا خمیر جس فضا اور ماحول کا پیدا کردہ ہے وہ ہمارے لئے اجنبی نہیں ہمارے مروجہ نظامِ تعلیم میں تمام تر توجہ انسان کو محض عالم بنانے کی ضرورت پر مرکوز رہتی ہے تعلیم کے اس یکطرفہ عمل کے نتیجہ میں روحانیت اور مادیت میں خلا پیدا ہو چلا ہے تہذیب کا صورت گر یعنی معلم احساس محرومی اور شکست خوردگی کا شکار ہے معلم کے ساتھ معاشرتی سطح پر جو نا انصافیاں روا رکھی جا رہی ہیں ان کی سنگینی بالائے زخم ہائے دگرہے یہی کچھ نہیں بلکہ :

ہر کوئی چاک گریباں کا تماشائی ہے

ماجد صدیقی (جو کہ خداوند ان مکتب کا محرم راز اور نبض شناس ہے۔) کی نگاہ ان نفرتوں اور کدورتوں پر بہت گہری ہے جو اس طبقے کے بعض برخود غلط افراد کی وجہ سے علم و حکمت کے ایوانوں کو دھواں دھار کر رہی ہے۔

’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے معلم کا المیہ یہی ہے کہ وہ اس گھٹن اور تلخی کو محبت و ذہانت کی زمردیں وادی میں بدلنا چاہتا ہے اسی مقصد کے پیش نظر اس نے اپنے زخم ہائے پنہاں کو بھی نمایاں کیا ہے اور ان فتنوں کی یاد بھی تازہ کی ہے جو اہلِ مدرسہ کے طفیل بپا ہوئے۔

ہر کس ازدستِ غیر نالہ کند

سعدی ازدستِ خویشتن فریاد

صورت احوال آنکہ مصنف کے تجربات وہ مشاہدات ا ایکس رہے ہے جس میں حق و صداقت کی جھلکیاں بھی ہیں اور حالات کی سازشوں کے خلاف احتجاج بھی خوبصورت پہلو یہ ہے کہ مصنف کی شخصیت کا ارتقائی عمل ہیجان اور بحران کے شدید لمحوں میں بھی جاری ہی رہتا ہے کسی مقام پر ٹھہرتا نہیں معاشی الجھنوں اور شعور و لاشعور کی کشمکش سے پیدا ہونے والی بد خوابی (Night Mare)کا احساس موجود ہے لیکن غم و الم کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرت کو ہی نہیں، غم و ام کی فراوانی حوصلے کو کمزور اور مضمحل نہیں کر پاتی مصنف مسرک کو ہی نہیں، غم کو بھی گلے لگاتا ہے وہ سکون کو ہی نہیں تغیر کو بھی زندگی سمجھتا ہے غموں اور محرومیوں سے بھری ہوئی یہ زندگی اس کے لئے ایک نشاطیہ تجربہ ہے وہ جانتا ہے کہ غم کی پہچان ہو تو وہ بھی نشاط بن جاتا ہے۔

یہ کتاب ماجد صدیقی کا نیا سائیڈ پوز ہے اس سے پہلے پنجابی شاعری اور اردو غزل کے حوالے سے یہ شخص جانا پہچانا جاتا رہا نثر کے کوچے میں ماجد صدیقی کا یہ پہلا قدم ہے لیکن وہ اس کوچے کے آداب سے پوری طرح واقف ہی نہیں پورے رکھ رکھاؤ اور ایٹی کیٹ کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے جن لوگوں کو ماجد صدیقی سے کسی طور رابطہ و تعلق ہے وہ جانتے ہیں کہ شعر و ادب کی وادی میں اس نے بغیر کسی سہارے اور سرپرستی کے ایک طویل سفر تنہا طے کیا ہے زندگی اور ذہن کے اس سفر میں وجدان، علم اور مہارت کے جو چراغ جلے، خیال احساس اور تجربے کے جو پھول کھلے یہ کتاب ان کا گلشن صدرنگ یا مصنف کے جمالیاتی رُوپ کا دوسرا نام ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ اردو ادب میں مزاج اور معنویت کے اعتبار سے ایک ایسا تجربہ اور اضافہ ہے جو اسلوب کی دلاویزی اور پنجابی ذائقے کی وجہ سے منفرد بھی ہے، اور شگفتہ و شاداب بھی۔۔۔ واقعات کی بوقلمونی اور بیان کی دلکشی نے کتاب کو کیف آور اور خیال انگیز مزاج کا ایسا کیپسول بنا دیا ہے جس کے استعمال سے مردنی و بے کیفی، اعصابی کشیدگی و افسردہ خاطری جیسے ذہنی اور نفسیاتی عوارض سے نجات مل سکتی ہے۔

مزاحیہ ادب کی سپلائی لائن اگرچہ بڑی مضبوط ہے اور نئے مال کی آمد آمد کا ہر سو چرچا ہے۔ لیکن گرمیٔ بازار کے باوجود صورت احوال آنکہ اپنے گوناگوں محاسن اور مخصوص ڈکش ن کے پیش نظر بلاشبہ چیزدے دیگر ہے۔

صورت احوال آنکہ۔۔۔ میں ماجد صدیقی کی تخلیقی زرخیزی جہاں جہاں بھی ہے وہ ہنوز سفر میں ہے اس کے فنی شعور کو دیکھ کر اس کے مستقبل سے بڑی امیدیں وابستہ کی جا سکتی ہیں

قومی آشوب کا شاعر ۔ پروفیسر سرور کامران

یہ ہماری ادبی بدقسمتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں آغاز ہی سے انسانی نفسیات کی خصوصی یافت اس کے ذکر و فکر اور اس کی گرمی ء گفتگو ہی کو صرف ادب اور شاعری کا نام دے دیا گیا ہے۔۔۔ نتیجتاً جو ادب اور شاعری پیدا ہوئے یا جنہیں ادبی ناقدین اور شارحین نے شاعری یا ادب کہا ان میں عمومی نفسیات اور انسانی نفسیات کا ذکر ہی نہیں ملتا بلکہ ادیب نے ارادتاً اس سے گریز کیا۔ اور شعوری اور لاشعوری طور پر یہ توجیہہ کی کہ عمومی انسانی مسائل کے ذکر سے بڑی شاعری یا بڑا ادب پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ اس صورت حال نے ہماری صحافیانہ سیاسی اور رزمیہ شاعری کو درجہ دوم کی شاعری قرار دے کر ادبی نقادوں کی آنکھوں سے دور کر دیا ہے۔ میرے خیال میں وقت آ پہنچا ہے کہ ادبی محقق اس صورت حال کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسی تحریروں کی ادبی قدر و قیمت کا تعین کرے۔

ہم ایک مارشل قوم ہیں اور طبل جنگ کی آواز دوسری قوموں کی نسبت ہمارے خون کو زیادہ گرماتی ہے۔ اور یہ چیز اس بات کی متقضی ہے کہ وطن کے بارے میں کی گئی شاعری کو اس کا جائزہ مقام دیں۔

ماجد صدیقی کی کتاب۔ ’’شاد باد منزل مراد۔‘‘ وطن اور وطن میں جینے بسنے والے لوگوں کے عمومی مسائل عمومی سوچ اور عمومی فکر و خیال کا احاطہ کرتی ہے۔ لیکن ماجد نے طبل جنگ بجا کر نہیں بلکہ قومی بے حسی اور بے ضمیری پر تازیانے برسا کر ہمارے لہو کو گرمایا ہے۔ جس کا تفصیلی تذکرہ اگلی سطور میں آئے گا۔ آئیے پہلے کتاب دیکھتے ہیں۔ کتاب کا پہلا صفحہ الٹتے ہی فیض احمد فیض نظر پڑتے ہیں جن کے خیال میں ’’ماجد صدیقی خوش فکر اور خوش گو شعرا میں سے ہیں اردو اور پنجابی میں یکساں سلیقے اور سہولت سے لکھتے ہیں۔ منظوماتِ داد و تحسین کی مستحق ہیں۔‘‘

لہجہ مربیانہ اور مشفقانہ ہے مگر اس خیر خواہانہ جذبے کے باوصف شاعر اور اس کی شاعری کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔

کتاب کا دوسرادیباچہ افضل رندھاوا کا تحریر کردہ ہے جس میں ماجد صدیقی کو۔ ’’ایک نہایت خطرناک شاعر۔‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

’’خطرناک اس لئے کہ وہ اردو پنجابی اور جانے اور کون  کون سی زبانوں میں شاعری کرتا ہے۔ نہایت اس لئے کہ وہ شاعری کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتا ہے۔‘‘

دوستانہ لہجے کی یہ شوخی ماجد اور ماجد کی منظومات کا کوئی بھید قاری پر نہیں کھولتی۔ ماجد میرا بھی دوست ہے اس لئے مجھے اور ماجد کے قاری کو لفطوں کی سیڑھیاں لگا کر خود ہی ماجد کے دل تک پہنچنا پڑے گا۔

ماجد ہم پر ایک شاعر کی حیثیت میں منکشف ہوا ہے لیکن اگر اس کی شاعری کے پس منظر میں کارفرما ماجد کا کسی قدر وقت سے مطالعہ کیا جائے۔ تو رفتہ رفتہ ہماری ملاقات اس ماجد صدیقی سے ہونے لگتی ہے۔ جو بیک وقت افسانہ طراز مصور اور موسیقار ہے سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک اداکار بھی ہے ایک ایسا اداکار جو کسی دوسرے کے محسوس کردہ جذبات کو تمثیلی رنگ نہیں دیتا بلکہ یہ جذبات سرا سر اس کے اپنے ہوتے ہیں کھرے اور سچے جذبات۔ جو اس کے اپنے وجدان ہی سے پھوٹتے اور اس کے شعری قالبوں میں ڈھل کر حقیقی صداقتوں کے نقش بن جاتے ہیں۔

شاد باد منزل مراد کا شاعر ماجد بھی ان سارے خصائص کے ساتھ ہم پر کھلتا ہے۔ وہ ایک ایک اُداس منظر میں رچا بسا دکھائی دیتا ہے۔ وہ خود ستم رسیدہ ہے اور ہر ستم رسیدہ شخص کی آواز اس کے اپنے درد کی آواز بن جاتی ہے۔ شاید اس لئے کہ اس کی ستم رسیدگی ان دیر پا زیادتیوں اور ناہمواریوں کے بطن سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔ جن سے اسے جنم جنم کا واسطہ ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور سے اسے ٹی بی کا ایک مریض صاحب استطاعت شخص سمجھتے ہوئے امداد طلب انداز میں پکارتا ہے تو ماجد اس بظاہر معمولی واقعے کو بھی انتہائی اہم قومی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ مثلاً اس کی نظم ’’معذرت‘‘ کے آخری دو شعر دیکھئے۔

ہاں مگر اتنا کہوں گا کہ خداوند جہاں

کب تری عرض مری بات کو سن پائے گا

کب تری چیخ پہ دھڑکے گا دل ارض وطن

میری فریاد پہ کب رحم اسے آئے گا

وہ بھکارن کو دیکھتا ہے تو اس کی اپنی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ وہ اس بظاہر معمولی منظر پر بھی پوری وابستگی سے پکار اٹھتا ہے۔

میری آنکھوں کے اشکوں سے اوکوں دامن بھر لے تو

ایک یہی خیرات ہے میرے پاس قبول جو کر لے تو

(نظم خیرات سے اقتباس)

قومی آشوب مقابلتاً ماجد صدیقی کی نظموں۔ ’’مامتا سے محرومی کا دکھ۔‘‘ ’’آج کے دن‘‘۔۔۔ ’’بنام قائد‘‘۔۔۔ ’’اے مرے فسردہ وطن‘‘۔۔۔ ’’دل دو نیم‘‘۔۔۔ عذاب و عتاب‘‘ میں زیادہ گونج دار شکل میں ابھرتا ہے۔ اور اذہان و اعصاب پر دائرے پھیلاتا چلا جاتا ہے۔۔۔ ’’اے مرے فسردہ وطن‘‘ مجموعے کی دوسری طویل نظم ہے۔۔۔ یہ نظم آٹھ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے جس کے لئے شاعر نے اک رواں بحر کا انتخاب کیا ہے۔ نظم کے ہر بند سے شاعر کا شعلہ احساس تند و بے باک ہو کر لپکتا ہے۔ نظم جذبے کی شدت بہاؤ اور وانی کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ اور ہمارے منافقانہ دوغلے اور مصنوعی قومی کردار کی عکاس ہے۔

میں اس مقام سے پلٹا ہوں اے وطن کہ جہاں

سکوتِ مرگ سے بڑھ کر سکوت طاری تھا

جسے جہاں بھی کوئی اختیار تھا حاصل

وہ شخص جذبہ انسانیت سے عاری تھا

’’دل دو نیم‘‘ المیہ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ اور اس کے لئے بھی طویل بحر کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اور اسے کامیابی سے نبھایا گیا ہے۔ شاعر ایک طرف احساسِ تفاخر کا ذکر کرتا ہے جبکہ دوسر طرف اس احساس کے چھن جانے کی ندامت ہزیمت اور شرمندگی کا بھی۔

اے وطن تیری آنکھوں سے آنکھیں مری چار ہونے سے عاری ہوئیں ان دنوں

ریزہ ریزہ ہوئیں سانس کی ڈوریاں ساعتیں مجھ پہ بھاری ہوئی ان دنوں

سال ہا سال کی سر فرازی مری دیکھتے دیکھتے خاک میں مل گئی

جس کی تعمیر نسلوں سے منسوب تھی اس عمارت کی بنیاد تک ہل گئی

(دل دو نیم)

اور یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لئے کہ:

قوم کا درد جس کو بھی لاحق ہوا قید خانوں کے در اس پہ کھولے گئے

خشک میزان پردار کی اہلِ دل بے ثبوت خطا روز تو لے گئے

قومی سطح پر ہم پر مصیبتیں ٹوٹ ٹوٹ پڑتی ہیں مگر بے حسی کا عالم دیدنی ہے۔ یہاں تک کہ آسمانی عتاب بھی ہماری بے حسی کے جمود کو توڑنے سے عاری ہے۔ 1973ء میں پنجاب میں سیلاب آیا جو عذاب الٰہی سے کم نہ تھا مگر احساس کی سطح پر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات رہا۔

ہماری سانس اکھاڑی گئی ہے حیلوں سے

ہماری کھال ادھیڑی گئی ہے رہ رہ کر

کچھ اس ادا سے بہایا گیا ہے جسم سے خوں

کہ پتھروں پہ چلے جیسے تیشۂ آذر

ترے ہی نام پہ جو قرض غیر سے مانگا

ترے زوال کے اسباب پر وہ صرف ہوا

جواریوں کی طرح ہاتھ جو بھی کچھ آیا

بنام اوج اسے داؤ پر لگایا گیا

ہر ایک شخص ہے سنگ فتادۂ تہ آب

وہ بے حسی کا نشہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں

یہ کس مہیب سفر پر رواں ہیں ہم سارے

کہ چل دئے تو جنہیں کوئی روکتا ہی نہیں

یہ کس طرح کا سکوں ہے ہمارے چہروں پر

کہ جیسے قافلہ اپنا کہیں لٹا ہی نہیں

کس آئنے کے یہ ٹکڑے ہیں میرے دیس کے لوگ

بکھر گئے تو جنہیں کوئی جوڑتا ہی نہیں

لیکن ماجد صدیقی جو اس آشوب کی آگہی رکھتا ہے اس کے درمیان کے اسباب بھی جانتا ہے کبھی کبھی یہ اسباب مشکل ہوتے نظر آتے ہیں اور کبھی کبھی خواب نامے کی صورت احتیار کر جاتے اور شاعر آنے والے اچھے وقت کی آرزو میں کھو جاتا ہے چنانچہ ماجد کی نظموں۔۔۔ ’’حصارِ شب سے نجات کا نغمہ‘‘۔۔۔ ’’یوسفانِ وطن کے نام‘‘ (جنگی قیدیوں کے استقبالیہ نظم) ۔۔۔ ’’دوسری تعبیر‘‘ (اسلامی سربراہی کانفرنس کے پس منظر میں)۔۔۔ ’’نغمۂ تشکر‘‘ (قیدیوں کی واپس مکمل ہونے پر)۔۔۔ ’’میں ایک ماں ہوں‘‘ سے جہاں قومی آشوب سے بچاؤ کی کوششیں سامنے آتی ہیں وہاں مستقبل اور اچھے خواب کا وہ خواب نامہ بھی ابھرتا ہے جس کے ہم سب آرزو مند ہیں۔ محولہ بالا نظموں سے قوم کے ماضی قریب کا علم ہوتا ہے اور ان کوششوں کا بھی جن کے طفیل ہم بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہیں۔۔۔ ’’حصارِ شب سے نجات کا نغمہ‘‘۔۔۔ اس سلسلے کی روشن مثال ہے۔

’’میں ایک ماں ہوں‘‘ اس مجموعے کی طویل ترین نظم ہے جو تیرہ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے نظم ایک ماں کی خود کلامی سے شروع ہوتی ہے اور خود کلامی ہی پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ ماں کا بیٹا فوج کا سپاہی ہے اور دشمنوں کی قید میں ہے لیکن وہ اپنے تمام تر ذہنی اور جذباتی کرب کے باوجود دوسری ماؤں کا دکھ بھی ذہن میں رکھتی ہے اس کا بیٹا استعارہ بن جاتا ہے یہاں تک کہ ہر جنگی قیدی کا چہرہ اس میں جھلملانے لگتا ہے اس طرح ذاتی کرب کا احساس قومی کرب میں ڈھل جاتا ہے۔ نظم اس لئے کامیاب ہے کیونکہ وہ اپنی طوالت کا سارا سفر مربوط دائروں کی صورت میں طے کرتی ہے ورنہ طویل نظموں میں اکثر اوقات شاعر کو یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے بات شروع کہاں سے کی اور اسے سمیٹنا کہاں ہے۔

’’میں ایک ماں ہوں‘‘ کا ایک بند لاحظہ ہو۔

وہ میں ہی ماں ہوں

جحو ایک جیالے محافظ مادر وطن کی

عظیم قربانیوں کے جذبوں کا

اولیں چشمہ رواں ہوں

ہزاروں بچوں کی

توتلی بولیوں سے لبریز اک زباں ہوں

نظم میں جا بجا ان باتوں کے اشارے بھی ملتے ہیں جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے اس طرح اس کتاب میں وطن دوستی وطن کے آشوب اور قومی آشوب سے آگاہی اور اس سے نجات اور مستقبل کے خواب نامے کا تصور سبھی کچھ موجود ہیں اور میرے نزدیک قومی نظمیں اپنے اندر یہی تقاصا رکھتی ہیں۔

کتاب میں چھ اردو غزلیں اور دو پنجابی نظمیں بھی ہیں غزلیں بھی خوب ہیں اور نظمیں بھی۔ بالخصوص وہ غزل جو غالب کی نذر کی گئی ہے۔

دی مجھ کو شناساؤں نے زک جیسی

یوں بخت رقیباں کبھی یاور نہ ہوا تھا

ماجد صدیقی اس لحاظ سے مبارک باد کا مستحق ہے کہ اس نے بدلتے ہوئے سیاسی اور معاشرتی حالات میں ان قومی نظموں کا پہلا پھول برسایا ہے دیکھیں اب اس کی تقلید میں اور کون سرِ میدان آتا ہے۔

عشق اور مشک کی تجسیم ۔ پروفیسر قیوم شاکر

کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے اور جب اس مقولے کے دونوں اجزا ماجد صدیقی کی ذات مجسم ہو کر سامنے آ جائیں تو اس کی حقانیت کا قائل ہونا ہی پڑتا ہے۔ ماجد نے زندگی اور کائنات سے بھرپور عشق کیا ہے اس نے اوج ناز سے اترنے والے کئی ماہتاب دیکھے ہیں۔ اس نے سہمی ہوئی حیات کے لمحوں میں جھانک کر اس کی بے کرانیوں کو دیکھا اور رُتوں کی مر و بے مہری کا خلش آمیز عرفان حاصل کیا ہے۔ جب یہ تمام اجزا اپنی تمام تر جانگدازی کے ساتھ اس کے رگ بے میں سریت کر گئے تو اس کے تخلیقی شخصیت شاعری کی صورت میں ایک ادائے کافرانہ کے ساتھ جلوہ گر ہوئی اور خوشبو بن کر قریہ قریہ پھیل گئی اس کے اپنے قول کے مطابق:

پیار خوشبو ہے چھپائے نہ بنے

بات نکلی تو بِکھر جائے گی

اردو کے جغادری قسم کے نقاروں کے نزدیک اس دور کا مزاج آزاد نظم کے مزاج سے زیادہ ہم آہنگ ہے اور شاید یہ اسی گمراہ کن رائے کی کرشمہ سازی ہے کہ بعض شعراء شاعری ترک کر کے نثری نظمیں تک لکھنے لگے ہیں۔ شاعرانہ نثر اور نثری مم کے چکر میں پڑے بغیر بھی یہ بات بہ صد اعتماد کہی جا سکتی ہے کہ فکر و خیال کا کوئی بھی دور ہو اس کے مزاج میں تلون و تنوع کی فراوانی ہوتی ہے۔ فکری رنگا رنگی مختلف تخلیقی سانچوں میں ڈھلتی رہی ہے جس کے نتیجے میں ایک ہی دور میں بہت سی اصناف میں طرح طرح کے شاہکار تخلیق ہوئے ہیں۔ میر و سودا غالب و ذوق کے ادوار مین غزل قصیدہ مثنوی اور شہر آشوب وغیرہ دائمی اقدار کے ساتھ ظاہر ہوئے لہذا کہا جا سکتا ہے کہ روح عصر کی باز آفرینی کے لئے کسی بھی صنف کی قید نہیں ہے۔ بلکہ کسی بھی دور کے تہذیبی و تاریخی اور سیاسی و سماجی تقاضوں کی ترجمانی و عکاسی کے لئے اگر ضرورت ہوتی ہے تو صرف اور صرف تخلیقی شخصیت کی اور ماجد صدیقی کا کمال یہ ہے کہ اس کی شخصیت تخلیقی ہے۔ اس کے تخلیقی احساس نے اردو اور پنجابی کے مختلف شعری رُوپ اختیار کئے ہیں یہاں تک کہ اس نے نثری نظم تک کو بھی بخشا نہیں ہے۔ مگر میرے خیال میں اس کی فنکارانہ شخصیت کا کامل اظہار اس کے مجموعہ ہائے غزل ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ اور ’’آغاز‘‘ میں ہوا ہے۔

اس کے یہ دونوں مجموعے جدید تر غزل سے ہم آہنگ ہیں۔ غزل نے ہمیشہ اپنے دور کے تقاضوں کا ساتھ دیا ہے اور رُوح عصر کی ترجمانی فرض کماحقہ ادا کیا ہے۔ جدید غزل کا خاصہ یہ ہے کہ اس نے اپنے تمام تر خارجی روائتی رُوپ کو برقرار رکھتے ہوئے باطنی وسعت اور لچک کا ثبوت فراہم کیا۔ نئی غزل جدید زندگی کی نئی نئی حقیقتوں کی جمالیاتی باز آفرینی کے لئے ایک موثر وسیلہ ثابت ہوئی ہے۔ نئی غزل نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ روائتی شاعرانہ قیود کے باوصف حیات و کائنات کی خوبصورت فنی عکاسی اختیار سے باہر نہیں ہے۔ نئی غزل کی داخلی شخصیت میں صرف فکری حیرت ہی نہیں طرزِ احساس کی قدرت بھی موجود ہے اور بڑے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ماجد صدیقی کی غزل کی تشکیل بھی انہی عناصر سے ہوئی ہے۔ ماجد کی غزل کے سرسری مطالعہ سے تاثر یہ ابھرتا ہے کہ شاعر ذاتی حرماں نصیبوں اور تلخ کامیوں کو رجائی انداز میں پیش کر رہا ہے۔ مگر بہ نظرِ عمیق دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اپنی ذات کے حوالے سے وہ کا بناتی درد اور عصری کرب کی بھرپور عکاسی کر رہا ہے۔ اس کی غزلوں میں جنون و حکمت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ نئی زندگی کا کورانہ ساتھ نہیں دیتا بلکہ انتہائی فکری ٹھہراؤ سے کام لیتا ہے۔ سائنسی علوم کی پیش رفت ترقی اور تباہی کے جو تضادات اُبھرے ہیں اس کی نرول مصوری ماجد صدیقی کی غزلوں میں بڑی فنکارانہ صناعی سے ملتی ہے ان میلانات و رحجانات کی عکاسی کرتے وقت ماجد نے انفرادی راہ تراشی ہے۔ اس کا تخلیقی سفر معاصرین سے بہت حد تک مختلف ہے لہجے میں اشتعال آمیز بلند آہنگی کی بجائے کرب آفریں ملائمت ہے مثالیں دیکھئے۔

کانٹوں کے درمیاں گُل تر کا نشاں بھی دیکھ

کافر نہ بن رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

اسی غزل کا یہ شعر بطور خاص ملاحظہ ہو۔

تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل

اس بحر میں تموجِ گردِ خزاں بھی دیکھ

جدید دور کی سائنسی آسائشوں نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے اور انہی باطنی فاصلوں سے ایک لاعلاج احساس تنہائی نے جنم لیا ہے جس کے اظہار نے نئے شعرا کے یہاں نئی نئی صورتیں اختیار کی ہیں۔ ماجد نے بھی اس عصری احساس سے روگردانی نہیں کی وہ کہتا ہے۔

سہمی ہوئی حیات کو یوں مختصر نہ جان

لمحے میں جھانک اور اسے بے کراں بھی دیکھ

ان تمام کرب سامانیوں کے باوصف ماجد اپنے کلام میں کہیں بھی قنوطیت کا شکار نہیں۔ اس کے فنکارانہ باطن میں زندگی کے جمال کا مشاہدہ تمام تر رعنائیوں سے جلوہ گر ہے اور کی نظر زندگی کی تلاش میں ہر کہیں سرگرداں رہتی ہے۔

ڈھونڈا ہے ہم نے جس کو دل کے سکوں کی خاطر

طے ہو سکے نہ شاید جنگل یہ خامشی کا

کرچیاں اتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی

اور ادھر مثردہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا

جھڑتا ہے کوئی پھول تو رو دیتے ہو ماجد

جینا ہے تو کھلتی ہوئی کلیوں کو بھی دیکھو

محسوسات کی شاعری ۔ متین فکری

شاعری دل پہ گذرنے والی واردات کا لطیف و نازک پیرایۂ اظہار ہے۔ یہ خود کلامی بھی ہے اور خود آگاہی بھی شعر جب دل کی غیر مرئی کیفیت سے نکل کر صفحہ قرطاس پر منتقل ہوتا ہے تو شاعر ایک دنیا کو اپنے محسوسات اور شعری تجربے میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ غالب نے کہا ہے۔

پاتا ہوں اس سے داد کچھ اپنے کلام کی

روح القدس اگرچہ مراہم زباں نہیں

یعنی شعر کی اثر آفرینی ان لوگوں کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتی ہے جو شاعر کے ہم زبان و ہمکلام نہیں ہوتے سچا اور کھرا شعر اس طرح دل میں جا کر پیوست ہوتا ہے جس طرح محبوب کی نظر کا تِیر دل میں جا کر ترازو ہو جاتا ہے شعر میں یہ خوبی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس میں خون جگر شامل ہو۔

ماجد صدیقی ہمارے دور کے ان شعرا میں شامل ہیں جن کا شمار بہت زیادہ لکھنے والوں میں ہوتا ہے زندگی کی بے پناہ مصر وفیتوں کے اس دور میں جب کہ فکر شعر کے لئے لمحۂ فرصت تلاش کرنا بھی کارے دارد ہے۔ تھک کے حساب سے غزلیں کہتے جانا اور پھر کتابی صورت میں ان کی اشاعت کا اہتمام بھی کرنا یقینا ایک بڑا کارنامہ ہے جس کا سہرا ماجد صدیقی کے سر بندھتا ہے۔ انہوں نے اب تک جو کچھ بھی لکھا ہے اسے زیورِ اشاعت سے محروم نہیں رہنے دیا۔ ’’آنگن آنگن رات‘‘ ان کی غزلوں کا تازہ مجموعہ ہے جو حال ہی میں منظرِ عا پر آیا ہے۔ زودگوئی یقیناً شعر کی کیفیت پر اثر انداز ہوتی ہے لیکن ایک اعتبار سے یہ ایک بڑا کریڈٹ بھی ہے جو شاعر زیادہ شعر کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہی اس کا مظاہر بھی کرتا ہے ماجد صدیقی کی غزلوں کے موضوعات میں تنوع اور مضامین میں بوقلمونی ہے انہوں نے ایک حساس شاعر کی حیثیت سے جو کچھ سوچا سمجھا اور محسوس کیا ہے اسے اپنی غزلوں کا موضوع بنایا ہے ’’آنگن آنگن رات‘‘ کی غزلوں میں عصری شعور اور کرب محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یعنی جو باتیں نظم میں کہنے کی تھیں اور زیادہ برملا انداز میں کہی جا سکتی تھیں وہ ان کی غزلوں میں ڈھکے چھپے لیکن محسوس انداز میں موجود ہیں وہ کہتے ہیں۔

ملا وہ خطہ جاں دشت انتظار کے بعد

کہ جیسے چاندنی چھاجوں برستی نار کے بعد

نکل کہ کوچہ جاناں سے ہم بھی دکھ کے آئے

سبک سری جو ملے دور اقتدرا کے بعد

ماجد صدیقی عصر حاضر کی ناانصافیوں پر یوں نالہ کناں ہیں۔

دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا وہی فیصلہ لکھ دیا

کل کے اوراق میں لیجئے، ہم نے بھی فیصلہ لکھ دیا

جور کے، جبر کے جس قدر سلسلے تھے وہ بڑھتے گئے

آنے پائی نہ جب ان میں کچھ بھی کمی فیصلہ لکھ دیا

ماجد کے شعری تجربات کا کینوس بڑا وسیع ہے انہوں نے غزل کے میدان میں اپنے راہوارِ فکر کو ہر سُو دوڑایا ہے اور جو کچھ بھی کہہ سکتے تھے اسے کہنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ مثلاً یہ اشعار:

سب منتظر ہیں وار کوئی دوسرا کرے

منہ زور کو شکار کوئی دوسرا کرے

ہو اس کا جور ختم سبھی چاہتے ہیں پر

یہ راہ اختیار کوئی دوسرا کرے

ان اشعار میں بہت سارے کنائے اور اشارے موجود ہیں اور اہلِ نظر مختلف حوالوں سے ان کا مفہوم بھانپ سکتے ہیں ماجد کی غزل اپنے عہد کی تصویر بھی ہے اور اپنے دور کا مرقع بھی انہوں نے کرب ذات کی بجائے کرب عصر کو اپنے شعروں کا موضوع بنایا ہے اس طرح ان کی غزل میں بے کراں وسعت اور گہرائی پیدا ہوئی ہے وہ کہتے ہیں۔

صدی کے نصف تک پر تو انہی کا راج دیکھا ہے

نجانے اس سے آگے ہیں ابھی محرومیاں کیا کیا

بچے بھی گر بھنور سے تو اسے ساحل نہ اپنائے

یہاں ہر ناتواں پر ایک سا آزار غالب ہے

نسلیں تک گروی رکھ کر ہم کیا ٹھاٹھ سنبھالے بیٹھے ہیں

کچھ کم تو نہیں یہ کاج اپنا کیونکر نہ بھلا اترائیں ہم

ماجد کی غزل کے لہجے میں کہیں کہیں درشتی بھی ہے لیکن یہ درشتی ان کے عصری شعور ہی کی عکاسی کرتی ہے جب وہ یہ کہتے ہیں۔

لو یوں بھی بن باس رچائیں شہروں میں

شامل ہو جائیں اب گونگوں، بہروں میں

بھِنک ملی ہے کہاں سے انہیں ضیافت کی

عجیب زاغ ہیں جو بام در پہ اترے ہیں

تو درحقیقت درشتیٔ طبع کا اظہار کرتے ہیں لیکن ماجد کی غزل میں کلاسیکیت بھی اچھی طرح رچی بسی ہے ان کے ہاں ہجر اور وصال کی باتیں بھی ہیں اور عشق و محبت کی گھاتیں بھی۔

میں اس سے چاہتوں کا ثمر لے کے آ گیا

آنکھوں میں آنسوؤں کے گہر لے کے آ گیا

دیکھو تو کیسے چاند کی انگلی پکڑ کے میں

اس شوخ سے ملن کی سحر لے کے آ گیا

چکھنے دینا نہ کبھی لمحہ موجود کا رس

جب بھی ہمیں تم خواب سہانے دینا

انہی دنوں کہ تمیں دیکھ کر خدا دیکھا

مزا کچھ اور تھا بچپن کی تیز گھاتوں میں

ماجد زمانے سے آگے نکلنے یا اس سے پیچھے رہ جانے والے شاعر نہیں بلکہ زمانے کو ساتھ لے کر چلنے والے شاعر ہیں اور یہ خوبی بہت کم شعراء میں پائی جاتی ہے۔

ایک سچا اور کھرا قلمکار از خاقان خاور

آج کل ادب پر مصلحتوں کی گرد جم چکی ہے۔ اور زیادہ تر تجارتی ادب تخلیق ہو رہا ہے جہاں مفادات پر زد پڑتی نظر آئے ادب کی بساط الٹ جاتی ہے اسی لئے تخلیقی عمل سست روی اور شکستگی کا شکار ہے بوالہوسی تو پرورش پا رہی ہے مگر کسی ذہن سے جذبہ خیر کی لو نہیں ابھرتی اصلی اور حقیقی صورتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں اورلنڈے کا بوسیدہ مال شو کیسوں میں سجا دیا گیا ہے اہلیت کا چمن ویران اور سچائیوں کے پھول مرجھا رہے ہیں اور ہر جگہ کاغذی گلدستے رکھ دئیے گئے ہیں جن میں نہ رنگ ہے نہ مہک نہ بُو ہے نہ باس محض دکھاوا سرسر نمائش اور سربہ سر فریبہے حصولِ زر اور جلبِ منفعت کے تیر بہاؤ نے صداقتوں کے تابدار موتیوں کو تہوں میںاتار دیا ہے اور مکر و ریا اور منافقت کے تِنکے سطح آب پر تیر رہے ہیں خدا جانے کب تک کشور ادب پر یہ بنئے مسلط رہیں گے اور خدا معلوم کب تک دنیائے مکر و فن لبنان و فلسطین اور افغانساتان کا نقشہ پیش کرتی رہے گی لیکن کاٹھ کی ہنڈیا کب تک چڑھے گی اسے جلنا اور یہ یقینا جل کر رہے گی انجمنِ ستائش باہمی کی کوکھ سے جنم لینے والی اولاد کبھی پھولتی پھلتی نہیں ہمیشہ لاولد اور لاوارث ہی رہتی ہے۔

جہالت کا مسند نشیں ہونا ہمارے عہد کا سب سے بڑا اور ناقابل برداشت المیہ ہے جس کے خلاف پروفیسر ماجد صدیقی کی طرح تمام سچے اور کھرے قلم کاروں کو جہاد کرنا چاہئے ورنہ دریاؤں کی مدھر روانی پر برساتی نالوں ہی کا شور و شغب غالب رہے گا۔

ماجد صدیقی ہمارے ملک کے ان معدودے چند ادیبوں اور شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں قدرت نے فکر و فن کی لامحدود خوبیاں اور صلاحیتیں دے رکھی ہیں۔ اور ان کا شعوری سفر لمحہ بہ لمحہ تیز سے تیز تر ہوتا چلا جا رہا ہے سخناب ماجد صدیقی کا اردو غزل کا چوتھا مجموعہ ہے جس سے ان کے مجموعوں کی تعداد چالیس کو پہنچنے والی ہے اور میری دانست میں طبع زاد کتابوں کی اتنی بڑی تعداد ان کے ہم عصروں میں ایک ریکارڈ ہے تعجب انگیز بات یہ ہے کہ نفسا نفسی کے اس عالم میں جب کہ زندگی کے ہنگامے سر کھجانے کی مہلت بھی نہیں دیتے اور کسی کو سوچنے کے لئے ایک لمحہ تک میسر نہیں آتا ماجد صدیقی دھڑا دھڑ اپنی تصانیف میں اضافے پر اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں اور عالم یہ ہے کہ ابھی قارئین کسی ایک کتاب سے بھی اچھی طرح گزر نہیں پاتے کہ ان کی ایک اور کتاب مارکیٹ میں آ جاتی ہے اور پڑھنے والے اس مخمصے میں پڑ جاتے ہیں کہ پہلے کس کتاب کو مطالعہ میں لایا جائے اس لئے کہ

کرشمہ دا من دل می کشد کہ جا ایں جاست

نئی نویلی دلہن کی طرح سجی سجائی ماجد صدیقی کی کتاب سخناب 192 صفحات پر مشتمل انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر ہے اتنی پُرکشش روشن اور نکھری ہوئی کہ دوران مطالعہ نظر کے پاؤں پھسلتے ہیں۔ جناب کرنل غلام سرور نے سخناب کے بارے جو کچھ کہا ہے صد فی صد درست ہے وہ کہتے ہیں۔

ماجد صدیقی کی غزل میں جو تازگی اور محسوس انداز کی اُداس شیرینی پائی جاتی ہے وہی ماجد صدیقی کی اصل پہچا ن ہے جو اسے ہم عصر شعرا سے ممتاز کرتی ہے وہ خو سے خوب تر کی تلاش میں رواں دواں ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس سفر میں جس قدر اس کا انداز بیان نکھرتا ہے اس سے کہیں زیادہ اس کی غزل کی معنوی پرتیں گہری ہوتی جا رہی ہیں اس کا سارا کلام دھڑکنوں کی زبان پر مشتمل ہے جس میں ایک منفرد انداز کا توازن ہی نہیں۔۔۔ ایک درد مندانہ مگر استادانہ فنی رچاؤ بھی ہے اور تو یہ کھٹکا۔ برابر لگا رہتا ہے سرزمین پوٹھوہار کا یہ بوریا نشیں دلی اور لاہور کے قصر نشینوں کو کہیں پیچھے ہی نہ چھوڑ جائے اور کیا خبر میرا یہ خوشگورا کھٹکا درست ہی نکلے۔‘‘

اور حق بات بھی یہی ہے کہ سخناب نیرنگی افکار طُرفگی مضامین بلندی خیالات ندرتِ بیان اور قدرتِ اظہار کا ایک جیتا جاگتا مرقع ہے۔ جس کے ایک ایک صفحے پر زندگی کے طرح طرح کے تلخ وشیریں حقائق جا بہ جا بکھرے ہوئے ہیں جو شاعر کی وسیع النظری کی بھرپور دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے کہ ماجد صدیقی اپنی ذات کے گنبد میں بند نہیں بلکہ پوری کائنات اس کی نگاہوں میں ہے اور داخلی اور خارجی ہر کیفیت اس پر بدرجہ اتم عیاں ہے۔

اپنے یہاں کی بے شمار اور لاتعداد جوان دوشیزاؤں کے نصیبوں کو دھیان میں لائیے اور سخناب کا پہلا شعر دیکھئے۔

کورا کاغذ سوچ رہا ہے

اس پر کیا لکھا جانا ہے

مشاہدے کی اس باریکی کے پیش نظر یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ماجد صدیقی انتہائی دقیق مشاہدے اور جاں گداز تجربے کے شاعر ہیں۔ وہ زندگی کو نہ صرف یہ کہ قریب سے دیکھتے ہیں بلکہ اس سے سرگوشیاں بھی کرتے ہیں وہ جو کچھ دیکھتے ہیں بڑی درد مندی سے دیکھتے ہیں اور اسے یادگار صناعی سے کہہ بھی دیتے ہیں۔

زر اندوزی اور حصولِ مفادات کی دوڑنے آج کے انسان کو نیلام گھر میں لا کر رکھ دیا ہے ہر ایک کی بولی لگتی ہے قیمت پڑتی ہے انسانیت اور شرافت کے اصولوں کے سودے ہوتے ہیں ماجد جیسے اہل نظر فنکار ان کی نشاندہی اس طرح کرتے ہیں۔

نرخ نہیں گو ایک سے لیکن

ہر انسان یہاں بکتا ہے

جو بھی قیمت ہے کسی کی وہ جبیں پر لکھ لے

یہ منادی بھی سر شہر کرائی جائے

آج کا دور وہ دور ہے جس میں معاشی اور سماجی مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں کسی ایک کو کسی دوسرے کا ہوش نہیں ہر کوئی اپنی صلیب خود اٹھائے پھر رہا ہے اور نجی مصائب کے پہاڑوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو رہا ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں یوں سمٹ کر رہ گیا ہے کہ باہمی دُکھ درد کا احساس ہی ناپید ہے ماجد خلفشاری کے اس احساس کو اس طرح اجاگر کرتے ہیں۔

دھڑکن دھڑکن ساز جدا ہیں

کس نے کس کا دکھ بانٹا ہے

تلاش رزق سے ہٹ کر کہیں نہ چلنے دیں

ضرورتیں۔ کہ جو چھا لا بنی ہیں پاؤں کا

اب دریا کی سیر کو کم کم جاتا ہے

ماجد جس کا اپنا چہرہ جل تھل ہے

دونوں جرم کے منوانے پر اور نہ ماننے پر تھے تلے

ہم کہ ہمیں اصرار بہت تھا وہ کہ انہیں انکار بہت

ڈھل چکی جب چودھویں کی رات بھی

کیوں نہ ہوں ماجد زوال آثار ہم

اُدھر گماں کہ سیاہی فلک سے چھٹنے لگی

پرندہ ہانپتے اترا تھا جس پر

وہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے

نہیں گر زہر خاموشی تو ماجد

لبوں پر پھر یہ نیلا ہٹ سی کیا ہے

ماجد خلا نورد وہ سچائیوں کا ہے

اپنی زمیں سے رابطہ جس کا ہو کٹ گیا

ماجد صدیقی کے یہاں بوقلموں موضوعات برف کے ریزوں کی طرح آنکھوں میں تیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اور بہ صد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ ماجد کے یہ تمام تر موضوعات ہمارے پہاڑوں میں چھپی معدنیات کی طرح اس کے مجموعوں میں بند ہیں ذرا ذیل کے اشعار کو دیکھئے اور پہچانئے کہ ہمارا یہ درویش صفت شاعر آنے والے کتنے زمانوں کے لئے اپنے انفاس کی ڈوری میں کیا کیا کیا گہر ہائے تابدار پرو رہا ہے۔

نکل کے چاند سے کیوں راہ بھول جاتی ہے

وہ چاندنی کہ جو بیوہ کے بام پر اترے

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نہ جانے گھوڑا یہ کس لٹے شہسوار کا ہے

کیا کہوں ان کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی

تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے

معاملہ ہی رہائی کا اس بیاں پر تھا

مدار جس کا ہماری کٹی زباں پر تھا

پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں

خوف سب گرد اب کے ہم تک چلے آنے میں تھا

بس اتنا یاد ہے قصہ گرانیٔ شب کا

کوئی گلاب نہ کھِلتا دم سحر دیکھا

لٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی

محنت میں بھی کیا رکھا ہے

ہوتے ہوتے زمانے کی تحریک پر

اپنی نیت بھی ماجد بری ہو گئی

ہمارے آپ کے ہونے لگے ہر شب زیاں کیا کیا

اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا

نازک حسیات کا شاعر از احمد ظفر

نازک حسیات کا شاعر ۔ احمد ظفر

بس اسی بنا پر میں آسماں سے روٹھا ہوں
چاند کیوں نہیں اُترا رات میرے آنگن میں

یہ شعر ہے جناب ماجد صدیقی کے نئے مجموعہ غزل آنگن آنگن رات کا۔ جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے مجموعے کا نام آنگن آنگن رات کیوں رکھا ہے یہ تاثر ظاہر کرتا ہے کہ وہ کتنی نازک حسیات کے شاعر ہیں اور وہ روشنی سے کتنا پیار کرتے ہیں، یہ ان کے احساس کی ایک اور جہت ہے۔ یہ تینوں جہتیں جب آپس میں رچ بس جاتی ہیں، تو اچھی شاعری جنم لیتی ہے۔ تخلیق کا عمل ایک مشکل عمل ہے۔ برسوں کا ریاض، گہرا مشادہ، وسیع مطالعہ اور اظہار پر قدرت اس عمل کا پس منظر بنتی ہیں یہ تمام صفات ماجد صدیقی کی شاعری میں ملتی ہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ماجد صدیقی پچھلے تیس بتیس سال سے اس عمل میں مبتلا ہیں۔ ان کے متعدد پنجابی اور اردو نظم و نثر کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں ماجد اپنی پنجابی شاعری میں جہاں اپنی مٹی، اس کی بُو باس، اس کے رہن سہن کی پہچان کو برقرار رکھتے ہیں وہاں اوہ اپنی اردو شاعری میں بھی اپنے کلاسیکی سرمائے میں اضافے کے ساتھ ساتھ اپنے انداز کو قائم رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ انہیں زبان پر عبور ہے۔ وہ ہر دو زبانوں کی نزاکتوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور فکری رچاؤ کے عمل کو تیز رکھنے کے لئے تن من دھن سے کوشاں رہتے ہیںماجد صدیقی وقفوں کی شاعری کے قائل نہیں بلکہ ان کا کلام ایک مسلسل عمل ہے۔ ارتقاء اور نمو کی کیفیتوں کے آئنہ دار ماجد صدیقی، اس دور کے نہایت اہم شاعر بن کر ابھرے ہیں۔

’’آنگن آنگن رات‘‘ کی غزلوں میں فکری گہرائی ہے، انداز بیان سہل ہے، مضامین میں بلا کا ابلاغ ہے ایک اداسی ہے مگر اداسی کے ساتھ ساتھ شگفتگی بھی ہے ان کے فکر و فن کا سلسلہ ایک گنگناتے ہوئے چشمے کی طرح آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

بچھڑ کے موسم گل سے یہی ہوا ماجد
کھلا ہے غنچۂ دل ہر گئی بہار کے بعد
صحن میں تمنا کے ہے یہی قلم ماجد
جس کی تاب ناکی سے شب بہ شب چراغاں ہے
رُکا تھا لفظ جو ہونٹوں پہ آ کر
وہ اب زخم زباں ہونے لگا ہے

یہ محض شعر ہیں مثال کے لئے۔ ایسے بہت سے شعر ’’آنگن آنگن رات‘‘ میں مل جائیں گے۔ اور اس مجموعہ غزل کے مطالعہ سے آپ یہ محسوس کریں گے کہ ماجد فن کے ساتھ انتہائی مخلص ہیں وہ بات کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں اور بہت سوچ سمجھ کر شعر کہتے ہیں۔ البتہ کہیں کہیں لفظ کے استعمال میں۔۔۔ وہ جو تجربہ کرتے ہیں اس میں اجنبیت سی محسوس ہوتی ہے۔۔۔ شاید اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انہیں زبان کے ساتھ ساتھ بیان کے نئے نئے سانچوں کی تلاش بھی برابر رہتی ہے۔

ماجد صدیقی غزل گو ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ارد گرد کے حالات پر بھی نظر ڈالتے ہیں، کہیں ایک ناقد کی طرح اور کہیں، ایک مبصر کی طرح اور کہیں، ایک تماشائی کی طرح اور ہر صورت میں ان کے انداز میں جذبۂ تعمیر رواں دواں دکھائی ہے۔

مہکے ہمارا باغ بھی شاید بہار میں،
آنکھیں پگھل چلی ہیں اسی انتظار میں
تھے جس قدر شہاب گرائے نشیب میں
ذروں کو وقت نے مہ واختر بنا دیا
ہمیں ہی راس نہ ماجد تھی مصلحت ورنہ
یہی وہ چیز تھی جس کا نگر میں کال نہ تھا۔

زورِ ہنر از آفتاب اقبال شمیم

جہاں تک مجھے علم ہے‘جاپان کی یہ صنفِ شاعری پہلے دو مصرعوں میں کسی مظہرِ فطرت کو اپنا کینؤس بناتی ہے اور پھرتیسرے مصرعے میں شعور یا وجدان کی ضربی لکیر سے شاعر کے۔۔۔۔ داخلی مُوڈ یا زندگی کے کسی مشاہدے یا تجربے کی ذُو معنویّت کی اشاراتی تصویر کھینچتی ہے لیکن جب۔۔ کوئی صنفِ شاعری اپنا جغرافیہ اور ثقافتی منظرنامہ بدلتی ہے تو اُسے ایک نئی زمین‘ایک نئی روایت اور ایک نئی عصری صورتِ حال میں جذب ہونے کے لیے‘ ہیئت میں نہ سہی لیکن موضوع و مواد میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کے عمل سے ضرور گزرنا پڑتا ہے۔

آج جب کہ ہائیکو اردو شاعری کے تخلیقی عمل میں واضح طور پر شامل ہو چکی ہے اور ہمارے ہر عمر اورہر مزاج کے شاعر خاصی تعداد میں اس صنفِ شاعری کی جانب متوجہ نظر آ رہے ہیں‘تو اس میں نت نئے تخلیقی جوہروں کے کھلنے کا مطالعہ بجائے خود ایک تحقیقی مضمون کا متقاضی ہے۔۔۔۔لیکن مجھے فی الوقت ماجِد صِدّیقی کی ہائیکوز کی بات کرنی ہے‘جو میرے زیرِ مطالعہ ہیں۔

اوّلاً تو مجھے ان میں کہیں دوہے‘ کہیں ماہیے‘کہیں ثلاثی‘کہیں غزل کے شعر اور کہیں رباعی کی باس بلکہ یوں کہیے کہ بُوئے گریزاں کا مزا آ رہا ہے جس سے بچ بچا کر۔۔ماجِد صِدّیقی اس نئی صنفِ سخن میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔زورِ ہُنر ایسا ہے کہ ہر ہائیکو بے ساختہ شعری گفتگو کا لطف دیتی ہے۔مجھے ہر ہائیکو میں کسی نہ کسی کہانی‘منظر‘ داخلی کیفیت یا کسی معاشرتی تمثال و تمثیل کا سراغ ایسے ملتا چلا جا رہا ہے جیسے کوئی پاس بیٹھے پرتوں سے ڈھکی تصویریں دکھا رہا ہو یا پھر آنکھ سے چھپی جگہوں پراچانک کسی نے چراغ جلا کر رکھ دئے ہوں۔

موضوع کے اعتبار سے یہ ہائیکوز بڑی گنجان نظر آتی ہیں جن میں پنسل سکیچز‘رنگین تصاویر اور ابھرواں نقوش کا ایک نگارخانہ آباد ہے۔اگر انہیں لیبل کیا جائے تو ہر ہائیکو ایک نیا مضمون لیے ہوئے ہے۔ذرا یہ دو ہائیکوز ملاحظہ کیجئے

پیڑ پیڑ ہے چوب

جان آشوب سے دھیان ہٹے تو

لکھیے شہر آشوب

خاک میں اُگتی گھاس

جانے کن کن پاتالوں کی

لائے نویلی باس

اِن ہائیکوز میں چھپی رمزّیت کیسی خیال انگیز ہے۔ لیکن یہاں تو ہر ہائیکو خیال کو دعوتِ نظّارہ دیتی نظر آتی ہے۔ہجروفراق کے مضامین‘نیچر کے رنگ بدلتے مناظر‘ مشاہدے میں آنے والی آفاقی صداقتیں‘گیت کے کومل رنگ‘فرد کے نفسیاتی وسوسے‘کسی عام منظر میں زورِ ہُنر سے گہرے معانی کی بازیافت‘زندگی کے جان لیوا حقائق کا فلسفیاتی شعور‘یادِ رفتگاں‘معاشرتی جبر کے خلاف احتجاج وغیرہ وغیرہ۔اتنے مضامین کہ

گنواؤں تو گنوا نہ سکوں

اور یہ بات ہائیکو کی کشادہ دلی کا ایک زندہ ثبوت فراہم کرتی ہے۔

آفتاب اقبال شمیم

۵۱۱؍آئی نائن۔۱‘اسلام آباد

ماجد صدیقی سے شناسائی از سید ضمیر جعفری

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 1

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 2

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 3

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 4

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 5

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 6

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 7

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 8

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 9

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 10

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 11
Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 12

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 13
Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 14

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 15

Syed Zamir Jaffry - 8-30-1987 - 16

قوسِ قزح از شریف کنجاہی

shareef kunjahi - 01 shareef kunjahi - 02 shareef kunjahi - 03 shareef kunjahi - 04 shareef kunjahi - 05 shareef kunjahi - 06 shareef kunjahi - 07 shareef kunjahi - 08 shareef kunjahi - 09 shareef kunjahi - 10 shareef kunjahi - 11 shareef kunjahi - 12

کون ہے وہ از مقصود علی شعلہ

ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم

شیریں تر انداز تکلم

پیشانی پر تین لکیریں

عظمت کی انمٹ تحریریں

تیکھے ابرو ستواں بینی

لہجے میں نادر شیرینی

موئے سیہ محتاج شانہ

آنکھیں صہباکا پیمانہ

شعر و سخن کے فن میں کامل

ستھرے ادبی ذوق کا حامل

عشق کے ہر انداز سے واقف

سوز کا رسیا ساز سے واقف

حیرت زا حالات کا راوی

حسن کے ہر پہلو پر حاوی

نغموں میں بو باس گلوں کی

شامل جن میں پیاس دلوں کی،

ہر مصرع جس کا تخلیقی

کون ہے وہ ماجد صدیقی

ماجد صدیقی۔ ۔ ۔ میری نظر میں از خاقان خاور

دھنک کے رنگ اس کے آسمان شعر پر رقصاں 

شفق کی تازگی، سورج، ستارے، چاند، ضو افشاں 

انہی میں کہکشاں کا نور بھی آئے نظر خنداں 

زمیں کے گیت جب اس کے لبوں پر جھلملاتے ہیں 

ہوا، دریا، پرندے، پیڑ، پربت، پھول اور جنگل

سسکتے شہر سارے اس سے مل کر گنگناتے ہیں 

اسے دریا جہاں بھی بہتے اشکوں کے نظر آئیں 

ان اشکوں میں خود اس کے اشک پیہم ٹمٹماتے ہیں 

برستی ہی رہیں گی اس کی آنکھیں جب کبھی خاور

زمیں کے لوگ فرعونی ستم کی زد میں آتے ہیں 

پیار کا خنک سایہ از اقبال ظفر ٹوانہ

(ظفر اقبال ٹوانہ صاحب نے یہ کمال کی نظم لکھی جس کا ہر شعر ’’ماجد صدیقی ‘‘ نام کے حروف سے شروع ہوتا ہے۔ یاور ماجد)

  • م۔ محبتوں کا مہکتا ہوا چمن ماجد

متاع علم و ہنر شوخی سخن ماجد

  • الف۔ ادب کے نام پہ ہے وقف زندگی اس کی

اجال سوچ کا خوش رنگ پیرہن ماجد

  • ج۔ جلائے علم و ادب ہی وقار ہے اس کا

جبین فن کے اجالوں کا بانکپن ماجد

  • د۔ دکھی دلوں کا شناسا حلیف دل زدگاں 

دعا کے حرف میں اتری ہوئی چھبن ماجد

  • ص۔ صداقتوں کا امیں چاہتوں کا رکھوالا

صدائے درد، سرور و کامل فن ماجد

  • د۔ دل و نظر کا سکوں پیار کا خنک سایہ

دمک خیال کی جذبوں کی ہے پھبن ماجد

  • ی۔ یونہی چمکتا رہے زندگی کے رستوں پر

یونہی رہے شب ظلمت میں ضو فگن ماجد

  • ق۔ قبول کرتا ہے ہنس کر ہر ایک زخم وفا

قبائے عزم و یقیں کا جیالا پن ماجد

  • ی۔ یہی دعا ہے ظفر چشمہ حیات رہے

یہ حرف حرف مہہ و مہر کا چلن ماجد

ہمارا آپ کا بلکہ سب کا دوست از صفی صفدر

ہماری موجودہ نسل کے نوجوان دانشور اور پرانی نسل کے ادیب ایک عرصہ سے ایسا ادب منظر عام پر لاتے رہے ہیں جس سے ہمارے ہاں کی بے چینی کا اظہار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا کا موثر ترین ذریعہ ابلاغ ٹی وی ان دانشوروں کی کاوشوں کو منظر عام پر لا چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے میں مروجہ اخلاقی قدروں اور مذہب کی بنا پر تبدیلی ممکن ہو وہاں تبدیلی کا عمل آسان ترین عمل ہوتا ہے اور جب ہمارے ادیب کسی کرب کا اظہار کرتے ہیں تو انہیں مذہب کی مدد حاصل ہوتی ہے۔ دراصل یہ عمل شام سے پہلے بھولے ہوئے شخص کے گھر لوٹ آنے کا عمل ہے۔

ماجد صدیقی کی شاعری ان ہی تلخ حقائق کا اظہار ہے جن سے ایک معاشرہ دوچار ہو سکتا ہے۔ ماجد صدیقی جو باپ ہے، استاد ہے، بھائی ہے، بیٹا ہے انہی رشتوں سے معاشرے میں استعارے تلاش کرتا ہے۔ اس کی شاعری ایک معاشرتی بیان ہے ایک سوالیہ نشان اور ایک پکار ہے اگرچہ بہت تلخ ہے لیکن اس منہ کا سوچیں جس میں تلخی ہوتی ہے اس جسم کا خیال کریں جو ان اذیتوں سے دوچار ہوتا ہے۔ اور ہمیں اپنی ہر سوچ میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ ہر شخص بنیادی طور پر انسان ہے۔

شاعر، مصور موسیقار، ادیب سب ایک ہی قبیلے کے لوگ ہیں جن کے پیش نظر منظر کشی ہوتی ہے۔ یہ با مقصد منظر کشی جن حقائق کو اجاگر کرنے کے لئے کی جاتی ہے اس کا دارومدار فنکار کی انفرادی سوچ اور فنکارانہ اہلیت پر ہوتا ہے۔ ایک فنکار لفظوں اور رنگوں میں تصویر کشی اس طرح سے کرتا ہے کہ انسانی جذبات کو کسی خاص سمت میں مائل کیا جائے۔ مثلاً چارلس ڈکسن جب کسی اونچے طبقہ کی زندگی کی عکاسی کرتا تھا تو اس ماحول کی دوسری طرف غریب اور نادار لوگوں کی زندگی کی عکاسی بھی کرتا اور قارئین پر ذمہ داری چھوڑ دیتا کہ وہ خود نتائج اخذ کریں۔

آج کا پاکستان انہی معاشی اور معاشرتی حالات سے گزر رہا ہے جن سے یورپ گزر چکا ہے۔ وہ یورپ جہاں بچوں سے فیکٹریوں میں کام لیا جاتا تھا۔ جہاں کام کنرے کے اوقات اور حالات صحت پر بری طرح اثر انداز ہو رہے تھے آج وہ یہاں کی منظر کشی کا موضوع ہے۔ معاشرے کی تصویر کشی وہیں کی جاتی ہے جہاں تبدیلی ناگزیر ہو فنکار کا کام اپنی فنکارانہ صلاحیت سے کام لیتے ہوئے ایسی تصویر کشی کرنا ہے جو حکومت وقت کو ایسے حالات کی نشاندہی کرے جو فطری طور پر غلط ہیں۔ ان لوگوں میں شعور پیدا کرے جن سے کوتاہی سرزد ہو رہی ہے اور ان لوگوں میں ایک جماعتی یا گروہی سوچ کو بیدار کر کے جن سے کوتاہی برتی جا رہی ہے اور وہ مل جل کر صرف اپنے اندر قوت مدافعت ہی پیدا نہ کریں بلکہ اپنے حقوق کی نگہداشت بھی کریں۔

حکومت وقت قوانین کے ذریعے معاشرے میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لئے سازگار حالات پیدا کرتی ہے اور قانون کی بالا دستی کے ذریعے مظلوم شخص میں معاشرے سے وفاداری کے جذبات بیدار کرتی ہے اسے معاشرے کا ایک ضروری فرد تسلیم کیا جاتا ہے اور اسی طرح سے معاشرے کو تحفظ ملتا ہے۔

اس وقت یورپ میں کوئی دو افراد جو اکٹھے ایک محلے میں رہتے ہیں اور ایک ہی سکول میں پڑھتے ہیں اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ ان میں سے ایک سکول کے بعد پولی ٹکنیک سے ویلڈنگ کا کورس کرے اور دوسرا پی ایچ ڈی کے لئے اپنا کام جاری رکھے۔ مگر کسی مقام پر بھی معاشرے میں ان دونوں کے حقوق ایک جیسے ہیں۔ معاشرے میں معاوضہ کام کا ہے نہ کہ ذاتی مقام کا۔ البتہ عزت ضرور ہے اس سبب سے کہ آپ کی معاشرے میں کسی قسم کی Contributionہے یعنی اگر آپ کسی قسم کی دوائی ایجاد کریں۔ کسی قسم کا ایسا معرکہ سرانجام دیں جس سے آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے۔ لہذا ایک ویلڈنگ کرنے والا شخص اپنی ذاتی اہلیت کے باعث تاریخ میں نام تو پیدا نہیں کر سکتا لیکن وہ اپنے بچوں کو ان کی اہلیت کے مطابق تعلیم بھی دلواتا ہے اور معاشرے میں کسی کے ظلم کا نشانہ بھی نہیں بنتا خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ فطری عمل شروع ہو چکا ہے۔ ماجد صدیقی کی زیر مطالعہ کتاب میں ہمیں ایسے اشعار ملتے ہیں جو اس قدر تلخ ہیں کہ ہمیں ایک ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ہم ان کے اظہار سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ سوچنا یہ ہے کہ اگر ہم ایک دلدل کی طرف چلتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کر لیں تو ہماری منزل کیا ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس تلخ تصویر کو ضرور دیکھنا چاہئے اور اپنے عقائد مذہبی کا سہارے لیتے ہوئے معاشرے میں اس گندگی کو سمیٹنا چاہئے بیشتر اس کے کہ یہ دلدل خدا نخواستہ ہمیں ہڑپ کر جائے۔

ماجد صدیقی آپ کا بلکہ ہم سب کا دوست ہے کہ وہ دوسروں کی حسرتوں کو زبان دیتا ہے وہ دوسروں کے درد پر کراہتا ہے۔ اس کی شاعری طبیب کے در پر ایک نا آسودہ مریض کی درمان کے لئے پکار ہے وہ مریض جسے ماجد کوچے کوچے گلی گلی سے اٹھائے چلا آ رہا ہے۔

ماجد اب جنگل کی آواز نہیں جہاں اسے کوئی سننے والا نہ ہو۔ ماجد کو تاریک سرنگ کا روشن سرا نظر آ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ادراک سے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ چیخ چیخ کر درد کی پکار کرے کہ درماں قریب ہے۔ اس کے اشعار کا مطالعہ ان سارے حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔

منحصر ہے طبیب پر درماں

گو مریضوں کا کچھ شمار نہیں

ماجد اب جنگل کی آواز نہیں جہاں اسے کوئی سننے والا نہ ہو۔ ماجد کو تاریک سرنگ کا روشن سرا نظر آ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ادراک سے یہ ضروری سمجھتا ہے کہ چیخ چیخ کر درد کی پکار کرے کہ درماں قریب ہے۔ اس کے اشعار کا مطالعہ ان سارے حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔

جو بھی زور آور ہے ماجد اس کا خاصہ ہے یہی

دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا

سر بسجدہ پیڑ تھے طوفان ابرو باد میں

اور دریا محو اپنا زور دکھلانے میں تھا

دھار تلوار کی نگاہ میں ہے

شور سر پر ہے تازیانے کا

ڈوبنے والوں نے جو ہاتھ ہلائے سرِ آب

ظلم کے حق میں ٹھہرتی ہے وہ تائید کہاں

جبر نے دکھایا ہے پھر کہیں کمال اپنا

لوتھڑے فضا میں ہیں پھر نحیف جانوں کے

ایسی دلخراش تصویریں جو آس پاس کے ماحول سے آنکھوں میں اتر جاتی ہیں۔

جانے کس کی سنگدلی سے راہ پہ بیٹھی دیکھوں میں

شام تلک کشکول بنی اک بڑھیا بھولی بھالی سی

شیشے پر کچھ حرف لہو کے چھوڑ گئی

مشت پروں کی ٹکرا کر اک لاری سے

آنگنوں سے چاند پھر آگے نکل جانے لگا

دیکھ سارے شہر کا نقشہ بدل جانے لگا

چہک رہا تھا کہ شاخوں میں سرسراہٹ سے

مرے سرور کا یکبارگی جمال گیا

کٹی جو ڈور تو پھر حرص اوج کیا معنی

کہاں سے ڈھونڈتے پہلو کوئی سنبھلنے کا،

ایسے اشعار جو ستم کشی کی تصویریں ترتیب دیتے ہیں۔

جسم پہ جمتی گرد ہی شاید بتلائے

وقت ہمیں کس طاق میں رکھ کر بھول گیا

جھڑ کے بھی شاخ سے جانے کس حرص میں

خشک پتے ہوا سے لپٹنے لگے

میں تو ہوا تھا تیر کے لگتے ہی غرق آب

تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا

جوان جن سے دعاؤں کے طشت میں نکلے

ان آنگنوں میں انہی کی کمائیاں نہ گئیں

پھوڑوں جیسا حال ہے جن کے اندر کا

کھلتے ہیں کچھ ایسے بھی در آنکھوں میں

جہیز جن کی شفاعت کو ہو سکے نہ بہم

سکوں کی آس ہے اب ان ہی بیٹیوں جیسی

جب کبھی اندوہ رفتہ بھولنے پر آگیا

میری تشنہ خواہشیں بچہ مرا دہرا گیا

کیا جانئے بڑھ جائے کب خرچ رہائش کا

اور گھر میں نظر آئیں سب نقش سراؤں کے

ایک محب وطن پاکستانی دانشور از الطاف پرواز

محنت دیانت اور تلاش کو یکجا کرنے سے اس ترتیب کا جو مظہر سامنے آتا ہے اسے بلا تامل ماجد صدیقی کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ماجد صدیقی ایک بہت اچھا استاد ہے۔ لیکن میں نے اسے ہمیشہ ایک اچھا طالب علم دیکھا ہے۔ وسائل کامیابی کی بہت بڑی ضمانت ہوتے ہیں مگر وسائل کی پرواہ کئے بغیر کوئی کامیابی کی زمم تھام لے تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ اگر یہ معجزہ ہے تو پھر مجھے کہنے دیجئے کہ ماجد صدیقی نے ایسے کئی معجزے کر دکھائے ہیں۔

جہاں تک ماجد صدیقی کی فنی حیثیت کا تعلق ہے ادب و شاعری میں اس کا طریق منفرد بھی ہے اور والہانہ بھی۔ اس کی فکر ہر نئی سانس کے ساتھ ایک نیا چولا بدلتی ہے جس سے تھکن یا د درماندگی کسی مقام پر اس کے قدموں کو چھو تک نہیں جاتی۔ نظم ہو یا نثر سنجیدہ موضوع ہو یا طنز و مزاح شعبہ فن میں ماجد صدیقی کا اخلاص نظر بابر جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔

جو اہل قلم کسی ’’لابی‘‘ کے بغیر دنیائے ادب میں بے تکان آگے بڑھتے نظر آتے ہیں اگر ماجد صدیقی کو ان کا سرخیل کہا جائے تو یقیناً غلط نہ ہو گا۔ اسے اپنی ذات پر اتنا بھروسہ ہے کہ اس نے جب اور جو بھی بننا چاہا، بن گیا شاعر، افسانہ نگار، کالم نگار، قطعہ نگار غرض مقالات ہوں یا خاکے سنجیدہ موضوعات ہوں یا طنز یہ مضامین ان سب کی تحریر و تخلیق پر وہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے قادر ہو گیا اس طرح کے سینیئر ہونے کے باوجود اپنے بارے میں میں اس کی ہر رائے کا بے حد احترام کرتا ہوں۔

ماجد صدیقی نے تعلیم و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ جس سے ثابت ہے کہ وہ ایک ایسا چراغ ہے جو اپنی روشنی کو کسی ایک طبقے کے لئے خاص یا مقید نہیں رکھنا چاہتا۔۔۔ پروفیسر ماجد صدیقی ایک اچھا اور قابل لحاظ استاد اور مصنف ہی نہیں کامیاب پبلشر بھی ہے وہ آواز کی دنیا میں ایک معیاری براڈ کاسٹر کی حیثیت سے بھی جانا پہچانا جاتا ہے۔ اس نے چاہا اور خود کو بے گھری تک کے چنگل سے آزاد کرا لیا اور آج وہ اپنے خوبصورت بنگلے میں سلیقہ شعار بیوی اور سعادت مند بچوں کے ساتھ خوشگوار زندگی بسر کر رہا ہے۔

پروفیسر ماجد صدیقی کی بے شمار خوبصورت اور خوب سیرت تصانیف میرے سرہانے پڑی ہیں۔ اور ان سب کے حق میں۔۔۔ اظہار رائے مجھ پر قرض چلا آ رہا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ماجد صدیقی کا پھیلاؤ اتنا ہے کہ وہ میری بوڑھی بانہوں کی گرفت میں نہیں آ رہا۔ بہر حال وہ ایک سچا فنکار ایک بے لاگ اہل قلم اور ایک محب وطن پاکستانی دانشور ہے اور یہ بات کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

معاشرہ آگاہ شخص از ڈاکٹر اعجاز راہی

ماجد صدیقی زود نویس بھی ہے اور خوب نویس بھی۔

اس کی شاعری میں اوصاف فن کی شوریدگی بھی ہے اور نئی دانشورانہ روایت کی سنجیدگی بھی۔ وہ اپنے اظہار میں پختہ کار اور ہنر مند بھی ہے اور لہجے میں معاشرہ آگاہ شخص بھی۔

اس حوالے سے ماجد صدیقی میرے عہد کا ایک ایسا شاعر ہے۔ جس کی شاعری کا زمانی تناظر تین دہائیوں پر محیط ہونے کے باوصف تین دہائیوں کی سماجی تاریخ کا گواہ ہے۔ اس نے اپنی زندگی کی طرح شعری سفر بھی کسی جست کے بغیر قدم قدم طے کیا ہے۔ چنانچہ ایک ٹھہراؤ دھیمی دھیمی آنچ، رک رک کر سانس لینے کا حساس، ایک قدم آگے بڑھ کر پیچھے دیکھنے اور وقت کے ساتھ ساتھ چلنے اور رکنے کا تاثر قاری کو اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیتا۔ رکنے اور چلنے کا یہ عمل اس کی شاعری میں معاشرے کے چلنے اور رکنے کے عمل سے مستنبط ہے۔ کہ معاشرہ بار بار جس طرح آمریتوں کے عہد میں جمود کا شکار ہوتا، مختلف زمانوں سے گزرتا رہا۔ شاعرانہ احساس بھی اسی کی کتھا ہے۔ ماجد کی شاعری کے منظر نامے میں اس انسانی وجود کو صاف دیکھا جا سکتا ہے جو وقت کے جوا ر بھاٹے میں متلاطم و لرزاں، شکست و ریخت نصیب، اور جہد للبقا میں پیہم مصروف ہے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

جہاں جانیں ہیں کچھ اک گھونسلے میں

وہیں اک ناگ بھی پھنکارتا ہے

نیا شعری عہد بنیادی طور پر زندگی کے حقیقی تحرک کی گمشدہ کڑیوں کی تلاش کا عہد ہے۔ ایک دور تھا جب شاعر تخیل کے شہپر پر محو پرواز ہوا کرتا تھا لیکن اب اس کے سامنے کی انسانی بے توقیری نے اسے زندگی سے قریب تر کر دیا ہے اب اس کے مشاہدے میں جو وسعت اور فکر و نظر میں جو گہرائی ہے۔ وہ جہد حیات سے معمور اور اس کے معاشرتی تجربات سے عبارت ہے۔ وہ اپنی دنیا کا ترجمان اور متعلقات زیست کا نمائندہ ہے۔ اس لئے وہ جس شعور و آگہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ زندگی سے اس کی جذباتی وابستگی سے کماحقہ لبریز ہونے کے سبب اس کی شاعری کو عہد کی سچائیوں کے قریب کر دیتا ہے۔ ماجد بھی ان شعراء میں سرخیل ہے۔ جو عصری سچائیوں سے گہری کمٹمنٹ رکھتے ہیں اور یہی کمٹمنٹ ان سے کہلواتی ہے۔

وہ دیکھو جبر کی شدت جتانے

کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے

ماجد صدیقی کے ہاں جس فکری لہر کی روشنیاں نمایاں ہیں۔ وہ معاشرتی اور فکری زاویوں سے پھوٹتی نظر آتی ہیں۔ اس کا فن تجربہ و مشاہدہ کے زیر اثر گہرے فکر و شعور کا فن ہے۔ حالات کے دوش پر لرزاں زندگی اور متعلقات زندگی اور استبداد زمانہ کے مابین مضبوط رشتے کا فن ہے۔ اس لئے میں اسے معاشرہ آگاہ شاعر کہتا ہوں۔ اور اس لئے بھی کہ اس کی شاعری میں جذبوں کا اظہار شدت کے ساتھ اور پورے فنی رچاؤ کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ اس آویزش کو جو معاشرے میں خیر و شر کے مابین جاری ہے اور ان حقائق کو جو پوری سنگینی کے ساتھ وارد ہوتے ہیں۔ پورے شاعرانہ آہنگ میں اظہار کی سطح پر لاتا ہے۔

ماجد صدیقی حقیقی معنوں میں محبت کا شاعر ہے۔ محبت ہی اس کی شاعری کا ایک بنیادی استعارہ بھی ہے۔ یہ استعارہ مختلف سطحوں پر اپنا ظہور کرتا ہے۔ کبھی انسان دوستی کی صورت اور کبھی یہ استعارہ رومان پرور سبک اور لطیف ہوتا ہے، کہ روح میں تازگی محسوس ہونے لگتی ہے۔

تکمیل کروں کبھی تو اپنی

تجھ کو سر جسم و جاں سجاؤں

مانگتے گر کبھی خدا سے تمہیں

لطف آتا ہمیں دعا کرتے

سج کے اک دوسرے کے ہونٹوں پر

ہم بھی غنچہ صفت کھلا کرتے

اب بھی اک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں

عجز سائل ہے وہی شوکت دربار وہی

ماجد صدیقی ایک زندہ شاعر ہے۔ اس کا لہجہ، اس کا اظہار، اس کا فکری توازن، اس کا تخلیقی تجربہ اپنے اندر متنوع معنوی جہتوں کے ساتھ ساتھ جمالیاتی سطح بھی رکھتا ہے۔ جو اسے ہم عصروں میں قد آور ٹھہراتا اور اپنے عصر میں ا س کی الگ شناخت کراتا ہے۔

مخدومِ فن اور خادمِ فن از محمد طفیل بابری

ایک تخلیقی ذہن اور دل میں آگے بڑھنے کی تڑپ رکھنے والا انسان اپنی منزل کی نشاندہی اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے راہوں کا تعین خود ہی کرتا ہے اس کی مثال ماجد صدیقی نے قائم کی ہے انہوں نے اپنی انتھک محنت، جدوجہد اور سعی و کوشش سے ادبی حلقوں میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے مشاعروں و ادبی حلقوں میں ان کا بہت احترام ہے ماجد صاحب نے اپنے مشاہدات و تجربات زندگی اور درد دل کو اپنی ذہنی صلاحیتوں سے شاعری کے رُوپ میں ڈھالا ہے۔ ان کی شاعری صداقت بے باکی، سادگی اور تلخی حیات کا پرتو ہے اپنی پنجابی اور اردو شاعری میں زبان سادہ، رواں مگر الفاظ پر معنی استعمال کئے ہیں اور ان کے ہر قاری کے لئے اشعار قابل فہم اور آسان ہوتے ہیں۔

ماجد صاحب سے میری ملاقات اپنے بیٹے کے پروفیسر ہونے کے ناطے سے ہوئی پھر ملاقاتیں بڑھتی ہی گئیں اور دوستی کے رُوپ میں بدل گئیں ان سے قریب ہو کر میں نے محسوس کیا کہ ماجد صاحب کے اندر کا انسان انتہائی پر خلوص، بے لوث اور ہمدرد ہے جہاں بھر کا غم سمیٹے ہوئے ہے میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس دوست عزیز کو زندگی میں خوشیوں کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کرے اور ان کی کشت زار زیست سدا خرم و شاداب رہا آمین ثم آمین۔

جنتری کے سوراخوں سے کھنچے ہوئے سونے کے تار از پروفیسر نجمی صدیقی

شاعری کی کوئی جامع و مانع تعریف آج تک نہیں کی جا سکی۔ شاعری کیا ہے ہر صدی نے اس سوال کا جواب اپنے مخصوص نقطہ نگاہ کی روشنی میں دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر جس ہونہار کے والدین کی تعریف ممکن نہیں اس کی اپنی تعریف کون کرے گا سیدھی سی بات یہ ہے کہ عمدہ شاعری حسن و محبت سے جنم لیتی ہے۔ حسن اور محبت دو ایسی تحریکات ہیں جن کو محسوس کرنے والے کے اعصاب کے لاکھوں نازک عضلات پر پل بھر میں اتنے تاثرات مرتب ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں ثانیہ بھر میں کلی طور پر ساکت کر کے ان کے خدوخال کو واضح طور پر پڑھ کے کوئی حتمی حکم نہیں لگا سکتا۔ دماغ مادی حیثیت رکھتا ہے جب کہ انسانی سوچ غیر مادی و غیر مرئی چیز ہے۔ بہرحال انسانی ذہنی قوتیں اپنی تمام تر فعالیت کے باوجود کچ خامیاں بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے کائنات کے سربستہ راز یکدم کھل کر سامنے نہیں آتے۔ آہستہ آہستہ صدیوں کی کاوشوں کے نتیجہ میں کچھ کچھ نمایاں ہوتے ہیں۔ انسانی ذہن اپنے کینوس پر بیک وقت صرف ایک تصویر اتار سکتا ہے۔ دو نہیں۔ آپ کسی پارک کے بارے میں سوچ رہے ہوں تو بازار کے تجرباتی نقوش آپ کے دماغ سے یکسر محو ہو جائیں گے اور بازار کے کسی خاص واقعہ کو خیال رہے ہوں تو دوسری ہر طرح کی تمام صورتیں دھیان کی آنکھ سے اوجھل ہو جائیں گی۔ ایسا نہ ہوتا تو ہم کسی خیال واقعہ یا مسئلہ پر اپنی توجہ کبھی اس حد تک مرکوز نہ رکھ سکتے جتنی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پھر انسانی دماغ جبلی طور پر حرکت کرتی ہوئی اشیاء کے بارے میں ان کے اجزائے ترکیبی کو اپنے طور پر ساکن کئے بغیر نہیں سوچ سکتا شاعری بھی کوئی جامد حقیقت نہیں اس پر بھی ارتقائی تحریکات کی یلغار ہر لمحہ جاری رہتی ہے۔ اس کی موجودہ روایت میں ہر لحظہ قابل قدر اضافے جاری رہتے ہیں۔ اس لئے اس کی ہیئت اور اہمیت کا جائزہ صرف ان تخلیقات ہی کے حوالے سے لیا جا سکتا ہے جو کسی زمانے کے خاص حصے میں متعارف ہوئی ہوں۔ اور قبول عام کے معیار پر پہنچ کر خراج تحسین حاصل کر رہی ہوں۔ جس طرح ہم فطرت کو کُلّی طور پر ایک اکائی کی صورت میں دیکھنے کی بجائے اسے پھول، کلی، شبنم، دریا، سمندر، چاند، ستارے اور آنسوؤں جیسے انگنت جھروکوں ہی کی مدد سے دیکھنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح ہم فطرت کی صرف اسی ظاہری شکل کو دیکھ سکتے ہیں جو اس نے کسی چیز کے وجودی آئینے میں اختیار کر رکھی ہو۔ ہم شاعری کو بھی اپنے فریم ورک میں ایک مخصوص پوز ہی میں دیکھ سکتے ہیں۔ جو کسی طرح بھی حتمی نہیں۔ ایک اور مجبوری یہ ہے کہ ماجد صدیقی نے اپنے جسم کا سونا ریت کے بہت سے ٹیلوں میں چھپا دیا ہے۔ جس کے لئے تجسس اور تلاش کی ضرورت ہے۔ بات جو میں ماجد صدیقی کے غزل کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں اسے پورے طریقے سے نمایاں کرنے کے لئے تھوڑی سی وضاحت کی ضرورت ہو گی۔

(پرانا عہد نامہ) بائیبل کے پہلے باب کا تیسرا جملہ کچھ اس طرح ہے۔

"And God said let there be light and there was light”

اور خدا نے کہا روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی۔۔۔!

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی انسان کے کہنے سے بھی اس طرح خالق کائنات کے ارشاد پر ہنگام آفرینش روشنی ہو گئی تھی۔۔۔؟ بظاہر بات دل کو لگتی نہیں مگر اس کا جواب نفی کی بجائے مثبت میں ہے۔ یقیناً انسان کے کہنے سے بھی روشنی ہو سکتی ہے مگر انسان کے ایسا کہنے پر روشنی صرف اسی حد تک ہو گی جتنی روشنی اس کی ذات میں رکھ دی گئی ہے۔ اگر یہ درست ہے تو نیک ماؤں کی دعائیں بھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ وہ اپنا اثر ضرور دکھاتی ہیں۔ ماجد صدیقی کی والدہ کی دعائیں بھی اپنا اثر دکھائے بغیر ہوا میں تحلیل نہیں ہو گئیں۔ ورنہ ان کا ماجد آج یہ بات برملا کہنے میں کسی طرح بھی حق بجانب نہ ہوتا۔

دم بدم ہوں ضو فشاں اس روز سے

جب سے  ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا

ماجد صدیقی جذبات و احساسات کے ساتھ ساتھ زندگی کا شاعر ہے ۔ اس کا ہر شعر زندگی کی کسی نہ کسی حالت کو پیش کرتا ہے جس میں اس کا قاری اپنے آ کو گھرا ہوا پاتا ہے۔ ماجد انسانی نفسیات کے نازک پہلوؤں کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ ہم اس کے اشعار کو دہرا کر بار بار لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ دراصل بات کچھ اس طرح ہے کہ ہر اچھا شعر جن واردات و احساسات کو شاعرانہ مہارت کے ساتھ بیان کرتا ہے ان کا خمیر انسانی جبلت میں ہمیشہ سے کسی نہ کسی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ قاری کے وجدان میں ان کی ایسی جڑیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں۔ جو آخر کار شاعر کے جچے تلے لطیف الفاظ میں پھولوں کی طرح کھل اٹھتے ہیں۔

دکھی انسان کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ہر نئی چوٹ کھا کر بولتا ہے اور اپنے دکھ کو بیان کر کے جی ہلکا کر لیتا ہے مگر یہ لمحہ گزر جانے کے بعد اس کا دکھ کسی دبی ہوئی چنگاری کی طرح سلگتا رہتا ہے۔ جس کے اوپر آہستہ آہستہ فراموشی کی راکھ جمنے لگتی ہے۔ گویا ایک ٹیس ہے جو شعور سے تحت الشعور تک موجود رہتی ہے مگر اس کی تمازت پر صبر اور استغناء کی اوس پڑ چکی ہوتی ہے۔

 ایسے میں اگر کوئی ازارہ ہمدردی پرسش کر لے تو جو کچھ دل پر لمحہ بھر میں بیت جاتی ہے۔ اس کا احساس کچھ اسی شخص کا حصہ ہے جو اس اذیت سے گزر رہا ہو۔ ماجد صدیقی نے کتنی خوبصورتی اور مہارت سے اس الاؤ کا ذکر کیا ہے جس کی طرف میں نے اوپر کی چند سطور میں اشارہ کر دیا ہے۔

اونچی کر دے لو زخموں کی

پرسش وہ بے رحم چتا ہے

اس خوبصورت شعر کے خدوخال سے ہمیں یہ اندازہ بھی ہو جاتا ہے کہ ماجد صدیقی نے موجودہ دور کے Ultra Modern  چیستانی اندازِ بیان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا ہے۔ ماجد سیدھی سوچ کا شاعر ہے۔ وہ الفاظ کے تاریک گوشوں کو کسی آزمائشی پروگرام کے تحت اجالنے میں تخلیقی صلاحیتوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اسی وجہ سے اس کی غزل میں ایک پر وقار ٹھہراؤ کا احساس ملتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ماجد صدیقی کی اچھی غزل کا ہر شعر سنار کی جنتری کے باریک سوراخوں سے کھینچا ہوا خالص سونے کا باریک تار دکھائی دیتا ہے جس میں کہیں کوئی الجھاؤ نہیں ماجد صدیقی کو پڑھنے کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا جیسے شاعر کا وجود کسی معاشرے میں ایک ایسے میٹر کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے عصری ماحول کے دکھ سکھ سے پیدا ہونے والے احساسات کو قاری کی تادیب و تربیت کے لئے ریکارڈ کرنے کا اہم فرض ادا کرتا ہے۔ میرے اس احساس کی بنیاد شاید اس حقیقت پر ہے کہ ماجد صدیقی نے اپنی غزل کے ذریعہ دورِ حاضر کی طبقاتی اُونچ نیچ کو بڑی دیانت کے ساتھ Guageکیا اور بلا کم و کاست اپنے تاثرات کو خوبصورت اشعار کے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔

ماجد صدیقی کی غزل قدیم و جدید لب و لہجے کے درمیان ایک پُر فضا جزیرہ ہے جہاں انسانی اعصاب کو سکون ملتا ہے۔ ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اسے انوکھے مسائل کا سامنا ہے۔ بے حسی کا ایک خلا ہے جس میں ہم سب آہستہ آہستہ کچھ اس طرح اترتے جا رہے ہیں کہ ہمیں اپنے ہونے نہ ہونے کا احساس بھی نہیں رہتا۔ ہماری زندگیاں ہمارے وجود سے باہر کے شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ ہر طرف باہم آویزش کا ایک قیامت خیز منظر ہے جسے ہر شخص صرف انفرادی حیثیت سے محسوس کرتا ہے۔ قومی، علاقائی، خاندانی، سیاسی، مذہبی، مقامی یا بین الاقوامی کینوس میں رکھ کر کسی قریبی ہم عصر کو بھی سمجھا نہیں سکتا۔ خود دیکھتا ہے دکھا نہیں سکتا۔ ہر شخص اذیت ناک حد تک اپنے گرد و پیش سے کٹ کر رہ گیا ہے۔ وہ تنہائی کے خوف سے چیختا ہے مگر اس کی آواز گلے سے نہیں نکلتی، بھاگتا ہے مگر اس کے پاؤں ساتھ نہیں دیتے۔ جبر اور محرومی کی فضا جیتے جاگتے جدید انسان کو کابوس کی طرح اپنے بازوؤں میں جکڑے ہوئے ہے۔ ماجد صدیقی جب تنہائی کے اس خلا میں اترتا ہے تو اپنے آپ کو ایک بے صوت و صدا جہنم میں پاتا ہے جہاں باہم انسانی رابطے کی نقیب پکاریں تو کجا اسے محرومیوں کی دل دوز سسکیاں بھی بے اثر لگتی ہیں۔

سنی پکار نہ آئی صدا سسکنے کی

نجانے کون سی گھاٹی میں ہمسفر اترے

ماجد صدیقی خود رحمی (self pity)کے نسوانی احساس کو اپنی غزل کے شعر کے نزدیک پھٹکنے بھی نہیں دیتا۔ اسے بے راہ روی کے الاؤ میں جلتے ہوئے انسانوں کے علاوہ ریت کے ٹیلوں کی طرح مسمار ہوتی ہوئی غیور قوموں کی تقدیریں بھی اس طرح نظر آتی ہیں۔ جیسے سارا تصویر خانہ حیات اس کے سامنے پورے اہتمام کے ساتھ سجا ہوا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ جس قوم نے جنگیں جیتیں، مہمیں سر کیں، ادب تخلیق کیا، انسان کو حیوانیت سے نکال کر آدمیت سکھائی، جس نے سائنس کا پہلا حرف لکھا، اندھیروں کو روشنی دی، ہواؤں کو چلنا اور پھولوں کو کھلنا سکھایا آج گمنامی اور محرومی کے اتھاہ گڑھے ہیں گرتی جا رہی ہے۔ تو اسے احساس ہوتا ہے۔ کہ گل کوزہ تو موجد ہے کوئی کوزہ گر ہی نہیں۔

میدان کارزار کی زیب و زینت پھرتیلے شبدیز (Steeds)تو موجود ہیں کوئی شہسوار موجود نہیں ہے۔ تو ماجد صدیقی کا دل دہل جاتا ہے۔ درد، حیرت اور استعجاب کی ملی جلی اذیت ناک کیفیت میں ماجد کی آنکھ سے ٹپکا ہوا اشک ایک عظیم قوم کی تاریخ کا آخری نقش بن کر اس شعر کی صورت میں ڈھلتا ہے۔ جو بیک وقت تاریخ کا ایک خونی ورق بھی ہے اور ناکام کاوشوں کی عبرتناک داستان بھی۔

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لٹے شہسوار کا ہے

اس شعر کے امکانی پہلوؤں پر غور کریں تو مطالب کے کئی در کھلتے ہیں۔ ’’کس لٹے شہسوار‘‘ کے الفاظ کو ہی لیجئے۔ سوچئے کیا اس سوال پر ہماری رگوں میں گرم خون منجمد ہوتا ہوا محسوس نہیں ہوتا۔ کیا واقع میں موجودہ انسانی نسل اپنے محسنوں کے کارناموں کے ساتھ ان کے نام تک فراموش نہیں کر چکی۔

بہرحال، ماجد کے ہاں قومی رزمیہ شاعری کے بھی کچھ عمدہ نمونے قاری کو جھنجھوڑتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مہمیز کے لئے کہیں کہیں ماجد صدیقی غزل کے اشعار میں خفیف سے طنز کا استعمال بھی کرتا ہے۔

ماجد صدیقی کو سرسری طور پر پڑھنے والا قاری اپنے آپ سے زیادتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ روح عصر نے ماجد کی غزل میں جو رنگ اختیار کیا ہے۔ وہ ایک انفرادی نہج رکھتا ہے۔ کیا ہم سب اپنے گرد و پیش ایک گھٹن کا سا احساس نہیں رکھتے۔ کیا اس شعر کے تلازمے ہمارے دل کی شریانوں کے ساتھ بندھے ہوئے محسوس نہیں ہوتے؟

اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم

دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے

ماجد صدیقی کے اندر ایک ایسی جادوئی کھڑکی کے پٹ کھلتے ہیں جو اس کی قوت کا سرچشمہ ہے اور زندگی کی رمق بھی۔

ان پلکوں پر اشکوں کے آئینے میں

اک چہرہ اکثر لہرانے لگتا ہے

جب تک اس کے اندر یہ کھڑکی موجود رہے گی ماجد ماجد رہے گا۔ اور اگر اسے کبھی اس کے نامساعد حالات کی تند ہوا نے بند کر دیا تو وہ گھر سے بازار جانے کے بعد اپنے گھر واپس لوٹ کر کبھی نہیں پہنچ سکے گا۔ یہی کھڑکی اس کا مرکز بھی ہے اور محور بھی۔ یہی وہ رسی ہے جس کی لمبائی اس کی زندگی کے دائرے کا محیط متعین کرتی ہے۔ اس کی سوچ کا ہر دائرہ اور دائرے کی ہر قوس اسی نقطے کی مرہون منت ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ہر خوبصورت محل کی کوکھ میں ایک کھنڈر موجود ہوتا ہے۔ جسے محل کی دیدہ زیبی اور پُر وقار بلندی اپنے پیچھے چھپائے ہوئے ہوتی ہے۔

ماجد صدیقی شاعر ہے اور پڑھا لکھا انسان بھی اسے پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور خوشی بھی۔ وجہ یہ ہے کہ ٹی ایس ایلیٹ کی ایک بات خاص طور پر ایسے شاعروں کی بارے میں ایک عجیب ذہنی فضا پیدا کرتی رہی ہے۔ وہ کہتا ہے۔ "Too much learning deadens the poetic faculty”زیادہ علمیت شاعرانہ صلاحیت کو کند کر دیتی ہے۔ مگر خوش قسمتی سے ماجد صدیقی کے ہاں کوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جن سے ایلیٹ کی اس بات کی تصدیق ہو سکے۔ وہ اپنے علم کے اسم سے بھی شعری میدان میں جادو جگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔

بلک رہا ہوں کہ کہتے ہیں جس کو ماں ماجد

الٹ گیا ہے مرا طشت وہ دعاؤں کا

پہلے مصرع میں۔۔۔ ’’کہتے ہیں جس کو ماں‘‘ سے یقیناً ماں نہیں دھرتی مراد ہے۔ جس پر ہمیں تخلیق کیا گیا ہے اور جس کی کوکھ میں موجود خزانے ہماری خواہشوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے لئے رکھ دیئے گئے ہیں۔ مگر اس طشت مراد سے جو چاہا تھا جس کی لئے دعائیں مانگی گئی تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتیں۔ ماجد صدیقی نے ہمارے اسی المیے کی طرف بڑی سادگی سے اشارہ کیا ہے۔ دھرتی غلہ اگانے کی بجائے بھوک اور افلاس اگانے لگی ہے۔ انسان اپنی زمینی ضرورتوں کے لئے بچے کی طرح بلک رہا ہے جسے محرومیوں کے اندھے غار میں دھکیلا جا رہا ہے۔ ماجد کے زیر بحث شعر کا دوسرا مصرعہ ’’الٹ گیا ہے مراد طشت وہ دعاؤں کا‘‘ اسی معاشی بدحالی کی طرف اشارہ ہے جو اس پس منظر میں مفہوم کی بلندیوں کو چھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ماجد نے اس لئے بھی ہماری توجہ اس صورت حال کی طرف مبذول کرائی ہے۔ کہ آج کا انسان زمین کے گھاؤ سہنے کی بجائے آسمان کے بے سمت سفر پر روانہ ہو گیا ہے۔ اور دھرتی جو کچھ اگل رہی ہے اسے بھوکی انسانیت کا نوالہ بننے سے پہلے ہی چھین کر خلائی راکٹوں میں جلا کر بھسم کر دیا جاتا ہے۔

ماجد صدیقی کے بعض اشعار میں امکانی مطالب کا ایک نہ ختم ہونے والا لطیف سلسلہ موجود ہے جو ہمیں اپنے گرد و پیش کو اس خاص زاویے سے دیکھنے پر اکساتا ہے جس کی طرف وہ متوجہ کرنا چاہتا ہے۔

پرندہ ہانپتے اترا تھا جس پر

وہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے

ایسی قبیل کا شعر ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد انسانی شعور انگنت امکانات کے دوراہے پر مبہوت کھڑا رہ جاتا ہے۔ ہوش آنے پر خلیل جبران کے یہ الفاظ ذہن میں گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔

’’انسانی عقل بسکٹ کا وہ ٹکڑا ہے جسے کنڈی کے ساتھ باندھ کر سمندر میں لٹکا دیا گیا ہو۔ اگر مچھلی پھنس جائے تو آدمی عقل مند ہے اور اگر مچھلی ہاتھ نہ لگے تو آدمی بے وقوف ہے۔‘‘

آنکھیں کھلی ہوں اور کوئی تصویر چہرہ آنکھوں کے سامنے موجود ہو مگر روشنی نہ ہو تو آنکھیں بینا نہیں اور چہرہ خوبصورت دکھائی نہیں دے گا۔ بالکل اسی طرح جدید دور میں ہر طرف فضا میں ایسا زہر گھل گیا ہے جس نے انسانوں کے محسوسات کو معطل کر دیا ہے۔ باہم رابطے کی فضا ختم ہو گئی ہے۔ اور اب وہ قدیم انسانی حس بھی مفلوج ہوتی جا رہی ہے۔ جس کے ذریعہ انسان دھواں دیکھ کر آگ کا اندازہ کر لیتا تھا۔ اور روتے ہوئے آدمی کے آنسوؤں سے اس کے دکھ کو بھانپ سکتا تھا۔ مگر ایسا معاشرہ ماجد صدیقی کے حصے میں آیا ہے جو اس کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جیتے جاگتے انسانوں سے دیکھنے سمجھنے اور محسوس کرنے کی قوت سلب کر لی گئی ہے۔

آئنے سج رہے تھے پلکوں پر

حال دل پھر بھی آشکار نہ تھا

ماجد صدیقی نظریات اور مطالب کو ایجاد نہیں کرتا۔ وہ اپنی صدی کی زہر آلود فضا میں موجود واردات کو حسی شناخت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جس کے جواب میں ہر سینہ دھڑکتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ انسان نے ہمیشہ جھوٹا تاثر دے کر اپنے جیسے سادہ لوح انسانوں کو لوٹا ہے۔ کھانے میں زہر ملانا اور پھندے کے اوپر دانہ سجانے کی ترکیب نئی نہیں۔ مگر فریب فریب ہی ہوتا ہے۔ اور آخر کار خونی چہرے بے نقاب ہو ہی جاتے ہیں۔ خلیل جبران نے ایک جگہ لکھا ہے۔

بھیڑیا رات کی تاریکی میں بھیڑ کو پھاڑ کھاتا ہے مگر اس کے

خون کے دھبے سورج نکلنے تک چٹانوں پر بکھرے رہتے ہیں

ان سطور کا نفس مضمون بھی Disillusionmentہے۔ مگر دیکھئے ماجد صدیقی نے اسی قسم کی صورت حال کو کتنی سیدھی اور سچی پہچان بنا کر اس شعر کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔

اور تاثر دے کر جس نے میرا خون غلاف کیا

وقت کے ہاتھوں دھل کر چمکی آخر وہ تلوار، بہت

ماجد صدیقی کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ ہمارے ہی بے ڈول مگر نازک اور معصوم جذبوں کو اپنی فنی ٹکسال میں تراش خراش سے سیدھا کرتا چمکاتا اور نئے انداز سے سجا کر ہمیں لوٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس کی شعری فضا میں کسی قسم کی اجنبیت محسوس نہیں کرتے۔

جس شجر پر سجے تھے برگ اور بار

رہ گئے اس پہ عنکبوت کے تار

شجر پر برگ و بار سجنے اور عنکبوت کے تاروں کے تن جانے کے درمیانی عرصے میں کیا کچھ پوشیدہ ہے۔ کتنے چہرے۔ کتنے ہاتھ؟ گلشن کی اس ویرانی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ شعر پڑھنے کے بعد ہم ماجد صدیقی سے تخریبی عمل کی تفصیل معلوم نہیں کرنا چاہتے۔ اس نے ایک مفہوم پھول کی شکل میں ہمارے لئے سجا دیا ہے۔ جسے دیکھ کر ہم آگہی کے بیکراں سمندر میں اتر جاتے ہیں۔۔۔ حرکت کے پیچھے محرکات کی موجودگی کا علم شاعر کے سوہان روح بھی ہے اور عرفان ذات بھی۔

کیا کہوں ان کی نظر بھی تو مرے رخت پہ تھی

تھے بھنور سے جو مری جان بچانے آئے

ایک ذرا سی چنگاری نے

سارا جنگل پھونک دیا ہے

علم خود بھی کسی حد تک انسانی پریشانیوں کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ ہماری پریشانیوں کے سوتے یا تو ہماری پرانی تلخ یادوں سے پھوٹتے ہیں یا آنے والے خطرات کے تصور سے۔ یہی وجہ ہے کہ عقلمند روتا اور کم عقل ہنستا ہے۔ ماجد صدیقی ماضی و حال کے اسی عرفان کی چوب سبز پر مصلوب ہے۔

اس نے گرمئ رخسار حیات کو اپنے گالوں پر محسوس کیا ہے۔ اور اس کا ہر تجربہ کلام موزوں کی شکل میں اس کے قلم کی نوک سے کاغذ کی سطح پر چھم سے اترا ہے۔ جو بیک وقت آنسو بھی ہے۔ اور پیش بہا موتی بھی۔ اکثر شعراء کے اشعار گاتے اور گنگناتے ہیں مگر ماجد صدیقی کی غزل کے اشعار سوچتے اور باتیں کرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

کورا کاغذ سوچ رہا ہے

اس پر کیا لکھا جانا ہے

شعری ادب میں یہ جان لینا کوئی اتنا بڑا کمال نہیں کہ کون کس سے کتنی مشابہت رکھتا ہے۔ دیکھنا یہ چاہئے۔ کہ کون اپنے خدوخال میں دوسروں سے کتنا مختلف ہے۔ کیونکہ یہی اختلاف وہ Demonہے۔ جسے ادبی دنیا میں حقیقی معنوں میں شخصیت یا انفرادیت کا نام دیا جاتا ہے۔ مگر اس کام کے لئے نقاد کو اپنی عصبیتوں کے مدار سے ذرا ہٹ کر سوچنا ہوتا ہے۔ جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

ماجد صدیقی کی غزل میں صحت مند روایت کا جاندار تاثر اور جدید رجحانات کا عرفان ملتا ہے۔ اس نے نئے تجربات بھی کئے ہیں۔ اور پرانے خاکوں میں اپنی شاعرانہ طبیعت کے رنگ بھی سجائے ہیں۔ ماجد نے غزل کو کلام کرنا سکھایا ہے۔ مگر جذباتی پھلجڑیوں  اور معمّوں کے اثر سے پاک رکھا ہے۔

لٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی

محنت میں بھی کیا رکھا ہے

محاکات اور تخیل اچھے شعر کے بنیادی عناصر ہیں۔ ماجد صدیقی نے اپنے مطالب کے پُر تاثیر ابلاغ کے لئے محاکات اور تخیل سے بڑی احتیاط کے ساتھ کام لیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے Ultra modernرویوں کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئیں۔

اسی کی دید سے ہمیں تھے حوصلے اڑان کے

گیا جو وہ تو جانئے کہ اپنے بال و پر گئے

گرد کی چادر، زخم بریدہ شاخوں کے

موسم نے کیا برگ دئے کیا بار مجھے

ماجد صدیقی کی غزل میں روح اور جسم کے وہ تمام گھاؤ موجود ہیں جو جدید مشینی دور تک آتے آتے انسانی تہذیب نے کچھ پھولوں اور کچھ کانٹوں کی شکل میں چنے ہیں۔ ماجد صدیقی نے غزل کے آئینے میں نئی منزلوں کی نشاندہی کی ہے۔ اور جدید معاشرے کے انگنت Hidden Ulcers کو بے نقاب کیا ہے۔

پرندہ ہانپتے اترا تھا جس پر

وہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے

رقم جو شیشے پہ بس کے چڑیا ہوئی کسی نے

کب اس کے بچوں کا عالم انتظار دیکھا

مجروح انا کا سفر از رشید نثار

سخناب ہمارے مخصوص معاشرے کی زندگی کا عکس ہے جس کا فن ماضی کی جڑوں سے بندھا ہوا ہے۔

ماجد صدیقی نے زندگی کی ہمہ سمتی اور دور تک پھیلے ہوئے معاشرے کو اپنے تصور کی آماجگاہ بنایا ہے بلکہ تہذیبی ارتقاء کے عہد میں مجموعی طور پر انسان کی جو تصویر بنتی ہے اسے ماجد صدیقی نے بڑی بلندی سے دیکھا اور اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے تاریخی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔

ماجد صدیقی کی نگاہ انسانی فطری محرکات کی ادنیٰ اور اعلیٰ حرکتوں کو دیکھنے میں مستعد ہے چنانچہ اس نے انسانی زندگی کے لئے بے قرینہ سماج اور معیار کو شعری تنقید کے ترازو میں تولا ہے۔ اس طرح اس نے قبول عام صنفِ سخن غزل کو خوبصورت الفاظ کے لمس سے آشنا کیا ہے۔

لفظ سازی اور ایک فطری لہجہ شاعری کی بے ساختہ زبان کے لئے بے حد ضروری ہوتا ہے۔ ماجد صدیقی تربیت اور لطافت دونوں سے واقف ہے۔ لہذا قدیم شاعری کی ایک ہیئت غزل مسلسل کو اس عہد میں برت کراس نے اپنی اندرونی لگن اور آہنگ کو ایک روایت بنا دیا ہے میری مراد سخناب کی پہلی غزل سے ہے جو ننانوے شعروں پر مشتمل ہے۔ لیکن اس غزل کی اصل روح عصر کی بلاغت ہے جس نے غزل کے ظاہری حسن اور باطنی کیفیت کو ہم آہنگ کر دیا ہے چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماجد صدیقی نے سو شعروں کی طویل غزل لکھ کر نہ صرف قلم کے زور کی فراوانی دکھائی ہے۔ بلکہ ذاتی تاثرات کے بے ساختہ اظہار سے یہ ثابت کیا ہے کہ غزل اس کی رفیقِ ازلی اور ہمزاد معنوی ہے۔

ماجد صدیقی نے انسانی فطرت کا مطالعہ ایک معصوم انسان بن کر کیا ہے۔ اس نے معاشرے میں گھرے ہوئے مجبور انسان کو جس پہلو سے دیکھا ہے اس نے انسان کے تمام اکتسابات کا گریباں چاک کر دیا ہے اور اب انسان جس طرح عریاں ہوا ہے وہ ہماری آنکھوں کے سامنے عیاں ہے۔

نرخ نہیں گو ایک سے لیکن

ہر انسان یہاں بکتا ہے

دشت طلب میں بن کتوں کے

کے کے ہاتھ شکار لگا ہے

جانے کیا کیا زہر نہ پی کی

انساں نے جینا سیکھا ہے

اونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے

ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے

فرق ہے کیوں انسانوں میں جب

سانس کا رشتہ اک جیسا ہے

شاہی بھی قربان ہو اس پر

ماجد کو جو فقر ملا ہے

انسان کو جن آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا تعاقب کرتا ہے یا فقیر اس اعتبار سے وقت اور فقیر دونوں ایک دوسرے کے تلازمے بنتے ہیں اور اسی رخ پر زندگی کی تصویر کشی کرنے کے لئے ماجد صدیقی نے فقر کا رُوپ دار کر اپنے زمانے کا عہد نامہ تحریر کیا ہے۔ اور اس کا نام اس نے سخناب رکھا ہے۔ یہ نام اس کے سعی و عمل، جمالیاتی شعور اور احساس کے قرینے کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ آج ہمارا فنکار تجریدیت کی کائنات میں گم سم حیران الفاظ کی بازی گرمی میں مصروف ہے۔

لیکن ماجد صدیقی نے ننانوے شعروں پر مشتمل غزل کہہ کر خود کو متحمل، جفا کش اور نئے تجربے سے آشنا ثابت کیا ہے۔ بلکہ ایک صوفی بن کر اس نے اپنی تخلیق کو درویشانہ لہجے کے ساتھ سنوارا ہے۔ درویش حسن ازل اور آہنگ آفرینش کا عاشق ہوتا ہے اس جہد حیات میں وہ مسلسل ریاضتوں کے بعد اس حسن کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ جو قدرت کی تخلیقات میں پوشیدہ اور خود انسانی کائنات میں گم ہوتا ہے۔ اس طرح صوفی تہذیب و تحسین کے ذریعے انسانی کائنات کو جمالیاتی شعور بخش دیتا ہے۔

سخناب کے منصہ شہود پر آنے سے پیشتر ماجد صدیقی قدرت کی شدت کا شا کی ضرور تھا۔ بلکہ سکون کی تلاش میں اس نے دشت و صحرا چھان مارے تھے مگر سخناب کے بعد اس کے باطن میں چھپا ہوا صوفی تخلیقی جذبے اور قوت کو لے کر پیش منظر پر آگیا ہے۔ جسے دیکھ کر اچنبھا اور مسرت ہوتی ہے کہ ماجد نے جس انداز سے معاشرے کو دیکھا ہے اس کی روایت نظیر اکبر آبادی اور میر سے جا کر ملتی ہے۔ میر نے اپنے عہد کے آشوب کو تمدنی تاریخ بنا دیا تھا۔ نظیر نے زمانے کے سانحات کو اپنی زندگی پروا رد کر کے بحران سے نبرد آزما ہونے کا ڈھنگ سیکھ لیا تھا۔ ماجد صدیقی نے بھی انقلابات دیکھنے کے بعد انسانی ارتقاء کا تماشا دیکھا ہے۔ اور اب وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ بنی نوع انسان کو تحفظ فقر کے مسلمات ہی میں مل سکتا ہے اور اسی سے فکر کی بلوغت اور شعور کی بصیرت پیدا کی جا سکتی ہے۔ یہ ’’فقر‘‘ غالب اقبال اور مختار صدیقی کے پاس بھی تھا اقبال نے فقر کو بادشاہی کے مقابل لا کھڑا کیا تھا اور نئی اقدار کو تسلیم و اجتہاد کی روح بنا دیا تھا عدم نے میر کے فقر کی طرح خود کو مناظر اور مقامات سے اوجھل رکھ کر لا متناہی زندگی کی عکس ریزی کی تھی اور شاعرانہ تمسخر کے ذریعے پر فریب ماحول پر قہقہے برسائے تھے۔ مختار صدیقی نے درویشی کا روپ اس وقت دھارا تھا جب یار زمانہ ساز ہو گئے تھے مگر ماجد صدیقی نے اپنے فقر میں پورے عصر کو شامل کر لیا ہے۔ اور اب اس کے شعور اور بصیرت میں سارے زمانے بولتے دکھائی دیتے ہیں۔

جس سے واضح ہو وحشت انساں

کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا

ڈھانپنے کو برق پھر عُریانیاں

ناپ لینے آ گئی اشجار کا

ہاتھ لتھڑے تھے لہو سے جن کے

مرنے والوں کے عزا دار بنے

مرحلے پر مری صفائی کے

لکنتیں آ گئیں زبانوں میں

ہو کچھ بھی جو اختیار حاصل

خود وقت ہوں خود ہی میں خدا ہوں

عکس ریزی ہمارے آج کے عہد میں صرف علامتوں کی نشاندہی تک محدود ہے لیکن ماجد صدیقی نے ایک ایسے نظام زندگی کے لئے جس میں خیر کی حکمرانی ہو اور وہاں متمدن انسان بستے ہوں اپنی شاعری کو جمالیاتی عمل بنا دیا ہے اور تصادم و پیکار میں ایک آرزو لے کر زندہ ہے۔ اور منظم انداز میں سوچ کر ایک دانشمند کا کردار ادا کر رہا ہے اس کی سوچ کے انداز دیکھئے۔

مری بھی روح کا ساگر ہوا کرم فرما

مری بھی آنکھ میں دیکھو تو ہیں گہر اترے

بھٹکنے والا اڑا کے پیروں میں باگ اپنی

نجانے گھوڑا یہ کس لٹے شہسوار کا ہے

کچھ بتانے سے اگر بادِصبا عاری ہے

باد صر صر ہی سماعت کو جلانے آئے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

کہ تنگ آ کے ترے منہ پہ تھوک دوں میں بھی

مجھے نہ اتنی اذیت بھی اے زمانے دے

سخناب ہمیں اسباب و حالات کا منظر نامہ دکھاتی ہے اس عہد میں ہمارے چھوٹے بڑے شعراء اپنے دور کی نمائندگی کرتے ہوئے طنز کے نشتر بھی چلا رہے ہیں۔ اور بیزاری کے تیر بھی مگر ان شعراء کے افکار میں کچھ زیر لب اور کچھ شکایتی اظہار میں یکسانیت آ گئی ہے (یہاں نا آسودگیوں میں گھرے ہوئے شعراء کا تقابلی مطالعہ مقصود نہیں) لیکن شکست، افسردگی، طنز اور تمسخر کے بے پایاں عہد میں ماجد صدیقی نے واقعی فقر کا رُوپ دھار کر شاعری کو دردمندی کے ساتھ جھنجھلاہٹ، غصے اور برہمی سے آشنا کیا ہے۔ میں ماجد صدیقی کے اضطراب اور زندگی کے مستقل کرب سے ناواقف ہوں لیکن سخناب کے مطالعے سے یہ راز مجھ پر منکشف ہوا ہے کہ ماجد صدیقی ذاتی اور خانگی حوادث کا شکار رہا ہے اس نے جس شائستگی کا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر بڑی کرب انگیز نکلی ہے لہذا ایک مسلسل اضطراب اس کی شاعری کا آدرش بن کر لہو کی طرح گردش کر رہا ہے۔ ماجد صدیقی کی منفرد لے ہے اور اس کی جھنجھلاہٹ درویشانہ دھن ہے جس کی گت پر و تمکنت کے ساتھ رقصاں ہے۔

نہاں بھی ہے تو کہاں تک رہے گا پوشیدہ

جو حرف وقت کی تعزیتی کتاب میں ہے

ہر ایک سر کا تقاضا ہے یہ کہ تن پہ اگر

لگے تو اس کو بہرحال خم کیا جائے

نشیبِ خاک سے کیا اس کی پیروی کرتے

مقدمہ ہی ہمارا جب آسماں پر تھا

آنگن میں سب تاریکی چیخیں ہیں یہ کیسی

ہے کون پرندہ جسے آرام نہ آئے

حق بجانب بھی ٹھہرتا ہے وہی بعد ستم

وصف طرفہ یہ مرے عہد کے سفاک میں ہے

اسے یہ رنگ سلاخوں نے دے دیا ورنہ

چمن میں تو مرا لہجہ کبھی کرخت نہ تھا

سخناب میں اس قسم کے شعری تنقیدی خاصے جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ ہر غزل میں ایک تامل موجود ہے۔ اور کہیں کہیں عبرت انگیز معاشرتی تمثیلیں بھی لیکن سخناب ایک ایسی کتاب ہے جو اپنا ایک مخصوص لہجہ بناتی ہے اور زندگی کا چلن واضح کرتی ہے بلکہ زندگی کی پیچیدگیوں کے ادراک میں اضافہ بھی ہوتا جاتا ہے۔ چنانچہ ماجد صدیقی نئی مشکلات کے مقابلے پر ایک نیا احساس پیدا کرتا ہے وہ ہر مسئلے پر منطقی طور پر اپنی بے لاگ رائے کا اظہار کرتے ہوئے بعض باتیں کنائے سے اور زیادہ حوصلے اور جوانمردی سے بیان کرتا ہے۔

ماجد صدیقی نے غزل کو مرتب پیغام کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔ اس کے جذباتی میلان نے مستقل فکری جھکاؤ کے ساتھ اس انسان کا ہیولہ تراشا ہے۔ جو میر کے عہد میں مجبور محض تھا۔ آج بھی مجبور محض ہے اس وقت بھی انسان غیر محفوظ تھا۔ اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ بلکہ اب اس کے ساتھ حیلے بہانے بھی روا رکھے جا رہے ہیں اسے اب بھی کھلونے دے کر بہلایا جا سکتا ہے چنانچہ لامتناہی آزمائشوں اور مصائب سے گزرنے کے بعد انسان نے جس ارتقاء کی منزل حاصل کی ہے۔ اس کے تجربے کے بعد یہی منطقی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کے لئے جو نا موافق قوتیں ہمارے ’’مورث اعلیٰ‘‘ کے عہد میں پائی جاتی ہیں وہ اب بھی موجود ہیں لہذا ماجد صدیقی اگر بہیمت سے خوفزدہ ہے تو اس کا جواز بھی وہ خود مہیا کرتا ہے۔

سگانِ پابند دشت میں جب کبھی کھلے ہیں

فضا میں آندھی سا ایک اٹھتا غبار دیکھا

ہوا تھا برق کی مانند سامنا جس سے

جدا نہ ذہن سے ہوتا ہوا وہ ڈر دیکھا

یہ جو سامنے ہے سفر عجیب ہے دشت کا

کہ بدن ہی کھرنے لگا ہے فکر مال میں

انت ملے کب جانے سکھ کے سپنوں کو

جو پل آئے دے جائے اک جھانسہ سا

انسانی فطرت کا ایک پہلو غارت گری ہے۔ انسان نے غارت گری کے جتنے سامان پیدا کئے ہیں۔ اس نے بقائے انسانی کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے لہذا اب وہ اپنی ہی نفسیات کے آئینے میں دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ اس رویے کے خلاف ماجد صدیقی قوتِ مدافعت کے ساتھ فقیرانہ کوشش کر رہا ہے مثلاً وہ ہیبت ناک قوتوں کے خلاف ان عناصر کو زندگی کی قوت بخش رہا ہے جن کی زندگی، محنت، محبت اور لطیف تر احساسات سے عبارت ہے۔ اس طرح ماجد صدیقی اندھیرے کے مقابلے میں روشنی پیدا کر رہا ہے۔ بڑے بڑے سمندروں کی طرف تنکوں کے طوفان انڈیل رہا ہے اور چٹیل میدانوں میں تخلیق کے پھول کھلا رہا ہے۔ یہ غیر معمولی تخلیقی قوت انسان کو زیادہ مقدس بنانے اور ناقابل تسخیر قوتوں کے مقابلے پر ڈٹ جانے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔

ماجد صدیقی انسان کو اس ترقی یافتہ دور میں بھی نیم وحشی تصور کرتا ہے۔ شاید اسے علم، اخلاق اور معاشرت کی فکری اور عملی زندگی ایسا کہنے پر اُکساتی ہے مگر انسان نے جو ہیئت کذائی اختیار کر لی ہے اسے دیکھ کر وہ ان تمثیلات کی طرف رجو ع کرنے لگتا ہے جن کے ذریعے ہماری داستانیں اور لوک ادب بھرا پڑا ہے اس اعتبار سے ماجد صدیقی، غزل کے انگ میں لوک ادب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ لوک ادب ہر عہد میں اجتماعی اور تمدنی معاملات کی عکاسی کرتا رہا ہے اس ادب نے انسان کو گرد و پیش کی دنیا سے با خبر رکھا ہے لہذا انسانی اقدار کی تشکیل میں لوک ادب نے موثر کردار ادا کیا ہے۔ اور ماجد صدیقی نے موجودہ انسانی صورتحال میں لوک ادب کے وسیلے سے ہی جدید ترین شاعری کا جامع تصور پیش کیا ہے میرے نزدیک شاعری حسن اور حقیقت کے مابین ایک پل کا درجہ رکھتی ہے س پر سے ہر کوئی آسانی سے گزر نہیں سکتا اس کے لئے اکتسابِ علمی اور محرکاتِ ذہنی کا حصول بے حد لازمی ہے چنانچہ ماجد صدیقی نے اپنا لہجہ دکھی رکھ کر عام انسانوں کو افکار اور نظریے کی شاعری میں شریک کیا ہے بلکہ اس نے غارت گری کے منظر دکھا کر انسان کو باخبر رکھنے کے لئے کچھ بشارتیں بھی دی ہیں تاکہ متفقہ سعی و پیکار میں انسان جہد للبقا میں حصہ لیتا رہے اور زندہ رہے۔

ماجد صدیقی نے لوک شعور کے حوالے سے غیر انسانی مخلوق کو مثال بنا کر درندگی اور بہیمیت کے بہت سے رُوپ دکھائے ہیں اس طرح انسان ایک بے بس مخلوق بن کر کائنات کے وسیع تناظر میں بے چین اور مضطرب دکھائی دیتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے وحشی اسلاف اب تک موجود ہیں۔ چنانچہ اژدہے، سانپ اور شیر مہلک قوتوں کے ساتھ انسانی صعوبتوں میں اضافہ کرنے کے درپے ہیں ماجد صدیقی نے اسی تناظر میں خوف اور مایوسی کی تمثیلی داستاں سنائی ہے بلکہ خود غرضی اور شدید تنہائی نے انسان کو نفس پروری کا دیوانہ بنا دیا ہے اس کے برعکس انسان کی کی بقاء اور مردم آزار قوتوں کے خلاف ایک مشن کے طور پر واضح شعور کی نشاندہی ماجد صدیقی کا بنیادی تنازعہ بنتی ہے۔ چنانچہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ شعر کے پیرائے میں اجتماعی زندگی اور مشترکہ محنت کا پیغام دے کر ماجد صدیقی نے نہ صرف فن لطیف میں نئے تجربات کئے ہیں۔ بلکہ ایک ہمدردانہ رویہ پیدا کر کے وہ مطالعہ انسانی میں بالیدگی اور تدبر کی کائنات بھی تشکیل دے رہا ہے ماجد صدیقی کی فنی بالیدگی اور نئے تجربات کی مثالیں دیکھئے۔

اور تاثر دے کر جس نے میرا خون غلاف کیا

وقت کے ہاتھوں دھل کر چمکی آخر وہ تلوار بہت

لپک تھی جس کو دکھانے کی چال کا جادو

ہرن وہ آج ادھڑوا کے اپنی کھال گیا

رہا ہے ایک سا موسم نہ باد و باراں کا

چڑھا ہے جو بھی وہ دریا ضرور اترا ہے

ہے منانا اسی خدا کو ہمیں

جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا

سخناب کے لہجے میں ایک ٹھہراؤ ہے (لیکن موضوعات بڑے گرم اور لہو رلا دینے والے ہیں) اس کے باوصف ماجد صدیقی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنے عہد کی فریاد کو آباد کر دیا ہے۔ لہذا اذیتوں، بے بسی اور تلملاہٹ کے عہد میں سخناب ایک تیور کے ساتھ زندہ رہنے کا جرات ت مندانہ میلان بھی عطا کرتی ہے۔

ماجد صدیقی نے قومی اور سماجی ناموس کو قائم رکھنے کے لئے اردو کے قاری کو اپنی منتخب شاعری پیش کر کے نہ صرف تاریخ کے آشوب کو دہرایا ہے بلکہ وہ سلامتی اور آبرو مندانہ فطرت کو ادب عالیہ کی تہذیب بنا کر جبر و تصادم کے خلاف عدم تشدد کی ایک نئی دنیا تعمیر کر رہا ہے اور یاد رہا خالی ہاتھ خونخوار معاشرے کے سامنے جانا بدھ، عیسیٰ اور حسین کا مشن تھا اور آج یہ مشن ماجد صدیقی بڑے حوصلے سے پورا کر رہا ہے۔

شاعری اور استادی از منو بھائی

لائل پور سے بذریعہ ڈاک موصول ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ پنجابی کے معروف شاعر اور جدید پنجابی غزل کی منفرد کتاب ’’وتھاں ناپدے ہتھ‘‘ کے مصنف ماجد صدیقی گورنمنٹ ڈگری کالج لائل پور میں اردو کے لیکچرار ہو گئے ہیں۔

اس خبر کو پڑھ کر افسوس بھی ہوا اور خوشی بھی۔ افسوس اس لئے ہوا کہ حبر کا عنوان ’’شاعر پروفیسر بن گیا‘‘ ہے گویا شاعری ختم ہو گئی اور پروفیسری شروع ہو گئی۔ ایک اچھا خاصا شاعر اگر شاعری چھوڑ کر پروفیسر شروع کر دے تو افسوس تو ہوتا ہی ہے ویسے یہ کوئی ضروری نہیں کہ پروفیسری اور شاعری بیک وقت جاری نہ رہ سکیں کیونکہ شاعر نے تو مشق سخن کے ساتھ ساتھ چکی کی مشقت بھی جاری رکھی ہے مگر چونکہ ہر طبیعت طرفہ تماشا نہیں ہوتی اس لئے ضروری تھا کہ ان لوگوں کی اطلاع کے لئے جو ماجد صدیقی کو نہیں جانتے یہ بھی لکھ دیا جاتا کہ ’’اور انہوں نے اردو کی پروفیسری کے ساتھ پنجابی شاعری جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔

اس فقرے کی عدم موجودگی میں یہ بھی ممکن تھا کہ ماجد صدیقی کو احباب کے اس قسم کے خطوط موصول ہونا شروع ہو جاتے کہ ’’ہمیں یہ پڑھ کر دکھ ہوا ہے کہ آپ شاعر سے پروفیسر بن گئے۔ آخر شاعری نے آپ کو شہرت دینے کے علاوہ اور آپ کا کیا بگاڑا۔ اور ہم جو ایک مدت سے شاعر چلے آتے ہیں اور روزگار حیات کی فکر سے لاپرواہ ہو کر شاعری کرتے ہیں۔ اب اپنے سامعین کے سامنے کیا منہ لے کر جائیں گے ہمارے سامعین اور قارئین بھی اب ہماری شاعری کا اعتبار نہیں کریں گے۔ اور کہیں گے کیا پتہ تم بھی کل پروفیسر بن جاؤ‘‘

پھر ماجد صدیقی کو اس نوعیت کا ایک بیان جاری کرنا پڑتا کہ ’’میں ان تمام احباب کا جنہوں نے میرے لیکچرار ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے فرداً فرداً جواب دینے سے قاصر ہوں اور بذریعہ اخبار ہذا ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ میں پروفیسری کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری بھی جاری رکھوں گا اور میں ملازمت کو جسمانی غذا کے حصول کا ذریعہ اور شاعری کو روحانی غذا سمجھتا ہوں مجھے جسم کے علاوہ روح کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

خوشی اس بات سے ہوئی کہ ماجد صدیقی اپنایا رہے ایک عرصہ کی با مشقت بیکاری کے دور سے گزر کر ملازمت پر بحال ہوا ہے اور اب سنجیدگی اور توجہ کے ساتھ تعلیم و تدریس اور شعر و فن کی طرف توجہ دے گا خوشی اس بات کی بھی ہے کہ تعلیم کے میدان میں ماجد صدیقی جیسے سمجھدار اور ذہین استادوں کی ضرورت کا احساس پیدا ہونے کی امید ہو چلی ہے۔

شاعروں کو کسی بھی معاشرے کا حساس ترین طبقہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ حساس طبقہ محض شعر و شاعری سے اپنا پیٹ نہیں بھر سکتا اس لئے کہیں نہ کہیں ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہے ایک ملازمت افسری کی بھی ہے اور افسری ان شاعروں کے مقدر میں ہوتی ہے جو محض شاعر ہی نہیں ہوتے کچھ اور بھی ہوتے ہیں اور افسری حاصل کرنے کے بعد شاعری نہیں رہتے کچھ اور بن جاتے ہیں مگر شاعروں کی صف اوّل میں جگہ پاتے ہیں شاعروں کے لئے دوسری ملازمت ریڈیو کی ہوتی ہے مگر ریڈیو میں انہیں شاعری کے علاوہ ’’نثاری‘‘ بھی کرنی پڑتی ہے اور اکثر ریڈیو شعراء نثر میں قطعہ اور نظم میں نثر لکھنے لگ جاتے ہیں فکر پالیسی کی تابع ہو کر رہ جاتی ہے اور شاعر ریڈیو سیٹ بن جاتا ہے جو سٹیشن چاہئے لگا لیجئے۔ اخبار نویسی بھی شاعری کو راس نہیں آئی اور خبروں اور کالموں کو شاعری کا رُوپ دیا جانے لگا جس طرح آج کا اخبار کل ردی کا ٹکڑا بن جاتا ہے اسی طرح صحافت کی شاعری بھی ایک دن سے زیادہ نہیں چل سکتی۔ ایک شعبہ تعلیم و تدریس کا رہ گیا ہے جس میں شاعر کی کچھ گنجائش رہ جاتی ہے مگر یہاں بھی یہ خطرہ موجود ہے کہ استاد اگر شاعری کا استاد بن گیا تو ادب تخلیق کرنے کی بجائے شعراء تخلیق کرنے شروع کر دے گا۔ اور شعراء بھی افسری ریڈیو نگاری اخبار نویسی اور پروفیسری کے چکر میں پھنس جائیں گے۔ مگر ماجد صدیقی سے ہمیں یہ توقع بہرحال ہے کہ ان کے ہاتھ پروفیسری میں بھی وہ ’’وتھاں‘‘ ناپتے رہیں گے جو ذہن اور شعور، فکر اور عمل، روشنی اور تاریکی میں واقع  ہیں اور یہی عنوانات ماجد صدیقی کا موضوع ہیں۔

1964ء

دید شنید از منّو بھائی

ماجد صدیقی کی تلاش از ڈاکٹر تصدق حسین راجا

میری اس تحریر کا موضوع وہ شخص ہے جو شاعر ہے اور اردو و پنجابی دونوں زبانوں میں خوبصورت غزلیں اور نظمیں کہتا ہے، نثر نگار بھی ہے۔، سپاہ طنز و مزاح کا کماندار، افسانہ نگار بھی، اور ہو سکتا ہے کہ اس کی زیر طبع تصانیف میں کوئی ناول اور ڈرامے بھی شامل ہوں۔میں کہ فن تنقید اور فن مقالہ نگاری سے بالکل ناواقف تھا ماجد کو ان مختلف فیلڈز میں تلاش کرتا رہا اور یہ سرگزشت بھی اسی تلاش پر مشتمل ہے۔

ایک صبح میری نظر نوائے وقت راولپنڈی کی اس خبر پر پڑی جس میں 1977-1978ء کے ادبی انعام یافتگان کے نام دیئے گئے تھے، ماجد صدیقی کے نام کے سامنے کتاب کا نام ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ درج تھا مجھے خیال گزرا یہ نام یہاں یقیناً سہواً چھپ گیا ہو گا کیونکہ جس ماجد صدیقی کو میں نے دیکھا تھا اس کے وطن مالوف پر تو لکھنؤ یا دلی کا شبہ ہوتا تھا کیونکہ اس کے چہرہ سے اس زائد شے کو نکال دیا جائے جسے مونچھیں کہا جاتا ہے تو باقی کوئی شے اسے جہلم کا باشندہ سمجھنے میں قطعاً ممد و معاون ثابت نہیں ہوتی۔۔۔ دوسرا دھوکہ اس شخص کا نام دیتا ہے۔ کرنل محمد خان کے علاوہ عبد اللہ حسین لاکھ قلمی نام کے پردے میں ’’محمد خان‘‘ کو چھپانا چاہے وہ ایسا نہیں کر سکے گا کہ اس کا قد کاٹھ اس کا بھانڈا پھوڑ دے گا۔۔۔ پھر خیال گزرا ماجد صدیقی کے لباس میں ضرور کوئی ’’فتح خان‘‘ یا ’’ملک پائندہ خان‘‘ چھپا ہو گا جس نے شعر و ادب کے میدان میں اترتے ہی اس لطیف اور ادبی نام کی تختی کے پیچھے اپنے اصل نام کی پلیٹ چھپا دی ہو گی لیکن ہمارا یہ اندازہ بھی غلط نکلا۔۔۔ اب ہم اس شخص کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے جو کہیں تو ’’مجموعہ غزل آغاز‘‘ کے ہلے بکھیرتا ’’سر و نور‘‘ کی تجلیات میں چھپ گیا اور ہم تاجدار حرم کے حضور نعتیہ نذرانہ عقیدت کے گلہائے خوش رنگ نچھاور کرنے والے ماجد پر کسی درویش و صوفی کا گمان کرتے ہوئے آگے نکل گئے۔۔۔ تھوڑی ہی دور ہم نے اسے جب ’’شاد باد منزل مراد‘‘ کے قومی نغمے الاپتے پکڑنا چاہا تو یہ اک جست میں ’’ہوا کے تخت‘‘ پر سوار تھا اور جانب افلاک مائل بہ پرواز نظر آیا۔۔۔ ہم تو اب تک اپنے ذہنی مرشد کو ہی بادلوں میں سے گزرتے نیلگوں آسمان کی پہنائیوں میں اڑتا دیکھتے رہے تھے بھلا کس طرح اس کا تعاقب کرتے۔۔۔ لیکن دوسرے لمحے ایک شخص بغل میں ایک کتاب دبائے ہمارے پاس سے گزرا، کتاب کے ٹائٹل پر نظر پڑی تو ’’صورت احوال آنکہ‘‘ پڑھ کر ہم چونکے کہ یہ تو ماجد صدیقی ہے جو کس سادگی و پرکاری سے ہمیں جُل پہ جُل دیئے جا رہا ہے۔۔۔ صاحب کتاب تو ہاتھ نہیں آیا کتاب ہمارے ہاتھ لگ گئی۔۔۔ راز یہ کھلا کہ ان تمام تلخیوں کو مزاح کی شکر میں لپیٹے یہ شخص کھٹی مٹھی گولیاں بانٹتا پھرتا ہے جو اسے محکمہ تعلیم کے شعبہ ثانوی مدارس اور افسران ثانوی مدارس از قسم اے ڈی آئی سے ملی تھیں۔ لیکن ان سنتریوں کا ذائقہ انور مسعود کی ان ثافیوں سے بالکل مختلف تھا جنہیں جہلم کے پل پر رکی ہوئی بس میں کوئی ہاکر گا گا کر بیچ رہا تھا۔۔۔ بظاہر ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کا شمار طنز و مزاح پر مشتمل کتابوں میں ہوتا ہے لیکن ان سب کے درمیان بھی یہ کتاب ایک منفرد حیثیت منوا لینے پر مصر ہے جس میں یہ حق بجانب ہے۔ باوا ضمیر جعفری کی ’’ولائتی زعفران‘‘ سونگھتے ہی عالم ہوش و حواس میں قاری کے مدھم سے قہقہے سے فضا گونجتی ہے۔۔۔ انور مسعود نے جو ’’میلہ اکھیاں دا‘‘ لگایا ہے اس کی سیر کے دوران انسان خود بھی ہنستا ہے اور دوسروں کو گدگدی کر کے ہنسانے کی خواہش بھی محسوس کرتا ہے۔۔۔ مشتاق یوسفی نے ’’خاکم بدہن‘‘ میں زیر لب مسکراہٹیں بکھیرنے پر اکتفا کیا ہے۔۔۔ کرنل محمد خان جنہیں دیکھتے ہی حفیظ جالندھری کا اعلان کانوں سے ٹکراتا ہے ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ نے جب ’’بجنگ آمد‘‘ سے ’’بہ سلامت روی‘‘ تک کا سفر طے کر لیا تو پہلے سے کہیں زیادہ مزاح کی پھلجڑیاں بکھیرنے کے فن میں Specialisedنظر آئے اور انہیں خوش ہونا چاہئے کہ ابھی بڑھاپا واقعی ان سے دور ہے جس کا ثبوت اس تازہ تصنیف سے ملتا ہے لیکن ماجد صدیقی مزاح کی اوٹ سے طنز کے ایسے نشتر پھینکتے ہیں جو قارئین کے ہونٹوں پر مسکراہٹوں کی بجلیوں کی ہلکی سی لکیر چھوڑ جاتے ہیں اور اس سے پہلے کہ یہ لکیر ختم ہو نشتر اپنا کام کر چکا ہوتا ہے۔ زبا ن و بیان کی خوبصورتی کو ماجد نے مقامی قصے کہانیوں کے میل سے خوبصورت تر بنا دیا ہے۔

سخناب کا شاعر ماجد صدیقی از شمیم اکرام الحق

ماجد صدیقی کا تازہ مجموعہ کلام ’’سخناب‘‘ میرے ہاتھ میں ہے اور سوچ رہی ہوں بات کہاں سے شروع کروں؟ ماں کے لئے اس جذبہ احسان مندی سے کہ جو کتاب کا عنوان بن گیا ہے۔

دمبدم ہوں ضوفشاں اس روز سے

جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا

یا انتساب سے؟ کہ جہاں محسوسات کا رشتہ شاعر کو محمد طفیل (نقوش) کے آس باس رکھتا ہے انتساب بڑا منفرد ہے۔ آپ بھی دیکھئے۔

’’محنت کش اور عہد ساز شخصیت جناب محمد طفیل المعروف محمد نقوش کے نام جن سے ظاہراً میرا تعلق بس اتنا ہے کہ پچھلی عید پر انہوں نے پہلی بار مجھے بھی ایک نہایت اجلا عید کارڈ بھیجا، جس پر یہ تحریر تھا، ’’مجھے آہٹ محسوس ہوتی ہے کہ آپ ہر وقت میرے آس پاس ہیں‘‘ اور میں نے یہ جانا کہ غالباً طفیل صاحب نے لفافے پر اپنے کسی اور محبوب کی بجائے بے خیالی میں میرا پتہ لک دیا ہے لیکن نہیں محمد طفیل کسی روایتی شاعرانہ بے خیالی کا شکار ہرگز نہیں ہوتے۔ شائد سارا کچھ میرے اس شعر کے جواب میں ہو۔

کوئی آذر تو ہو گا ہمارے لئے

ہم کہ ٹھہرے ہیں پتھر، بھرے شہر میں

یہی چند حروف کتاب کا انتساب بھی ہیں اور دیباچہ بھی اس کے بعد تقریباً دو سو غزلوں کا مجموعہ فکر و فن اور حسن و لطافت کے دلکش گلستان کی طرح پھیلا ہوا ہے۔ اور قاری کے سامنے میزان سخن فہمی رکھ کر پوچھتا ہے کہیے ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے۔

ماجد صدیقی کا یہ پہلا مجموعہ کلام نہیں کہ اسے کسی داد گر کی ضرورت ہو جو بقائے دوام کے دربار میں اس کے مقام کے تعین کے لئے رطب اللساں ہو بلکہ وہ اس میدان کا پرانی پاپی ہے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتا ہے اور اب تک اس کے نو مجموعہ ہائے کلام اردو کے اور 9ہی پنجابی کے شائع ہو چکے ہیں۔ منظوم اردو ترجمے اور پنجابی ترجمے اس کے علاوہ ہیں جن کی تعداد بالترتیب تین اور چار ہے۔

ماجد صدیقی نے تصنیف و تالیف کے میدان میں اپنے قلیل عرصہ سخن میں جو کشتوں کے پشتے لگائے ہیں اس کو دیکھ کر کوئی سوچ سکتا ہے کہ شاید بھرتی کا مال ہو گا مگر نہیں زیر نظر مجموعہ ہی کو لیجئے اس کے ایک سو بانوے صفحات پر ایک سو نوے غزلیں شائع ہوئی ہیں مگر کوئی ایک شعر یا مصرعہ بھی سوز دروں سے یا معنی و تاثر سے خالی نہیں حسن اختر جلیل نے خوب کہا ہے ’’ماجد صدیقی نے کسی شخصی یا گروہی پشت پناہی کے بغیر محض‘‘ سوزِ دروں کے زور پر اپنی شاعری کا لوہا منوایا ہے۔‘‘

ماجد صدیقی کی شاعری چاہے وہ اردو ہو یا پنجابی اس میں لوک رس ہے تازگی ہے اور ایک میٹھے میٹھے درد کی کیفیت پڑھنے والے کو سرشار کر دیتی ہے۔

ماجد کی بات دل سے نکلتی ہے اور دل پر اثر کرتی ہے اس لئے کہ وہ لفظوں کی بازی گری میں نہیں الجھتا۔ سیدھے سبھاؤ دل کش انداز میں دل کی بات دل کی زبان میں کہہ دیتا ہے۔ ایک محمد طفیل تو کیا ہر صاحب درد کو اپنے پاس اس کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔

جان لبوں تک لاؤں

روٹھا یار مناؤں

ماجد صدیقی کی شاعری میں ترنم اور موسیقی اس کی فصاحت کا نکھار ہے انداز میں وہ میر کے مکتبۂ فکر کا شاعر ہے۔ شاید میر صاحب سے محبت اور جوش عقیدت کا اظہار شاعری میں ان کی روش پر چلنے سے پوری طرح نہ ہو سکا تھا کہ حلقہ ارباب میر کی بنیاد ڈالی اور اس کے بانی رکن قرار پائے۔ میر کے انداز کا دھیما پن اور سوز و گداز جب اپنے عہد کی سچائیوں سے ملتا ہے تو ماجد کی شاعری ایک نئے انداز سے سامنے آتی ہے۔؎

خاک وطن پہ گود میں بچہ تھا ماں کی اور

بیروت کی زمیں پہ برستا جلال تھا

ہم بھلا تصویر کیا کھینچیں گرفتِ وقت کی

سانپ چڑیا کو سلامت ہی نگل جائے گا

الغرض سخناب ایسی ہی سچائیوں، فکری گہرائیوں اور سوز و گداز سے مملو اشعار کا مجموعہ ہے اپنے عہد کی سچائیوں سے قدم ملا کر چلتے ہوئے ماجد کے احساس نے کہیں ٹھوکر نہیں کھائی بظاہر مرنجاں مرنج اپنے آپ میں گم رہنے والا شخص گُنوں کا اتنا پورا ہے اس کا احساس ہمیں سخناب پڑھ کر ہوا مشاعروں میں ماجد کو سنا تھا مگر یہ اندازہ نہ تھا کہ اس کے پاس اتنے درد و غم جمع ہو چکے ہیں کہ کتابوں کا پورا پشتارہ لئے پھرتا ہے گزشتہ برس ماجد صدیقی زندگی کے ایک بھیانک موڑ پر آ کر اس وقت بکھر سا گیا جب اس کے جواں سال بیٹے کو شہر کی اندھی ٹریفک نے نگل لیا۔ ماجد نے اس سانحے پر بزبان شاعر اتنے بین کئے کہ پوری ایک کتاب بیٹے کے لئے لکھ کر بظاہر سنبھل سا گیا، مگر تازہ مجموعے میں بھی کئی اشعار صاحب اولاد کے دل پر تازیانہ بن کر لگے ہیں۔

اُجڑے کھیت کا مالک ہوں میں اپنا درد بتاؤں کیا
دونوں ہاتھ مرے خالی ہیں میں اِن کو پھیلاؤں کیا

(واضح رہے کہ ماجد صدیقی کے بیٹے کو چاند رات حادثہ پیش آیا تھا) ماجد صدیقی کی شاعری میں لوک رس کے لاگ کا سبب شاید یہ ہے کہ خود ایک گاؤں کا رہنے والا بقول ماجد ’’گاؤں میں چوپال سسٹم ہوا کرتا تھا رات کو سب یار دوست کام کاج سے فارغ ہو کر بیٹھتے اور پنجابی کے منظوم قصے ہیر وارث شاہ اور قصہ یوسف زلیخا گایا کرتے پھر میرے بڑے بھائی صاحب کو موسیقی سے بڑا لگاؤ تھا۔ اس زمانے میں لوک گیت والوں کے ٹولے ہوا کرتے تھے جو مزاروں پر عُرس کے موقعہ پر میلوں میں لوک گیت گایا کرتے تھے میرے بھائی صاحب کو جہاں کہیں ایسی کسی محفل کا پتہ چلتا مجھے ساتھ لے کر پہنچ جاتے۔ شاید یہی سب چیزیں مل کر میری شاعری کا پس منظر بنتی رہیں۔‘‘ یقیناً یہی سب چیزیں مل کر ماجد صدیقی کا شاعرانہ پس منظر بناتی ہیں مگر اس سے بھی توانا عنصر یہ ہے کہ ماجد صدیقی کی والدہ ’’اللہ رکھی‘‘ پنجابی کی زود گو شاعرہ تھیں۔ یہ خاتون جو بالکل ان پڑھ تھیں۔ عشقِ رسولؐ میں ڈوبی ہوئی نعتیں کہا کرتیں جنہیں ماجد صدیقی یا بڑا بھائی لکھ لیا کرتا، مگر شائع کروانے کی وہ اجازت نہیں دیتی تھیں البتہ مرنے سے پہلے انہوں نے اجازت دے دی اور اب ماجد صدیقی اپنی والدہ کی نعتوں کا مجموعہ ترتیب دے رہے ہیں تو گویا یہ بات طے ہے کہ شاعری ماجد کی رگ و پے میں دودھ کے ساتھ اتری مگر عجیب بات ہے کہ پنجابی شاعرہ کا بیٹا ضلع جہلم کے ایک گاؤں کا پنجابی سپوت جب خود حرف شعر کا آغاز کرتا ہے تو اردو لکھتا ہے۔ ماجد صدیقی نے زمانہ طالب علمی میں شعر کہنا شروع کیا پہلی چیز ایک نعت تھی، جو عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ایک مقام اخبار کے سرورق پر شائع ہوئی بقول ماجد یہ ایسا اعزاز تھا کہ کئی دن اڑتے پھرے۔

ماجد صدیقی کا اصل نام عاشق حسین ہے۔ ابتدا میں عاشق حسین صدف کے نام سے لکھتے رہے۔ بعد میں ماجد صدیقی لکھنا شروع کر دیا۔ پنجابی میں شاعری شروع کرنے کا عجیب واقعہ ہے۔ ماجد صدیقی سناتے ہیں ’’ایک مرتبہ ایک آدمی میرے پاس آیا جو گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ان ہی دنوں اس کے بھائی کا انتقال ہوا تھا۔ وہ کہنے لگا ماجد صاحب دکھ سے جگر پھٹ رہا ہے۔ رونا چاہتا ہوں رویا نہیں جاتا مجھے کوئی نوحہ لکھ دیں میں نے اسے اردو میں چند اشعار لکھ دیے۔ دوسرے دن پھر آیا اور کہنے لگا۔ جناب میں ان پڑھ آدمی ہوں۔ اردو کے شعر یاد نہیں ہوتے آپ مجھے پنجابی میں لکھ دیں میں کسی سے پڑھوا کر یاد کر لوں گا اس کی فرمائش پر پہلی مرتبہ پنجابی میں اشعار کہے اس کا مطلع تھا۔

ول کے نہ آیا ماہی مینوں سوچاں پیاں

کت ول ہو گیا راہی مینوں سوچاں پیاں

(میرا ساجن لوٹ کر نہیں آیا میں سوچوں میں گم ہوں نہ جانے کن راستوں میں کھو گیا)

ماجد صدیقی ایک مقامی کالج میں اردو کے پروفیسر ہیں آج کل کل قرآن شریف کا منظوم اردو ترجمہ کر رہے ہیں اور چار پانچ پارے ترجمہ کر چکے ہیں۔ ان کی شدید خواہش ہے کہ یہ ترجمہ نظم معریٰ میں اتنا رواں ہو کہ آسانی سے زبانی یاد ہو جائے۔ ماجد صدیقی نے صورت احوال آنکہ کے عنوان سے اپنی سوانح تحریر کر رکھی ہے جو ان کی واحد نثری کتاب ہے۔ دوسری کتاب ’’دیگر احوال آنکہ‘‘ زیر طبع تھی کہ پتہ چلا مختار زمن اس نام سے لکھ چکے ہیں۔ اب نئے نام کی تلاش کا مرحلہ طے ہو جائے تو کتاب بھی منظر عام پر آ جائے گی۔

تصانیف کی سلور جوبلی از سید ضمیر جعفری

تصنیفات کی تعداد کے سلسلے میں لگتا ہے کہ ہمارے دوست پروفیسر ماجد صدیقی بہت جلد ہمارے مخدوم جناب عبد العزیز خالد سے اگے نکل جائیں گے۔ خالد صاحب چالیس برس میں تیس کتابوں تک پہنچے ہیں۔ مگر ماجد صدیقی بیس برس میں اپنی کتابوں کی ’’سلور جوبلی‘‘ منا چکے ہیں اور ماشاء اللہ ابھی دو تین تصانیف ان کی آستین میں بھی موجود ہیں اب تک کا گوشوارہ یہ ہے۔ کہ آٹھ اردو نظموں اور غزلوں کے مجموعے چھپ چکے ہیں۔ تین منظوم اردو ترجمے ہیں اور چار منظوم پنجابی ترجمے ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے عنوان سے عہد شباب کی آپ بیتی سے بھی فارغ ہو چکے ہیں۔ شعری مجموعوں میں اردو اور پنجابی کے مجموعے برابر چل رہے ہیں۔ پنجابی کا قدم ذرا آگے نظر آتا ہے مگر اردو اور پنجابی کو وہ تقریباً ایک ہی نظر سے نواز رہے ہیں۔ ایک کتاب اگر پنجابی کی آتی ہے تو دوسری ضرور اردو میں ڈھلتی ہے مثلاً ان کی تازہ شعری کتاب ’’سخناب‘‘ کی اشاعت کے ساتھ اردو اور پنجابی مجموعوں کی تعداد برابر ہو گئی ہے۔

یہ رفتار جہاں تعداد کے اعتبار سے حیرت انگیز ہے وہاں معیار سخن کے لحاظ سے بھی لائق تحسین ہے صرف یہی نہیں کہ ماجد صدیقی تھکنا نہیں جانتا بلکہ وہ برابر اگے بڑھ رہا ہے اس کا ہر مجموعہ نئی زمینوں اور نئے آسمانوں کی بشارت دے رہا ہے وہ اپنے لہجے میں بات کرتا ہے اس کے ہاں احتجاج کی آواز سچی، بے باکانہ اور طاقت ور ہے۔ اس بات کا اندازہ کرنے کے لئے کہ جدید غزل کلاسیکی جرنیلی سڑک سے ہٹ کر پہاڑوں اور جنگلوں کی نئی نئی پگ ڈنڈیوں، دیہات کے کھلیانوں اور شہر کے گلی کوچوں میں کتنی دور نکل گئی ہے ماجد صدیقی کی غزل کا مطالعہ ضروری ہے۔ کرنل غلام سرور نے اپنے تقریظیٰ شزرے میں ماجد کے بارے میں نہایت درست لکھا ہے کہ ’’اس سفر میں جس قدر اس کا انداز بیان نکھرتا جا رہا ہے۔ اس سے کہیں زیادہ اس کی غزل کی معنوی پرتیں گہری سے گہری ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ اس کا سارا کلام دھڑکنوں کی زبان پر مشتمل ہے۔‘‘

لیجئے دھڑکنوں کی اس زبان کے چند نمونے بھی ملاحظہ کیجئے۔

نہ جانے جرم تھا کیا جس کی یہ سزا دی ہے

کہ میری جان مرے جسم میں جلادی ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا

تمام عمر اسی آس پر بِتا دی ہے

ڈرتا ہے کہ اس پر کوئی الزام نہ آئے

وہ شخص جسے اب بھی مرا نام نہ آئے

منفی ہے پر اس کی بھی اک دنیا ہے

وہ جو نظر میں اہل نظر کی پاگل ہے

شیر انہیں بھی ہے چاٹنے نکلا

میرے خوں سے بنے جو نقش و نگار

لگتا ہے پرندوں سا بکھرا ہوا رزق اپنا

بیٹھوں بھی تو پیروں کو مصروف سفر دیکھوں

ہر سفر ہے اب تو، ہجرت کا سفر

تھے کبھی اس شہر میں انصار ہم

ترستا ہے کسی دست طلب کو

گلاب اک باڑھ سے نت جھانکتا ہے

1984ء

ایک متنوع نظم از سید ضمیر جعفری

(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی اردو اور پنجابی کے جانے پہچانے شاعر ہیں جن کا اپنا مخصوص انداز فکر ہے ان کی اردو شاعری کے جو مجموعے اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان میں ’’آغاز‘‘ دنیائے غزل میں ان کی جداگانہ اور تازہ آواز کا مظہر ہے جب کہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ میں اس نوجوان شاعر نے نہایت ہی اہم اور قومی نوعیت کے بحرانی مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔

اب ماجد صدیقی اپنے قارئین کو ایک نثری کاوش ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے روپ میں دے رہے ہیں۔ جس کا مواد اگرچہ مصنف کی ابتدائی زندگی کے ایک خاص حصے کے واقعات ہیں لیکن اس تصنیف کو آسانی سے محض سوانح عمری بھی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ کتاب کے اوّل سے آخر تک اگرچہ ابو اب کا باہمی ربط واقعات کی ڈوری سے قائم ہے لیکن اسے ماجد کے شگفتہ اور توانا انداز کا کرشمہ کہئے یا اس کے شاعرانہ احساس کا ترفع۔ کہ کتاب مزاحیہ نثر میں لکھی جانے کے باوجود ذرا ہٹ کر دیکھنے پر مزاجاً ایک ایسی متنوع نظم نظر آتی ہے۔ جس کا کوئی جملہ بلکہ لفظ اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جا سکتا۔

15 اگست 1977 ء

تیسرا ناتا اور لطف خانہ ساز از کرنل محمد خان

(صورت احوال آنکہ کا دیباچہ)

ماجد صدیقی سے میرا قلم کا رشتہ تو بعد کا ہے، اس سے پہلا تعلق یہ ہے کہ وہ میرا ’’گرائیں‘‘ ہے اور اب کہ اس نے مجھے اپنی نئی تصنیف۔۔۔ صورت احوال آنکہ۔۔۔ کے سلسلے میں اپنا گواہ ٹھہرایا ہے تو اس سے غالباً میرا تیسرا ناتا بنتا دکھائی دیتا ہے کہ اس کی نثر کی پیشانی پر بھی طنز و مزاح کا عنوان ہے جو یار لوگوں نے میرے ماتھے پر بھی بہ زور جڑ دیا ہے ماجد ادب کا شیدائی ہے اور اس حیثیت سے اس کی نظر اپنے زمانے اور سر زمین کی حدود پر رہتی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ آگے۔۔۔ کتاب ہذا میں ہر چند کہ اس نے بڑے سادہ واقعات کو ایک بہت بڑے جیتے جاگتے عالم کا دریچہ بنا دیا ہے۔ یہ تحریر کوئی بحر بیکراں نہیں، شاید ذرا سی آبجو ہے، لیکن اہل ذوق کو اس کے قطروں میں کئی دجلے نظر آئیں گے۔ نفس مضمون کے علاوہ لطف زبان پر ماجد نے جس انداز سے اپنے آپ کو صرف کیا ہے۔ اس سے اس کی نظر۔۔۔ اپنے دیہاتی پس منظر کی وجہ سے۔۔۔ اس حسن تک جا پہنچی ہے جسے ایسی جگہوں کے خود فنکار، لے سے لے کر رنگ، اور رنگ سے لے کر مرئی فن پاروں تک میں سمو دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں کتاب اگرچہ اردو میں لکھی گئی ہے تاہم اس کے مواد اور محاورے کا پنجابی ذائقہ قاری کو ایک ٹانک (Tonic)کے طور پر محسوس ہوتا ہے۔ امید ہے اس ٹانک کو ’’اہل زبان‘‘ بھی نافع پائیں گے۔

ماجد صدیقی بنیادی طور پر شاعر ہے اور آگے چل کر اس کے زیادہ چرچے بحیثیت شاعر ہی ہوا کریں گے۔ شاعر ماجد نے اپنے مستقبل کے محقق کی کئی مشکلیں آسان کر دی ہیں کہ بقلم خود اپنے حالات کا ایک اشاریہ پیش کر دیا ہے۔ سو بسم اللہ کیجئے اور ماجد صدیقی کی اس خانہ ساز سے بقدر شوق اپنے فکر و ادراک کو لذت آشنا کیجئے۔

راولپنڈی۔ 13دسمبر 77ء

ایک نہایت خطرناک شاعر از افضل احسن رندھاوا

ماجد صدیقی ایک نہایت خطرناک شاعر ہیں۔ ’’خطرناک‘‘ اس لئے کہ وہ اردو اور پنجابی اور جانے کون کون سی زبان میں شاعری کرتے ہیں۔ ’’نہایت‘‘ اس لئے کہ وہ شاعری کے علاوہ بھی بہت کچھ کرتے ہیں۔ بہت کچھ، میں میرا اشارہ ان کی سماجی مصروفیات کی طرف نہیں بلکہ ثقافتی کاروبار سے ہے۔ کاروبار میں مشاعرے کروانا، ادبی نشستیں منعقد کرنے کے لئے عوام کو اکسانا۔ شاعروں سے ان کی گمشدہ اور ادھر اُدھر کھوئی ہوئی نظمیں تلاش کروانا اور پھر انہیں کتابی صورت میں شائع کروانے پر اکسانا اور اس نوع کے دیگر کام شامل ہیں۔

’’دیگر کام‘‘ میں ایک نہایت خوبصورت شاعری کرنے والے کا قومی نظمیں لکھنا شامل ہے۔ اور یہ کتاب جس کے خلاف میں یہ سطور لکھ رہا ہوں، میرے دعووں کے آخری دعوے کی دلیل ہے۔

ماجد صدیقی کی ان نظموں کے بارے میں مجھے جناب فیض احمد فیض کی رائے سے پورا پورا اتفاق ہے۔ اور میری دعا ہے کہ یہ ’’نہایت خطرناک شاعر‘‘ سالوں کے سفید چکر اور موسموں کے تغیر و تبدل سے ماورا ہو کر اسی طرح ادب کی خدمت کرتا رہے۔ادب جو زندگی کا آئینہ ہوتا ہے

افضل احسن رندھاوا

اسلام آباد، 17اپریل، 1957ء

شاد باد منزل مراد دیباچہ از فیض احمد فیض

ماجد صدیقی صاحب ہمارے خوش فکر اور خوش گو شعراء میں سے ہیں۔ اردو اور پنجابی میں یکساں سلیقے اور سہولت سے لکھتے ہیں۔ ان کی غنائیہ منظومات کا ایک مجموعہ آغاز اب سے پہلے شائع ہو چکا ہے۔ اور ادبی حلقوں میں معروف ہے۔ اب آپ نے قومی نظموں کا یہ مجموعہ ترتیب دیا ہے۔ خلوص جذبات اور قدرت اظہار دونوں اعتبار سے یہ منظومات داد و تحسین کی مستحق ہیں۔

اسلام آباد ۔ 17اپریل 1957ء

عرصہ ء زبان بندی میں لب کشا۔ ۔ ۔ ماجد صدیقی از اختر عثمان

رسول حمزہ کا قول ہے کہ آدمی کو صرف دو موقعوں پر گھٹنے ٹیکنے چاہئیں۔ ایک چشمے سے پانی پیتے وقت اور دوسرے پھول توڑنے کے لئے۔ ماجد صدیقی اس کے بالکل برعکس بلکہ متضاد ہے۔ سروقامت یہ شخص اگر گھٹنے ٹیکے تب بھی کھڑے انسان کے برابر قدر رکھتا ہے اس کے لئے گھٹنے ٹیکنا بے سود ہے کہ وہ یوں بھی پھولوں اور پانی تک نہیں پہنچتا۔ ہاں ایسے موقعوں پر وہ لیٹ جایا کرتا ہے کیونکہ اسے پھولوں سے محبت ہے اور وہ ان کے ہم قدم نہیں رہنا چاہتا لہذا اسے گھٹنے ٹیکنے نہیں آتے ۔ رہا چشمے سے پانی پینے کا سوال تو صحرا میں ایڑیاں رگڑنے والا ماجد تلووں سے پھوٹنے والے آب زم زم کے بغیر کہاں سیر ہوتا ہے اس کی ایڑیاں گھِس گئی ہیں تلوے تار تار ہو چکے ہیں ماں پانی کی تلاش میں سبیل کوثر تک پہنچ گئی ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے مگر چشمہ نہیں پھوٹا، ظاہر ہے جہاں اس نے ایڑیاں رگڑیں وہاں یزید کی حکمرانی رہی ہو گی اور جانشیں شمر ہو گا سو ایسے حالات میں امیدِ آب بے معنی ہے ظالم سے رحم کی توقع عین کارِ گنا ہے ۔گزشتہ دہائی کے دوران وطن عزیز اسی عرصہ کرب و بلا میں مبتلا تھا اب کچھ دُھند چھٹی ہے پیاسا ماجد ابرِ مطیر کی امید لگائے اس صاحبِ زمین و زمانہ کی راہ دیکھتا ہے جس کی اوک سے دریا اذنِ روانی لیتا ہے جس کے لعاب سے قطرہ نیساں شرماتا ہے اور جس کا پسینہ اس کے چاہنے والوں کو اس کی سمت لے جاتا ہے۔ 

اُردو شاعری گزشتہ گیارہ برس میں اپنے مخصوص ہدف کی وجہ سے منزلیں مارتی کہاں سے کہاں آ گئی ہے نئے لہجے سامنے آئے مگر ہمہ گیر غزل گوئی اور شعر کی تہہ داری دونوں عنقا ہوئے۔ غزل بڑی کافر صنف ہے اولاً تو مزاج پر نہیں چڑھتی اور اگر طبع موزوں ہو تو ماجد کی غزل وجود میں آتی ہے ۔ فارسی سے اردو میں آنے والی اس صنفِ سخن میں موضوعات کے اعتبار سے کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں اس کی موجودہ وسعت سے کسے انکار ہے کہ دامانِ غزل تنگ نہیں ان گنت شعراء نے اسے اپنایا بعض نے تو اس کی ہیئت بدلنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی حتیٰ کہ آزاد غزل کہی جانے لگی ہے کچھ حضرات نے اس کی پاک دامنی کو میلی نگاہ سے دیکھا مگر ماجد ایسے شعراء کی محنت کے سبب غزل ابھی تک کنواری ہے اور بےداغ بھی۔ میں نے تہہ داری کی بات کی تھی ہر دور میں چند شعراء ہی ایسے ہوتے ہیں جن کا شعر عمومی سطح سے اوپر اٹھتا ہے بقیہ کے کلام میں سطح زیریں یا گہرائی تلاش کرنا اولے میں گٹھلی چھلکا ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ ماجد صدیقی وہ شاعر ہے جس کا شعر اپنے اندر ایک سے زیادہ پرتیں رکھتا ہے اور ا سی ہر تہہ نئے نئے معانی و مفاہیم کو جنم دیتی ہے۔ 

ماجد کے فکری و تخلیقی سفر میں افکار اور اسالیب بین بین چلتے ہیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یہ ایک دوسرے سے طے شدہ مناظر و حوادث کے جہاں امین ہیں وہاں آنے والے کل کے کہر آمیز موڑوں کے خدشات کے امکان سے بھی بخوبی واقف ہیں اس کے یہاں فکر کی ڈالیوں پر بیٹھے الفاظ کے طائرانِ خوش الحان جہاں سیاسی جبریت غیر میزانی رویّوں اور حقائق کی عارضی پسپائی کے خوشہ چیں نظر آتے ہیں تو بعینہٖ وہیں سنگین صداقتوں میں رچی شعری موسیقیت کا بھی بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ ابہام سے پاک اظہار۔ بات کو خوش اسلوبی سے قاری تک منتقل کرنا ہمارے بیشتر شعراء کا مسئلہ رہا ہے میرے خیال میں اس کی وجہ مبہم علامت اور غیر وابستہ تلازمہ ہے قاری یا تو علامت کو پوری طرح سمجھ نہیں پاتا یا وہ اس کی سمجھ سے کوئی آگے کی چیز ہوتی ہے نتیجہ یہ کہ نقاد اور قاری دونوں ابہام گوئی کا الزام شاعر کے سر تھوپ کر اپنا دامن بچا لیتے ہیں دراصل عام فہم علامت ہی شعر کی عمدہ ترسیل کا کام دیتی ہے اور سخن کی اٹھان میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ ماجد کی علامت نسبتاً آسان، واضح اور شعر کا مفہوم سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس نے محض الفاظ کی شعبدہ گری نہیں کی اور نہ ہی وہ دور کی کوڑی لایا ہے وہ استعاروں کے مہین پردے میں بات کرتا ہے جہاں ابلاغ دردِ سر نہیں رہتا۔ آج کے دور میں الفاظ کے متعین مفاہیم کس تیکھے اور نرالے انداز میں بولتے ہیں اس کی گواہی زیر نظر شعر سے بخوبی مل جاتی ہے۔ 

ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں 

نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے

عقاب کا بنیادی وصف اونچی پرواز اور دور بینی ہے مگر یہاں عقاب کا لفظ عصری شعور میں داغدار ہو کر منفی کردار کی علامت بن جاتا ہے اس کی پرواز دوسروں کے لئے استحصال اور دور بینی محض اپنی ذات کے گرد حصار کھینچ دینے پر منتج ہوتی ہے۔ 

وہ جب چاہے جیسا بھی چاہے ہو جائے

کس نے کس کی یوں ہوتی من مانی دیکھی

ماجد صدیقی کے ہاں احتجاجی رویوں کا سلسلہ خاصہ مزاحمتی، طویل اور عوامی شعور سے منسلک لسانی تشکیلات کے وسیع تناظر میں پھیلا ہوا ہے ساری جمہوری تاریخ اور اس کے خلاف ابھرنے والے ردّ عمل کو جب اپنی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے تو عوامی رویّوں کی ساخت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ممتاز انگریزی موسیقار ’’آٹو کلورائی‘‘ کہتا ہے کہ موسیقی سُن کر لطف اندوز ہونے والا شخص اگر اس کے فنی نکات سے آگاہ نہیں تو وہ اس سیاح کی مانند ہے جو چھٹیاں گزارنے کسی دوسرے ملک میں دورے پر جاتا ہے وہاں کے حسین مناظر سے لطف لیتا ہے وہاں کے باشندوں کی حرکات و سکنات دیکھتا ہے مگر ان کی زبان نہیں سمجھتا اور ان سے گفتگو نہیں کر سکتا۔ میرے خیال میں یہی حال شاعری کا ہے شاعر کو اپنے عہد کا نباض ہونا چاہئے یوں نہ ہو کہ وہ نیر و کی طرح لاتعلق بیٹھا رہے اور حالات کی آگ زور پکڑ لے، نیر و کا کردار تو غافل امیرِ شہر پر سجتا ہے، یہ کم از کم ایک شاعر کا وصف نہیں کہ آنکھوں کے سامنے ظلم اور جبر کی جیتی جاگتی تصویریں دیکھ کر ٹس سے مس نہ ہو، ہر مستقبل حال ہو کر ماضی ہو جاتا ہے شاعر جب مستقبل پر گرفت مضبوط رکھے تو پھر ازمنہ کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے اور شاعری ایک مخصوص مدت تک محدود نہیں رہتی غالب کی شاعری کی بڑی وجہ زمان و مکان کی قید سے آزادی ہے یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے ماجد کی غزل ارتقا پذیر ہوتی ہے اس کے ہاں جبر کی نفی اور ستم سے درماندگی دکھائی دیتی ہے۔ 

کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید

سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے

یہاں سمندر سخاوت یا دریا دلی جیسے روایتی معنوں میں نہیں آیا بلکہ ظلم کا استعارہ جاگیرداری کا سمبل ہے سمندر سے مراد وہ مخصوص طبقہ بھی لیا جا سکتا ہے جو غریبوں کا استحصال کرتا ہے اور ان کی حق تلفی بھی۔ جھاگ اندر کا ارتعاش ہے جو ڈوبنے والے کمزور طبقے کے احتجاج کی صورت میں سطحِ آب پر ابھرتا ہے ۔ مزاحمت ہر دور میں شاعری کا اہم موضوع رہا ہے خواہ وہ یزید کی ہو یا فرعون کی، نمرود کی ہو یا شداد کی، حبس خواہوں کی ہو یا حبس پناہوں کی، شاعر کا فرضِ اوّلین ہے کہ وہ ظلم، جبر اور تشدد کے خلاف قلمی جہاد کرے خواہ اس کا انجام افریقی شاعر پنجمن ماؤزے ایسا ہی کیوں نہ ہو۔ ماجد صدیقی مزاحمتی ادب کا نام لے کر تمغے اور عہدے حاصل کرنے والوں کی فہرست میں نہیں آتا اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں کہ وہ اپنے کہے اور کئے دونوں سے پھر جائے ذرا جابر اور جبر کی مذمت کے حوالے سے چند شعر ملاحظہ کیجئے۔ 

نہیں ستم سے تعاون کا ارتکاب کیا

بکے نہیں ہیں، عقیدہ نہیں خراب کیا

وہ اپنے آپ کو کیوں عقلِ کُل سمجھتا تھا

فنا کا راستہ خود اس نے انتخاب کیا

شر سلیقے سے سجا، ایسا نہ رحل خیر پر

جیسی اب ہیں ظلم کی دلداریاں ایسی نہ تھیں 

جب کبھی ان سے اُجالوں کی ضمانت چاہی

کرگئے اور سیہ روز یہ افلاک مجھے

ناحلف لوگوں پر جب سے پھول برسائے گئے

شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اگنے لگیں 

وطنِ عزیز میں غیر ملکی مداخلت پر ایک شعر دیکھئے:

بھنک ملی ہے کہاں سے انہیں ضیافت کی

عجیب زاغ ہیں جو، بام و در پہ اترے ہیں 

اگرچہ شعر کے دوسرے مصرعے میں گنجائش موجود تھی کہ ’’ہیں جو‘‘ کی بجائے ’’مرے‘‘ کا لفظ درست بیٹھتا تھا اور بام و در کے ساتھ شاعر کا تعلق بھی واضح کرتا مگر پھر بھی ابلاغ میں دشواری نہیں ہوتی۔ 

دیکھ کر قصر میں کوٹھوں سی سیاست، خود کو

میں کہ پختہ تھا، عقیدے کا بہت خام لگا

زرد دوپہر تُندیٔ موسم اور ساکن سورج ماجد کے وہ استعارے ہیں جو مارشل لاء کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ شہیدِ جمہوریت اور قائدِ عوام کے لئے ایک شعر دیکھئے

سروں نے کھنچ کے بدن سے کہا بنام وطن

کوئی فراز نہیں ہے فرازِ دار کے بعد

مسلسل ناانصافیوں کا شکار ماجد ان لوگوں میں سے ہے جو زانی پر پہلا پتھر پھینکنے میں پیش پیش رہے یہ عین کار ثواب ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسا کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور پھر مارشل لائی حکومت یہ تعداد بھی مختلف طریقوں سے کم کر دیتی ہے ہمارے ناخداؤں اور رہنماؤں کی غلط سمت نمائی نے ہمیں برباد کر دیا ہے اور ہم معاشی اور اقتصادی دوڑ میں دوسری قوموں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ؎

کشتی اک ملاح کے رحم و کرم پر ہو

یہ بھی ہے اک، قہر خدا کے قہروں میں 

ریاست اور رعایا جب ایک دوسرے کے وجود کو قبول کر کے حقوق و فرائض کی مقدس دستاویز کو اپنے درمیان رکھ کر باہمی اعتماد کے سہارے آگے بڑھتے ہیں تو اکثر قوموں کی راہ میں ہر دور میں غیر جمہوری کوہ گراں ضرور آ کھڑا ہوتا ہے ایک دانا کا قول ہے کہ بُری ریاست کے شہری بھی بُرائیوں کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں چہ جائیکہ وہ خوفناک حد تک جاہل اور ظالمانہ حد تک مصلحت کوش نہ ہوں۔ ؎

یہ خلقِ شہر کو کس روگ نے علیل کیا

کہ ہر نظر میں کدورت ہے سو کنوں جیسی

جب زیست کا مقصد واضح نہ ہو عمومی اذہان مقامی محدودیت میں جکڑ دیئے جائیں تو مذکورہ بالا شعر کی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ شعری وسیلے سے زمانی و مکانی وسعت کی کئی سمتوں کا تعین ہر فن پارے کا ایک بنیادی وصف قرار پاتا ہے ہر لمحہ ہر پل متغیر زندگی، اقدار، نفوس کے کردار ماجد صدیقی کے شعری پیکر میں ڈھل کر اپنے خدوخال نہ صرف واضح کرتے ہیں بلکہ سلسلہ در سلسلہ، تہہ در تہہ فکری سطحوں کو بھی سامنے لاتے ہیں سماجی انصاف، آزادیٔ اظہار، تحفظِ ذات اور تحصیلِ ذات جیسی تراکیب ہمیں زیادہ با معنی، فعال اور متحرک، دکھائی دینے لگتی ہیں یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اکثر نقادوں کے خیال میں لمحاتی تخلیقی عمل یا عصری شعور سے مزیّن فن پارے جو گھٹن جبر اور احتساب کے طرز عمل کے طور پر منصہ شہود میں آتے ہیں کم عمر ہی جیا کرتے ہیں اور جبر کے بادل چھٹتے ہی ان میں جذبوں کی حدت اور خیال کی شدت کم ہو جاتی ہے میرے خیال میں ایسا نہیں ممکن ہے کسی ایک خطۂ زمیں کی حد تک یہ بات کسی طور ’’شاید‘‘ درست ہو مگر جب ہم اپنی تخلیقات کا بنیادی موضوع انسان اور اس کے حقوق کو بناتے ہیں تو ہمارے اہداف صرف ایک قطعہ زمیں تک محدود نہیں رہتے پورے کرۂ ارض پر کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی روپ میں یہ جبر اور گھٹن کسی نہ کسی خطے کو دبوچے ضرور نظر آتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کسی فنکار کا فن زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہونے کی سعی کرتا ہے اس کی تخلیقات دوسرے بطور حوالہ پیش کرتے ہیں سچائی کے لئے زہر کا پیالہ پینے والا، ہر دور، ہر معاشرے کے فنکاروں کے مسعی و بصری علم کا حوالہ رہا ہے اور بنا رہے گا۔ کرب کی بات تو یہ ہے کہ تیسری دُنیا کا جو مقدر بنا دیا گیا ہے اس کے اکثر ادباء و شعراء روز بہ روز ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں ان کی جدوجہد اور تجربات کے نتائج یکساں نوعیت کے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے آج کے ادب میں پبلو نرودا، محمود درویش اور نجیب محفوظ اجنبی نام نہیں رہے بات ذرا پھیل گئی ہے مگر شعری صداقتوں کے حصول کے لئے کچھ مخصوص زمانی و مکانی وسعتوں کی نشاندہی کرنا لازمی ہے ماجد کا شعر اسی تناظر میں معنی آفرینی کا نیا ذائقہ دیتا ہے ؎

زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے

خدا بھی دور ہی ہے دیکھتا ہے 

صید تخریب ہوا میں، تو ہوا عدل یہی

پرسش شاہ کا اعزاز مرے نام لگا

گو دوسرا شعر موضوع کے اعتبار سے نیا نہیں لیکن ماجد صدیقی نے اس کو اپنے انداز میں کہا ہے اور ایک سلیقگی واضح طور پر شاعری کی روایت پسندی کا پتہ دیتی ہے اس مضمون کو افتخار عارف نے جو آج کل لندن میں ہے اس طرح باندھا ہے ؎

اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا

اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

؎ ’’زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے‘‘ والے شعر میں، زندگی اور خدا کی تثلیث انسان کی بیگانگیٔ ذات کے حصول کا مظہر ہے یاسیت و بے بسی جس سادگی اور پرکاری سے عود کر آئی ہے انتہا درجہ کا بے ساختہ پن لئے ہوئے ہے کیا آپ حسین و مہین تتلیوں کے پروں کی صدا سے اٹھنے والی موسیقی سننا چاہتے ہیں ضرور سنئے۔ 

پہنچا ہے جو تتلی تتلی پھولوں تک

راحت کے سارے سامان اسی کے ہیں 

بوجھل تراکیب اور الفاظ کی گھمبیر تا سے آزاد ماجد کے شعر قاری کو ایک دم اپنی گرفت میں لیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ معصوم تتلیوں کا کردار الفاظ کی اوٹ میں چھپے خوفناک منظر کو دیکھتے اور، محسوس کرتے ہی ٹڈی دل کے زناٹے اور پروں کی آواز میں ڈھل جاتا ہے جو ہر چیز کو چاٹ کر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جاتا ہے لہجے کی روانی شاعر کا اہم حوالہ ہوا کرتی ہے ماجد صدیقی کا شعر پڑھ کے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پہاڑی چشمہ اپنے جلو میں جڑی بوٹیوں کی خوشبو لئے رواں دواں ہو ایک دو شعر ملاحظہ ہوں ؎

ژالے، سیل، بگولے، بارش شور مچاتی تند ہوا

لمبی ہے فہرست بڑی اس گلشن کے آزاروں کی

چیت چیت اک جیسی، کلفتوں کا ساماں ہے

خود بھی تنگ داماں ہوں، گھر بھی تنگ داماں ہے

محرومی کے اظہار کا ایک بالکل نیا انداز دیکھئے کہ شاعر کی پونجی تمنائیں اور خواب ہوا کرتے ہیں ڈوبنے والوں کو ڈوبتا دیکھ کر ساحل سے تماشا کر نا ماجد کے بس کا روگ نہیں۔ بقول سیف علی:

؎ نہ ہوا مجھ سے میں یہ کر نہ سکا

ہاں تو شعر سنئے:

؎ رسّیاں ان کے لئے جیسے فلک بھیجے کا

ہاتھ لہراتے رہے ڈوبنے والے کیا کیا

ماجد اپنے منصب اور حقوق کی پائمالی پر چپکا نہیں رہتا تب الفاظ کی ایک اور مالا چھنا کے سے ٹوٹتی ہے۔ 

مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجد کہ میں 

ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں 

حق طلبی کے شعور اور دوسروں کے ساتھ آزادی کے ہمہ گیر جذبے کی وجدانی کیفیت سے الگ کیسے رہا جاسکتا ہے یہ سفر اکائی سے بڑھ کر اجتماعیت کی جانب بڑھتا ہے اور لب و لہجے کا تیقن ایک نئے لہجے کو جنم دیتا ہے۔ 

کیوں سمت بڑھاتے ہو مری برف سے لمحے

موسم مرے جذبوں کے ٹھٹھرنے کا نہیں ہے

جبر کے خاتمے کا یقین کامل اور آزمائش میں ثابت قدمی کی مثال شاعر کے اس شعر سے بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔ 

بہت دنوں میں کنارا، پھٹا ہے جوہڑ کا

زمیں نے خود ہی تعفن کا احتساب کیا

یا

کہیں وہ، تقاضا یہی ہے وفا کا

بدن تیغ کی دھار پر بھی نہ ڈولے

میں نے اپنی سی کوشش کی ہے کہ ماجد صدیقی کے فنی پہلو، اسلوب اور ندرت خیال کے خدوحال اُجاگر کروں تاکہ قارئین پر اس کے جوہر کھلیں کیونکہ میرے نزدیک قاری ہی سب سے بڑا نقاد اور رائے زن ہوتا ہے۔ 

مجھے یقین ہے کہ تیرگی اور ظلمت کی کوکھ سے آفتاب کی امید رکھنے والا ماجد اپنی غزل کو یونہی خون جگر دے کر پھیلاتا رہے گا کہ شاعر کا ہنر ارتقاء کی نئی منزلیں طے کرتا جاتا ہے جبھی بڑا ادب وجود میں آتا ہے۔

 

گھنے اور گہرے مشاہدات کا منظر نامہ از عبد الغفور شاہ قاسم

معاصر دنیا بڑی پیچیدہ اور تیز رفتار تبدیلیوں کی زد میں ہے۔ فکری فلسفیانہ اور عملی بنیادوں پر حرکت و تغیر اور ارتقا کی رفتار ہوش رہا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ شاعری ہمیشہ سے تہذیب کے ارتقائی سفر اور ارتقائی مدو جزر کی سب سے قابل اعتماد داستان رہی ہے اور انسانی محسوسات کی تاریخ مرتب کرنے میں پیش پیش ہے۔ 

کہا جاتا ہے کہ شاعر کی ایک آنکھ باہر کی طرف اور دوسری اس کے داخل پر مرکوز ہوتی ہے اور یہ کہ ہر شاعری کا اپنا اپنا ڈزنی لینڈ ہوتا ہے۔ یہی صورت ماجد صدیقی کی بھی ہے۔ اس کی شعری کائنات میں بھی بہت سی جہتیں سمتیں اور ابعاد دریافت کئے جا سکتے ہیں۔ مگر مجھے اس وقت ماجد صدیقی کی شاعری میں فکر جدید کے خدوخال اور زاویوں کو کسی قدر اختصار سے اجاگر کرنا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے ہ مجھے ان کی شاعری کا ایک وقیع حصہ جدید فکریات کے گھنے اور گہرے مشاہدات کا منظر نامہ تشکیل دیتا دکھائی دیتا ہے۔ ان کی شاعری اپنا ایک مخصوص جغرافیہ رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں وہ تمام تر گمبھیرتا موجود ہے جسے آشوب عصر کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں ماورائیت سے زیادہ ارضیت ہے۔ ایک ایسی ارضیت اور مقامیت جس میں آفاقیت کے گہرے نقوش گھلے ہوئے ہیں ان کا شعر محض عارض و کاکل کی سرحدوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ سلگتے ہوئے انسانی مسائل کا برجستہ اور بے ساختہ اظہار ہے۔ ان کی شاعری فکر امروز و فردا سے عبارت ہے۔ اور محسوسات سے معنویت کی جانب ایک پُر عزم سفر کی عمدہ اور خوبصورت مثال ناقص غذاؤں آلودہ فضاؤں جعلی دواؤں اور بے خلوص دعاؤں کی رداؤں میں ملبوس ہماری معاشرت نے گلوں سے مہک اور تتلیوں سے رنگ چھین لئے ہیں۔ کتنی ہی نادیدہ آستینوں سے جھانکتے ہوئے خنجر ہماری سیاسی اور معاش آزادیوں کی گھات میں ہیں۔ ایک طویل عرصے سے ہم ایک مخصوص سیاسی کلچر کی بند گلیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں۔ ہمیں اتنے قومی اور تہذیبی آشوب درپیش ہیں جنہیں بیان کریں تو الفاظ تک پگھل جائیں۔ ہماری اجتماعی۔ ۔ ۔ سائیکی پر ناکام اور تشنہ لب آرزوؤں کے گہرے اور لاعلاج گھاؤ مرتسم ہو چکے ہیں۔ اور ماجد صدیقی بھی اسی بد نصیب اور بے سمت قوم کا ایک جیتا جاگتا فرد ہے۔ اس نے اس گمبھیر المیے کی زہر ناکیوں کو اپنی تخلیقی شخصیت کی رگ رگ میں اتار لیا ہے۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ اس المیے کو حیرت ناک حد تک اپنی شعری بوطیقا کا ناگزیر حصہ بنانے میں کامیاب بھی رہا ہے۔ عظمت آدم کی تضحیک معاشی اور سیاسی حبس بالغ النظر سیاسی قیادتوں کا فقدان۔ سو بہ سو بدعنوانیوں کے دہکتے ہوئے دوزخ سپر پاورز کے استحصالی حربے اور مجموعی قومی بے حمیتی اور بے حسی ماجد صدیقی کے بنیادی تخلیقی محرکات قرار دئے جا سکتے ہیں۔ 

بیسویں صدی اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ اور اکیسویں صدی ہماری دہلیز پر کھڑی ہے۔ لیکن تیسری دنیا کے عوام ابھی تک اپنا تشخص تک متعین نہیں کرا سکے۔ ماجد صدیقی اس منطقے کے المیے سے بھی غیر آگاہ نہیں ہے لہذا جب وہ اس خطے کے مظلوم اور مقہور عوام کی محرومیوں کا تذکرہ گا ہے طنزیہ اور گاہے استعاراتی انداز میں کرنے پر آتا ہے۔ تو اس کا قلم مصور کا موقلم بن جاتا ہے۔ 

ماجد کی شاعری کے دوسرے کچھ رنگ بھی ملاحظہ فرمائیے۔ 

نہیں ہے شرط قحط آب ہی کچھ
بھنور خود عرصہ کرب و بلا ہے
جس بازار میں جاؤں دوں میں نرخ سے بالا دام
کم اپنے اوزان میں نکلیں ہر تکڑی کے باٹ
ماجد شہر میں ہر سو جیسے سب اچھا تھا
جس کو دیکھا سرکاری اخبار لگا ہے
کانوں میں پھنکار سی اک پہنچی ہے کہیں سے
چڑیوں پر پھر شاید سانپ کہیں جھپٹا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
محوِ خوابِ استراحت شہر کا والی رہے
رات بھر اندیشۂ دُزداں سے میں کھانسا کروں
میں کہ تنہائی میں تھا بے در حویلی کی طرح
بند کمرہ سا بنا بیٹھا ہوں اب احباب میں
بیٹھئے بھی تو سخن نا آشنا لوگوں کے پاس
گوش و لب گھر سے نکلتے ہی کہیں رکھ جائیے
ردی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کو بہ کو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ممنوع جب سے آب فرات نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بیت گلستاں کی آل پر
ہر شخص رہنما ہے کسے رہنما کریں 
صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں
لاش دبانے میں تو رہے محتاط بہت
رہزن آلہ قتل اٹھانا بھول گئے

ماجد صدیقی کی محاکاتی شاعری از علی مطہر اشعر

ہم غیر محسوس طریقے سے عجز اظہار کے سلسلے میں ایک مختصر سا جملہ کہہ کر اپنی بے مائیگی کا اعتراف کر لیتے ہیں کہ صاحب ’’میں جو کچھ محسوس کرتا ہوں اسے الفاظ کے توسط سے بیان نہیں کر سکتا‘‘ اگرچہ آداب گفتگو میں یہ روایت بہت پرانی ہو چکی ہے لیکن یہ صرف رسمی کلمات ہی نہیں ہیں بلکہ ایسا ہونا نا گزیر ہے اور ایسا واقعی ہوتا بھی ہے اظہار کے سفر میں لفظوں کے سلسلے نہایت محدود اور مسدود ہیں۔ وہ زبانیں بھی جو صدیوں سے معروف ہیں اور ارتقا کا طویل عرصہ گذار چکی ہیں انسان کی وضاحتوں میں بے دست و پا نظر آتی ہیں۔ اس سائنسی دور میں اس مجبوری کا اعتراف مسلسل کیا جاتا رہا ہے کہ انسان جو کچھ محسوس کرتا ہے اس کا عشر عشیر بھی الفاظ کے توسط سے نہیں کہہ پاتا۔ وہ اضطراب کے معنی تو جانتا ہے مگر اس کی تفسیر اور تفصیل سے قاصر ہے وہ اپنے رگ و بے میں سرایت کرتے ہوئے خوف اور سراسیمگی کو ہمہ وقت محسوس تو کرتا ہے مگر اس کیفیت کو وضاحتی تکلم نہیں دے پاتا۔ انسان کے جسم پر تمام اعضا کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے ان کے افعال و اعمال بالکل واضح ہوتے ہیں مگر وہ محرکات جن کا تعلق گوشت پوست کی تجسیمی صورت سے نہیں ہوتا یا وہ تہ در تہ محروم وضاحت خواہش حسرتیں اور ملامتیں جو لب گفتار کی گرفت سے ماورا ہیں سمجھنے یا کم از کم معرض بحث میں لانے کے لئے شعور، لاشعور اور تحت الشعور کی اصطلاحیں وضع کر لی گئی ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ انسانی ضمائران محصور و پابند احساسات کو جو ناقابل فہم اور ناقابل بیان قرار دیئے جا سکتے ہیں مسلسل سوچتے رہنے یا خواب کی صورت میں مکمل کرنے کی کوشش میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ انسان اپنی شعوری کیفیت کے اظہار کے لئے مروجہ زبانوں کے ذریعے وضاحت کے کچھ نہ کچھ امکانات تو مہیا کر لیتا ہے مگر شخصیت کا مکمل اظہار کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے۔ 

لبوں کے افق پر دمکتا ہوا کوئی سورج اگاؤ
رگوں میں مچلتی تمازت کبھی تو زباں پر بھی لاؤ
ہواؤں میں اپنی مہک کب تلک یوں بکھرنے نہ دو گے
حجاب اس طرح کے ہیں جتنے بھی وہ درمیاں سے ہٹاؤ

بالمشافہ گفتگو کے لئے تو لفظوں کے ساتھ چہرے کے تاثرات چشم و ابرو کی جنبشیں، لہجے کی ساخت اور ہاتھوں کے زاویئے متکلم کی داخلی وضاحت میں کسی حد تک ممدو معاون ہو سکتے ہیں اور وہ بایں طریق اپنی داخلی کیفیات نسبتاً قدرے بہتر انداز میں اپنے سامعین تک پہنچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے مگر جب اظہار کے ذرائع صرف قرطاس و قلم تک محدود ہو جائیں تو دستیاب ذخیرۂ الفاظ بمشکل ابلاغ کا مسئلہ حل کر پاتا ہے۔ 

بہت سینچ بیٹھے ہو ماجد غزل کو نم درد جاں سے
اگر ہو سکے تو ذرا اس میں من کے تقاضے بھی لاؤ

حسرت اظہار کا المیہ دوران خون کو کانٹوں سے بھرتا رہتا ہے اور یہ کانٹے لمحہ بہ لمحہ دل کو چھو کر گذرتے رہتے ہیں اس کربناک کیفیت میں لب بار بار کھلتے ہیں جیسے کوئی پیاس سے جاں بہ لب پرندہ متواتر منہ کھولتا ہے اور بند کرتا ہے لیکن بے صدا، بے نوا

یہ بھید وسعت صحرا میں ہم پہ جا کہ کھلا
کہ شہر درد میں ہم بے زباں کیا کیا تھے

انسان بھی اپنے وجود کی بے کرانی کے حوالے سے ایک ایسی کائنات ہے جس کی پہنائیوں میں بے شمار جہتیں ابھی شرمندہ دریافت نہیں ہو سکتیں۔ بے شمار خیالات ہیں جن کی معنوی تجسیم کے لئے موزوں اور مناسب الفاظ دریافت نہیں ہو سکے اگر کچھ الفاظ موزوں دستیاب ہو بھی جائیں تو نزاکت احساس اس پیراہن کو قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔ 

کبھی اشکوں، کبھی حرفوں میں از خود ڈھلنے لگتے ہیں 
لئے پھرتی ہے ماجد آبلے، اپنی زباں کیا کیا

اور یہی حرفوں میں ڈھلتے ہوئے آبلے لفظوں اور پھر بتدریج جملوں کو ترتیب دیتے رہتے ہیں اور کلام و گفتار کی راہیں کشادہ ہوتی رہتی ہیں۔ ویسے بھی اگر زندگی کے متعدد شعبوں کے ارتقائی عمل کو انسانی تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ تدریجی مراحل میں زبان کے ارتقاء کو اولیت حاصل رہی ہے اور پھر کہیں دوسرے شعبہ ہائے زیست کی ارتقاء کے دورا ہوئے ہیں یوں کہا جاوے تو مناسب ہو گا کہ لسانیات کا علم وہ سائنس ہے جس پر زندگی کی ہمہ جہت ترقی کا انحصار ہ نئے لفظوں کی جستجو درحقیقت تشنگیٔ اظہار کو کم سے کم کرنے کی ایک شعوری کوشش ہے جو تہذیب و تمدن کے آغاز سے تا ہنوز جاری ہے۔ 

بہرحال یہ تو ایک تمہیدی گفتگو تھی جو اس لئے بھی ناگزیر تھی کہ ماجد صدیقی کے مجموعے ’’غزل سرا‘‘ میں زبان کو وسعت دینے کی وہ شعوری کوشش جس نے ان کے لئے وضاحتی مواقع فراہم کئے بدرجہ اتم کارفرما نظر آتی ہے استعداد گفتگو میں توسیع کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صرف نئے لفظ ایجاد کئے جائیں بلکہ زبان کے استعمال کی مروجہ تکنیک میں قدرے تبدیلی بھی بہتر نتائج مرتب کر سکتی ہے اور یہ کوشش ماجد صدیقی کے یہاں نقطۂ عروج پر نظر آتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کاوش ابتداء میں ادبی حلقوں سے تائید مزید حاصل نہیں کر پاتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ نہ صرف اسے گوارا کر لیتے ہیں بلکہ خود بھی اس انداز کو ذریعۂ اظہار بنا لیتے ہیں جب ہم غالب کو ان کے ہم عصر شعراء کے ہجوم میں دیکھتے ہیں تو وہ بھی ناوک ہائے نیم کش سے مضطرب دکھائی دیتے ہیں لیکن کچھ عرصے کے بعد معترضین بھی بزبان غالب اعتراف پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ 

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

فی الحال میرا مدعا مجموعی کلام پر اظہار خیال نہیں ہے۔ میں ماجد صدیقی کے محاکاتی اشعار پر اپنی علمی استعداد کے مطابق گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ دریدہ حال و شکستہ دل لوگوں کے درمیان زندگی گذارتا ایک ایسا المیہ ہے جس نے ہماری ادبی سمت کا تعین کیا ہے۔ 

علی الاعلان حق میں بولتا ہے جونحیفوں کے
اسے مردود کہیئے شہر میں وہ معتبر کب ہے

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے اب تک جو معاشی، سیاسی اور معاشرتی صورت حال اور کیفیت نمایاں رہی ہے اور جو مسائل ایک عام آدمی کو درپیش رہے ہیں وہی ہماری عصری شاعری کے موضوعات ہیں مگر پابندی گفتار نے اہل دانش کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر آمادہ رکھا تاہم اس مجبوری نے اظہار کے نت نئے طریقے بھی وضع کئے اور شاعری کے حسن میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا۔ 

ملا ہے فیضان یہ خداؤں کی برتری کا
کہ طوق ڈالا ہے میری گردن میں بندگی کا
یہاں ہے جو بھی شہ وقت سوچتا ہے یہی
نہیں ہے اس کا تہ آسماں کوئی ثانی
ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے، کہ
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹھکا ہے

ان دو مصرعوں کے پسِ منظر میں جبرِ مسلسل کی وہ طویل داستان ہے جس کا میں نے مندرجہ بالا سطور میں تذکرہ کیا ہے بقول ظہیر رام پوری مرحوم۔ 

پہرے ہیں خیالات پہ تالے ہیں لبوں پر
کہنے کو مرے پاؤں میں زنجیر نہیں ہے

ایک ایسا شخص جس کا شعر و ادب کی دنیا سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا پتھر کو پتھر، پھول کو پھول اور خار کو صرف خار ہی سمجھتا ہے، وہ اشیا کے تمثیلی پہلو اور لفظوں کے استعاراتی مفہوم سے کوئی فکری رابطہ نہیں رکھتا اس کے برعکس الفاظ کو ان کے تمثیلی مفاہیم دینا ایک شاعر کے لئے ہمیشہ ناگزیر رہا ہے وہ اپنی اس گفتگو کو جو اپنی اصل ہیئت میں غیر مؤثر بھی ہو سکتی ہے استعاراتی انداز میں انتہائی موثر بنا کر پیش کرتا ہے۔ 

ٹہنی عاق کرے خود اس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے

سقوط مشرقی پاکستان کے سلسلے میں محرک عوامل جن کا تعلق وفاق پاکستان کے منفی رویوں کے ردِّ عمل سے تھا کتنی تفصیل کے ساتھ محسوس کرائے گئے ہیں۔ 

کہنے کی ہیں باتیں ساری
زخم رگ جاں کب بھرتا ہے

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس سانحے کا اثر زائل کر چکے ہیں یا ہم نے جبر و کرب کی کیفیت کو صبر و شکر کے ساتھ قبول کر لیا ہے مگر پاکستان کے دو لخت ہونے کا عبرتناک واقعہ ہمارے مستقبل کے سینے پر رستا ہوا وہ ناسور ہے جس کا بہتا ہوا مواد کبھی ہماری اجتماعی اور قومی زندگی کو صحت مندی کے تاثر سے بہرہ مند نہیں ہونے دیگا۔ 

کہا تو یہی جاتا رہا ہے کہ ہم جمہوریت پسند ہیں، آزادی اظہار ہمارا مسلک ہے، انسانی مساوات و اخوت اور اعلیٰ انسانی اقدار کی تبلیغ و تشہیر ہمارا نصب العین ہے مگر تاریخی شواہد اس دعوے کی نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، بات کرنا کل بھی مشکل تھا اور آج بھی محال ہے۔ یہی وہ صورت حال تھی اور ہنوز ہے جس نے ہمارے شعرا کو علامتوں، استعاروں اور تلمیحات کے استعمال کی ترغیب دی، اس کے باوجود کہ حالات آج بھی نامساعد ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی پھر بھی ہمارے شعری ادب میں رجائیت کا عنصر نمایاں ہے۔ ماجد صدیقی کی مجموعی شاعری میں اگرچہ رثائیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے تاہم وہ مایوس نہیں ہیں۔ ان کے کلام میں حوصلہ بھی ہے امید بھی ہے اور متحارب حالت سے مردانہ وار مقابلے کی جرأت بھی:

وقت کے جلترنگ سے نہ ڈرو
اس کو یہ ساز اب بجانے دو
جن پہ سورج کبھی نہیں ابھرا
وہ افق اب کے جگمگانے دو

وہ خوشگوار اور امید افزا قیاسات کو بھی اپنی جگہ اہم سمجھتے ہیں :

یہ اعادہ ہی بچپنے کا سہی
کچھ گھروندے مگر بنانے دو

میں نے پہلی بھی سلسلۂ گفتگو میں عرض کیا تھا اور ایک بار مزید عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ ہمارے اردگرد پھیلے ہوئے مسائل کسی محدود عرصے کے پیدا کردہ نہیں ہیں بلکہ ان کی پرورش اور پرداخت مسلسل بیالیس برسوں میں ہوتی رہی ہے۔ تحریکِ پاکستان کے پس منظر میں ایسے کردار واضح طور پر نظر آتے ہیں جو عہدِ برطانیہ میں بھی مراعات یافتہ تھے اور آزادی کے بعد بھی ان کی بالا دستی قائم رہی، طاقت ان کے زیر نگیں رہی جو صرف اپنا تحفظ چاہتے تھے، جاگیر داری، سرمایہ داری اور مفاد پرستی کو مسلسل تقویت ملتی رہی، جمہوریت کی داغ بیل ڈالنے کی بجائے اس مراعات یافتہ طبقے نے ملوکیت سے مشابہ نظام کو پروان چڑھایا۔ ایسی صورت حال میں جو ادب بھی تخلیق ہوا اس پر محرومی اور مدافعتی انداز کا غلبہ رہا۔ ماجد صدیقی بھی اسی پر آشوب دور کا شاعر ہے اور اس کا بیشتر کلام اسی کربناک احساس کا مظہر ہے اس کی غزلوں میں متاسفانہ کیفیت کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے مگر قوی امید اور بہتری کی توقع کے ساتھ۔ ۔ ۔ ملاحظہ فرمائیے:

تندیٔ باد وہی، گرد کی یلغار وہی
موسم گل میں بھی پت جھڑ کے ہیں آثار وہی
عدل کے نام پہ ہم سے تھی جو نُچوائی گئی
فرقِ نا اہل پہ اب کے بھی ہے دستار وہی

تندیٔ باد، گرد کی یلغار، پت جھڑ، عدل کے نام پہ اور فرق نااہل ایسے وقیع استعارے ہیں جن کے پس منظر میں ایسی تلخ حقیقتیں مخفی ہیں جو خوابوں کے شرمندۂ تعبیر نہ ہونے سے ہویدا ہوئی ہیں اور جنہیں ادب کے قاری داستان در داستان محسوس کر سکتے ہیں اسی غزل کے دو شعراء ملاحظہ فرمائیے:

اب بھی اِک حد سے پرے شوق کے پر جلتے ہیں
عجزِ سائل ہے وہی شوکتِ دربار وہی
اب بھی چہروں سے غمِ دل نہیں کُھلتا ماجد
اب بھی پندار کو ہے کلفتِ اظہار وہی

آپ نظریاتی عصبیت کے زیر اثر کسی بھی وقت کو جبر و استبداد کے عرصے سے موسوم کر سکتے ہیں مگر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک خداداد میں روزِ اول سے تاہنوز زبانی بات کرنے کو ترستی رہی ہیں۔ اس کیفیت کو ماجد صدیقی سے سنئے:

خموشیاں ہیں، سیہ پوشیاں ہیں ہر جانب
بہار ہے کہ یہ عشرہ ہے کوئی، ماتم کا

تہذیب و تمدن کے آغاز سے تا امروز اگر آپ تاریخ کی صداقتوں کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو ہر دور کی تاریخ کے ساتھ اس وقت کے عصری ادب اور بالخصوص شعری دستاویز کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔ اس طرح آپ پر واضح ہو جائے گا کہ تاریخیں لکھی نہیں گئیں لکھوائی گئی ہیں۔ ہر دور کے جابروں، آمروں اور مطلق العنان بادشاہوں نے مؤرخین کو مجبور کیا ہے کہ وہ ان کے عرصۂ اقتدار کو سنہرا دور قرار دیں، غالباً اسی وجہ سے صعوبت خانوں اور صلیب و دار کے واقعات پر تو سرسری گفتگو کی گئی ہے مگر سخاوتِ شاہی کے فرضی قصائص بڑی تفصیل کے ساتھ مرقوم ہیں اس کے برعکس ادبی لوگ منافقانہ روئیے سے زیادہ تر محفوظ رہے ہیں، شاعروں کی بڑی تعداد نے کسی دور میں بھی اس روش کو شعار نہیں بنایا شاید اس لئے کہ ’’شاعری سچ بولتی ہے‘‘ بہرحال حق گوئی کے جان لیوا مرحلوں سے گزرنا ہر کسی کے لئے ممکن نہیں بھی ہے۔ اناالحق سوچنا بہت آسان ہے مگر اناالحق کہنا بہت مشکل ہے دریا کی پوری توانائی کے مقابلے میں صداقت کی ایک موج کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے یہ ماجد صدیقی سے پوچھئے:

دیکھنا ماجد دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
بارش سنگ سے دوچار تھا انسان کل بھی
کم نہیں آج بھی زندوں کو جلانے والے
دیکھ کے چابک راکب کا چل پڑنے سے
مرکب میں کب تاب کہ وہ انکار کرے

شاعر یا ادیب صرف مفہوم پسند ہی نہیں ہوتا بلکہ نُدرتِ کلام، صحتِ لفط و معنی، تاثیر نغمگی اور سلیقہ اظہار کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ جدید ادب کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ قدیم روایات سے رشتہ منقطع کر لیا جائے روایات کو نئے زاویہ ہائے فکر و نظر کے دوش بدوش آگے بڑھانے کی مثبت کاوشوں کو بھی ’’جدت‘‘ سے موسوم کیا جا سکتا ہے ماجد صدیقی کی فکری کاوشوں میں یہ سعی بلیغ نہایت حسن و اہتمام کے ساتھ پائی جاتی ہے ان کی شاعری میں نہ تو روایات سے انحراف ہے نہ جدت سے گریز۔ ان کی تخلیقات میں قدیم اسلوب کا رچاؤ بھی ہے اور وقت کے اہم تقاضوں کا شعور بھی۔ 

یار کے قرب کی تاثیر لئے پھرتے ہیں 
ابکے جھونکے نئی زنجیر لئے پھرتے ہیں
گل، صبا، ابر، شفق، چاند، ستارے، کرنیں
سب اُسی جسم کی تفسیر لیے پھرتے ہیں
سر کہیں اور جھکنے لگا ہے
پھر بھی خاموش میرا خدا ہے
گرد ہے نامرادی کی پیہم
اور ادھر میرا دست دعا ہے

ذرا غور فرمائیے کہ اگر کوئی شخص سر رہگزر لوگوں کی موجودگی سے بے نیاز، خود کلامی کے انداز میں اپنے مسائل پر گفتگو کرتا نظر آ جائے تو آپ کا تاثر اس کے متعلق کیا ہو گا؟ یہی نا کہ وہ کوئی انتہائی ستم رسیدہ انسان ہے جس کو مسائل کے شدائد نے نیم پاگل کر دیا ہے۔ یہی شدائد جب ایک شاعر پر گزرتے ہیں و وہ ان کا اظہار اس سلیقے اور ہنر مندی سے کرتا ہے کہ خود کلامی غزل کا روپ دھار لیتی ہے نہ صرف یہ کہ اپنے غم ہی اس کو متاثر کرتے ہیں بلکہ وہ غم جہاں کو بھی غم جاں بنا لیتا ہے، اس کا اعتراف ماجد نے بھی کیا ہے۔ 

خود کلامی سی ہے ایک، ورنہ
شاعری میں دھرا اور کیا ہے

کبھی کبھی کسی شاعر کو ’’الف‘‘ سے ’’ے‘‘ تک پڑھنے کے بعد فکری تضادات کا احساس بھی ہوتا ہے اور کہیں کہیں وہ خود اپنے کہے کی تردید کرتا بھی نظر آتا ہے آپ اس کیفیت کے بارے میں کچھ رائے رکھتے ہوں مگر اس حقیقت کا تسلیم کرنا بھی ناگزیر ہو گا کہ ہم ایک طویل عرصے سے حالات کے اس محیط میں ہیں جس میں کبھی انتہا کا ٹھہراؤ ہوتا ہے اور کبھی تلاطم خیزی کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ نہ تو ہمارے ارادے قوی رہتے ہیں اور نہ ہی عقیدوں میں پختگی باقی رہتی ہے ’’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم‘‘ کی سی صورتِ حال ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے بہرحال ماجد صدیقی کے کلام میں متذکرہ تضاد قطعاً نہیں ہے ان کی دسترس میں قرطاس بھی باشعور ہو جاتا ہے۔ 

کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اس پر کیا لکھا جانا ہے

آج کا سب سے اہم مسئلہ معاشرتی بدعنوانیوں کا رواج ہے، ہم لوگ باہمی تعلقات میں مخلص نہیں رہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قربتوں کے باوصف ہمارے رابطے انتہائی کمزور اور یخ بستہ ہیں شاید اسی لئے ماجد کو بھی کہنا پڑا ہے کہ:

پڑے نہ زد جس پہ بات ساری مفاد کی ہے
جواز سیدھا سا ایک ہی تو ہے دشمنی کا
شریک راحت یاراں نہ ہونا
بجائے آفریں ہیہات کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا

ماجد نے غمِ جہاں کے پہلو بہ پہلو غمِ جاناں کو بھی موضوع سخن بنایا ہے اور اس سلسلے میں ان جملہ روایتی اقدار کو برقرار رکھا ہے جو اساتذہ کا طرہ امتیاز تھیں۔ 

حاصل عمر ہے یہ حرف میان لب و چشم
خواہش قرب نہ باتوں میں اڑایا کیجئے
سامنا پھر نہ کسی لمحہ گستاخ سے ہو
دل میں سوئے ہوئے ارماں نہ جگایا کیجئے
وارتو حالات نے جو بھی کیا تازہ نہ تھا
دام کے زیر قدم ہونے کا اندازہ نہ تھا
کچھ نہ کچھ اس میں کرشمہ ناز کا بھی تھا ضرور
منہ کی کھانا خام فکری ہی کا خمیازہ نہ تھا

مضمون کے آخر میں مناسب ہو گا کہ میں ’’سخناب‘‘ (ماجد کے کلام کا جزوی صحیفہ جو غزل سرا میں شامل ہے) کی اس پہلی غزل کا تذکرہ کروں جو نناوے اشعار پر مشتمل ہے (خدا کے اسمائے گرامی بھی 99ہیں ممکن ہے یہ ان کی شعوری کوشش ہو) یا تو مذکورہ غزل کو ان کے مجموعی کلام کا سرچشمہ کہا جا سکتا ہے یا بہ الفاظ دیگر پوری شاعری کی تلخیص کا نام دیا جا سکتا ہے بہرحال جو بھی خیال کیا جائے موزوں ہو گا۔ میں اسی غزل کے چند شعروں پر گفتگو کا اختتام کروں گا۔ 

نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
دشت طلب میں بن کُتوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اتنا ہی قد کاٹھ ہے اس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے

ایک شاعر ایک مزاح نگار از پروفیسر شیخ عبد الواسع

ماجد صدیقی کا غائبانہ تعارف تو عرصے سے تھا۔ اور کبھی کبھی اخبارات و رسائل میں بھی ان کا کلام نظر سے گذرتا۔ مگر ایک روز کالج میں مشہور ہوا کہ ماجد صدیقی صاحب تبدیل ہو کر یہاں آ گئے ہیں۔ یہ تبدیلی اگر محض مکانی تھی تو بہرحال خوب تھی اور اگر تبدیلی ماجد صدیقی میں تھی تو ہم حیران تھے۔ ہماری پہلی ملاقات کچھ ایسی حوصلہ افزا نہ تھی بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ قدرے مایوس کن تھی۔ مسکرانے میں محتاط اور گفتگو میں کنجوسی کی حس تک خاموش طبع یہ شخص، کسی طور بھی تو شاعر دکھائی نہ دیا۔ ہم نے کئی بولیاں بولیں کہ وہ کوئی زبان تو سمجھ سکے لیکن نتیجہ جوں کا توں رہا شاید ہماری باتیں اس قابل ہی نہ تھیں کہ سنی جاتیں اور یقیناً ایسا تھا۔ بہرحال، مجموعی طور پر تاثر پر کشش نہ تھا۔ سوچا کہ موصوف کا کلام بھی مجموعی طور پر ایسا ہی ہو گا۔ جیسا ہر ہوٹل میں بیٹھنے والے دو چار انٹلیکچویل نما شاعروں کا ہوتا ہے۔ 

ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور ماجد صدیقی کے جوہر کھُلتے گئے۔ ادبی ذوق سے سرشار ماجد صدیقی کی دوستی اس بے ادب کے ساتھ منزلیں طے کرتی گئی۔ اور پتہ یہ چلا کہ ماجد گفتگوئے محض سے زیادہ تنقید پسند کرتا ہے۔ میں نے بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جو نہایت انہماک اور خاموشی سے تنقید سنتے اور اس کا مثبت اثر قبول کرتے ہوں۔ ماجد صدیقی اگر کوئی غزل سناتا ہے تو اس پر گھنٹہ بھر تنقید سننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسی لئے تو وہ فن کی بلندیوں کو چھوتا ہوا پایا جاتا ہے۔ 

ماجد کا مجموعہ آغاز نظر سے گذرا۔ مجھ جیسا ادب سے کورا اور بے بہرہ شخص تبصرہ کرنے سے تو قاصر ہے البتہ چند ایک تاثرات اس مجموعے نے ذہن پر ضرور چھوڑے ہیں۔ ماجد صدیقی کے اندر ایک نوجوان دل کی دھڑکن پائی جاتی ہے۔ لیکن یہ دھڑکن محض جذبات کا نتیجہ نہیں، بلکہ منطق اور مشاہدات سے بھرپور ہے۔ بظاہر خاموش طبع شاعر، حد درجہ حساس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماجد صدیقی کے اشعار نہ صرف بولتے ہیں بلکہ دھڑکتے محسوس ہوتے ہیں۔ اور پڑھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اشعار و احساسات اس کے اپنے ہیں۔ اسی لئے ماجد زندگی سے بہت نزدیک ہے اور زندگی سے اپنا رشتہ کبھی بھی منقطع نہیں کرتا۔ ماجد الفاظ کا محتاج نہیں۔ بلکہ الفاظ اس کے خیالات کے محتاج نظر آتے ہیں۔ اسی لئے اس کے یہاں لفاظی نظر تک نہیں آتی۔ بلکہ وہ روزمرہ کی زبان استعمال کرتا ہے بلکہ الفاظ سے زیادہ مغز سخن پر زور دیتا ہے۔ 

ماجد صدیقی کی پنجابی شاعری ایک عام سیدھے سادے دیہاتی کی شاعری ہے۔ یہ شاعری ٹیلی ویثرن، ریڈیو اور ادبی شاموں تک محدود نہیں، بلکہ یہ گلی کوچوں کی شاعری ہے۔ یہاں بھی ماجد صدیقی نے مشکل سے مشکل مضامین بہت آسان اور سادہ انداز میں پیش کئے ہیں۔ وہ عام آدمی کو تعلیم دیتا، اُبھارتا اور حوصلہ بخشتا ہے۔ ماجد کے اشعار میں زندگی کے تلخ احساسات و جذبات کے مطالعہ سے انسان اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرتا ہے۔ ماجد صدیقی اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے۔ کہ وہ عوام الناس تک پہنچتا ہے صرف دانشوروں تک محدود ہو کر نہیں رہ جاتا۔ ماجد صدیقی کی نئی کتاب ’’صورتِ احوال آنکہ‘‘ نثر میں ہے اور مصنف کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنی ستائش کرنا چاہتا ہے۔ اور نہ ہی یہ سوانح حیات ہے۔ پڑھنے کے بعد قاری طنز و مزاح ہی سے لطف اندوز نہیں ہوتا بلکہ قومی سطح پر سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ملک کے 85فیصد محنت کش عوام کے پسینے کی بدولت شہروں میں آسائشوں کے مالک، پُر سکون دن اور پُر سکون راتیں گذارنے والے، یہ سوچنے لگتے ہیں۔ کہ کیا ہم اپنا قرض خاطر خواہ طور پر چکا رے ہیں۔ ماجد کی یہ کتاب ایسا نقشہ پیش کرتی ہے جس سے دیہاتی سکولوں کے نظم کی انتظامی مشکلات اور پریشانیوں کا پتہ چلتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے دیہاتی سکولوں کے لئے کوئی دوسرا محکمۂ تعلیم ہے۔ دیہاتوں میں اساتذہ کی زبوں حالی اور تعلیمی دشواریوں کو کمال طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہم پہلو تعلیم ہے۔ ماجد نے 85فیصد عوام کی تعلیمی دشواریوں کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کے بارے میں کرنل محمد خان کا تبصرہ بہت جامع اور مکمل ہے۔ مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم تو یہی سنتے آئے تھے کہ مصلحت کے طور پر جھوٹ بھی بولا جا سکتا ہے لیکن کتاب پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ سچ بولنے میں زیادہ مصلحت ہوتی ہے۔ لہذا جھوٹ کاہے کو بولا جائے۔ 

سماجی شعور اور شدت اظہار کی شاعری از پروفیسر نجمی صدیقی

ادب کی اصناف سے لطف اندوز ہونے کے لئے ادبی ذوق کا پیدا کرنا ادب اور دیب دونوں کے لئے ضروری ہے۔ پھلوں کے رس اور مٹھاس کے لئے ہر شخص کے منہ میں ایسے قدرتی عضلات موجود ہوتے ہیں مگر ادب سے لطف اندوز ہونے کے لئے وسیع مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قاری کے اندر صحت مند (Taste) پیدا ہو سکے یہی ادبی ذوق قاری اور ادیب کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اور غزل کی کلاسیکی روایت اور جدید غزل کے مزاج کو سامنے رکھا جائے تو ماجد کی غزل واضح طور پر الگ شناخت بناتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اس کی غزل اپنے موضوعات لفظیات اور تاثیر میں منفرد ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے ایسے اکثر الفاظ سے واسطہ پڑتا ہے جو دوسرے قدیم و جدید شعراء کے کلام میں شاذ و نادر ہی اس بے تکلفی سے استعمال ہوئے ہوں اس لئے ماجد صدیقی کا قاری لذتِ کام و دہن کے لئے جس اندازِ سخن کا عادی ہے اسے نہ پا کر کچھ بِدکتا ہے مگر جلد ہی اس نئی فضا میں سانس لینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ ماجد صدیقی کی غزل کا بہاؤ پہاڑوں پر پگھلتی ہوئی برف کے صاف شفاف پانی جیسا ہے جو بلندیوں کے غرور کے منجمد کیفیات کے حصار کو توڑ کر نشیب کی طرف بہہ نکلتا ہے مگر اس کی یہ فروتنی انکساری ہے محرومی نہیں۔ بہاؤ بہتر ہے انجماد سے۔ انجماد کی مٹھی میں بند تخلیقی امکانات میں اضافہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے اور پھر پانی انجماد کی صعوبت سے نکل کر یا زمین پر بہہ نکلتا ہے یا بھاپ بن کر اڑنے لگتا ہے۔ اور یہ دونوں حالتیں نہ صرف خود اس کے لئے بلکہ جملہ موجودات کے لئے بھی افادیت کا باعث ہوتی ہیں مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانا اس کے انداز میں شامل ہے اس جبلت کی وجہ سے ہم پانی کو پھلوں کے رس میں، مٹی میں اور پھولوں کے ہونٹوں پر رنگ کی صورت میں پاتے ہیں۔ اسی کے باریک قطروں کے سورج کی کرنوں میں حل ہو جانے سے دھنک رنگ قوس قزح کی صورت میں ابھرتے ہیں مگر جونہی قطروں اور کرنوں کا یہ ملاپ ختم ہو جاتا ہے سارے رنگ آسمان کی نیلاہٹوں میں گم ہو جاتے ہیں یہی حال اب غزل کا ہے اپنے ماحول سے الگ اور مسائل زمانہ سے جدا رہ کر اس میں وہ نکھار ممکن نہیں تھا جو اسے ماجد صدیقی جیسے حساس شعراء کے ہاتھوں نصیب ہوا ہے۔ اردو غزل جب تک شاہی درباروں میں رہی ایک لونڈی سے زیادہ کچھ نہ تھی اگر اسے موتی کی طرح تاج و تخت میں سجایا گیا تو اس نے چمک دمک دکھائی مگر وہ حقیقت میں جمے ہوئے خون کا ایسا قطرہ تھی جو زندگی کی حدت سے محرم ہو اس کے سپرد کچھ خدمات بھی ضرور تھیں مگر وہ کوئی زیادہ دت طلب نہ تھیں نسائی معشوقوں سے چہل، باغوں میں گلگشت، شہزادوں کے مزاج کی عکاسی، عشاق کے پیغام اور محبوبوں کے ناز نخرے الفاظ کے سانچے میں ڈھالنا اور تفننِ طبع عشاق کے لئے محفوظ رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ زبان و بیان کی کڑی پابندیاں اس پر عائد تھیں کوئی لفظ عام ڈگر سے ذرا ہٹ کر زبان پر لانا گردن زدنی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ غزل کی شاعری نے اس ٹکسالی دور میں نہ تو کبھی زمین پر قدم رکھا اور نہ ہی اس کی سختی اور سنگلاخی کا اسے احساس ہوا تھا لیکن اب غزل کی وہ رات گئی وہ بات گئی۔ حسن و عشق دونوں گرم و سرد زمانہ کو اپنے نرم و نازک لو کے بے رحم جھونکوں کی طرح سہہ رہے ہیں اور یہی کچھ جدید غزل کے خدوخال میں اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے اب غزل میں معشوقوں جیسی نازک بدنی ہے اور نہ عشاق جیسی نازک خیالی۔ جو پہلے پیٹ بھروں کا مشغلہ تھی اب معاشی سیاسی سماجی انفرادی اجتماعی ہر سطح پر ایک نہایت سنجیدہ مصروفیت بھی ہے استحصال، ظلم اور ہر طرح کے استبداد کے خلاف ڈھال بھی ٹوٹ پھوٹ کی اس فضا میں انسانی رشتوں کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ مقصدیت کے آسیبی چھلاوے ہر سطح پر نفسیاتی الجھن کا باعث بن رہے ہیں۔ اقدار تیزی سے بد رہی ہیں۔ سیاسی اقتصادی، معاشرتی و سماجی کھچاؤ داخلی الجھاؤ عدم استحکام کی صورت میں بے یقینی اور عدم تحفظ کی ایسی فضا کو جنم دے رہا ہے جس سے انسان پہلے کبھی اس طرح دو چار نہ ہوا تھا پس نئے دور کا انسان دو دنیاؤں کے درمیان سسک رہا ہے ایک دنیا مر رہی ہے اور دوسری دنیا ابھی جنم لینے کے قابل نہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال غزل کی فضاؤں میں در آئی ہے۔ بھوک، پیاس، تنگ دستی، کسمپرسی کبھی غزل کے موضوعات نہ تھے۔ زمینی رشتے غزل کی فضا سے میل نہیں کھاتے۔ مگر ماجد صدیقی کی غزل سماجی کیفیات کو اپنے قاری کے لئے جمالیاتی خط کا ذریعہ بنا رہی ہے اردو غزل پہلے صرف گاتی اور گنگناتی تھی اب ماجد صدیقی کے ساتھ ہر سطح پر سوچتی اور باتیں کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کام گاری و ناکامی کی باتیں آجر و مجبور کی باتیں سماجی شعور کی باتیں۔ اس کی غزل کا بہاؤ انسانی زندگی کے تمام ذائقے ساتھ لئے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یو ں ماجد صدیقی کی شاعری کا نمایاں پہلو سماجی شعور کا پہلو ہے۔ 

خاک ہے جس کا مقدر وہ نگینہ دیکھا
ہم نے مزدور کے ماتھے پسینہ دیکھا

اس قبیل کے اشعار میں شدتِ احساس کے ساتھ ساتھ سماجی شعور کی کرشمہ سازی کا احساس بی ابھرتا ہے ماجد صدیقی ہر وقت اپنی ہی ذات کے کھنڈر میں آوارہ خرام نہیں رہتا اس کی نظر در و دیوار سے باہر کا منظر بھی دیکھتی ہے یہاں تک کہ در ہمسایہ کی ہلکی سی دستک بھی اسے تنہائی کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں سوچ کے لامتناہی دائروں کو جنم دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے امکانات کے ہزاروں در کھلتے ہیں اور اسے اپنی طرف بلاتے ہیں وہ احساس کے اس آئینہ خانے میں اپنے آپ کو تنہا نہیں پاتا بلکہ ایک کائنات کو ہم رکاب دیکھتا ہے ایسے میں لمحہ بھر کے لئے وہ کچھ نہیں رہتا اور سب کچھ ہو جاتا ہے۔ یہی لمحہ اس کی تخلیقی زندگی کا اہم ترین لمحہ ہوتا ہے وہ ہر دکھ کو اپنا دکھ اور موجودات کی ہر حالت کو اپنی حالت محسوس کرتا ہے اس دکھ بھرے استحصالی معاشرے میں دوسروں کو اذیت کی چکی میں پستے دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو محفوظ نہیں پاتا دوسروں پر ہر گزرنے والا عذاب اس کی ذات پر پوری شدت کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ 

آجر سوچے دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا ان کانوں سے

لارڈرسل نے لکھا تھا مشین انسانی جذبات کو کچل دے گی یا انسان جذبات میں آ کر مشین کو تباہ کر دے گا ایسا معلوم ہوتا ہے ہم پہلی صورت حال کی طرف بڑی سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ماجد صدیقی نے یہاں بھی معاشرتی اور سماجی علت کو تلاش کیا ہے جو اس بے حسی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 

چاہتیں وقفِ غرض، نیتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا

نفرت کا دھواں ہر طرف پھیلتا جا رہا ہے مقابلے کی عام فضا نے ہر طرف آدمی کو آدمی اور ممالک کو ممالک کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور عالمی سطح پر سب ٹھیک نہیں ہے ماجد صدیقی کی دور رس نگاہ ان آثار کو یوں پڑھتی ہے۔ 

وہ جس کی تصویر سے منور ہے آشتی کا ہر ایک پرچم
وہی پرندہ لٹک رہا ہے شجر پہ زخموں سے چور دیکھو

سماجی اور معاشرتی سطح پر ہر شخص اپنی ذات میں ایک بے معنی بکھراؤ کا شکار ہے اس غیر فطری تقسیم ذات کی طرف ماجد نے اشارہ کیا ہے۔ 

میرے جینے کے اسباب سب شہر میں 
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے

ماجد صدیقی کے کلام میں سماجی شعور کے ساتھ ساتھ شدتِ احساس بھی کمال درجے پر ہے۔ دراصل جذبے کی داخلیت کا نام احساس ہے اور خارجیت کا نم اظہار چوٹ جس قدر شدید ہو چیخ میں اتنی ہی گہرائی اور آنسوؤں میں اتنا ہی زیادہ کھارا پن پایا جاتا ہے اپنی اس بات کے ثبوت میں ایک شعر پیش کروں گا جس کے خالق کا نام مجھے یاد نہیں۔ 

کالی گھٹا سے کوندا لپکا کوئل کوک گئی
جتنی گہری سانس کھنچی تھی اتنی ہوک گئی

ماجد صدیقی جتنی شدت سے محسوس کرتا ہے اتنی ہی قوتِ اظہار کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے اس کا ثبوت وہ تمام اشعار ہیں جو اس کی مطبوعہ کتب میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور اپنے قاری کے لئے جمالیاتی حظ کا ذریعہ بنتے ہیں ماجد صدیقی کے کچھ اشعار دلدوز چیخ سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ وہ فنی سطح کے علاوہ سماجی پس منظر کو کئی زاویوں سے منعکس کرتے ہیں۔ 

ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے
ناداری کی لعنت سے ہم عید کے دن بھی الجھے تھے

ماجد صدیقی ہمیں اس لئے بھی متاثر کرتا ہے کہ اس کے اظہار کے پیچھے ہمیشہ زندگی کا کوئی نہ کوئی بھرپور تجربہ پوری معنوی پرتوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے نہ صرف یہ بلکہ احساس کی یا ایسی چنگاری دمک رہی ہوتی ہے جو قاری کی وابستگی کے فانوس کو بجھنے نہیں دیتی۔ وہ ماجد صدیقی کے ساتھ نئی نئی تصویریں دیکھتا سوچتا اور محسوس کرتا چلا جاتا ہے۔ 

پوچھا یہ کس نے حال مری بو و باش کا
چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنور میں 

ماجد صدیقی کا یہ شعر اس کے مشاہدے، شدتِ احساس، اور قوتِ اظہار کا ایسا معیار قائم کرتا ہے جو اس کا انعام بھی ہے اور پہچان بھی۔ 

ماجد صدیقی کی شاعری از ڈاکٹر تصدق حسین راجا

ماجد صدیقی اردو شاعری میں ایک جانا پہچانا نام ہے، ماجد نے شاعری کا آغاز نعت سے کیا اور ان کی پہلی نعت ’’عیدِ میلا النبیؐ 1953-54ء میں تعمیر‘‘ راولپنڈی میں ان دنوں چھپی تھی جب وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے۔ آج ماجد صدیقی بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں صرف ’’صورت احوال آنکہ‘‘ نثر میں ہے اور ماجد کے سوانحی حالات پر مشتمل ہے بقیہ تمام کتابیں آپ کی شاعری کے مجموعے ہیں۔ ماجد صدیقی نے نظم بھی لکھی ہے اور ان کی نظموں کے مجموعے تریاق، اٹھکیلیاں، یہ انسان اور شاد باد منزل مرا د کے عنوانات سے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ تمام مجموعے یکجا کر کے ’’تریاق‘‘ کے نام سے شائع کئے جا رہے ہیں لیکن ماجد صدیقی کی اصل پہچان ایک غزل گو شاعری کی حیثیت سے ہے، آپ کی خوبصورت غزلوں پر مشتمل پہلا مجموعہ 1971ء میں ’’آغاز‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ ماجد صدیقی نے اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی میں بھی خوبصورت شاعری کی ہے، آپ کا پنجابی کا پہلا غزلوں کا مجموعہ 1964ء میں چھپا تھا۔ فیض کی غزلوں کا ایک انتخاب ماجد صدیقی نے پنجابی میں ترجمہ کیا جو ’’رات دی رات‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ ماجد صدیقی کی جو تخلیقات ہیں ان کی تعداد چالیس سے زیادہ بنتی ہے۔ 1988ء میں ماجد صدیقی نے معروف اردو شاعر خاقان خاور کی نظموں کے مجموعے ’’جنگل رات‘‘ کا انگریزی ترجمہ ’’جنگل نائٹ‘‘ (Jungle Night)کے نام سے کیا ہے۔ 1975ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ماجد صدیقی کی قومی نظموں کا ایک مجموعہ ’’شاد باد منزل مراد‘‘ کے نام سے شائع کیا تھا۔ ’’یہ انسان‘‘ ماجد صدیقی کی نظموں کا مجموعہ ہے اور ’’سروِ نور‘‘ نعتیہ مجموعہ ہے۔ غزلوں کے مجموعوں میں آغاز، ہوا کا تخت، تمازتیں، سخناب اور غزل سرا خوبصورت زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین تک پہنچ چکے ہیں۔ غزلوں پر مشتمل یہ تمام شعری مجموعے ایک کتاب کی شکل میں ’’غزل سرا‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوئے ہیں۔ 

حال ہی میں ماجد صدیقی کی غزلوں کا ایک اور مجموعہ ’’آنگن آنگن رات‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ ماجد صدیقی کے نزدیک شاعری دل کی دھڑکنوں کا شمار ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنی نظموں اور غزلوں میں جگہ جگہ کیا ہے۔ شاعری ماجد صدیقی کو نہ صرف یہ کہ اپنی والدہ محترمہ سے ورثے میں ملی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ماں نے انہیں شاعری اپنے دودھ میں پلائی ہے۔ ماجد کی والدہ محترمہ شاعرہ تھیں اور پنجابی زبان میں خوبصورت نعتیں کہتی تھیں۔ عشقِ رسول مقبولؐ سے اس قدر سرشار تھیں کہ بچے گھر میں ریڈیو نہیں لگاتے تھے کہ حضورؐ کا اسم مبارک سن کر مرحومہ پر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی تھی جس کا اثر آپ پر بہت دیر تک رہتا تھا۔ وہ دعا مانگا کرتی تھیں کہ قبر میں ان کی پہلی رات شب برات ہو اور اللہ نے ان کی یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ جس روز آپ اس دنیاءِ فانی سے رخصت ہوئیں اس روز ملک بھر میں شب برات منائی جا رہی تھی۔ شاعری میں ماجد صدیقی نے میر اور غالب سے فیض حاصل کیا ہے اور جہاں جاں مسائلِ حیات کا ذکر کیا ہے میرا اور غالب کے رنگِ تعزل کی جھلک نمایاں ہو گئی ہے۔ ماجد صدیقی کے ہاں پنجابی شاعری نے ان کی اردو شاعری کو جداگانہ حیثیت دینے میں بڑی مدد دی ہے اور مسائلِ زیست تک براہ راست رسائی پنجابی کے ذریعے اردو میں وسیع تر تناظر میں آئی ہے۔ 

ماجد صدیقی فیض کے مداح ہیں، ان کی رائے میں فیض عہد ساز شاعر ہیں۔ تاہم فیض کو ایک ہی موضوع میں گرفتار رہنے کی وجہ سے بڑا نقصان پہنچا ہے۔ غزل کے میدان میں ماجد صدیقی اپنے معاصرین میں سے شکیب جلالی، ناصر کاظمی، ریاض مجید اور خاقان خاور کا ذکر بڑی محبت سے کرتے ہیں۔ غزل میں ظفر اقبال کا منفرد انداز ماجد صدیقی کو بہت اچھا لگا جو عام ڈگر سے ہٹ کر تھا لیکن انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ ظفر اقبال اسے فروغ نہ دے سکے، شکیب جلالی کو غزل گو شعراء میں ماجد صدیقی ایک بالکل منفرد اور جداگانہ حیثیت کا حامل سمجھتے ہیں، ناصر کاظمی کی ملائمت کے معترف ہیں لیکن شاعری میں اختلافی موضوعات کے سبب ماجد صدیقی کے خیال میں ناصر کاظمی کی شاعری کہیں کہیں اعتراضات کا در وا کر دیتی ہے وہ ریاض مجید کو اچھا غزل گو سمجھتے ہیں ، ماجد صدیقی کا خیال ہے کہ خاقان خاور کے بڑا شاعر بننے کے امکانات بہت روشن نظر آتے ہیں جو اب تک ایک شرمیلا شرمیلا سا کھل کر سامنے نہ آنے والا شاعر ہے۔ 

ماجد صدیقی غیر متزلزل یقین کی دولت رکھتے ہیں اس لئے ان کا کلام اپنی اثر آفرینی میں ایک خاص مقام کا حامل ہے جس معاشرہ میں ہم سب زندہ ہیں اس کی بہت سی خرابیوں میں سے ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں مکر و فریب نے سچائی کی شکل اختیار کر لی ہے اور سچ کی بدلی ہوئی یہی شکل لوگوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جا رہی ہے۔ ماجد صدیقی کی ساری جنگ اسی مکر و فریب کے خلاف ہے جس کا اظہار اس کی شاعری میں جا بجا ملتا ہے۔ ملاحظہ ہو:

میں کہ سادہ تھا ابھی کورے ورق جیسا ہوں 
ہاتھ آئی نہ کہیں صحبت چالاک مجھے
چاہتیں وقفِ غرض، نیتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا
غلامانِ غرض سے حال اس پونجی کا مت پوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں نجانے آستاں آستاں کیا کیا
اپنوں ہی میں شائد کچھ بیگانے بھی تھے
کس جانب سے تیر چلا تھا یاد نہیں ہے
ماجد ہوں موج، مجھ میں تموّج ضرور ہے
حاشا کسی سے کوئی عداوت نہیں مجھے 

ماجد صدیقی کا تعلق گاؤں سے ہے اور شہر میں رہ کر بھی گاؤں والوں کے سارے اوصاف اب تک سنبھالے ہوئے ہے، وہ زندگی کی مشکلات کے سامنے نہ ہتھیار ڈالتا ہے نہ شکست قبول کرتا ہے۔ بلکہ وہ تو مشکل کے ہر کوہ گراں کے سامنے اپنے تئیں فرہاد سمجھتا ہے، ماجد ندرت الفاظ سے خوب واقف ہے وہ گاؤں سے شہر منتقل ہونے والوں میں تبدیلی دیکھ کر پکار اٹھتا ہے۔ 

رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے

ماجد کی شاعری کا ایک حصہ خود کلامی پر مشتمل ہے وہ اپنی غزلوں میں جو الفاظ بار بار استعمال کرتے ہیں ان میں سے چند الفاظ ملاحظہ ہوں۔ 

اژدر، درِہجراں، شجر، شاخ، پتا، آشیانہ، قفس، جسم، آئینہ، گل، ثمر، حبس، کاغذ، خوشبو، رفعتیں، مانی و بہزاد۔ 

مفلسی و ناداری کی لعنت سے عید کے خوشی کے تہوار پر شاعر اپنی نصف بہتر سے الجھنے اور پھول سے معصوم بچوں کو سہما سہما رکھنے کے تجربے سے تو گزار ہے مگر اس کے باوجود اسے وہ چال نہیں سوجھی جس کی مدد سے شاہ پیادوں سے مر جائیں، ماجد کی نظروں سے اپنے عہد کی سفاکیوں کا یہ طرفہ تماشا بھی اوجھل نہیں کہ جس کے ظلم و ستم سے معصوم انسان محفوظ بھی نہیں مگر ظلم و تشدد کر کے بھی حق بجانب وہی ٹھہرتا ہے۔ 

ماجد ایک عجیب فقر و درویشی کی دولت سے مالا مال دکھائی دیتا ہے اس کا اعتراف ایک جگہ یوں کیا ہے۔ 

شاہی بھی قربان ہو اس پر

ماجد کو جو فقر ملا ہے

جو آ رہا ہے وہ دن آج سا نہیں ہو گا
تمام عمر اسی آس پر بتا دی ہے
کوئی تیر چھوٹے کمان سے کوئی تیغ نکلے نیام سے
دل و جاں پہ کوئی تو وار ہو ترے شہر کے دروبام سے

دل درد مند رکھنے والا احساس شاعر اس ترقی یافتہ دور کے انسان کو دیکھ کر کبھی کبھی تڑپ اٹھتا ہے، اس دور منور میں شاعر کو انسان جس قدر خونخوار نظر آتا ہے وہ پہلے تو کبھی ایسا نہ تھا۔ اس دور میں وڈیو کے کھیل سے دادی اماں کو بہلانے والا بچہ بھی اس کی نظر میں ہے اور انسان کے اندر چھپا ہوا ابلیس بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں نہ کسی کی سنگدلی کا شکار صبح سے شام تک کشکول بنی بھولی بھالی بڑھیا اس کی آنکھ سے چھپ سکی نہ ان بچوں کی محرومیاں جن کا باپ روزی کمانے کئی سال پہلے بہت دور چلا گیا تھا۔ وہ مایوس نہیں ہوتا اور اپنے صدق دل پر یقین رکھتا ہے جس کا ذکر یوں کیا ہے۔ 

کیا خبر صدق سے بر آئے بالآخر ماجد
یہ جو مو ہوم سی امید دلِ زار میں ہے

تشنہ آرزوؤں سے کم و بیش ہر شاعر کا واسطہ پڑتا ہے ماجد صدیقی کا معاملہ بھی جداگانہ نہیں وہ اپنی تشنہ حسرتوں کو بہ شکل غزل گنگناتے والا شاعر ہے، اس سے ماجد کی رومانویت میں ایک خاص قسم کا درد و سوز شامل ہوا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ 

نہ جانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چومتا ہے
بندھے ہوں پھول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وہ یوں رچا ہے
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اجاڑ اب وہی راہ گزر ترے شہر میں
جب سے مہکا ہے تن بدن تیرا
کھلبلی سی ہے اک بہاروں میں
ماجد ہے کس کا فیض قرابت کہ ان دنوں 
پودے سبھی سخن کے ثمردار ہو گئے

مزدور کس طرح سرمایہ دار سے مات کھاتا آ رہا ہے، آجر اور مزدور کے درمیان کس نوع کا تعلق ہمارے معاشرہ میں پایا جاتا ہے اور مزدور یا ضرورت مند کی حیثیت کیا ہوتی ہے، کم ظرف اور نیچ کی ماتحتی میں نوکری کتنی بڑی لعنی بن جاتی ہے ان تلخ حقائقِ حیات پر ماجد صدیقی کے چند خوبصورت ملاحظہ کیجئے۔ 

آجر سوچے، دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا ان کانوں سے
دفعتاً جیسے خدا بن بیٹھا
دیکھ کر ہاتھ وہ پھیلا میرا
کیا کہیں کتنی اپھل ہے نوکری اس دور کی
آدمی اس سے تو دانے بھون کر بیچا کرے
اب اِس سے بڑھ کے ماجد اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
عبادت اور کی، قبلہ کہیں اور
عجب انداز نکلا بندگی کا
قادر مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نت اپنی تقدیر ہمیں
ماجد ہر کردار ہی جس کا شاطر ہے
جانے کیا عنوان ہو اس افسانے کا
اک نادر تصویر
پیڑ سے جھڑتے پات
کاشانوں کے پاس
سانپ لگائیں گھات
نشتر جیسی تیز
ماجد تیری بات

حادثات زندگی نے شعراء کو ہمیشہ اس قدر متاثر کیا کہ ی تو ان کی شاعری نے کوئی نیا رُخ اختیار کر لیا یا سوز و گداز کی آنچ ان کی شاعری میں یوں رچ بس گئی کہ اسے وہ شاعری سے جدا نہ کر سکے۔ ایسے ہی ایک حادثے سے ماجد صدیقی گزرے ہیں 8اکتوبر 1981ء میں ان کا فرزند ارجمند وامق منیر یاسر جس کی عمر صرف 14سال تھی ٹریفک کے ایک حادثے میں انہیں داغ مفارقت دے گیا۔ ایک شاعر جو دوسروں کے دکھ درد پر تڑپ اٹھتا ہے اور جس کا دل کسی اجنبی کے جواں بیٹے کی موت پر خون کے آنسو روتا ہے اپنے جگر گوشہ کی اچانک حادثاتی موت پر کیسے چپ رہ سکتا تھا ’’دو نیم تیرا بدن‘‘ کے عنوان سے ایک نوحہ طویل لکھا جو کتابی شکل میں شائع ہوا تھا۔ اس حادثے نے ایک طرف شاعر کے دل و دماغ پر رنج و غم کے ایسے نقوش ثبت کئے جو عمر بھر ساتھ دیں گے تو دوسری طرف ماجد صدیقی کی شاعری کو بھی متاثر کیا ہے اور 1981ء سے بعد کی شاعری میں درد و سوز کی گہرائی بھی بڑھ گئی ہے اور انسانی زندگی کی بے ثباتی کی حقیقت نے ماجد کے اندر کے انسان میں جو تبدیلی پیدا کی ہے اسے ماجد صدیقی کے ملنے والے آسانی سے محسوس کر سکتے ہیں۔ 

ایک زمانے میں ماجد صدیقی کو قحط الرجال کا گلہ بھی تھا کہ اس کی بات سمجھنے والا محرم راز کوئی نہیں ملتا تھا، اس کا اظہار اس نے اس طرح کیا۔ 

مرے خدا اس جہاں میں میرے لئے ہی قحط الرجال کیوں ہے
میری زباں کو سمجھنے والا نہ کوئی رمز آشنا ہو جیسے

مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب ماجد پر زندگی کی حقیقت کھلی تو اس کا یہ گلہ بھی جاتا رہا اسے پتہ چلا کہ اس جگ میں زندہ رہنے کی خاطر سینے میں دل کی جگہ ساگر رکھنا ضروری ہے۔ ۔ ۔ اور اب اسی ساگر میں غوطہ زن ہو کر ماجد صدیقی غزل کے خوبصورت اور نادر موتی نکال نکال کر لا رہا ہے جس سے اس کی اپنی دوکان چمکے نہ چمکے (اس لئے کہ اس دور میں دوکان چمکانے کے لئے اچھا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت نہیں رہی مضبوط دائروں میں شمولیت ضروری قرار پائی ہے اور ماجد صدیقی غزل سرا میں بند غزل سرائی کرتا ہے) اردو شعر و سخن کی دوکان ضرور جگمگائے گی۔ 

آنگن آنگن رات از سحر صدیقی

یہ ایک انتہائی خوشگوار حیرت ہے کہ وطن عزیز کی تاریخ میں گزشتہ ایک عشرہ کے سیاسی اور سماجی مسائل کو ادب کے اوراق میں محفوظ کرنے کے لئے ایک بار پھر نثر کی بجائے شاعری ہی کارگر اور معاون ثابت ہوئی ہے اگرچہ روایتی طور پر اس کی تاویل اور شرح یہی بیان کی جاتی ہے کہ شاعری کا دامن تشبیہات، اشاروں، کنایوں اور علامتوں سے یوں مزین ہے کہ ایک ہی مصرع میں تلخ نوائی اور تُرش روئی کا بھرپور تاثر نظر آنے کے باوجود کہنے والا کسی گرفت میں نہیں ہو سکتا شعر کی خوبصورت قبا میں شکایتوں ملال، مایوسی کے جتنے بھی پیوند لگے ہوں قدغن کی کسی آنکھ میں یہ کھٹکتے نہیں چنانچہ جب اظہار و بیان کے سوتے خشک ہوتے محسوس ہوں تو شاعر ایک لفظ کی بوند سے تشنگی کے غرور کا پتھر کاٹتا رہتا ہے۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ واقعی درست، معتبر، صائب اور محترم ہیں۔ لیکن میرے نزدیک معاصر ادب میں علامتی اور تجریدی افسانہ کی موجودگی کے باوجود اگر مسائل اور محسوسات کی عکاسی اور ترجمانی کا حق شاعری ہی نے ادا کیا ہے تو یہ کوئی معمولی نہیں بلکہ غیر معمولی بات ہے۔ اور اس عنوان سے یقیناً غور و فکر کی نئی جہتوں کا سراغ پانے کی کوشش کی جانی چاہئے۔

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ شاعر اپنے ماحول یا ذات کے حوالے سے کسی واقعہ، واردات، بات اور مسئلہ سے متاثر ہوتا ہے۔ اپنے تجربہ، مطالعہ یا مشاہدہ کی مدد سے غیر شعوری طور پر اپنے وجدان اور ادراک کے مطابق اس کو اظہار کی وہ صلاحیت شعر کہنے کی ترغیب دیتی ہے جو اس کو فطرت نے عطا کی ہوتی ہے۔ اور جس میں انسانی کاوش کو حتمی طور پر خواہشوں کے باوجود کبھی کبھار کامیابی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات شاعر کسکی ایک بات سے اتنا متاثر ہوتا ہے کہ وہ کئی شعر کہہ جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک قیامت سر سے گزر جاتی ہے اور وہ کوئی لفظ نہیں کہہ پاتا۔ ۔ ۔ دراصل یہی وہ حد ہے جہاں سے نفسیات اور ماحولیات کا شاعری میں عمل دخل شروع ہو جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔

میں ذاتی طور پر شاعری کو الفاظ کا محتاج نہیں سمجھتا بلکہ الفاظ کو شاعری کا محتاج تصور کرتا ہوں۔ اس بات کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ شاعر ہے جو الفاظ کو ایک مجرد شے اور بے ہیئت سے بدل کر جیتا جاگتا اور سانسیں لیتا ہوا پیکر دے دیتا ہے۔ لفظ کو زندگی عطا کرنے کا معجزہ ہی تو شاعر کو ادب کی دنیا میں مسیحا بناتا ہے ورنہ دوسرے اہل قلم بھی تو وہی لفظ، وہی حروف، وہی زبان و بیان رکھتے ہیں جو شاعر کے پاس ہوتے ہیں لیکن اہلِ فکر و نظر بخوبی آگاہ ہیں کہ۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی

بن گیا روئے آب پر کائی

یہ باتیں اپنی سادگی کے باوجود اگر پرکار اور پراسرار نظر آتی ہیں تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ان کے پیچھے ایک شاعر کی قوت اظہار ہے۔ یہ اس کی جادوگری ہے کہ اس نے ایک بیانیہ جملہ کو اس مہارت اور چابکدستی سے یوں دو نیم کیا کہ اس کی خوبصورتی پر نثر کی سلطنت قربان کی جا سکتی ہے لیکن یہ بات اپنی جگہ بہرحال مسلمہ اور بجا ہے کہ ہزاروں شعروں میں سے ایسا دل میں ترازو ہونے اور روح میں سما جانے والا شعر ایک آدھ ہی ہوتا ہے بلکہ یہ بھی ضروری نہیں، ممکن ہے ایک بھی نہ ہو۔

اس پس منظر میں جب جدید شاعری کی بحث کا جائزہ لیں تو صاف طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس میں رنگ و نور اور جاذبیت و حیرانی تو بدرجہ اتم ہے لیکن وہ جوہر جسے شعریت کہا جا سکتا ہے اس کا عموماً فقدان ہی دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ جدید شاعری میں سے شعریت بالکل اسی طرح عنقا اور معدوم ہے جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں خود کفالت۔ ۔ ۔ !

میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ اس مرحلہ پر نثری نظم کا حوالہ بھی بطور ثبوت پیش کر دوں۔ بے شک نثری نظم کو بطور صنف کے تسلیم کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں قطعاً کوئی حرج اور قباحت نہیں۔ ہر صنف اپنی توانائی، تازگی اور تخلیقی قوت کے بل بوتے پر اپنی بقا کا جواز فراہم کرنے میں آزاد ہے اور اس کا فیصلہ وقت خود کرتا ہے۔ جو نقادوں سے زیادہ عمر رکھتا ہے۔ میری ان باتوں سے یہ مراد ہرگز نہ لی جائے کہ میں جدید شاعری کا مخالف ہوں۔ میرا یہ قطعاً مؤقف اور استدلال نہیں بلکہ میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے والوں میں سے ہوں قدیم شاعری کبھی جدید تھی۔ اور ہر جدید شاعری کو قدیم ہونا ہے۔ لہذا یہ بحث ترک کر کے بات صرف اور صرف شاعری کی کی جانی چاہئے۔

برادرِ مکرم ماجد صدیقی کا تازہ شعری مجموعہ آنگن آنگن رات حال ہی میں شائع ہوا ہے جو ان کی غزلیات پر مشتمل ہے یقیناً یہ وہی غزلیات ہیں جو گذشتہ چند برسوں کے دوران مختلف مواقع اور مراحل پر تخلیق کی بھٹی سے کُندن ہو کر نکلیں چنانچہ ان میں سے بیشتر کو ملکی و قومی امور کا ترجمان اور عکاس قرار دیا سکتا ہے یہ شعری مجموعہ کی پہلی غزل کا مطلع ہے۔

خاموشیوں میں ڈوب گیا ہے گگن تمام

لو کر چلے ہیں سارے پرندے سخن تمام

جب کہ آخری غزل کا مقطع سے پہلا شعر ہے۔

جتنے ہرے شجر تھے لرزنے لگے تمام

خاشاک تھے کہ سامنے دریا کے ڈٹ گئے

میں ان دونوں اشعار کو گزشتہ عشرہ کی اس تاریخ کا بیان تصور کرتا ہوں جسے اہل وطن نے اپنی آنکھوں کے سامنے ترتیب کے عمل سے گزرتے دیکھا اس کا ایک ایک لمحہ ایسا جاں گسل اور اذیت ناک تھا کہ حساس دل تو ایک طرف سنگدل بھی تڑپ اٹھے سیاسی امور اور عوامل کو نعرہ بازی، سطحیت اور عوامی رنگ میں گلی کوچوں میں لے آنا اور اس کوشش میں ہر طرح کے عذاب برداشت کرنے کا منصب سیاسی کارکن اور رہنما ادا کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن سیاسی رموز کو تخلیقی سطح پر ذہنی و فکری حوالے سے معتبر بنانے اور ان کی تدوین اور تہذیب کا حق اہلِ قلم ہی ادا کرتے ہیں چنانچہ ہر مرتبہ کی طرح اب کی بار بھی ایسا ہی ہوا۔ جن شعراء نے ’’ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے۔ ‘‘ کی روایت کو استحکام بخشا ان میں ماجد صدیقی ایک نمایاں اور اثر انگیز لہجہ لے کر ابھرا اس کا جذبہ اپنی تمام تر شدتوں اور گہرائیوں کے باوجود نہایت سلیقہ اور قرینہ سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے لہذا اس کی شاعری میں جلسہ جلوسوں کی طرز کی مقبولیت تو نہیں البتہ زندہ لوگوں کی سچی دہائی ضرور ہے۔ ؎

ہاتھوں میں ہو کمان مگر تیرِ انتقام

اس کے جگر کے پار کوئی دوسرا کرے

تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا

حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا

ہاتھ شہ رگ پہ بھی رکھتا ہے مدام

وہ کہ ظاہر میں مسیحا لاگے

نا خلف لوگوں پہ جب سے پھول برسائے گئے

شاخچوں پر انتقاماً تتلیاں اُگنے لگیں

ماجد صدیقی کی شاعری میں جذبات کی صداقت کے ساتھ دل سوزی اور فکر مندی کا عنصر بھی غالب محسوس ہوتا ہے وہ مسائل پر محض آنسو ہی نہیں بہاتا بلکہ ان کے حل کی تدبیر بھی تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے اس مقام سے وہ بڑا سبک تر ہو کر آگے نکل گیا ورنہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ اس مرحلہ پر شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی حل تجویز کر دیتا اور اس پر ترقی پسند ہونے کا الزام عائد کر دیا جاتا جو اس کی شاعری کو معاشرہ کے خاص حلقوں اور سرکار کے حساس اداروں میں یقیناً متعارف کرنے کے کام آتا لیکن میرے نزدیک شاعر کا تعارف اگر اس کا شعر، اسلوب، آہنگ، لہجہ اور بیان نہیں تو وہ ریڈیو ٹی وی اور فلم کا بہت اچھا شاعر تو ہو سکتا مگر صاحبِ طرز شاعر نہیں ہو سکتا جبکہ ماجد صدیقی کی انفرادیت کے لئے اس کا یہ لہجہ اور رنگ کافی ہے۔

جب بھی دیکھا ہے تمناؤں کا یکجا ہونا

شام کے پیڑ پہ چڑیوں کا وہ کہرام لگا

ماجد خوف سے کیا کیا چہرے زرد ہوئے

دیکھ عجب سرسوں پھولی ہے ہر جانب

بدن جو ڈوب گئے ان کی ہچکیاں سن کر

ہوئی ندی کو بھی عادت سی گنگنانے کی

عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ شاعر کی کسی ایک غزل کا کوئی ایک شعر چونکا دینے والا اور سحر انگیز ہوتا ہے لیکن ماجد صدیقی کی سحر انگیزی ملاحظہ ہو کہ اس کی ہر غزل میں کوئی نہ کوئی شعر ضرور اپنے پیچھے ایک روشنی کی لکیر سی چھوڑ جاتا ہے ان اشعار پر معاً شہابِ ثاقب کا گمان اور خیال گزرتا ہے مگر میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ماجد کے اشعار ایسے شہاب ثاقب نہیں جو چند ساعتوں کو روشن اور گہری لکیر دکھا کر اُفق کی گود میں گرتے ہی کسی گمنام سمندر کی بے نام تہوں میں چھپ جاتے ہیں بلکہ یہ زمین پر اترنے والے وہ ٹکڑے ہیں جنہیں سائنسدان اپنی تجربہ گاہوں میں لے جاتے ہیں اور ان مطالعہ سے کائنات کے اسرار و عقدے وا ہونے میں مدد ملتی ہے گویا  ’’آنگن آنگن رات‘‘ ایک فرد ہی نہیں بلکہ پورے سماج۔ یعنی ہمارے سماج کے سیاسی و سماجی مسائل کا ایک ایسا بھرپور، معتبر اور منفرد شعری استعارہ ہے جو آنے والے دنوں میں اپنی شناخت خود ہو گا اور جس سے ایک عذاب زدہ ماضی کے زخموں کی ٹیسیں صاف طور پر سنائی دیتی رہیں گی۔

غزل سرا سے ماجد صدیقی تک از پروفیسر احسان اکبر

ماجد صدیقی کی تخلیقات کی گنتی شاید پچاس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ کام اُردو، انگریزی اور پنجابی تینوں زبانوں میں پھیلا ہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ غزل، نظم، نثر، بچوں کا ادب اور طنز و مزاح کے میدانوں میں بھی ماجد نے خاصا کام کیا ہے۔ اُردو، پنجابی عروض میں جس قدر اوزان شعر متداول تھے ماجد نے ان سب کو برتا نئی سے نئی زمینیں جن میں چمکدار غزلیں کہی گئیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ماجد کے ہاں بھی استعمال ہوئیں یوں اس کے ہاں ہمہ گیری اور پھیلاؤ اسی طرح نمایاں ہے جس طرح اس کے ہنر میں تخلیقات کی کثرت۔

ماجد نے غالب سے لے کر اب تک کی شاعری کے اچھے رنگوں سے کسب فیض کیا ہے اس کے مجموعہ ہائے غزل۔ ۔ ۔ غزل سرا۔ ۔ ۔ میں فرد فرد کے عنوان سے جو اشعار جمع کئے گئے ہیں وہ پنجابی کے ماہئے اور بولی دونوں کا تاثر لئے ہوئے ہیں یوں اس کی ہمہ داری نے پنجاب کے اس مثبت اثر کے لئے اردو ادب میں ایک دریچہ کھولنے کی ایک منفرد کوشش کی ہے۔ غزل سرا میں ماجد کے پانچ اردو شعری مجموعہ جمع ہو جاتے ہیں ’’آنگن آنگن رات‘‘ ان کے علاوہ ہے۔

ماجد کی شاعری کی نمایاں پہچان سارے فکری رویّوں کی اجتماعیت اور سارے ممکنہ میدانوں میں طبع آزمائی سے ابھرتی ہے۔ اس کے یہاں بہت سے رنگوں کے دھارے بھی جمع ہوتے ہیں اور بہت ساری علامتوں اور تشبیہوں کا ہجوم بی نظر آتا ہے۔ تشبیہات و استعارات کا یہ نظام ایسے ایسے علائم الفاظ پر بھی محیط ہے جو غزل کی صنف میں اس سے پہلے نہیں برتے گئے تھے۔ مثلاً ہرن، جال، عقاب، چڑیا، تبر، ابروباد، سزا، عجز، بگولے، لڈو، سیڑھیاں، سانپ، کوا، کتاب صرف چند ایک مثالیں ہیں۔ اس کے پاس ایک بہت وسیع زندگی کا پھیلاؤ ہے سو ایک انتہائی وسیع زندگی کا منظر نامہ اس کے شجر کی دہلیز پر کھلتا ہے۔ اثر لکھنوی فراق اور احسان دانش کے بعد لوگوں نے لمبی غزلیں کہنا ترک ہی کر دیا تھا۔ ماجد نے بہت طویل غزلیں بھی کہی ہیں۔ جو ناصر کاظمی کی طرح چھوٹی اور رواں بحروں میں ہیں اور جن سے اس نے اپنے دو مجموعے آغاز کئے ہیں۔ ماجد نے بہت کچھ کر جانے کی سعی کی ہے لہذا اس کی شاعری کا پھیلاؤ کچھ ایسا ہے کہ ہر قسم کی بات ہر طرح کے احساس اور ہر سطح کے تجربے کو اس نے داخل غزل کیا ہے۔

سوال ہے تو یہ کہ اتنے بہت سے تجارب اور اتنی بہت سے تفاصیل کے باوجود ماجد اپنے فن کی وہ داد کیوں نہ پا سکا جو اتنا لکھنے والے کا فطری حق بنتی ہے۔

ہر زمانے کے شاعر نے اپنے لئے نیا لحن چنا اور اپنے لئے علیحدہ راہ ترتیب دینا چاہی سو میر و غالب اور اقبال سے متاثر ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے ان اکابر سے ہٹ کر اظہار کے قرینے اختیار کئے اس لئے کہ ان کی تہہ میں جداگانہ شناخت بنانے کا یہی احساس موجود تھا۔ اسی باعث آج ادب میں صرف صنف غزل ہی کو لے لیں تو اس میں اتنی رنگا رنگی اور اتنا تنوع دکھائی دیتا ہے کہ گلشن در گلشن روش در روش رنگ و بو کی جدولیں چشم و گوش کے در وا کئے استقبال کے لئے موجود ملتی ہیں۔ ہر عہد نے اپنے اپنے اظہار کے خزینے خود ہی بنائے مگر جدید عہد نے تو اپنے استعارے بھی خود ہی تراشے۔ لہذا پچھلے ربع صدی کے عرصے میں غزل کی زبان بہت کچھ بدلی ہے مگر یہ سارا کچھ ہونے کے باوجود روایت ایک نظر نہ آنے والے تسلسل کی شکل میں سب تازہ گوؤں کے ہاں نبھی ہے۔ مگر ماجد اس روایت سے منہ موڑتا دکھائی دیتا ہے۔ نئے الفاظ غزل میں مدتوں سے آہستہ آہستہ داخل ہوتے آ رہے ہیں مگر ماجد کے ہاں اجنبی الفاظ کا ایک ریلا ملتا ہے اسی طرح اس کی غزل میں انگریزی الفاظ کا دخول بھی ہے جس کی روش اس کے پچھلے مجموعے ’’آغاز‘‘ کے ساتھ ہی آغاز ہو گئی ہے۔ اس کی غزلوں میں بعض مقامات پر شہروں کے نام بھی ملتے ہیں اور یہ سارا کچھ رفتہ رفتہ ایک اجنبی اظہار کی صورت اختیار کر گیا ہے سو ماجد فطرتاً کلاسیکی اور روایتی ہونے کے باوجود روایت مخالف رویّہ اختیار کر لیتا ہے۔

فکری حوالے سے ماجد کے لئے کئی مسائل تھے۔ اوّل یہ کہ اس نے خیر و صداقت اور حسن کے مسلمہ معیاروں کے متوازی اپنے ہی معیار قائم کرنے کی کوشش کی ہے خیر پر اس کا یقین انسانو ں کی بدکرداری شقاوت اور جبر کے ماحول نے متزلزل کر دیا سو وہ دنیا میں خیر کی حکمرانی کا قائل ہی نہیں رہا صداقت اس کے خیال میں اس جہان سے باہر کا عنصر ہے ورنہ صداقت کے دعووں میں اتنا ٹکراؤ نہ ہوتا حسن اس کے یہاں الوہیت تک کے سفر سے زیادہ جسم ہی کے پیکر محسوس میں رہتا ہے لہذا منطقی طور پر مرد و زن کے لئے ایک دوسرے کا جسم ہی حسن ہے اور یہیں ماجد پر جنس کا باب وا ہوتا ہے اور ’’تمازتیں ‘‘ نام کی کتاب ترتیب پاتی ہے۔ اچھائی اور سچائی کے ناتے ماں کا تصور اس کے ہاں بالکل جداگانہ معنی پاتا ہے اور حسن کے ناتے جنس اس کے یہاں جداگانہ صداقت بنتی ہے۔

ماجد کی اُردو غزل کے عنوانات و موضوعات میں شکایت زمانہ اچھائی پر یقین کی بجائے اس دنیا میں جاری شر کے احساس سے پھوٹتی ہے۔

صدق جذبوں میں بھی پہلا سا نہیں ہے ماجد

اب نہیں خضر بھی وہ، راہ دکھانے والے

عنفوان شباب کی محرومیاں، محبت میں نارسائی ، جنس اور باب حسن کی کشور تجربات غم ،طاقتور کے جبر ، مطلق کا خوف اور اندیشہ ء فردا اور کمزور کے استحصال پر مبنی نظامِ جہاں پر طنز بڑے نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ماجد کی شاعری کا مزاج ایک ذاتی سوانح کا رنگ لئے ہوئے ہے سو اس کی غزل مذکورہ بالا موضوعات پر بات کرتے ہوئے بھی تخصیص مقامیت اور ذاتی حوالوں کے اظہار کی تصاویر ہی سامنے لاتی ہے کم از کم ذاتی احوال ہر جگہ بنیادی تصوری کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔

مرے خدا اس جہاں میں میرے لئے ہی قحط الرجال کیوں ہے

مری زباں کو سمجھنے والا نہ کوئی رمز آشنا ہو جیسے

بہ عہد نو ہوا سارا ہی کاذب

بزرگوں نے ہمیں جو کچھ دیا ہے

خالق اپنی خلق سے کھنچ کر

عرش پہ جانے کیا کرتا ہے

بہلانے مجھ بچے کو وہ

جنت کا لالچ دیتا ہے

اب تک اس تک جانے والا

گستاخی ہی کا رستا ہے

خدا کے بارے میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ:

جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی

اتنا اس کے ساتھ خدا ہے

کاش ماجد اس تصور کو آگے بڑھا کر آج تک بھی لے آتا۔

ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی

شکنجہ ہر طرف جیسے کسا ہے

ایک خدا سے ہٹ کر بھی کچھ قادر راہ میں پڑتے ہیں

جن کی اونچی دہلیزوں پر اس سر کو خم ہونا ہے

ہے منانا اسی خدا کو ہمیں

جس کو آدم پہ اعتبار نہ تھا

زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے

خدا بھی دور ہی سے دیکھتا ہے

گریزاں ہیں نجانے کیوں ہمیں سے

زمانہ بھی مقدر بھی خدا بھی

ماجد کی غزل کا روایت دوست لہجہ ان تیکھے اور ماضی بیزار تجربوں سے ذرا بھی لگا نہیں کھاتا۔ اپنی پوری روایت سے بے اطمینانی کے باوجود ماضی سے اسے جو کرنیں نصیب ہوتی ہیں ان کرنوں میں ذات نبیؐ سے تعلق بھی اہم ہے (اس حوالے سے گو غزل میں کوئی اشارہ یا استعارہ نہیں آیا تاہم اس موضوع پر ’’سرونور‘‘ میں اس نے قلم ضرور اٹھا ہے) حسینؓ اور ابو ذر غفاریؓ سے تعلق خاطر اس کی غزل کو اپنی تہذیبی روایت کے دو اہم ترین گوشوں تک بھی لے جاتا ہے۔ ماں کے علاوہ ان اہم اسماء سے تعلق اسے خیر کے روایتی تصور کے قائم کرنے میں بہرحال مدد فراہم کرتا ہے۔ سو کمزور اور مسکین کی جانبداری اس کی غزل میں واشگاف لفظوں میں بولتی دکھائی دیتی ہے اور یوں ماجد انقلابی ہوتے ہوئے بھی حسینی اور ابو ذری ہو جاتا ہے اس کے یہاں معاشرے اور سیاست کے ناتے بہت کچھ کہنے کے باوجود معاشرتی تبدیلی کے احساس یا سیاسی شعور کی موجودگی آج مزاحمت پسندوں کو دکھائی نہیں دے رہی جس کی وجہ اس کے لہجے کی دھیرج اور آواز کی نرمی بھی ہے اور مختلف النوع رویّوں کا اجتماع بھی۔ ورنہ اس کے ایسے اشعا ر بھلا کہاں نظر انداز ہو سکتے تھے۔

مرضی کا برتاؤ اندر والوں سے

باہر والوں سے ہے جنگ اصولوں کی

کاش اس شاعر کے ہاں ماضی سے ملنے والے شکست ذات کے تجارب سے ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کا مداوا ہوا ہوتا پھر شاید ماجد یوں نہ کہتا۔

بتلائے کہ سر کون سی دہلیز پہ خم ہو

کر دے یہی مشکل کوئی آسان ہماری

شکست ذات اور درد و غم کے یہی تجربے اس کے لئے اقبال کو سمجھنا مشکل کرتے اور میر و غالب تک اسے بہ سہولت لے جاتے ہیں یہیں سے اس کی شعری جمالیات ترتیب پاتی ہے شاید اسی لئے وہ کہتا ہے کہ:

ہم تلک پہنچی ہے جو ماجد یہی میراث تھی

فکر غالب کی اور انداز تکلم میر کا

اور اسی رویّے سے ماجد توازن کی تلاش میں گو مگو کے عالم تک بھی پہنچتا ہے۔

جاتا میں جان سے کہ خیال اس کا چھوڑتا

ماجد یہی تو فیصلہ کرنا محال تھا

اور اسی گو مگو کے باعث خوف کی کیفیت یہ ہے کہ:

دیوار کے کانوں سے ڈرا لگتا ہے شاید

ماجد کو کئی دن سے غزل خواں نہیں دیکھا

اس کے خوف اور گو مگو کے اندر بھی نیز اس کے ہاں جبر سے شدید نفرت کے پس پردہ بھی صرف شاعر ہی کے مسائل نہیں ہیں اس انسان کے مسائل بھی ہیں۔ جسے کسب معاش کی سزا بھی ہے۔

میرے بھی بچے ہیں تمہارے جیسے ہی

ریڑھی والا نت یہ ہانک لگاتا تھا

ماجد اپنے بارے میں بھی مختلف وقتوں میں مختلف طرح کے احساسات سے دو چار رہتا ہے۔ وہ ماجد جو کہتا ہے کہ:

جس کو تم معمولی شخص سمجھتے ہو

وہ ماجد ہے اگلا عہد اسی کا ہے

وہ یہ کہنے پر بھی مجبور ہے کہ:

بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصور حسن

یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے

اور یہ بھی کہ:

ادھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں

ادھر ہو تم کہ بتاتے ہو اک الاؤ مجھے

عالم یہ ہے کہ ایک طرف تو مصنف دس دس پندرہ پندرہ دنوں میں پوری کتاب لکھ کر اسے مطبع کی راہ تک دکھا دیتا ہے تحریروں کے انبار لگا دیتا ہے مگر دوسری طرف یوں بھی محسوس کرتا ہے۔

ماجد ہو اس سے شکوہ بہ لب تم جو ہر نفس

سوچو تو زندگی کو ابھی تم نے کیا دیا

شعر کہنے کے لئے کسی شاعر کو باوضو یا باخدا ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی شعر تو بے خدا لوگ بھی کہتے ہیں اور بڑی خوبی سے کہتے ہیں مگر جب شاعر کے ضمیر و وجدان میں تو (ماجد کی طرح) خدا موجود ہو مگر اس کا تصور خیر و حوبی اس سے زیادہ واضح تعلق سامنے نہ لاتا تو ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ماجد اس ساری ٹوٹ پھوٹ کے باوصف اگر ثابت قدم ہے تو شاید اس لئے کہ خدا سے تمام تر شکووں کے باوجود اس کے یہاں اس طرح کے اشعار بھی بہرحال ملتے ہیں۔

مہک مہک ترا اک رنگ گل بہ گل تری لے

تجھے لکھوں بھی تو کیا کیسے گنگناؤں تجھے

ماجد کے تصور حسن کی رسائی ’’وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ‘‘ تک زیادہ جلی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس نے حسن نسوانی کو بہت قریب سے دیکھنے اور دکھانے کا جتن کیا ہے۔ ’’روپ ‘‘ کی رباعیاں ہوں ’’مثنوی زہر عشق‘‘ ہو یا حسرت کی غزل۔ کہیں بھی جنس کے محاکات اتنی وارفتگی سے بیان نہیں ہوئے جس رسان سے ماجد نے جنس کا ذکر کیا ہے۔ سو وہ کہتا ہے۔

بدن تھا اُس کا کہ اِک سلطنت بہم تھی ہمیں

مزے تھے اور ہی جو اُس جلال و جاہ میں تھے

اسی طرح کے اور محسوسات اس کے یہاں اس طرح مرتب ہوتے ہیں۔

ہر اک نظر پہ عیاں ہو بقدرِ حَظ طلبی

تمہیں یہ قید سی کاہے کو پیرہن کی ہے

بھلا سکے نہ وہ پل اس کے قرب کا ماجد

جب اپنا ہاتھ اندھیرے میں پرنیاں پر تھا

لطفِ باہم سے ہوئے وصل میں سرشار بہت

جرعۂ قرب سے اُس کے گئے آزار بہت

بدن اس شوخ کا اک بھید سا ہے

مگر یہ بھید مجھ پر کھل چکا ہے

’’تمازتیں ‘‘ میں سے چند اشعار خصوصی طور پر قابل مطالعہ ہیں۔

ہاں وہی دن کہ مرے حکم میں تھا تیرا بدن

جانے کب لوٹ کے آئیں وہ زمانے میرے

یہ تنہا روی ترک کر دو کہ اس میں فقط ٹھوکریں ہیں

مکرر جسے جسم چاہے کوئی ضرب ایسی بھی کھاؤ

لباس ابر بھی اترا مہ بدن سے تیرے

حجاب جو بھی تھے حائل اٹھا دیئے تو نے

نظر میں تازگی عریانی ء جمال کی تھی

لہو میں تلخی ء شیریں دم وصال کی تھی

طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن

مزہ تھا اس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی

وگرنہ تجھ سا طرح دار مانتا کب تھا

جو اس میں تھی تو کرامت مرے سوال کی تھی

کسی افق کو تو ہم تم بھی دیں جنم آخر

یہ آسمان و زمیں بھی کسی جگہ تو ملیں

کچھ اسے بھی ناز محبوبی کا نشہ ہے بہت

کچھ طبیعت ان دنوں اپنی بھی آمادہ نہیں

یہ تعلق جو طبیعت کی آمادگی پر منحصر ہے صرف اور صرف بدن ہی کا سفر ہے۔

کچھ ایسی چاہ ہمیں ہی نہیں ہے بھنوروں سی

بدن ملا ہے تمہیں بھی تو گلشنوں جیسا

سو شاعر کے ماضی کی یادوں میں آج کے توانا سہاروں میں جسم کے لطف کی لذیذ یادیں جا بہ جا ملتی ہیں۔

خوشبو میں غوطہ زن تھے نہائے تھے نور میں

کس درجہ ہم تھے غرق بدن کے سرور میں

وہ کہ جس کی دید کا ہے ذائقہ کچھ اور ہی

شہد کا چھتا نظر آئی لباس تنگ میں

’’تمازتیں ‘‘ کی یہ شاعری چند دنوں میں پوری کتاب بنا گئی مگر جسم اور لذتِ جسم والا رویّہ شاعر کے ہاں ’’ہوا کا تخت‘‘ ’’سخناب‘‘ ’’غزل سرا‘‘اور ’’آغاز‘‘ غرض سب غزلیہ مجموعوں میں برابر موجود ہے۔ اس لئے کہ یہ رویّہ شاعر کے تصور جمال سے اوّل سے آخر تک مربوط ہے۔

زبان اور اظہار کی اس ساری تنہا روی کے باوصف اور اعتماد کے اس سارے حوالوں کے بغیر جو روایت کا تعلق عطا کرتا ہے ماجد کا تخلیقی عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ ماجد کے اس قدرے نمایاں پہلو سے ہٹ کر غزل سرا کا قاری ایک اور ہی طرح کے جہاں معنی کھو کر رہ جاتا ہے۔ اس لئے کہ کون ہے جو ’’غزل سرا‘‘ کے اس طرح کے بے شمار اشعار سے صرف نظر کر سکتا ہے۔

پوچھا یہ کس نے حال مری بود و باش کا

چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنور میں

ہوئی ہے دم بخود یوں خلق جیسے

کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے

ڈوب کے مرنے والوں کی فہرست لئے

تختہ سا اک جھیل کنارے آن لگا

آجر سوچے دیکھ کے تن مزدوروں کے

کتنا سونا نکلے گا ان کانوں سے

جو بھی قیمت ہے کسی کی وہ جبیں پر لکھ لے

یہ منادی بھی سر شہر کرائی جائے

کسی عمارت پہ لوح کم مائگاں نہ لٹکے

بڑے بڑوں ہی کے نام یہ انتساب دیکھا

دم بہ خود اتنا بھی ہو ماجد نہ جلتی دھوپ سے

آسماں پر دیکھ وہ بدلی سے اک چھانے لگی

ذہانت کی چاندنی کا کھلیان از سید ضمیر جعفری

پروفیسر ماجد صدیقی کی 4تصانیف (سروِ نور، سچ سہاگ، اُچیچ  اور تمازتیں ) حال ہی میں منظر عام پر آئی ہیں۔ سرو نور نعت و منقبت کا مجموعہ ہے۔ ’’تمازتیں ‘‘ ان کی تازہ اردو غزلیات کا خرمن ہے اور سچ سہاگ اور اُچیچ  ماجد کے حسین و متین پنجابی شعری مجموعے ہیں۔ اس حساب سے اب تک ان کی گیارہ تصانیف (اردو پنجابی) منظر عام پر آ چکی ہیں بلکہ اگر ان کی ایک کتاب کو جس کا نام۔ ۔ ۔ ’’چار کتابیں ‘‘ ہے۔ اس کے نام کے مطابق اعداد اور نمبر دیئے جائیں تو ماجد صدیقی کی شائع شدہ تصانیف کی تعداد پندرہ ہو جاتی ہے اور ترجمے کی پانچ کتابیں ان پر مستزاد ہیں گویا چالیس سال کی عمر میں ماجد صدیقی بیس شعری و نثری مجموعوں کے منصف ہو چکے ہیں۔ مصنف ہونا بجائے خود ایک سعادت ہے لیکن ’’تمازتیں ‘‘ کا مصنف ہونا اور ہی بات ہے چند اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

ہے جسم سے جسم کا سخن کیا

یہ بزم کبھی سجا کے دیکھو

ہالہ ہے کہ اس کا ہے گریباں

مطلع ہے کہ اس کی آستیں ہے

نظر میں تازگی عریانی جمال کی تھی

لہو میں تلخئی شیریں دم وصال کی تھی

طلوع میں بھی مرے شوخیاں تو تھیں لیکن

مزہ تھا اس میں جو ساعت مرے زوال کی تھی

جب بھی دیکھوں یہ فلک ابر ہٹا کر دیکھوں

میں بدن کا ترے کھلتا ہوا منظر دیکھوں

اوج کے لمس سے پہنچوں بہ سرچشمہ ء لطف

پر جو ایدھر سے اتر پاؤں تو اودھر دیکھوں

اپنے بدن کے لمس کی تبلیغ دیکھنا

ہم سحر آؤری کے پرستار ہو گئے

ہر لطف ہے اس میں ہر مزہ ہے

ماجد کی غزل ہے کیوں نہ گاؤں

کرکٹ کے میدان میں ماجد خان اور اب ادب کے میدان میں پروفیسر ماجد صدیقی دھڑا دھڑ ’’رنزیں ‘‘ بنا رہے ہیں اور زور صرف ’’دھڑا دھڑ‘ پر ہی نہیں۔ دونوں کی کشش ان کے اسٹائل میں مضمر ہے۔ جس طرح ماجد خان۔ ’’رنزیں ‘‘ بھی بہت بناتے ہیں اور کھیلتے بھی ستھرا ہیں اسی طرح ماجد صدیقی صرف بہت ہی نہیں بلکہ بہت اچھا بھی لکھتے ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ ان جیسا بہت لکھنے والا اور بہت اچھا لکھنے والا۔ ۔ ۔ بہت کم نظر آئے گا کہ نہ تخلیق کا اتنا بڑا الاؤ ہر شخص کو دیعت ہوتا ہے جو فطرت نے ماجد کو بخشا ہے اور نہ ہر شخص۔ ۔ ۔ ماجد کی طرح ادب کے لئے زندگی سے جلاوطن ہونے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اگر میں ماجد کے بچوں سے ملا نہ ہوتا تو میں اس کو ہرگز شادی شدہ تک تسلیم نہ کرتا۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ پڑھانے، پڑھنے اور لکھنے اور اپنے لکھے ہئے کو چھپوانے کے علاوہ کوئی اور کام کس وقت کرتا ہے۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے۔ گیسوئے سخن کی آرائش کے سوا اس نے زندگی کی ہر آرائش اپنے اوپر حرام کر رکھی ہے۔ شعر و سخن کے گیسو سنوارنے میں وہ اس قدر منہمک رہتا ہے کہ خود اس کے اپنے گیسو طویل ہونے کے ساتھ ساتھ علیل بھی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ماجد کا طرۂ امیاز صرف محنت اور لگن ہی نہیں ہے۔ وہ ذہانت کی چاندنی کا کھلیان بھی ہے اس کی خوبصورت کتابیں جہاں کتابوں کے شیلف کو دلہن بنا دیتی ہیں وہاں نہاں خانئہ دل کو بھی روشنی بخشتی ہیں۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے تاریکیوں کے خلاف جہاد میں مصروف ہے اور جہاں جہاں ماجد صدیقی کا مورچہ قائم ہے اہل نظر وہاں وہاں سے تاریکی کو پسپا ہوتا دیکھ رہے ہیں اور یہ قابل رشک مقام کم اہل قلم کو نصیب ہوتا ہے۔

اجتماعی محاکمے کی شاعری از جمیل آذر

بسیار گو عمیق فکر شاعر ماجد صدیقی ہمارے اردو شاعری کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو رواں صدی کی ساٹھ کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ابدی افق پر طلوع ہوئی تھی۔ ساٹھ کی دہائی ہمارے اردو ادب میں بہت اہمیت کی حامل ہے۔ سیاسی طور پر جمہوریت کی قدروں کو پائمال کر کے آمریت کا دیو استبداد ہمارے سروں پر مسلط ہو گیا تھا استحصالی قوتوں نے عوام کے مفاد کو مجروح کر دیا تھا۔ پابندیٔ اظہار نے لوگوں کی زبانوں پر تالے لگا دیئے تھے عدل و انصاف کا خون ہو رہا تھا۔ ان حالات میں نیا افسانہ، نئے علامتی رنگ میں وقوع پذیر ہوا ناراض نوجوانوں کا غلغلہ عام ہوا۔ ماجد صدیقی نے انہی واقعات کے منظر نامے میں اپنی شاعری کا چراغ روشن کیا جو تا حال فروزاں ہے اور جس کی منور لَو ہمیں زندگی کی تاریک راہوں میں منزل نمائی کا کام دے رہی ہے۔ ماجد صدیقی نے ان تمام حقائق کو ایک باشعور حساس مدبر ذی ہوش فرد کی حیثیت سے بنظرِ غائر دیکھا اور محسوس کیا۔ وہ نہ تو ان حالات و واقعات سے دل برداشتہ ہو کر آنسو بہانے میں مصروف ہوا اور نہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہو کر ناراض نوجوانوں کی صف میں شامل ہوا۔ اس نے ایک سچے اور کھرے شاعر کی حیثیت سے اپنے مشاہدات اور تجربات کو فن کی بھٹی میں پکا کر غزلوں اور نظموں کی شکل میں پیش کیا۔ اس اظہارِ فن میں اس نے کسی ابہام ناقابل فہم استعاروں اور لایعنی علامتوں کا سہارا لے کر نہ تو قاری کو خوف زدہ کیا اور نہ مرعوب کیا۔ اس نے غزل کی خالص کلاسیکی روایت کو اپنے عصری پسِ منظر میں رکھ کر آگے بڑھایا۔ اس کے ہاں غزل کی وہ خاص خصوصیت ہے جسے وزیر آغا نے یوں کہا ہے:۔ 

’’غزل کی امتیازی خصوصیت تخلیقی مطالعہ نہیں بلکہ اجتماعی محاکمہ ہے۔ ‘‘

ماجد صدیقی کی غزل میں وہی اجتماعی محاکمہ ہے جو ہمیں میر تقی میر، میر درد، آتش، غالب، اقبال، فیض کے ہاں ملتا ہے۔ جس طرح غزل ان شعراء کے ہاں ان کے سماجی اور سیاسی ماحول کی آئینہ دار ہے۔ اسی طرح ماجد صدیقی کی غزل اس کے اپنے ماحول کی مکمل طور پر ترجمانی و عکاسی کرتی ہے۔ 

سخناب ماجد صدیقی کی غزلوں کا تازہ مجموعہ کلام ہے جو گذشتہ سال آسمان ادب پر روشن ستارے کی طرح طلوع ہوا۔ پیشتر ازیں وہ کم و بیش پچیس تصانیف کا خالق ہے۔ اس کی تصانیف میں غزلیں، نظمیں، نعتیں، نوحے اور نثر پارے تک شامل ہیں۔ وہ پنجابی اور اُردو دونوں زبانوں میں اپنا کلام کہنے پر یدِ طولیٰ رکھتا ہے سخناب کی غزلوں کی روشنی میں جب میں اس کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے ان میں سیاسی، اقتصادی، معاشرتی اور اخلاقی طور پر اجتماعی محاکمہ اور محاسبہ ہی نہیں بلکہ پورا اجتماعی کرب اور دکھ کی دلدوز تصویریں اور دلفگار آوازیں ملتی ہیں۔ یوں وہ اپنے ذاتی دکھ اور المیے کو عظیم اجتماعی المیے اور درد کے پسِ منظر میں رکھ کر اپنے احساسات کو سبک سار کر لیتا ہے۔ وہ اپنی ذات کو کُل سے علیحدہ کر کے نہیں بلکہ کُل کے ساتھ مطابقت کر کے دیکھتا ہے اس لئے اس کے ہاں جھنجھلاہٹ کی جگہ ٹھہراؤ، اور رکھ رکھاؤ۔ جمالیاتی سبھاؤ وقار سنجیدگی اور متانت کا رنگ غالب ہے وہ زندگی کو میر تقی میر کی فقیرانہ شان، اقبال کی قلندرانہ آن کے ساتھ روحانی بلندی سے دیکھتا ہے اسے اپنے فقر و غنا پر بھروسہ بھی ہے اور ناز بھی۔ 

شاہی بھی قربان ہو اس پر

ماجد کو جو فقر ملا ہے

اس عظیم فقر کی معراج پر پہنچ کر ماجد زندگی کا بھرپور مشاہدہ و محاکمہ کرتا ہے۔ وہ بیک وقت سماجی زندگی سے وابستہ بھی ہے اور سے غیر وابستہ بھی۔ اس لئے اس کے ہاں محاکاتی عمل بہت نمایاں ہے وہ معاشرے کے دکھ اور کرب کو اپنے لہو میں گردش کرتا ہوا محسوس کرتا ہے اور جب وہ ان تمام تجربات و مشاہدات کو غزل کے نازک آبگینوں میں پیش کرتا ہے تو ہم سب کے دل کی آواز بن جاتا ہے وہ معاشرے کا نباض، مفسر اور ترجمان بن کر استحصالی کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر جہد للبقا (Survival of the fittest)کے خوف ناک ڈرامے کو دیکھتا ہے اور ہمیں یہ تمام بھیانک تصویریں دکھا کر ہماری سوچ کے اُفق کو کشادہ کرتا ہے وہ ہماری فکری نظر کو اس بے رحم کشمکش کی طرف منعطف کرتا ہے جس میں ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو لقمۂ تر بناتی ہے جس میں امیر غریب کو اور حاکم محکوم کو اور طاقت ور کمزور کو اپنا نخچیر بناتا ہے۔ انسانی اخلاقی اقدار کے مٹتے ہوئے کرب انگیز مناظر کو ماجد صدیقی اپنے اشعار کا موضوع بناتا ہے چند اشعار مُشتِ نمونہ از خروارے کے طور پر ملاحظہ کیجئے۔ 

دیکھی جہاں کہیں بھی کوئی جانِ نا تواں 

پنجہ وہیں پہ آ کے پڑا ہے عقاب کا

اپنی چال سلامت رکھتے

شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے

بن کر کالی رات وہ دیکھو

کوا چڑیا پر جھپٹتا ہے

ہم بھلا تصویر کیا کھینچیں گرفتِ وقت کی

سانپ چڑیا کو سلامت ہی نِگل جانے لگا

اس خوف ناک ڈرامے میں جب وہ عدل و انصاف کا خون ہوتے دیکھتا ہے تو بے اختیار بول اٹھتا ہے۔ 

کمال فن ہے یہی عہد نو کے منصف کا

کہ جو پکار بھی اٹھی کہیں دبا دی ہے

ماجد صدیقی بنیادی طور پر کلاسیکی مزاج کا حامل شاعر ہے اسی لئے اس کے ہاں ایک ٹھہراؤ ہے۔ نظم و ضبط اور حُسنِ تناسب ہے۔ اس کی شاعری قوتِ حیات سے لبریز اور فکر انگیز ہے اس کے ہاں نہ کوئی انقلابی نعرہ بازی ہے اور نہ ہی رومانی انداز جمال پسندی اور نہ تخیلی پیکر تراشی ہے وہ کسی سیاسی نظریاتی گروہ سے وابستہ بھی نہیں۔ اسی لئے وہ اپنے موضوعات کو نہ تو رومانوی پیراہن پہناتا ہے اور نہ انہیں جمالیاتی رنگ ریزی سے معنی خیز بناتا ہے وہ شاعری کو افکار و جذبات کی ترسیل مؤثر حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے اگر اس کے سامنے کوئی انقلابی سیاسی نظریہ ہوتا تو شاید اہل وطن اس کے محبوب ہوتے، حاکم وقت رقیب اور خود عاشق کے رُوپ میں جلوہ گر ہو کر موہوم انقلاب کی پھلجھڑیاں چھوڑتا۔ وہ تو پیغمبرانہ صفات اور درویشانہ بصیرت کا حامل فنکار ہے جو عصری حقیقتوں کا وجدانی ادراک کر کے انہیں اپنے اشعار میں ڈھالتا ہے۔ اس کی شعری کائنات ہمیں گہرے لمحاتِ فکر عطا کرتی ہے ہماری نظر کو وسعت آشنا اور ضمیر کو بیدار کرتی ہے اس کے ہاں استحصالی آندھی اور جابر قوتوں کے جو پیکر ابھرتے ہیں ان میں بلی، بھیڑیا، عقاب، چیل، شیر اور مار خاص طور پر قابل ذکر ہیں اس طرح مظلوم و مقہور طبقہ سے منسلک افراد کے لئے اس کے ہاں تیتر، چڑیا، ہرن اور کبوتر جیسے پیکر اُبھرتے ہیں یہ تمام نسلیں ماجد صدیقی کے شعری وجدان کی تخلیق ہیں۔ اور انفرادی شان کی غماز ہیں۔ 

گذشتہ کئی برسوں سے سیاسی منظر نامہ پر جو تاریک گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں اور جس کی زد میں اظہار و بیان کے جو سانچے آئے اس طرف کس خوب صورتی اور فنکاری سے ماجد ہماری توجہ منعطف کراتا ہے۔ 

ہے تقاضا کہ بات کرنے کو

چھلنیاں حلق میں لگائیں ہم

حلق میں چھلنیاں لگانے کی ترکیب بالکل نئی اور انوکھی ہے۔ شعری لطافتوں اور نزاکتوں کا شعور ماجد کے ہاں بدرجہ اَتم ہے۔ ماجد صدیقی کے شعری چراغ کی لَو اگرچہ بہت نرم اور دھیمی ہے لیکن دھیرے دھیرے بلندی کی طرف مائل ہے۔ کون جانے کہ یہ لَو کب شعلہ اور جوالا میں تبدیل ہو جائے۔ 

جداگانہ ذائقے کی حامل اردو غزل از ڈاکٹر توصیف تبسم

شاعری ایک سماجی عمل ہے ہر شاعر اپنی شاعری کے لئے خام مواد گرد و پیش ہی سے حاصل کرتا ہے نظر کے سامنے پھیلے ہوئے مناظر کی سختی جب شاعر کی شخصیت میں ڈھل جاتی ہے تو عکس اصل سے بھی زیادہ خوب صورت محسوس ہونے لگتا ہے اور ماجد صدیقی کی غزل اپنے وسیع تر مفہوم میں اسی طرح کا ایک سماجی عمل ہے۔

جیسے ہر شاعر کا شعر ہوتا ہے مگر وہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے سماجی شعور ماجد کے شعروں میں اس درجہ کار فرما نظر آتا ہے کہ ہم اسے اس کی غزل کا ایک ممتاز رجحان قرار دے سکتے ہیں، ماجد صدیقی نے صنف غزل ہی کو ذہنی و جذباتی اکتشافات کا وسیلہ بنایا ہے غزل دراصل ایک گریباں گیر صنف سخن ہے جو اس وقت خوب پنپتی ہے جب معاشرہ کسی بحران سے دوچار ہو غزل کی پوری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ معاشرے میں ٹھہراؤ اور سکون کی کیفیت جب بھی پیدا ہوئی غزل کا داخلی سوز بجھ کے رہ گیا اور وہ زیادہ سے زیادہ بازی گروں اور کرتب دکھانے والوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن کے رہ گئی مگر ماجد صدیقی کی غزل میں یہ سماجی شعور محض وطن کے سیاسی منظر نامے تک محدود نہیں بلکہ اپنے وسیع تر تناظر میں پوری زندگی پر چھایا ہوا دکھائی دیتا ہے ماجد کی غزل کا اپنا ایک جداگانہ ذائقہ ہے غزل کے ایمائی اسلوب کے ساتھ ساتھ خارجی حقائق کے بیان اور شاعر کے لہجے کی گداختگی ایسے عناصر ہیں جنہوں نے اس کی غزل کی خارجیت اور داخلیت کی خوشگوار آمیزش کے پہلو بہ پہلو غزل نظم اور گیت تینوں اصناف شاعری کو ایک وحدت بنا دیا ہے ماجد صدیقی کے قدم افادہ کی زمین پر جمے ہوئے ہیں شعر اس کی بوطیقا میں محض تفریح کا ذریعہ نہیں افلاطون کے سامنے اگر ایسی شاعری ہوتی تو اپنی مثالی ریاست سے شاعروں کو جلا وطن کرنے کا حکم وہ کبھی نہ دیتا۔

ماجد صدیقی ہمارا شاعر از ساجد علوی

انسان کے مزاج کی پرداخت اور کردار کی تعمیر میں اس کے گردو پیش کا غیر معمولی عمل دخل ہوتا ہے۔ بچپنے کے گہرے نقوش ذہن کی سوچ پر مرتسم ہوتے رہتے ہیں۔ جو جوانی کے دور میں اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ ذہن میں محفوظ شدہ مدھم تصویریں کانکریٹ صورت میں کھل کر ظاہر ہونے کے لئے بے تاب ہوتی ہیں۔ بلبلوں کے نغمے، قمریوں کی کوکو، خمروں کی حق سرائی، ’’واہن‘‘ یعنی نغموں کی آبشار کی گونج یہ وہ سماعت نواز صدائیں تھیں جن سے ماجد صدیقی کے کان بچپنے ہی سے خوب آشنا تھے۔ باغات کے پھلوں، پھولوں کے بوسے لینے والی ہوا ہر صبح ماجد کو خوشبوؤں کے تحفے پیش کرتی۔ نغموں اور خوشبوؤں کا ایک قریہ ماجد کے سامنے حسن فطرت کے بے شمار حسین و جمیل مناظر کی ایک ضخیم البم تھی جو ہر لحظہ ماجد کی آنکھوں کے سامنے کھلی رہتی تھی۔ ان پہاڑوں، ان پُر لطف وادیوں میں گھومنے پھرنے والے حساس انسان کو حسن فطرت سے کس درجہ آشنائی اور موانست ہو گی۔ یہ اس کا دل اور اس کا دماغ ہی جانتا ہے۔ یہی وہ البم ہے جو ماجد کے مشاہدات کے مجموعے کی تمہید ہے۔ جہاں ماجد پر حسن فطرت کی آغوش وا ہوئی۔ وہاں قدرت نے سوز و گداز کا پیکر اس کی شفیق ماں اسے عطا
کی۔ یہ خاتون اپنے پہلو میں سرور کائنات کے عشق کی آگ رکھتی تھی۔ اس آگ میں اس خاتون کا پہلو دن رات دہکتا رہا۔ اس کی آنکھوں کی پلکیں اکثر بھیگی رہتیں صوم و صلوٰۃ کی پابندی اس کا شعار تھا۔ اور عشقِ رسولؐ اس خاتون کے ایمان کی جان۔ آخری دم تک ماجد کی ماں کی زندگی اسی روش پر رواں رہی۔ پیری سے جسم لاغر و نا تواں تھا۔ مگر عشقِ رسولؐ تھا کہ روز بروز فزوں تر، ماجد کے سر پر اس عظیم خاتون کا مشفقانہ ہاتھ تھا۔ گرد و پیش نے اسے نغمے اور خوشبوئیں بخشیں تو اس کی ماں کے دودھ نے ماجد کو سوز و گداز کی گراں مایہ متاع عطا کی۔

ہم آپ آج جسے ماجد صدیقی کہتے ہیں اس کی ماں اسے عاشق حسین کہہ کر پکارتی تھی۔ ہمارا شاعر اب پانچ بچوں کا باپ ہے۔ مگر اس کی ماں جس کی آنکھوں میں گہری چمک تھی۔ جب بھی ماجد کو تیز نگاہوں سے دیکھتی تو یہ سہم جاتا کبھی کبھی اس کے سامنے رو بھی دیتا اور بے اختیار اپنی ماں کے ہاتھ چومنے لگ جاتا۔

آج سے تقریباً 27برس قبل میں نے ماجد کو پہلی بار دیکھا وہ میٹھے سروں میں ماہیا گانے کے باعث اپنے احباب کے حلقے کا امام تھا۔ حالی کی نظم ’’وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا‘‘ ماجد اپنی آنکھیں بند کئے وجد آفریں لہجے میں گایا کرتا تھا۔ یہ اس کی اپنی پسند کی نظم تھی۔ جو یقیناً ماجد کے قلبی گداز کی عکاس تھی۔ ماجد کے ’’ماہیا‘‘ کے متاثرین میں ایک میں بھی تھا۔ ابھی ہمارا شاعر، شاعر کی حیثیت سے ہمارے سامنے نہیں آیا تھا لیکن مجھے اس قدر محسوس ہو چلا تھا کہ اس کے اندر شاعر چھپ کر بیٹھا ہے۔ پہاڑ کے اندر کا لاوا کسی دن پھوٹے گا۔

ہمارا شاعر جس حیرت انگیز انداز سے اچانک شاعر کی حیثیت سے سامنے آیا وہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 1954ء کا برس تھا۔ روزنامہ تعمیر راولپنڈی سے خوب دھوم دھڑلے کے ساتھ شائع ہوتا تھا۔ مکرمی محمد فاضل مدیر اخبار کی جانب سے مجھے ایک ’’ٹیلی گرام نما‘‘ خط موصول ہوا۔ کہ عیدِ میلاد النبیؐ کا خصوصی نمبر شائع کیا جانے والا ہے جس کے سلسلہ میں اخبار کو میری قلمی معاونت کی ضرورت ہے۔ میں نے دوسرے روز نعتیہ نظم بھجوا دی۔ میں نے یہ نظم ماجد کے خوش نویس ہاتھ سے لکھوائی تھی۔ عیدِ میلاد النبیؐ نمبر چھپ کر سامنے آیا۔ جس میں میری نظم شامل تھی مگر ایک گوشے میں ایک اور خوبصورت سی نظم آخری صفحے کی زینت تھی جس کا مصنف عاشق حسین صدف تھا۔ عاشق حسین نام پڑھ کر مجھے یقین آگیا کہ یہ وہی ہے جس کے متعلق اب تک یہی معلوم تھا کہ وہ صرف ماہیا گاتا ہے۔

ہمارے شاعر کی یہ پہلی نظم تھی جو کسی معروف شاعر کی تصنیف معلوم ہوتی تھی۔ ’’صدف‘‘ تخلص ماجد کا اپنا تجویز کردہ تھا۔ چند روز بعد قاضی عبد السلام صاحب ریٹائرڈ انسپکٹر آف سکولز نے ہمیں اکٹھا آتے دیکھا تو فرمانے لگے آج ساجد ماجد کیسے آئے۔ اسی وقت سے عاشق حسین مستقل طور پر ماجد بن گئے۔ ماجد شعر گوئی میں یک لخت تیز ہو گیا۔ مجھے جہاں کہیں اس کے شعر میں جھول یا ڈھیلے پن کا احساس ہوتا میں اسے کھینچ دیا کرتا اگر ماجد سے کوئی پوچھتا کہ فنِ شعر میں آپ کے استاد کون ہیں تو وہ انجانے پن میں جھٹ سے میرا نام لے لیا کرتا۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے۔ کہ شعر گوئی کے فن میں ماجد کا کوئی استاد نہیں۔

سطور بالا میں میں نے جس نعتیہ نظم کی اشاعت کا ذکر کیا ہے وہ ماجد کی شاعری کا سنگِ بنیاد تھا۔ اس نظم کے چھپ جانے سے ہمارے شاعر کو خاصا حوصلہ نصیب ہوا۔ اب وہ باقاعدگی سے ادبی جرائد و رسائل اور اخبارات کا مطالعہ کرنے لگا۔ غزل کہتا یا نظم روزنامہ تعمیر کی نذر کر دیتا۔ روزنامہ تعمیر نے ماجد کے ذوقِ شعر گوئی کی تعمیر میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ تعمیر میں چھپ چھپ کر جب ماجد کی تشنگی کم ہونے لگی تو اس نے امروز کا رخ کیا ان دنوں امروز کا ہفتہ وار ادبی ایڈیشن ملک کے ادبی حلقوں میں شوق سے پڑھا جاتا تھا۔

گنتی کے چند شعراء کے علاوہ، باقی تمام سخنوروں میں یکسانیت کی جھلک نظر آتی تھی۔ چند گنی چنی ترکیبیں، تشبیہیں اور استعارے ہر شاعر کے نوک قلم تھیں۔ نیا خیال کسی کو سوجھتا نہ نئی ترکیب اخبارات کے کسی صفحے پر دکھائی دیتی۔ ان دنوں سخنوروں نے اپنی انفرادیت تسلیم کرانے کے لئے نئے نئے جادے اختیار کئے۔ جدا جدا سوچوں کے گُل کھلائے غزلوں کے انبار لگ گئے مگر یوں محسوس ہوتا کہ سب جگالی ہے شعرا چند لفظوں کے حصار کے اندر محبوس تھے۔ وہ اس حبس سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ کہ ایک گوشے سے اختر امام رضوی کی اجنبی سی آواز سنائی دی جس میں بے پناہ کرب تھا۔ احساس کی آگ کا شعلہ تند و تیز تھا الفاظ کی تراش خراش بے حد محنت کا ثبوت مہیا کرتی تھی۔ اختر امام رضوی کی سوچ کا زاویہ بھی مختلف اور منفرد تھا یہ آواز چار سال سنائی دیتی رہی اس کے بعد پھر سننے میں نہیں آئی۔ ماجد نے چند غزلیں اختر امام رضوی کے رنگ میں کہنے کی کوشش کی۔ شاید اسے تقلید پسند نہیں تھی۔ بہر کیف دھند تھی یا کہر ماجد اس راہ پر نہ چل سکا اور جیسے تھک کر بیٹھ گیا اردو کے دوسرے شعراء جو اردو غزل گوئی سے کنی کترانے لگے تھے۔
ماجد بھی اسی صف میں نظر آنے لگا۔ یہ بھی غزل کہنے کے باوجود محسوس کرنے لگا کہ یہ سعیِٔ بے حاصل ہے۔ وہ افسردہ تھا۔ بے چین تھا اور کرب میں مبتلا کہ انہی ایام میں ماجد کی منو بھائی سے ملاقات ہوئی مُنّو بھائی صحافت کی دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور پنجابی شاعری میں بے مثال آواز، اسی صحافی شاعر سے ماجد کی دوستی دوسرے الفاظ میں پنجابی شاعری سے دوستی کا آغاز تھا ان دنوں میں نے اپنی کتاب ’’من دی موج‘‘ کی کتابت و اشاعت کا سارا کام ماجد کے سپرد کر رکھا تھا جس کے سلسلے میں ہمارا شاعر کئی کئی روز تک راولپنڈی میں منو بھائی کے یہاں قیام پذیر رہتا ادبی مباحث میں شریک ہوتا اور اس کے شعری نظریات و اعتقادات سے بھرپور استفادہ کرتا۔ منو بھائی سے ملاقات نے ماجد پر اردو غزل گوئی کا دروازہ بند کر دیا تھا۔ ایک دروازہ بند ہو تو دوسرا کھلتا ہے اب اردو کی بجائے ماجد پر پنجابی غزل کی راہیں کھل گئیں۔ ہمارے شاعر کے ذہن میں پنجابی کلچر کے احوال و مشاہدات تہ در تہ مجتمع تھے اس کے پہلو میں کرب انگیز محسوسات کا لاوا اُبل رہا تھا۔ اس کی آنکھ خوب و ناخوب کی خوب خوب تمیز کرتی۔ جمال و حسن کی رعنائیاں اسے اپنی سمت
کھینچتیں مگر وہ بوڑھوں کی طرح خاموش رہنے لگ گیا اس نے کئی سال احباب سے کنارہ کشی میں گزارے وہ خود خاموش تھا مگر اب اس کی بجائے اس کا قلم بولنے لگا تھا۔ بھارت اور پاکستان کے پنجابی رسائل و جرائد میں اس کا کلام شائع ہونے لگا۔ کل ریڈیو پر فیچر تھا تو آج گیت ہے۔ اور چار دن بعد مشاعرے میں شرکت ہے اب اس کے شب و روز سر بسر ادبی ہنگاموں کی نذر ہوتے ماجد کے بے تکلف احباب میں اس کے ’’رت جگے‘‘ ایک داستان بنے ہوئے ہیں۔ ایک دن ماجد نے خود انکشاف کیا کہ اس نے کسی کتاب یا کسی شخص سے اتنا استفادہ نہیں کیا جتنا کہ رت جگوں نے اس کے دل کو گداز اور دماغ کو منور کیا ہے۔ میرے یہاں کئی کئی روز تک رکتا راتوں جاگتا۔ دن ہنگاموں میں بسر کرتا اس کی نیند کا حساب کتاب آج تک مجھ سے مخفی ہے۔ وہ رت جگوں سے نشہ حاصل کرتا ہے۔ اور رت جگے اسے سرشاری بخشتے ہیں۔

منو سے ماجد کی ملاقات اور پنجابی شاعری میں اس کے انہماک کا ذکر ہو رہا تھا پنجابی میں ماجد جس کرب اور اذیت کا شکار تھا اسے وہ اپنے قلم کے ذریعہ سینے سے صفحہ قرطاس پر منتقل کر رہا تھا۔ اس دور میں ماجد نے بہت کچھ کہا اور جو کہا۔ سب واقعیت کی خوبصورت اور رنگین تصویریں ہیں۔ ہمارے شاعر کے پنجابی موضوعات، معاشرتی، ناہمواری، اقتصادی بدحالی، معاشی الجھنوں، نفسیاتی مسائل، انسانی جوہر کی قدر نا شناسی، دنیا کے دکھ درد، اخلاقی اقدار کی پائمالی، حسن و عشق کے نازک و لطیف معاملات اور حسن فطرت کی رعنائی پر مشتمل ہیں۔ ایک ایک تشبیہہ کو تین تین چار چار تشبیہوں سے ایک ہی جست میں واضح کرنا رواں دوں بحریں خوبصورت کسے ہوئے الفاظ کا بہاؤ پنجابی کلچر کی تصویریں اور ان میں تجربہ و مشاہدہ کی قوس ِ قزح کے سے رنگ، زور بیان اور زبان پر ماہرانہ گرفت ماجد کی فنی خصوصیات میں شامل ہیں۔

ماجد پر ایک بار پھر اردو غزل گوئی کا دروازہ کھل گیا۔ اسے دوبارہ اردو غزل گوئی کی طرف راغب کرنے والی اس کی پنجابی شاعری ہے۔ پنجابی شاعری نے اس کے قلم کو جو قدرتیں اور ثروتیں عطا کیں۔ اب انہیں وہ اردو غزل گوئی پر نچھاور کرنے کے لئے بے تاب ہو گیا۔ اب ماجد کی پنجابی شاعری سستانے لگی۔ اس کی تمام تر توجہ اردو غزل گوئی پر مرکوز ہو گئی۔ ماجد کے سینے میں ایک بار پھر گویا لاوا پھوٹا۔ اس نے بے حجابانہ اردو غزل گوئی سے آنکھ لڑائی ماجد کی اردو غزل گوئی سے یوں تو دیرینہ آشنائی تھی مگر ان کے درمیان حجابات حائل تھے۔ جب پنجابی شاعری نے ان حجابات کو اٹھانے میں اپنا ہاتھ بڑھایا۔ تو ماجد اور اردو غزل گوئی دونوں ہم کنار ہو گئے۔ ماجد کے نزدیک اردو غزل محبوب صنف شاعری ہے اور اردو غزل کے نزدیک ماجد محبوب غزل گو شاعر ہے۔

ماجد صدّیقی کی پنجابی غزل از ریاض مجید

نئی پنجابی غزل کا ابتدائی کھوج لگانے کے لئے ہمیں بہت دور نہیں جانا پڑتا۔ پچھلی ربع صدی میں پانچ چھ ایسے نام ہمارے سامنے آتے ہیں جنہوں نے پرانی روش سے ہٹ کر پنجابی غزل کو ایک نئی اور نرول راہ سُجھائی ہے غزل کو آج کی زبان دی ہے اور اسے دور جدید کے فکر و خیال کے اظہار کے قابل بنایا ہے۔ ان شاعروں نے زمیں پر رہتے ہوئے زمین کی باتیں کی ہیں۔ اپنے عہد سے آنکھیں نہیں چرائیں یہ وہ صاحب اِدراک سخن ور ہیں جو پنجابی غزل کو اس مقام تک لے آئے ہیں جو مقام عصر حاضر کی اردو غزل کو حاصل ہے۔

 

 اس امر سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ اردو کے مقابلے میں اہلِ پنجاب کی مادری زبان پنجابی کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی اولاد جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ جہاں تک اردو غزل کا تعلق ہے۔ اسے لکھاری بھی بہت ملے ہیں اور سرکاری سطح پر بھی ہمیشہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ پنجابی زبان عوامی قصّوں اور لوک کہانیوں سے کبھی تجاوز نہیں کر سکی مگر اب وہ وقت آ گیا ہے جب پنجابی غزل کو اردو غزل کے برابر لانے کی سنجیدہ کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجابی لکھنے والوں نے پنجابی غزل کو۔ ۔ ۔ ۔ نیا لب و لہجہ دیتے ہوئے فکر و خیال کے اعتبار سے بھی اسے اردو غزل کے برابر لا کھڑا کیا ہے اور اگر تنگ نظری سے کام نہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہماری موجودہ پنجابی غزل اردو غزل کے ساتھ کندھا ملا کر چلنے کے قابل ہو چلی ہے۔

 

 اردو غزل کی طرح پنجابی غزل پر بھی ابتدا ہی سے فارسی زبان و ادب کی چھاپ چلی آ رہی ہے وہی گل و بلبل اور زلف و رخسار کی باتیں زندگی سے ہٹ کر فکر و خیال کے تجربے اور ہوائی کہانیوں کا بیان پنجابی غزل کے موضوعات میں بھی شامل رہے ہیں اور بہت کم شاعر ایسے ہیں جنہوں نے پنجابی غزل کو نئے آہنگ سے ہمکنار کیا ہو۔

 

 اب جبکہ پنجابی غزل کے آنگن میں نئے سورج کی کرنیں پہنچنے لگی ہیں پچھلی ساری کی ساری روایتیں دم توڑتے سایوں کی طرح بھاگتی دِکھائی دیتی ہیں اور فکر جدید کی روشن دھوپ جگہ جگہ پھیلتی جا رہی ہے۔ آج کی پنجابی غزل پڑھتے ہوئے گھٹن کا نہیں بلکہ تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ اس لئے کہ نئے لکھنے والوں نے پنجابی غزل کو وہ معنوی کشادگی دے دی ہے جو اس سے پہلے کبھی اسے میسّر نہیں تھی۔ اِن ہی پنجابی غزل گو شعراء میں ایک نام ماجد صدّیقی کا بھی ہے۔

 

 ماجد صدّیقی کی غزل میں دوسرے جدید شعراء کی طرح انسانی کرب و الم کا اظہار ملتا ہے۔ ماجد وقت اور ماحول کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتا ہے۔ وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کا مواد اپنے آس پاس کے ماحول ہی سے اخذ کرتا ہے۔ ماجد کے دُکھ آج کے عہد کے کسی بھی لکھاری جیسے ہیں جنہیں وہ اپنی پوری کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ ماجد کا خاصہ یہ ہے کہ وہ ہر گزرتی پل کو ٹھونک بجا کر دیکھتا ہے اور اس سے وہی اثر قبول کرتا ہے جو اثر کسی سچے فنکار کو قبول کرنا چاہئے۔

اسماناں دل گھُورے

ماجد دھرتی جایا

 آج کے اہل قلم حضرات کو ایک نہیں لاکھوں دُکھوں کا سامنا ہے۔ اپنی ذات کا دُکھ، زمانے کی بے مہری اور بے حسی کا دُکھ، وقت کی بدلتی قدروں کا دُکھ، ہجومِ خلائق میں جینے بسنے کے باوجود اکیلا ہونے کا دُکھ اور خدا جانے اور کیا کیا دُکھ ہیں جو صاحبِ احساس لوگوں کو اپنے نرغے میں لئے رکھتے ہیں۔

کی غیراں کی اپنیاں کیتا ماجد کی کچھ دسئیے

اِس دل نوں رَل مِل کے سبھناں وار و واری لٹیا

 

 آج کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ دھرتی سے اس کا رشتہ ٹوٹتا دِکھائی دیتا ہے یوں جیسے زمین اُس کے پیروں تلے سے نکلتی جا رہی ہو۔ آسمان اُس کی پہنچ سے دور ہو اور اُسے بار بار اِس احساس کا سامنا ہوتا ہے جیسے وہ خلا میں لٹکتا جا رہا ہے۔ آج کے انسان کا یہی کرب ماجد کے اِس شعر میں ملاحظہ کیجیے۔

خورے کنی وار میں وچ خلاواں لٹکیا

امبر مینتھوں دُور سن دھرتی سی منہ موڑیا

زندگی اور موت کے درمیان یہ طرزِ اظہار اُس دشوار گزار گھاٹی کا بیان ہے جب زندگی تو اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوتی ہے لیکن موت کا آغاز ابھی نہیں ہو پاتا۔ زندگی اور موت کے درمیان یہ ایک گھڑی ایسی گھڑی ہے جسے صدیوں پر بھاری قرار دیا جا سکتا ہے اور اس شعر میں اِس قدر تاثیر اور گہرائی ہے کہ ہر پڑھنے والے کو اِن دو سطروں میں اپنا احساس صاف صاف دھڑکتا سنائی دیتا ہے۔

 

 احمد ندیم قاسمی کا ایک شعر ہے۔ ؎

گو مرے دل کے زخم ذاتی ہیں

اِن کی ٹیسیں تو کائناتی ہیں

 ماجد کے اشعار پڑھتے ہوئے بار بار اِس صداقت کا کشف ہوتا ہے کہ ہر بڑے اور اچھّے لکھاری کی طرح وہ بھی ذات کے کرب کا اظہار ایسے کھرے انداز میں کرتا ہے کہ اس کی بات اُس کی اپنی نہیں رہتی ہماری آپ کی بات بن جاتی ہے۔ ماجد کی غزل میں کرب تو اس کی اپنی ذات کا ہے مگر اُس کی چبھن اُس کے پڑھنے والے بھی محسوس کرتے ہیں۔ ماجد کا فنی کمال یہی ہے کہ اُس نے ہر کسی کو اپنے ذاتی تجربوں میں شامل کر لیا ہے۔ اُس کے اشعار پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی فنی استعداد سے اپنے پڑھنے والوں کو اپنے دل کے بہت قریب لا کھڑا کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماجد کے قارئین اسے لمحہ بہ لمحہ اور زیادہ پیار سے پڑھتے اور اپنے قریب محسوس کرتے ہیں۔

 ماجد کے کرب کا کوئی ایک رُخ نہیں ہے۔ وہ ذات اور کائنات کے روایتی دُکھ سے بھی دوچار ہے اور اپنے عہد کے نئے نویلے دُکھوں سے بھی اپنی ماں دھرتی سے لگاؤ اور اس سے وابستہ سیاسی بے چینیوں کی کڑواہٹ اُس کے شعروں میں جا بجا ملتی ہے۔ اُس کے یہ زخم بہت گہرے ہیں۔ جو اُس کا جینا محال کر دیتے ہیں مگر وہ کیا کرے اِن دُکھوں سے چھٹکارا بھی تو ممکن نہیں ہے۔ شاید اِسی لئے وہ اِس امر کا اظہار اِس طرح کرتا ہے۔

دُکھ متر ہن دوستو نھیریاں کر دے لو

 دنیا نے اُس کی راہوں میں کانٹے بچھا رکھے ہیں۔ اُس کی مسافتوں کو مشکل بنا رکھا ہے اُسے کسی منزل پر نہیں پہنچنے دیتی۔ اُس کی جھولی میں جتنے پھول اور جتنی کلیاں ہیں دنیا نے وہ سارا کچھ لُوٹ لیا ہے۔ اُس کے ساتھ دُنیا کا لٹیروں جیسا سلوک اُس کی شاعری کا ایک نمایاں موضوع ہے جو اِس طرح کے شعروں کے ذریعے ہمیں ماجد کی اندرونی کیفیات سے آگاہ کرتا ہے۔

کنیاں نوں ادھ راہ اِس رکھیا کنیاں نوں اِس لٹیا

فر وی اِس بے مہر زمانے توں نئیں پلہ چھٹیا

 کربِ ذات اور کربِ کائنات کے ساتھ ساتھ ماجد کے شعروں میں یاروں کے دئیے ہوئے دُکھوں کا بیان بھی ملتا ہے۔ مگر قابلِ داد امر یہ ہے کہ ماجد اپنے پیاروں کے دُکھ درد کو بھی بچھڑے ہوؤں کی نشانیاں سمجھتا ہے اور جب بھی اکیلا بیٹھتا ہے ان نشانیوں سے اپنا جی بہلاتا رہتا ہے۔

دُکھ گنیندے اُنگلاں اُتے بہہ کے کلھ مکلھے

ایہو نشانی یاراں دتی ایہو ہتھاں دے چھلے

 ماجد بھی دوسرے لکھاریوں کی طرح اِسی دنیا میں جی بس رہا ہے اُس کے محسوسات دوسروں سے جداگانہ نہیں مگر اندازِ بیان سراسر اُس کا اپنا ہے۔

 

مرزا غالبؔ نے کہا تھا۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

 ماجد کے لئے بھی دُکھ درد کی یہ کڑواہٹ قابلِ برداشت ہو جاتی ہے وہ آلامِ حیات کا عادی ہو جاتا ہے۔ غم و اندوہ اُسے تلخ دُکھائی نہیں دیتے بلکہ کہیں کہیں تو ایسا ہے کہ موت کا احساس بھی اُس کے لئے خوشی کا سامان فراہم کرنے لگتا ہے۔

کل تیکن تے زہر سی دُکھاں دی کڑوان وی

اج میں سمجھاں موت وی ہے اِک جام شراب دا

ورہیاں دے نیلے امبراں تے توں اَئی ٹمکدا تارا

خوشیاں دیا انملیا سمیاں ! پل تے کول کھلو

 زندگی کی مشکلات نے اُس کے حوصلے بلند کر دئیے ہیں اور اب ایسا ہے کہ اِن مشکلات پر قابو پانے کے لئے وہ جان تک کی بازی لگانے سے بھی گھبراتا نہیں ہے۔

 اِس مقام پر لوگ چاہے ماجد کو نادان کہیں یا دانا، ماجد اِس مقام سے بہت آگے نکل آیا ہے اب اُسے نطشے کی طرح ان سچّی حقیقتوں کا عرفان ہو چلا ہے۔ جو کچھ بننے کے لئے انسان کو غم و آلام کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دلاتی ہیں۔ دُکھ درد کے حق میں یہ تصور انتہائی صحت مندانہ تصور ہے جو ذاتِ انسانی کو ترفّع سے ہمکنار کرتا ہے۔ اِسی لئے ماجد اِس طرح کے اعلانات کرنے سے بھی نہیں چُوکتا۔

میرے اندر کالک دُکھ دی میرا مکھڑا چن اشمان

میں آپوں سینہ داغیا مینوں رون مرے ارمان

 اب وہ غم و الم سے گھبراتا نہیں۔ اُنہیں اپنا میت سمجھتا ہے اور کھلے بندوں اُن کا سواگت کرتا ہے۔ اُس کے یہ میت اُس کی راہوں میں جگہ جگہ چراغ اٹھائے کھڑے ہیں اور اُسے قدم قدم پر آگے بڑھنے کا سلیقہ سکھا رہے ہیں۔ ماجد کی شاعری کا یہ پہلو بے حد خوشگوار ہے اِس لئے کہ اُس نے معروف شاعر ’’وان گو‘‘ کی طرح

Suffer without complaint

کو اپنا اصولِ حیات بنا لیا ہے اب اُس پر جو ستم بھی ٹوٹے وہ اُسے خاموشی سے اپنی جان پر سہہ لیتا ہے اور شکایت کے لیے لب تک نہیں کھولتا۔

 اپنے منہ سے موت نہ مانگنا۔ توڑ پھوڑ کے آج کے دَور میں ایک صحت مندانہ علامت ہے۔ یہ وہ عالی ظرفی ہے جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی۔

 ماجد کی چاروں اور آنکھوں سے اندھی چپ اور برف جیسی سرد مہری ہے۔ پھر بھی اسے یہ چاؤ ضرور ہے کہ اُس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی اِس خاموشی کا سحر ٹوٹے اور کسی خوبصورت آواز کا چھناکا اُس کے جینے کی گھڑیوں کو آسان بنا دے اِس طرح کا مثبت طرزِ طلب اُس کے اکثر شعروں میں جھلکتا دِکھائی دیتا ہے۔

 راحت و آسودگی کی تلاش اور سہل انداز سے جینے کی امنگ ماجد کو ہر حال میں کچھ نہ کچھ کرتے رہنے پر مجبور کئے رکھتی ہے وہ چاروں طرف سے منفی قوتوں کے نرغے میں ہونے کے باوجود زندہ رہنے کی راہ نکالنے کی فکر میں رہتا ہے۔

 وہ دل کی اندھیر نگری کو روشن کرنے کے لئے کسی نہ کسی اہتمام میں مصروف دِکھائی دیتا ہے۔ وہ نئی نئی امنگوں اور آشاؤں کا شاعر ہے جن کا دامن وہ اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتا اور اُس کا یہ احساس اُس کی پوری پوری غزلوں میں دمکتا دِکھائی دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔

میں غالب گیت الاپدا جیہی نپی اِکو چپ

اج گُنگا وانگ پہاڑ دے میری گُھٹ کے رہ گئی جان

اُٹھ ماجد فکراں کاڑھیا اَجے جیون تیرے ہتھ

توں ایس دھرتی دا بالکا تیری چن دے دیس اڑان

 

’’اُٹھ ماجد فکراں کاڑھیا‘‘   ۔۔  اِس مصرعے میں کس قدر توانائی سمائی ہوئی دِکھائی دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے شاعر چند لفظوں میں صدیوں پر پھیلے ہوئے انسانی ارتقا کے حوالے سے ایک نئے حوصلے کی کرن نکالتا نظر آتا ہے۔ ماجد کا ایک اور شعر ہے۔

ماجد چپ دا اوڑھنا کرئیے لیر و لیر

ہسئیے اتھرو روک کے اکھیاں لئیے دھو

اِس چھوٹے سے شعر کے تیور بھی دیکھنے اور محسوس کرنے کے قابل ہیں اُس کا ایک اور شعر دیکھئے۔

ہمتاں دے راہ دس گئے لوکی ترنا ساڈا وَس

صدیاں توں پئی وگدی ماجد درداں بھری جھناں

اِس شعر میں خلا کی تسخیر جیسی انسانی کوششیں ابنائے آدم کی ہمت اور حوصلہ اور عزم و ارادہ بھلا کیا کچھ نہیں ہے۔

 

 Psalm of life میں Long fellow کہتا ہے۔

Lives of great men all remind us

We can make our lives sublime

And departing leave behind us

Foot prints on the sands of time.

 

 ماجد کی زبان ہماری روزمرّہ زبان کے انتہائی قریب ہے۔ وہ بیشتر شاعروں کی طرح ڈھونڈ ڈھونڈ کر پنجابی کے پُرانے لفظ اپنے شعروں میں نہیں ٹھونستا بلکہ وہی زبان اپنے استعمال میں لاتا ہے جسے ٹکسالی کہا جا سکتا ہے۔ ماجد صدّیقی کے بات کرنے کا اپنا ایک سبھاؤ ہے اُس کے لہجے میں شیرینی اور رَس ہے۔ اور زبان میں بے ساختگی۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی کو سامنے بٹھا کے ہولے ہولے اُس سے محوِ گفتگو ہو۔ مثلاً دیکھئے۔

ساڈی گل نہ ٹوک

کِیہ آکھن گے لوک

 یہ وہ لہجہ ہے جس میں کوئی لاگ لپٹ نہیں شاعر پیار کی شکایت بھی سیدھے سادے انداز میں کرتا ہے۔ وہ بات میں بَل نہیں ڈالتا۔ یوں لگتا ہے جیسے تخلیقِ شعر کے وقت ماجد وہ ماجد نہیں ہوتا جو عام گفتگو کے وقت ہوتا ہے۔ تخلیق کا لمحہ اُسے اپنی گرفت میں لیتے ہی ہماری ملاقات اُس ماجد سے کرا دیتا ہے جس کے ذہن میں جو خیال جس طرح آتا ہے اُسی طرح وہ خیال ہمارے محسوسات تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ بات غیر معمولی بھی ہے مگر اسلوب کی یہ صفائی شاعر کی فکری پختگی کا بہت بڑا ثبوت بھی فراہم کرتی ہے۔

 

 نغمگی صنفِ غزل کی روح قرار پاتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ غزل کی عمارت ہی موسیقی پر اُستوار کی جاتی ہے تو شاید غلط نہ ہو۔ ماجد کی غزل میں یہ خوبی بھی بدرجۂ اتم موجود ہے بلکہ اِس سے بڑھ کر ایک اور وصف یہ ہے کہ اُس کی غزلوں میں بحور و قوافی اور ردیفوں کے ساتھ ساتھ اندرونی قوافی یعنی انٹر رائمنگ ایک اور اصنافی حسن کے ساتھ دیکھنے میں آتے ہیں۔ ماجد کا یہ وصف اُس کے حسن بیان کو اور بھی دو چند کر دیتا ہے۔ دو شعر دیکھئے:

 

کجھ یاداں سن ہانیاں اوہ وی انت پرانیاں

دل دا بوہا کھول کے کونہ کونہ لوڑیا

کجھ تصویراں رنگلیاں کجھ حرفاں دیاں سنگلیاں

غالب مگروں ماجدا اساں وی کیہہ جوڑیا

 

 یہی نہیں بلکہ اُس کے یہاں ایسے شعر بھی ملتے ہیں جن میں تین تین اندرونی قافیے کندھے سے کندھا ملائے دِکھائی دیتے ہیں۔ یہ قافیے نہ صرف موسیقی کو اُبھارتے ہیں بلکہ شعر کی معنوی تاثیر کو بھی اور زیادہ گہرا کر دیتے ہیں۔ بات رُک رُک کے آگے بڑھتی ہے مگر ساون کی پھوار کی طرح قاری کے فکر و وِجدان میں اُترتی چلی جاتی ہے۔

 

اکھیاں وچ برسات جیہی سر تے کالی رات جیہی

دل وچ اوہدی جھات جیہی نقشہ بھری دپہر دا

اکو سوہجھ خیال ہی چلدا نالوں نال سی

فکراں وچ اُبال سی قدم نئیں سی ٹھہر دا

سینے دے وچ چھیک سی ڈاہڈا مِٹھڑا سیک سی

دل نوں اوہدی ٹیک سی رنگ اَئی ہور سی شہرا دا

 

 آج بہت ساری نئی چیزیں ہماری روزمرّہ زندگی میں در آنے والی کسی بھی تبدیلی سے (جس میں نئے نئے الفاظ، نئی نئی علامتیں اور ڈکشن تیار ہو رہے ہیں۔ )ادب کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتیں۔ ماجد کی غزل اِس نئی ڈکشن سے بھی بے بہرہ نہیں۔ ماجد نے ایسے الفاظ بھی جو ہماری غزل کے لئے اجنبی سمجھے جاتے تھے بڑے سبھاؤ کے ساتھ استعمال کئے ہیں اور نئے دور کے لفظوں، علامتوں اور استعاروں کو بھی اپنے شعروں کا باطن اجاگر کرنے کے لئے اپنے کام میں لانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ یہاں بھی ماجد کا کمال یہ ہے۔ کہ وہ کسی بھی اجنبی یا نئے احساس کو۔ ۔ اپنی شاعری کا حصہ بناتے ہوئے اُسے ایسی بے ساختگی سے ہمکنار کر دیتا ہے جو بے ساختگی آسانی سے ہر کسی کے اختیار میں نہیں آنے پاتی شعر ملاحظہ ہو:

 

سڑکاں اُتوں بھرے بھراتے مکھڑے اُڈ اُڈ لنگھدے نیں

دل وِچ پہّیے لہہ جاندے نیں پِیلیاں چٹیاں کاراں دے

 

یہ اور اِس طرح کے دوسرے بے شمار شعروں میں ماجد نے لفظوں سے رنگوں کا کام لے کر نہ صرف تصویریں پینٹ کی ہیں بلکہ Projective method سے Cinematography کا وہ کمال پیش کیا ہے کہ۔ قاری کی ذہنی بساط جتنی بڑی ہو گی شعر کی تصویر بھی اتنی ہی بڑی بنتی جائے گی۔

 

توں سَیں میرے کول یا اُنج اَئی کوئی تصویر سی

خورے کیہا فریم سی خواباں وچ اکھوڑیا

 

 ماجد کے یہاں ایسے اشعار کثرت سے ملتے ہیں جو ہماری جیتی جاگتی زندگی کی زندہ تصویریں ہیں۔ اُس کے شعروں میں فریم ڈاکیا، اخبار، کاریں، لاریاں، پنسل’ کاپیاں اور سڑکیں وغیرہ جیسے لفظوں کا استعمال عہدِ حاضر کے بیشتر اردو اور پنجابی شاعروں کی طرح قاری کو چونکانے یا الجھانے کے لئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے کہ وہ ناکارہ جدیدیت کا قائل نہیں۔ وہ لفظ کے استعمال کا سلیقہ جانتا ہے اور چاہے لفظ کتنا ہی اجنبی کیوں نہ ہو۔ اُس کے شعر میں پروئے جانے کے بعد وہ لفظ قاری کا پرانا میت بن جاتا ہے۔

ہر ہفتے دی شام نوں دسے منہ اتوار دا

جئیوں بن چٹھیوں ڈاکیہ ہسے پیار جتائے کے

سُکے ورقے سُٹ جاندا اے ڈاکیہ نت اخباراں دے

کدے نہ آوے جیوندے جاگدے نامے دل دیاں یاراں دے

 

 نئے نئے لفظوں اور نئی نئی علامتوں سے آج کا شاعر اظہار و بیان کی خوبصورتی کے لئے نئی نئی ترکیبیں بھی استعمال میں لاتا ہے اور لفظوں کے نئے نئے پیکر بھی تراشتا ہے۔ ماجد صدّیقی اِس میدان میں بھی غافل دِکھائی نہیں دیتا۔ اُس کے بیشتر اشعار پیکر نما ہوتے ہیں وہ images بنانے پر پوری طرح قادر ہے۔

آئیے ماجد صدّیقی کی اِس آرٹ گیلری کی تھوڑی سی سیر آپ بھی کر لیں۔

شام پوے تے رات ہنیری دسے شوہ دریا

دل بوٹے تے چڑیاں وانگوں سدھراں شور مچان

اکھر سکدے رہ گئے تینوں دل ہویا بے تھاں

پنسل کاپی لے کے لکھیا کدے نہ تیرا ناں

 

لفظ ہو یا ترکیب قافیہ ہو یا ردیف۔ ہر اکائی ماجد کے یہاں پہنچ کر اُس کی شعری فضا سے پوری طرح ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔ پنجابی غزل ابھی اُس مقام پر نہیں پہنچی جو مقام اُسے حاصل کرنا ہے مگر توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر اُسے ماجد جیسے صاحبِ کمال شعراء میسر رہے تو پنجابی غزل بھی نئے عہد کا ایک مکمل آئینہ بن جائے گی۔ اور یہ سارا کچھ یقیناً ہو گا اِس لئے کہ اُسے ماجد جیسے شاعر میسر ہیں جی ہاں جس کے اپنے اعتماد کا عالم یہ ہے۔

 

کنے لوک نگاہ وچ رہئے سن رنگ بکھیر دے

کوئی کوئی ماں دا لال سی ماجد تیرے جواب دا

ماجد صدیقی ۔ ممتاز طرزِ سخن کا شاعر (بحوالہ چاند رات، ٹوٹتے خمار کے دن) از خاور اعجاز

(نوٹ۔ خاور اعجاز نے یہ رائے ماجد صدیقی کی محض ایک کتاب پڑھ کر قائم کی، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہر شاعر کی زندگی کے مختلف ادوار میں اس کا انداز بدلتا رہتا ہے، اپنی عمر کے آخری حصے میں انہوں نے تجرباتی جو شاعری کی، اس حوالے سے اس مضمون کی کئی باتیں درست ہیں، لیکن اگر ان کی تمام شاعری پر ایک اچٹتی نظر بھی ڈالی جائے تو اور بہت سارے پہلو نظر آتے ہیں جن کا تذکرہ اس مضمون میں نہیں۔ یاور ماجد)

غالب و میر کی ریس تو عین حماقت ہے
ماجدؔ سا بھی شعر کہاں کہہ پائے کوئی

یہ شعر ماجدؔ صدیقی کی محض تعلّی نہیں۔ اردو شاعری میں ایسے شعرا کی تعداد شاید ایک ہاتھ کی انگلیوں جتنی ہو جن کا طرزِ سخن کسی اور سے نہیں مِلتا۔ میری مراد نظیر اکبر آبادی، اقبال، شکیب جلالی اور ظفر اقبال سے ہے۔ جعفر زٹلی کا نام نہیں لیا کہ اس کا کلام فارسی میں ہے ورنہ بہ اعتبارِ طرزِ سخن وہ اسی گروہ کا رکن ہے۔ علی اکبر عباس بھی اپنی ایک کتاب’’رچنا‘‘ کی حد تک انہی میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس مختصر سی فہرست کے آخر میں ماجد صدیقی بھی کھڑا نظر آتا ہے۔ مَیں یہ قطعاً نہیں کہہ رہا کہ محولا بالا شعرا ایک ہی سطح کے ہیں لیکن مَیں یہ ضرور کہوں گا کہ ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے اپنے عصر سے مختلف ہونا۔ نظیر اکبر آبادی کی آواز میں کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دیتی۔ اقبال ؔنے غزل کا قبلہ ہی بدل دیا۔ شکیب ؔنے آئندہ کی شاعری کا رخ موڑ دیا اور ظفر اقبال نے غزل کا منھ توڑ دیا ہے ! ماجد صدیقی نے ان میں سے کچھ نہیں کیا۔ اس نے غزل کا ایسا مزاج دریافت کیا ہے جو ایک طرف تو اس کے عہد کی بود و باش سے لگّا کھاتا ہے اور دوسری طرف اس کے عہد کے کسی دوسرے شاعر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ خود اس کا اپنے بارے میں کہنا ہے

شاعری میری عبادت، شاعری میرا شعار
اور طبعاً ہے مِرا اللہ والوں میں شمار

            اپنے ماحول سے ماجد صدیقی کی جڑت نظیر اکبر آبادی کی یاد دلاتی ہے۔ ماجدؔ اگرچہ نظیرؔ کی طرح کا بنجارہ نظر نہیں آتا کیوں اس طرح کا کردار اب ہمارے عہد کی زندگی کو درکار نہیں رہا لیکن ماجدؔ کی اپنے عہد کے منظر نامے، معاشرے، گرد و پیش، سوسائٹی اور اس کے معاملاتِ بست و کشاد سے اتنی گہری واقفیت ہے کہ وہ نظیر اکبر آبادی کا چلتا پھرتا سایہ محسوس ہوتا ہے۔ اس نے نظیرؔ کے بنجارے سے آوارہ خرامی سیکھی ہے۔ کسی ایک مقام پر قیام بنجارے کی سرشت میں داخل ہے نہ آوارہ خرامی میں۔ ماجدؔ شعر کی ایک زمین سے دوسری اور دوسری سے تیسری میں سفر پذیر رہتا ہے اور مسخر کر لی گئی سرزمین پر دوبارہ قدم نہیں رکھتا۔ ماجدؔ کے ہاں نظیرؔ جیسی ہمہ گیریت تو نہیں مگر اُسی کی طرح بھاری بھر کم فلسفیانہ مضامین بھی نہیں۔ اُسی کی طرح سیدھے سادے انداز میں حقیقت نگاری کی ہے یہی وجہ ہے کہ اُسی کی طرح اپنے دور کے شعرا کے زیرِ استعمال رہنے والے زیادہ تر الفاظ، جو ایک لگے بندھے نظام کی پیداوار ہوتے ہیں، ماجدؔ کی غزل کا حصہ نہیں بنے۔ اس نے ناقدین کی پروا کیے بغیر غزل میں عام بول چال اور عوامی محاورات کی شاعری کی ہے۔ نظیرؔ کی طرح ماجدؔ بھی خواص کا نہیں بل کہ عوام کا شاعر ہے۔ غزل کی معروف روایت نے اس کے ہاں بہت کم جگہ پائی ہے۔ اس نے محض خیال کے بل بوتے پر شعر نہیں کہے بل کہ اپنے گرد و پیش کے سوز و ساز سے متاثر ہو کر شاعری کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں خارجی عوامل کی بہتات ہے۔ باطن میں جھانکنے کے موقعوں سے اس نے شاید جان بوجھ کر احتراز کیا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس کے دل کے جذبات بالکل سرد ہو گئے ہوں۔ تغزل کی گرمی اس کے سینے کو گرماتی ہے مگر یہ آنچ زمانۂ گذشتہ کی آنچ سے مختلف ہونے کے سبب ہمارے دلوں میں کوئی چنگاری بھڑکانے کی بجائے محض رخساروں کو تمتما کر آگے بڑھ جاتی ہے۔

            اس کے ہاں اکبر الہ آبادی کی طرح ہلکے پھلکے طنز و مزاح کے ہمراہ بہت سے انگریزی الفاظ اور بہت سے ایسے اردو الفاظ در آئے ہیں جو معاصر غزل کے مزاج سے یکسر مختلف ہیں مثلاً چیف ایگزیکٹو، پنشن، مٹھی چاپی، ٹاس(کرکٹ میچ والا)، سجنوا، چقندر، سویّاں(عید والی)، انرجی، ٹوکا اور چھُرا(اگلے وقتوں میں خنجر اور کٹار ہوتی تھی)، مِلک شیک، ٹرم(مدت)، شڑاپ، اسقاطِ حمل، ٹماٹر، پاکٹ منی، موٹر وے، دھڑن تختہ، ٹریفک، آنکھ مٹکا، پھنّے خان، پرس، کمپیوٹر اور الیکشن وغیرہ لیکن اکبر الہ آبادی کی طرح انسانی نفسیات کے لطیف پہلو ماجدؔ کے ہاں دست یاب نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ متذکرہ بالا الفاظ کو غزل کے گلے کا ہار بنانے میں کیا دقتیں اور قباحتیں ہو سکتی ہیں لیکن وہ کہیں کہیں تصنع اور تکلف کے باوجود اپنی پُر گوئی کے زور پراس کٹھن منزل سے بھی گذر گیا ہے۔ ۔ اس کے ہمراہ کچھ اشعار پر اکبر الہ آبادی کا پرتو بھی نظر آتا ہے جیسے :

بنتا تھا جو اس نے نہیں لوٹایا تھا
ہم نے اس سے پیار کا نوٹ بھنایا تھا
ایسا فیض کیے کا اپنے کس نے پایا
جیسا جوتا شاہ نے راج کے انت میں کھایا
عدل کی میت پہ رو آئے میاں
ہم عدالت سے بھی ہو آئے میاں
اپنی بے حیثیتی پر جگ ہنسائی کا نہیں
سچ کہوں منصف تو یہ موقع دہائی کا نہیں
کیا سے کیا کھُل کھُل چلی ہے اس کے چہرے کی کتاب
ہم کریں تو کیا کہ اب موسم پڑھائی کا نہیں
مستقبل اس قوم کا کیا ہونا ہے جس کے
اہلِ قیادت بات کریں تو ہکلاتے ہیں
وہ شوخ جب بھی کبھی شغلِ دل ربائی کرے
مَیں ڈیڑھ ہُوں تو مجھے چھُو کے وہ اڑھائی کرے
رہنماؤں نے بس اک اپنی شفا کی خاطر
قوم کی قوم کو بیمار بنا رکھا ہے

            گیت اور دوہے کا عوامی انداز بھی اس کی غزل کا حصہ بنا ہے جیسے یہ شعر بالکل دوہا لگتا ہے:

چاہے بعد میں ایسوں کا کتنا ہی ماتم ہووے
جس کا نرخ یہاں چڑھ جاوے کم کم ہی کم ہووے

اور یہ غزل گیت کے قریب ہے:

نامہ بر ! تُو لوٹ بھی آ رے
خیر خبریا کوئی سنا رے

            یہ انداز اس کے ہاں اس کی ماں بولی پنجابی اور بولیوں ٹھولیوں سے دلچسپی کی عطا ہے۔ یہاں یہ کہنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ اس نے پنجاب کی خاص صنفِ سخن ’’بولی‘‘ کو اردو میں بھی متعارف کرایا ہے۔ جدید عہد کی غز ل کے لوازمات کی جھلک بھی آپ کو اس کے ان اشعار میں نظر آئے گی:

کشتِ جاں میں بن گیا مرکز وہی کہرام کا
جسم میں چپکے سے اُگ آیا جو پودا شام کا
مستیاں یہ کن نگاہوں کی نگر پر چھا گئیں
کس کے جلوے سے چمک اٹھا کنارا بام کا
بات یہ سچ ہے، فرش پہ جنتِ عرضی ہے
عمرِ اخیر میں قربتِ یار کی آب و ہَوا
سہل تھا جینا یہاں بس کور چشموں کے لیے
دیدۂ بیدار تو اک مستقل آزار تھا
آپ آئے ہمارے گھر۔ ۔ یعنی
خاک پر آسماں اتر آیا
رحلِ دل پر اتر آئی تِرے چہرے کی کتاب
منعکس ذہن میں ہے ہائے یہ کس دور کا خواب
قربتِ یار کا جب سے ہے احساس بہت
لگتا ہے دولت ہے اپنے پاس بہت
ابرو پہ اس کے دیکھ لِیا ہم نے خم اک اور
کرتا ہے کب وہ مہلتِ قربت بہم اک اور
اپنے گُنوں میں تھے جو عجب آشکارا لوگ
ہم سے بچھڑ گئے ہیں بہت سے ستارا لوگ
جیون دیپ نے بجھ جانا ہے، آج نہیں تو کل
خلق کو ہم نے یاد آنا ہے، آج نہیں تو کل
نشہ حیات کا سارا اُسی میں پنہاں تھا
کسی بدن پہ جو تھا اختیار کا موسم
فتنے بہت ہیں، خیر کے پہلو بہت ہی کم
شب زاد بے شمار ہیں، جگنو بہت ہی کم
بڑے بھی ہیں تو فقط وہم میں گمان میں ہم
ہزار نیک سہی کم ہیں پر جہاں میں ہم
پروں میں شام باندے لا رہے ہیں
پرندے گھونسلوں کو آ رہے ہیں
بغور دیکھ لِیا کر، نہ پاس جال کے رکھ
یہ شہرِ درد ہے پائوں ذرا سنبھال کے رکھ
ہر لڑکی کے من کی تختی کے اوپر
اندر خانے نام لِکھا رہ جائے کوئی
رُت کا نیا جامہ پہنا دے
ہونٹ ہِلا اور پھول کھِلا دے
تم ایسے ہمہ لطف تھے جب یار ہمارے
پھر کیوں نہ گئے روح کے آزار ہمارے
اصل حقیقت کپڑے کی تب کھُل پاتی ہے
کاریگر کے ہاتھوں جب وہ سِل جاتا ہے
جینا ہے تو عقل کے نرغے میں مت آنا
اُس جانب جانا جس جانب دل جاتا ہے

آخر میں کہوں گا کہ ماجدؔ صدیقی بوند بوند سخن کو دھارا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امید ہے وہ اپنے اس ہنر کو سخن کے نئے سے نئے چشمے نکالنے میں استعمال کرتا رہے گا۔

جداگانہ ذائقے کی حامل اردو غزل از ڈاکٹر توصیف تبسم

جداگانہ ذائقے کی حامل  اردو غزل

 ڈاکٹر توصیف تبسم

شاعری ایک سماجی عمل ہے ہر شاعر اپنی شاعری کے لئے خام مواد گرد و پیش ہی سے حاصل کرتا ہے نظر کے سامنے پھیلے ہوئے مناظر کی سختی جب شاعر کی شخصیت میں ڈھل جاتی ہے تو عکس اصل سے بھی زیادہ خوب صورت محسوس ہونے لگتا ہے اور ماجد صدیقی کی غزل اپنے وسیع تر مفہوم میں اسی طرح کا ایک سماجی عمل ہے۔

جیسے ہر شاعر کا شعر ہوتا ہے مگر وہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے سماجی شعور ماجد کے شعروں میں اس درجہ کار فرما نظر آتا ہے کہ ہم اسے اس کی غزل کا ایک ممتاز رجحان قرار دے سکتے ہیں ماجد صدیقی نے صنف غزل ہی کو ذہنی و جذباتی اکتشافات کا وسیلہ بنایا ہے غزل دراصل ایک گریباں گیر صنف سخن ہے جو اس وقت خوب پنپتی ہے جب معاشرہ کسی بحران سے دوچار ہو غزل کی پوری تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ معاشرے میں ٹھہراؤ اور سکون کی کیفیت جب بھی پیدا ہوئی غزل کا داخلی سوز بجھ کے رہ گیا اور وہ زیادہ سے زیادہ بازی گروں اور کرتب دکھانے والوں کے ہاتھ میں ایک کھلونا بن کے رہ گئی مگر ماجد صدیقی کی غزل میں یہ سماجی شعور محض وطن کے سیاسی منظر نامے تک محدود نہیں بلکہ اپنے وسیع تر تناظر میں پوری زندگی پر چھایا ہوا دکھائی دیتا ہے ماجد کی غزل کا اپنا ایک جداگانہ ذائقہ ہے غزل کے ایمائی اسلوب کے ساتھ ساتھ خارجی حقائق کے بیان اور شاعر کے لہجے کی گداختگی ایسے عناصر ہیں جنہوں نے اس کی غزل کی خارجیت اور داخلیت کی خوشگوار آمیزش کے پہلو بہ پہلو غزل نظم اور گیت تینوں اصناف شاعری کو ایک وحدت بنا دیا ہے ماجد صدیقی کے قدم افادہ کی زمین پر جمے ہوئے ہیں شعر اس کی بوطیقا میں محض تفریح کا ذریعہ نہیں افلاطون کے سامنے اگر ایسی شاعری ہوتی تو اپنی مثالی ریاست سے شاعروں کو جلا وطن کرنے کا حکم وہ کبھی نہ دیتا۔

ایک محبِ وطن، شاعر ی کے ساتھ مکمل طور پر کومیٹڈ اور جینوئین شاعر از آفتاب اقبال شمیم

اب تو ماجد صدّیقی ادبی رسائل میں کم کم نظر آتے ہیں ۔ لیکن کئی عشرے پہلے وہ ملک کے اکثر و بیشتر موقر جریدوں میں چھپا کرتے تھے۔ میں انہی دنوں سے ان کی شاعری ایک تواتر سے پڑھ رہا ہوں ۔ وہ اپنی طبع کے موسمِ باراں میں شعر کہتے ہیں ۔ لیکن یہ زود گوئی ان کے معیارِ فن پر کبھی اثرانداز نہیں ہوئی۔ ایک تو ان کا تخلیقی عمل جاری و ساری ہے۔ دوسرے ان کے ہاں نقدِ خیال’ جذبے کی سلامتی اور قدرتِ فن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

شاید یہ فیضانِ قدرت ہو کہ ہمارے ہاں فکر و وجدان کی زمین میں شاعری بڑی بہتات میں نمو پاتی ہے۔ ایسے شاعروں کی ہماری تاریخ میں کمی نہیں جو گنجان ثمر ور اور ہمیشہ بہار میں رہے ہیں ۔ مجھے معاً خیال آیا کہ عصرِ موجود میں بھی چند نوجوان شعرا ایسے پُر گو ہیں کہ تا حال ان کے کلام کے مجموعے تعداد میں ماجد صدّیقی کے مجموعوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ لیکن ان کی سطحِ شاعری ایسی ہے کہ ان کا ماجد صدّیقی سے موازنہ کرنا بجائے خود صریحاً ناانصافی ہوگی۔ لیکن عجیب ستم ظریفی ہے کہ ان شعرا کو تو فراخدلانہ پذیرائی مل رہی ہے۔ اور ایک جینوئین شاعر کے سلسلے میں ادب نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ہمارے بعض سینیئر شاعر ایسے بھی ہیں جو کثرت سے لکھ رہے ہیں ۔ ان کا معیارِ ہنر بھی قابلِ قدر ہے لیکن ان کی جیبِ خیال عصری زندگی کے مسائل سے خالی ہے۔ ان کی غزل ہماری اجتماعی زندگی کے بگاڑ پر سوال اٹھانے سے کتراتی ہے۔ ان کا زورِ تخلیق بڑے وفور میں ہے۔ لیکن گردوپیش کی محرومیوں اور ناہمواریوں سے بالعموم غفلت میں رہتا ہے۔ ابھی ہم سے یہ ہی طے نہیں ہوا کہ ہمارا ادب کب تک اپنا الگ میلہ لگا کراس ہر لحظہ بدلتی دنیا سے کٹا رہے گا۔ اب تو دنیا ایسی جگہ بنتی جا رہی ہے۔ جہاں سمفنیاں راگوں میں ضم ہونے لگی ہیں ۔ سمندروں پار علاقے کمپیوٹر میں سمٹ کر ہماری بیٹھکوں میں آ بسے ہیں ۔ نئی نسل کا لڑکا چار پانچ زبانوں کے ملغوبے میں ای میل کرتا ہے۔ کیا ہم بہت پیچھے تو نہیں رہ گئے۔ اگر ہمیں اپنے موجود میں رہنا ہے۔ تو ہم خارجی دنیا کی حقیقتوں سے تا دیر چشم پوشی نہیں کر سکتے۔ ماجد صدّیقی کی تقصیر یہ ہے کہ اپنے گردوپیش کی بوالعجبیوں سے کمپرومائیز نہیں کر سکتا۔ نتیجتاً اسے اپنے وقت کے قاضیٔ ادب کی حمایت حاصل نہیں ۔ ’دل دل کرب کمان’ ماجد صدّیقی کی تازہ تخلیقات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر مجھے ماجد صدّیقی کی غزلوں میں ایک بڑھی ہوئی تلخی کا احساس ہوا۔

کچھ قطعِ رگِ جان سے’ کچھ قلقلِ خوں سے

بجتی ہیں محلاّت میں شہنائیاں کیا کیا

خود نام پہ دھبّے ہیں جو’ ہاں نام پہ اُن کے

ہوتی ہیں یہاں انجمن آرائیاں کیا کیا

فضائے تخت ثمر بار دیکھ کر ماجد

جو روگ شہر کو تھے شہریار بھول گئے

حقائق سے ڈرانے کو’ طلسمِ شر دکھانے کو

سرِ اخبار ماجد نقش ہیں چنگاریاں کیا کیا

ظاہر ہے کہ اپنے آدرش میں پرورش پانے والا شاعر اپنے خوابوں کی اس تسلسل سے پامالی کا منظر دیکھے گا۔ تو اس میں تلخی تو لازماً پیدا ہوگی۔ ایسی تلخی کا برملا اظہار بہرطور اپنے سچ کے ساتھ کمٹ منٹ سے بڑھ کربڑی جرأت کی بات ہے۔ کیونکہ یہ بات ادب کی نگرانی پر مامور آنکھ کی مرضی کے خلاف ہے اور شاعر کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ کیا ان غزلوں میں رواں تلخی زہر خند میں تبدیل کی جا سکتی تھی۔ اس کا دارومدار تو شاعر کی خود احتسابی پر ہوتا ہے۔ اور اس پر بھی ہوتا ہے کہ وہ اظہار فن میں کس نقطہء نظر کو صحیح سمجھتا ہے۔ لیکن ’دل دل کرب کمان’ میں ایسے اشعار کی تعداد بھی کم نہیں ۔

سامنے اس یار کے بھی اور سر دربار بھی

ایک یہ دل تھا جسے ہر بار خوں کرنا پڑا

ہم کہ تھے اہلِ صفا یہ راز کس پر کھولتے

قافلے کا ساتھ آخر ترک کیوں کرنا پڑا

خم نہ ہو پایا تو سر ہم نے قلم کروا دیا

وُوں نہ کچھ ماجد ہوا ہم سے تو یوں کرنا پڑا

ذرا اس آخری شعر میں کہی ہوئی بالواسطہ بات پر غور کیجیے اور شاعر کو داد دیجیے۔ ماجد صدّیقی کی غزلوں کا عمومی رویّہ ترقی پسندانہ ہے۔ لیکن ان کا شعری رویّہ اور اسلوب اس ترقی پسندی سے ہٹ کر ہے جس پر ماضی میں نعرہ بازی کا الزام لگایا گیا۔ ماجد صدّیقی اس لحاظ سے ترقی پسند ہیں کہ وہ اپنی خارجی صورتِ حالات سے کبھی اغماض نہیں برتتے۔ نہ ہی عام عوام کی حمایت سے دست کش ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاں ہمارے دانشور طبقے میں عام طور پر پائی جانے والی منافقت نظر نہیں آتی۔ فنی نقطۂ نظر سے ماجد صدّیقی نے کثرتِ شعر گوئی کو اپنی ریاضت کا حصہ بنایا ہے۔ اور غزل و نظم دونوں کو اردو روایت کے مطلوبہ فنی محاسن سے مزّین کیا ہے۔ وہ بڑی سہولت سے شعر کہتے ہیں ۔ یہ ضرور ہے کہ وہ بدلتے ہوئے ادبی رجحانات پر زیادہ توجّہ نہیں دیتے۔ اس لیے ممکن ہے کہ ان کی طرزِ اظہار نئے قاری کی توقع سے ذرا مختلف ہوتی ہو۔ ان کی شاعری میں گوناگوں اور ہمہ رنگ مضامین کی کوئی کمی نہیں ۔

’دل دل کرب کمان’ کے بالخصوص آخری حصے کی نظمیں ماجد صدّیقی کی شخصیت کے ایک اور پہلو کو اجاگر کرتی ہیں ۔ یہ نظمیں مجھے شاعر کا نوشتۂ وفا لگتی ہیں ۔ دوستوں’  دوستوں کے دوستوں’ بعض قومی اور ادبی شخصیتوں اور خود اپنے گھرانے کے بارے میں اتنا رچاؤ رکھنے والی نظمیں انسانی رشتوں کے احترام اور ذاتی تعلق میں پاسِ وفا کے عطر میں مہکی ہوئی ہیں ۔ یہ نظمیں شاعر کی کشادہ دلی اور دوسروں کے لیے محبّت کی دلالت کرتی ہیں ۔

ماجد صدّیقی ایک محبِ وطن’ شاعر ی کے ساتھ مکمل طور پر کومیٹڈ اور جینوئین شاعر ہیں ۔ وہ اپنی زمین اور ثقافت کے ساتھ اس درجہ جڑے ہوئے ہیں ۔ کہ ان کی غزلوں اور نظموں سے ونہار اور پوٹھوہار کی مٹی کی کی سوندھ اٹھتی ہے۔ وہ ان ایک پرت کے شاعروں سے کہیں آگے ہیں جنہیں آج کے دور میں پذیرائی ملی۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دورِ جمہوریت میں ماجد صدّیقی کی شاعری ایک نئی توجّہ اور مطالعے سے فیض یاب ہوگی اور انہیں وہ مقام ضرور ملے گا جس سے وہ تا حال محروم ہیں ۔

آفتاب اقبال شمیم

عصرِ حاضر کا سُقراط ۔ ماجد صدّیقی   از سّید اختر امام رضوی

شاعر ماجد صدّیقی کو بُوڑھے زمانے نے سب سے پہلے تب پہچانا جب ترقی پسند مصنفین کے نعروں کوتازہ تازہ چُپ لگی تھی اوراُن کے دفتر سیل مُہر تھے۔ انہی دنوں معاشرے اور بستیوں کے دلوں میں جاگزیں فاصلوں کی جانب نمایاں ہڈیوں والا ایک نحیف ہاتھ آگے بڑھا۔ اُن فاصلوں کو جانچنے کی خاطر۔ اُن فاصلوں کو ناپنے کی خاطر۔

 یہ کمزور ہاتھ پہلے گاؤں کے ایک نا تربیت یافتہ سکول ٹیچر کا اور پھر پروفیسر ماجد صدّیقی کا تھا۔ اُس نے ایسے عزم اور ایقان کے ساتھ یہ ہاتھ آگے بڑھایا۔ کہ کئی فربہوں اور تواناؤں نے اپنے اپنے ہاتھ کھینچ کر اپنی اپنی بغلوں میں دبا لیے۔ اور ملک کے نامور اہلِ قلم،  ادیب اور شاعر منو بھائی نے جنہوں نے اس کتاب کا سرورق بنایا تھا اور فلیپ بھی لکھا تھا۔ کہا

 ــ’’مانا کہ ہم بھی فاصلے ناپنے والے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہم معاشرے کا عکاس اور نمائندہ بھی کہتے ہیں پر علاقہ ونہار کا یہ نوجوان اس میدان میں ہم سے بازی لے گیا ہے‘‘

 گزرے زمانے بھی کیا من بھاونے زمانے تھے۔ لوگ سچ کہتے تھے اور من بھاونے لگتے تھے۔ اب اگر کوئی سچ کہے تو لوگ اس کا منہ چِڑاتے ہیں۔ لکھنے والے کہتے ہیں ’’ہم جو کچھ بھی لکھیں اُسے معیار مانو۔ ‘‘

 فاصلے اور تفرقے ناپتے ماجد صدّیقی کے یہ ہاتھ معاشرے کی بے اصولیوں ،  ظلم زیادتیوں ،  نفرتوں کدورتوں ،  بغض و عناد کے ہاتھوں پڑی ہوئی دُوریوں کی پیمائش کرتے رہے اور ان ہاتھوں نے ایسا کرتے ہوئے تقریباً آدھی صدی بِتا ڈالی۔

 ماجد ان راستوں پر ’’ادھ اسمان‘‘ جا کر بڑے ’’اچیچ‘‘ کے ساتھ ’’سچ سہاگ‘‘  کا پتہ لگانے والی ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘ بنا۔ اس نے ’’گنگے دیاں رمزاں ‘‘ اور ’’ہاسے دا سبھا‘‘ دیکھا۔ ’’رتینجناں ‘‘۔ ’’رات دی رات‘‘۔ ’’سُون سنگھار‘‘  اور۔ ۔ ’’ترہیائی سدّھر‘‘ کی منزلوں تک پہنچا اور اب ’’ڈھلدی شام کا رُکھ‘‘  بن کے ہماری راہوں میں آن کھڑا ہُوا ہے۔

 ڈھلتی شام کے اس شجر کے پاس خدا جانے کس کس کے لیے کیا کیا سُکھ سندیس ہیں۔ کس کس کی تُنک گوئیاں ہیں۔ کس کس کی حسرتیں اور کس کس کی پیاسی تمنّائیں ہیں لیکن اس شجر کے پتوں سے جب بھی ہوا سرگوشیاں کرتی ہے یہی کہتی ہے۔

ناتوانوں کا میت آج بھی کوئی نہیں

سچ کے ساتھ سانجھ آج بھی کٹھن ہے

پیار پریت اور انصاف کے سودے آج بھی گراں ہیں

 لیکن طرفہ امر یہ ہے کہ وُہ آج بھی اسی انہماک سے ان سارے بکھیڑوں میں گم ہے۔ اور اب تو اس کی آواز اور بھی زیادہ گونج دار اور پاٹ دار ہے۔ وُہ دندنا کے کہتا ہے۔

’’بُرج منارے ڈھاہ دیندا اے

ویلا لپرے لاہ دیندا اے‘‘

 لیکن کوئی بات نہیں۔ زوال آشنا بُرج تو اس نے زندگی بھر کوئی بنایا ہی نہیں۔ البتہ اس نے وقت کے کیا کیا چڑھتے اُترتے سیل دیکھے۔ کیا کیا روگ کاشت کیے اور ان کی کیا کیا فصلیں نہ اُٹھائیں۔ اور کیا کیا اداس شامیں گزاریں۔ کئی نظارے،  کئی یادیں ،  کئی فریادیں ،  کئی سپنے،  کئی خوف،  کئی فراق اس کی سانسوں میں سماتے رہے اور اُس نے انہی کے ساتھ زندگی کا ’’ شام کا یہ شجر‘‘ پالا۔

 پیڑوں کے ساتھ ماجد صدّیقی کی سانجھ ویسے بھی بڑی پُرانی ہے۔ اب تو خیر سے وُہ شہری ہو چکا ہے لیکن اس کا اندرون اب بھی ہم آپ کی طرح ’’پینڈو‘‘ ہے۔ اس کی ڈھلتی شام کا شجر بھی گاؤں ہی کا پیڑ ہے۔ جہاں گٹاروں کی چہکاریں ،  چڑیوں کی چلچوہٹیں۔ لمبی ہو ہو جاتی رات کے خوف سے اپنے ہونے کی شہادتیں دے دے کی جینے اور مرنے کا مفہوم سمجھاتی ہیں اور اس کے بعد رات کی اندھی چُپ گاؤں کے اور منظروں سمیت انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ اور پھر جب علی الصباح پنچھیوں کی آنکھیں کھلتی ہیں اور انہیں یہ خبر ہوتی ہے۔ کہ رات ہی رات کے اندر کیا کیا کچھ بدل گیا ہے۔ کیا کیاآندھیاں چلی ہیں۔ کس کس گھونسلے کے بچّے سانپ نے نگل لیے ہیں۔ اور کس کس کی چہکار ہواؤں نے لوٹ لی ہے۔

 ماجد کے پاس یہ سب راز ہیں۔ وُہ شاہد ہے چاندنی کے پھولوں سے لے کر چاند کی سرزمیں پر اترتی میّت تک کا۔ اس نے صبح سے ہمکنار ہوتا ہنستا آسمان بھی دیکھا ہے۔ اور شبنم برساتی آنکھیں بھی۔ اس نے نَو بہ نَو اور رنگ برنگی تصویریں اُتار کے ان میں بہت تھوڑی تصویروں میں سے ’’ڈھلدی شام دا رُکھ‘‘  بنایا ہے۔ یہ اُس کے ۳۲ سالوں پر محیط سفر کی سوچوں کا زائچہ سا ہے اور بس۔

نھیرے دے وچہ ہتھ کتھے جا وجیا اے

اُس کمرے دے سارے لاٹو جاگ پئے

 یہ تو آپ سمجھیں کہ ایک حادثہ سا ہو گیا ہے۔ ورنہ ’’ڈھلدی شام دا رُکھ‘‘  اس کی اپنی دردوں سجی شاعری کا ایک بہت ہی منفرد انگ ہے

’’ڈھلدی شام دا‘‘ کا یہی ایک منظر دیکھیں۔ ۔ ۔ ۔

ہر ڈبدا سورج اوہ ہوکا لگدا اے

اگلے دن لئی سانبھ کے جس نوں رکھدے نیں

ہفدے پنچھی

اپنیاں کُھلیاں چُنجاں وچہ

 میں ماجد کے ہانپتے پنچھیوں کو بڑی مدّت سے جانتا ہوں۔ اور مجھے علم ہے کہ وُہ کیونکر ہانپتے ہیں۔ اُن کی چونچیں کیوں خالی ہیں۔ اُن کے حصے کا رزق کون ہڑپ کر گیا ہے۔ شام سے آگے رات نہ ہوتی تو میں خود ماجد صدّیقی سے پُوچھتا۔ ’’میرے وِیر مجھے یہ تو بتا کہ تُجھے جس نے اتنی عمر گزار دی ہے۔ کوئی کھوج بھی لگا ہے۔ کہ اِن ہانپتے پنچھیوں کی چوگ کس نے اُڑا لی ہے۔ ‘‘

خیال کی آنکھیں ماجد صِّدیقی کاچہرہ دیکھ کر یہی کہتی ہیں۔

 ’’دیکھ تو سہی! وُہ وقت کا رہٹ چلاتے چلاتے تھک چکا ہے۔ اب ملائم،  خُنک اور سکون کی رات اُسے اس کی شام سمیت اپنی آغوش میں سلانے لگی ہے اور آپ لوگوں کو یہ پُوچھنا یاد آ رہا ہے۔ پہلے پُوچھنا تھا نا۔ اس لیے کہ وُہ تو روزانہ یہی کہتا رہا۔ صرف آپ نے التفات سے سنا نہیں۔ یقین نہ آئے تو اسی کتاب میں اُس کی طویل نظم۔ ۔ ’’پُچھاں گل وراگاں والی‘‘ پڑھ کے دیکھیں۔ اس نظم میں اُس نے جگ کے والی کے در پہ دستک دے کر داؤ فریب والی ساری باتیں ایک ہی سانس میں کھول کے رکھ دی ہیں۔

انسانیت زہر پیالے کیوں پیتی ہے؟  نفرت پیڑوں کی طرح کیوں پنپتی ہے؟ اہلِ حق کے ہونٹ مُقفّل کیوں رہتے ہیں ؟اور یہ منظرنامے کہاں سے ٹپک پڑتے ہیں

’’کدھرے جالاں دے وچہ پھس کے

جل دیاں مچھیاں دے ساہ اُکن

کدھرے بگلے داء چِھل لاون

کدھرے اِلّاں چوُچے چُکن‘‘

 جی ہاں !نظم تو ختم ہو گئی ہے لیکن ماجد کی کسی بات کا جواب کہیں سے نہیں آیا۔ شاید جواب ہے بھی کوئی نہیں۔ ایک ہی لمبی چُپ ہے۔ صدیوں طویل بچھوڑوں جیسی چُپ۔ میں کہتا ہوں ’’چھوڑ نادان!کیا ڈھونڈتا ہے اِن باتوں سے۔ ‘‘

 اسی کتاب میں اُس نے میرے ساتھ بھی یہ تنک گوئی روا رکھی ہے۔

’’دل وچہ اترے آل دوال دیاں سولاں نوں

سوچ دی سوئی لے کے اوہ وی کڈھدا رہندا

مین کیہ دُکھ نیں ، میں اس بارے کُجھ نئیں کہندا

 جی ہاں !وُہ بھی کچھ نہیں کہتااور میں بھی اُس سے یہ نہیں پُوچھتا کہ وُہ کیونکر کچھ نہیں کہتا۔

 مجھے پتہ ہے کہ اگر میں یوں کروں گا تو وہ اور دُکھی ہو جائے گا۔ اس لیے کہ میرا اور اس کا دُکھ سانجھا جو ہے۔

اس کے اپنے کہے مُوجب

’’میں سچ مکئی کے دُودھیا دانوں جیسی باتیں نت دیہاڑے گاؤں سے شہر لانے کا کام کرتا رہتا ہوں۔ اور وہاں سے لوٹتے جھوٹ فریب کے بسکٹ اور پَیٹیاں رنگین کاغذوں میں لپیٹ لپیٹ کرگاؤں لے لے جاتا ہوں۔‘‘ لیکن اگر سچ پُوچھیں تو کسر اس نے بھی چھوڑی کوئی نہیں ہے

 وُہ انہی جھوٹ فریب کی شکلوں شبیہوں کے درمیاں پالتی مارے بیٹھا ہے۔ لیکن اس کا احساس ویسے کا ویسا ہے۔ کھرا اور نرول۔ ایک سچے اور کھرے پینڈو کا احساس۔

وڈیاں مچھیاں ،  نگلن نکیاں مچھیاں نُوں

شہر کدیں پنڈاں نوں پنگرن دیندے نئیں

 جی ہاں !بلکہ دیہات کو اُلٹا شہر بنائے دیتے ہیں۔ اور ان شہروں میں بھی جب ’’ڈھلدی شام دا رُکھ‘‘ گھنا ہو جائے تو اُسے اس امر کا پتہ بھی لگنے لگتا ہے

جد وں وی رُت کھل کھیڈن دی آؤنی ایں

کانواں چڑیاں دے انڈے پی جانے نیں

 ماجد نے اپنے اِس مجموعے میں پیڑوں کی آسودگیاں ،  دیس شاعری’’ منظوم لوری قاعدہ ‘‘ اور گنتی ’’بال کہانیاں‘‘ اور ’’بال کھیلوں کے گیت‘‘  تقریباً چھ سات کتابیں یک جا کر کے چھاپ دی ہیں

لیکن سب کتابوں کا چہرہ مُہرہ ایک جیسا ہے۔ اور وُہ چہرہ مُہرہ اس کے اس موقف کو اُجاگر کرتا ہے۔ کہ زندگی سب انسانوں کی میراث ہے۔ ۔ ۔ تو پھر وُہ ہر کسی کے چہرے کا غازہ کیوں نہیں ٹھہرتی۔ یہ سوال ماجد سے پہلے سقراط نے بھی اُٹھایا تھا۔ اور زہر کا جام چڑھا کے خاموش ہو گیا تھا۔

 میں تو کہتا ہوں۔ ۔ ۔ ماجد یار! اب تو درد بھرے رونے سے چُپ ہی بھلی ہے۔ اور یقین کر لے کہ تیری اس چُپ کی اور تیری کومل شاعری کی قیمت زمانہ ضرور چکائے گا اس لیے کہ وقت کسی کا حق کبھی مارتا نہیں ہے۔

پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں از انور مسعود

پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں

انور مسعود

عاشق حسین ولد محمد خان عرف ماجد صدّیقی آج کل ادب کے میدان میں بڑی حیرت ناک بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔  ۱۹۶۴ سے ۱۹۶۶ء  تک اس نے پنجابی شاعری کی بڑے طمطراق کے ساتھ صرف دو رنزیں بنائی تھیں ’’وِتھاں ناپدے ہتھ‘‘ اور ’’سُونہاں لیندی اکھ‘‘ اس کے فوراً بعد اس نے اردو اور پنجابی کا ملا جلا چوکا دے مارا۔ ’’چار کتابیں‘‘ …… یہ چوکا مار کے …… ’’یہ انسان‘‘ …… کچھ ایسا Warm up ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور لہر میں ’’ہوا کے تخت‘‘ پر سوار ہو گیا اور ’’صورت احوال آنکہ‘‘ کی صورت میں کرنل محمد خان سٹائل میں اپنی آپ بیتی سنانے لگ پڑا۔

لوگ باگ یہ سوچ کراپنے اپنے دھیان میں مگن ہو بیٹھے کہ اب یہ اپنی آپ بیتی سنا بیٹھا ہے خاموش ہو رہے گا مگر اس بات کا علم کسی کو بھی نہیں تھا کہ اسی تاؤ میں وہ پنجابی کا چھکا بھی دے مارے گا۔ پوری چھ کتابیں بلکہ بقول ضمیر جعفری کتابوں کی والدہ ماجد …… ۸۷۹۱ء میں اس کا سکور دیکھ کر اس دعا کے ساتھ کہ رب سائیں اس کی عمر دراز کرے بڑے وثوق سے یہ پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ یہ ادبی کرکٹر حالیہ صدی کے اختتام سے پہلے پہلے اپنی سنچری مکمل کر کے رہے گا۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ چھکا مارنے کے بعد اب پوچھتا یہ ہے…… ’’میں کتنے پانی میں ہوں‘‘ 

ماجِد صِدّیقی نے جب مجھے یہ کتاب بطور تحفہ دی تو میں نے اسے ہنستے ہنستے کہا :

I shall see in how much water you are

اور میں اتنا سا اقرار کر کے اس کے قابو میں آ گیا۔ 

ماجد کی یہ کتاب پڑھتے پڑھتے میں ایک عجیب سی بات کے کھوج میں لگ گیا میں سوچنے یہ لگ پڑا کہ ماجد بچپن میں کھیل کون کون سے کھیلتا رہا ہے اور اس نتیجے پر پہنچا کہ بچپنے کے دنوں میں اس نے وہ کھیل ضرور کھیلا ہو گا جو اس گیت سے شروع ہوتا ہے۔

ہرا سمندر ‘ گوپی چندر
بول میری مچھلی کتنا پانی

ویسے ماجِد صِدّیقی کی جانب سے یہ سوال ہے بڑا مشکل اس لئے کہ میں نے اس میں ایک عجیب عادت دیکھتی ہے وہ بھول بھلیوں میں بہت ڈالتا ہے مگر پلے کچھ نہیں پڑنے دیتا۔ اپنی باتوں کو… گونگے دیاں رمزاں… کہتا ہے… آنسو بھی روکے رکھتا ہے اور ہنسی بھی ہونٹوں سے اترنے نہیں دیتا آدمی اندر کی بات سوچتا ہی رہ جاتا ہے یہیں سے مجھے یہ شک ہوتا ہے کہ وہ آنکھ مچولی جیسا کھیل بھی بہت زیادہ کھیلتا رہا ہے شاید اسی وجہ سے چھپ چھپ جانے کا رسیا ہو چلا ہے یہ بات میں اپنی جانب سے نہیں کہہ رہا ہوں یہ بات اسی سے پوچھئے؎

پیڑ نوں منیے پیڑ نہ اکا منکر بنیے دُکھاں دے
ماجد ہے ایہو اِک رستہ سُکھ دے گھر نوں جاون دا

اسی سلسلے میں اور سنیئے؎

دُکھ وی میرے سُکھ وی میرے رونواں بھاویں ہساں
لکھ سیئاں دی اکو گل اے دل دا بھید نہ دساں

عادت کی بات اور ہے ویسے اسے کپاس کے پھولوں کی طرح کھلنے کی بے حد امنگ رہتی ہے؎

کدے تے شاید سوچاں دی ایہہ وڈکی پِچّھا چھڈے
الہڑ کڑیاں وانگر شاید کدے تے کُھل کے ہساں

ماجد کے اس شرمیلے پن سے مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ جو پوچھتا ہے میں کتنے پانی میں ہوں کہیں کوئی اور بات تو نہیں کہیں وہ آگ ہی کو تو پانی نہیں کہہ رہا ہے لیجئے پکڑا گیا؎

قصے نئیں ایہہ چھیڑن جوگے گلاں نئیں ایہہ کہن دیاں
آپوں جگ وچ کھنڈسن ساڈیاں گلاں اگ اچ ڈیہن دیاں

اور اندر کی بات بھی یہی ہے وہ تو اپنے جلتے زخموں کو بجھانے کے لئے پانی میں اترا دکھائی دیتا ہے۔

میں جب ساتویں جماعت میںپڑھتا تھا تو ہمارے سائنس ماسٹر جی نے بتایا کہ مادہ ہمیشہ تین حالتوں میں دیکھا جا سکتا ہے ٹھوس مائع یا گیس۔ اور ان تینوں کی مکمل مثال انہوں نے وہ دی جو کبھی بھولنے والی نہیں ہے انہوں نے کہا آپ لوگوں نے حقہ دیکھا ہے حقہ بجائے خود ٹھوس ہے اس میں پڑا ہوا پانی مائع اور اس کی نَے سے نکلتا ہوا دھواں گیس ہے یہ حقہ بھی عجیب چیز ہے آگ ہی آگ ، پانی ہی پانی، دھواں ہی دھواں۔

ماجد کی شاعری میں یہ تینوں چیزیں تھوک کے حساب سے پائیجاتی ہیںآہیں بھی آنسو بھی اور وہ جلن بھی جو آس پاس کے مناظر اسے بخشتے ہیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کے بادل رکے کھڑے ہیں سانسوں میں دھوئیں کی آلائش اور دل کی جھولی میں کسی شہاب کے جلتے دہکتے ٹکڑے وہ اپنی ایک نظم شاعر میں کہتا ہے۔

ایہو نئیں
لکھاں نیں کڑھانے میری سوچ دے
نال جیہڑے کالکاں دے متھا میرا پوچدے
اگاں مینوں لاوندے
تے نت مینوں ساڑ دے
سوچ دیاں سولیاں تے نت مینوں چاہڑ دے

اسی آگ کا کھوج لگاتے لگاتے مجھ پر ایک اور انکشاف ہوا اور وہ یہ کہ ماجد کسی زمانے میں پتنگ بھی اڑاتا رہا ہے اس نے کسی سے پیچا لڑایا اور اس کی پتنگ آدھے آسمان تک پہنچ کر اسکے پیروں میں آ پڑی اور پھر تنہائی کے گرم ہیولوں میں وہ اسی بسنت بہار کو یاد کرتا رہ گیا۔ جس طرح کوئی ایک ہی آنسو میں دل کا سارا حال کہہ جاتا ہے ماجد نے بالکل اسی طرح ایک ہی مصرعے میں اس پوری ٹریجڈی کو مصور کر دیا ہے اور تصویر بھی کچے دھاگے ہی سے بنائی ہے۔

پیار دی دیوی ستی سوں گئی چرخے رہ گئی تند

اور اس کے بعد ماجد نے وہ بسنتی حاشیے والی تصویر مینٹل پیس سے اتار لی اور اس کی جگہ اپنی تصویر سجا دی اور اسی دُکھی تصویر کی انلارج مینٹ Enlargement سے اسکے اس ایک درد کے ساتھ اور بھی کئی درد جاگ اُٹھے اور پھر اس نے دل کا دروازہ کھول کرساری دنیا کے غموں سے کہا ’’آ جائیے یہاں داخلہ فری ہے ‘‘ اور پھر ماجد کی ذات کی اکائی بڑے دردناک نالوں کی صورت میں پھیلتی چلی گئی۔

’‘’یہ قسمت کا چکر بھی کیا ہے…… جو سوتیلی ماؤں کی طرح کسی کے لئے تو گھی میں گندھی ہوئی روٹیاں ڈھانپ کر رکھتی ہے اور کسی کسی کو توے کی کھرچن پر ہی ٹرخا دیتی ہے۔‘‘

’’لمبی بانہوں والے دودھ پر سے بالائیاں اتار لے جاتے ہیں مگر کوتاہ دست لسی تک کو ترستے رہ جاتے ہیں۔‘‘

’’اگر آشاؤں کو پورا نہیں ہونا ہوتا تو وہ پیدا ہی کیوں ہوتی ہیں۔‘‘

’’آدمی پر وہ کچھ کیوں بیت جاتی ہے جسے وہ اپنی زبان تک پہ نہیں لا سکتا۔‘‘

لمی سڑک تے آل دولے بھرے بھراتے رکھ
بس دے اندر اکرے ہوئے کئی قسماں دے مکھ
بس دے شیشے اندر لشکے دوں اکھیاں دا سکھ
بس دے ٹکٹ تے لکھیا ہو یا مونہوں گنگا دکھ

ماجد کی شاعری کا ایک اور بڑا موضوع وہ ملازمت پیشہ لوگ ہیں جن بے چاروں نے محکمہ تعلیم کا دامن تھام رکھا ہے اور جنہیں جابجا قوم کا معمار کہا جاتا ہے اور جن کے پارچات کی مرمت کرتے ہوئے رفوگر اس سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ بخیہ کہاں لگائے اور ٹکڑا ٹاکی کہاں لگائے۔ جن سے چاند کی تاریخ پوچھی جائے تو جواب یہی ملتی ہے کہ چاند کی رات چودھویں اور فاقوں کی رات پندرھویں ہے۔

ماجِد صِدّیقی نے ہم ایسے کوتاہ دستوں کی کوتاہ نصیبوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کرب کے اس پودے سے اس نظم کی شاخ بھی پھوٹ پڑی ہے جس میں وہ منڈیر پر بیٹھے کوے کی آواز سن کر سہم جاتا ہے اور یہ سوچنے لگ پڑتا ہے۔

اسی طرح کی سوچوں کی تان ماجد نے خاص طور پر اس نظم سے اٹھائی ہے جس کا عنوان ہے ’’رکھاں دے تھلے‘‘ پروفیسر ماجِد صِدّیقی کی اس نظم سے پروفیسر مرہن سنگھ کی نظم ’’امبی دا بوٹا‘‘ یاد آنے لگتی ہے اور جس چیز کے حوالے سے کوئی اچھی چیز یاد آئے اسکے اچھا ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے اس نظم میں ماجد نے اسی مضمون کو بڑے خلوص سے پالا پوسا ہے ۔ مراد یہ کہ ’’جب زندگی کی چلچلاتی دھوپ امید کے چشموں کو چوستے چوستے ریت بنا دے اور آدمی کا کوئی بس نہ چلے تو وہ ماسوا اس کے کیا کر سکتا ہے کہ وہ خود ہی اپنا دل جلائے اس سے حرارت حاصل کرے۔ اور سانسوں کی آسودگی کی خاطر اپنے زخموں سے اپنی نظریں ہٹا لے۔ کالج کے ایک افسر کے پلے بندھی ہوئی سماجی مسابقت کی رسوائیوں سے دو چار ایک خاتون کی طویل سوچ کا مقطع ملاحظہ ہو۔

دُھر سوچ نکمی نوں
کس ویہنے وَیہہ گئی اے
میں کڑی ندانی نوں
ایہہ کیہہ کجھ کہہ گئی اے
بیتیاں ہوئاں رُتاں دا
رونا وی کیہ رونا
پیٹھی ہوئی چکی دا
جھونا وی کیہ جھونا
انی وچ رڑ کے دا
چھونا وی کیہ چھونا
میں رُڑھ پَڑھ جانی نوں۔ خورے کیہ ہویا اے
تک مڑ ھکا متھے توں۔ کھاڈی تک چویا اے
جُگ جیوے سوہنا اوہ
جس ٹور لیا ندا اے
اگ لگے جیوڑے نوں
کیہ او نسیاں پاندا اے
دُھر سوچ نکمی نوںکس وَیہنے ویہہ گئی اے
میں کُڑی ندانی نوں
ایہہ کیہ کجھ کہہ گئی اے

زمانہ جیسے جیسے اپنے کیلنڈر کے ورق الٹتا گیا ماجد کے دکھ درد اسی قدر تہہ دار ہوتے گئے خاص طور پر مادرِ وطن کی‘ دیہاتی معاشرت کی دیواروں میں جو جو دراڑیں پڑی ہیں ماجد سے وہ دراڑیں ایک آنکھ بھی دیکھی نہیں جاتیں ایک ہی خاندان میںیا تو لڑکے زیادہ پڑھ گئے ہیں یا پھر لڑکیاں اور ان یک طرفہ ڈگریوں نے دلوں کے درمیان جو فاصلے بڑھا دئیے ہیں ماجد ان ہی پر کڑھتا رہتا ہے۔ اس نے کہانی کے انداز میں جو بہت ساری نظمیں لکھی ہیں ان کا حقیقی اور بڑا موضوع یہی ہے کہ کسی بھی سطح پر انسانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخلاقی نہیں رہی۔ تجارتی بن گئی ہے اور اس طرح کے سردمہری اور بے قدری کے موسموں میں آدمی کی شخصیت کس قدر سکڑنے لگی ہے اس کا احوال بھی ماجد ہی سے پوچھئے۔

کل دے ساہ اج گروی رکھ کے
پچھلے بھار چکا واں
اتوں تن تے پوچے پھیراں
وچوں کُھر دا جاوں
اکیہڑے کم دا
کس دے کم دا
میں کُب نکلی کچی کندھ دا
بے تھا نواں پرچھا نواں

مشینی اور مصنوعی معاشرے سے ماجد بے حد بیزار دکھائی دیتا ہے وہ ٹکُر ٹُکر دیکھ رہا ہے زمانے کو کیا ہو گیا ہے مائیں روتے بسورتے بچوں کے منہ میں چُوسنیاں ڈال کر میک اپ کرنے میں لگی ہیں۔ خلق خدا کو جانے کیا ہو گیا ہے چاہے کوئی تڑپ ہی کیوں نہ رہا ہو اگر پوچھا جائے تو یہی کہے گا All is O.K مشاعروں میں بھی ماجد اس خوش گمانی سے شرکت کرتا ہے کہ

ایتکی تے پُترا کرایہ وی نئیں لبھناں

نئے فیشنوں سے بھی اس کی بن نہیں آتی تاہم خود نثری نظمیں لکھنے لگا ہے میں اس بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ ذاتی طور پر نثری نظم سے میرا کبھی سمجھوتہ نہیںہو سکتا۔ اس سلسلے میں اپنے تاثر کو غالب کے ایک مصرعے کی تضمین کرتے ہوئے صرف اتنا عرض کر سکتا ہوں کہ؎

اب نہیں فکر ِ ردیف و بحرو وزن و قافیہ
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

میرا خیال یہ ہے کہ موسیقی کا وجود شاعری کے حق میں ایک آفاقی نصر ہے یہ ایک ایسا Shade ہے جسے ساری دنیا سمجھ لیتی ہے اور اگر یہی Shade پھیکا پڑ جائے تو شعر دوسروں کو اتنا متاثر نہیں کرتا جتنا متاثر وہ خود ہو جاتا ہے۔ بات سے بات نکل آتی ہے ابھی نثری نظم اس قدر نہیں لکھی گئی جس قدر اس پر تنقید لکھی گئی ہے۔ اوراس تنقید کا حال بھی اس حکایت جیسا ہے۔

’’کہتے ہیں کسی کے گھر میں چور گھس آیا گھر والا جاگ پڑا چور بھاگا تو گھر والا بھی اس کے پیچھے پیچھے اتنی تیزی سے دوڑا کہ اس سے آگے نکل گیا اور چور سے کہنے لگا مجھ سے شرطیں بدتا ہے جا اب چلا جا میرا مقصد یہی تھا کہ میں تجھے ہرا ڈالوں‘‘ ایسی ہی صورت اس تنقید کی ہے جو تخلیق سے بھی چار قدم آگے نکل چکی ہے۔ بہرحال اس صنفِ سخن کے بارے میں چونکہ میں جانبدارانہ خیالات نہیں رکھتا لہٰذا مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں ماجِد صِدّیقی کی نثری نظموں کے بارے میں کسی رائے کا اظہار کروں ویسے بھی ماجد کے فکر و خیال کا پھیلاؤ کچھ ایسا ہے کہ اکیلے دم مجھ سے سنبھالا نہیں جا رہا۔

اس مجموعے میں ایک بڑی توجہ طلب بات یہ ہے کہ ’’میں کنے پانی وچ آں‘‘ ماجد صدّیقی کی ایک چھوٹی سی نظم کا عنوان ہے اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماجد نے اس نظم کے عنوان کو اپنے پورے پنجابی کلام کا عنوان کیوں ٹھہرا دیا ہے مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے اس نظم میں اس نے اپنی کمٹمینٹ کا اظہار کیا ہو۔ نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’آدمی کتنے پانی میں ہو سکتا ہے جب وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا ہے تھک جاتا ہے اور اسے کوئی بھی مقام پناہ نہیں دیتا تو خدا ہی کا ایک دروازہ اس کا سہارا بنتا ہے‘‘ 

یہ نظم اگر کچھ طویل ہوتی تو شاید یہ بھی پتہ چلتا کہ ماجد کن الٹی سیدھی راہوں میں کھویا رہا ہے کون کون سے دروازے کھٹکھٹاتا رہا ہے اگر وہ اپنے پانی کے درجے کو ناپ نہ لیتا تو ماجِد صِدّیقی اپنے امراض کی تشخیص کر کے اپنے لئے کوئی فیشن ایبل دوا بھی تجویز کر سکتا تھا جس کے Effects تھوڑے اور Side effects یا After effects زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر اسے سینے کی جلن اور آنکھوں کی چبھن کے لئے جو اکسیر نسخہ ملا ہے وہ ایکسرے کی شعاعیں نہیں غار ِحرا کی روشنی ہے۔

غار حرا دی
ایس دھرتی دا ہتھ دعا دا
جیہڑا اٹھیا تے فیر کدی نہ نیواں ہو یا
غار حرا دی
نور پھہاراں لے کے آئی
جیو دیاں ٹھنڈ کاں
روح دیاں ٹھاراں لے کے آئی

ماجد نے اپنی طنزیہ و مزاحیہ نظموں کا انتساب میرے نام کر رکھا ہے آپ ہی کہیں میں اس باب میں کیا کہہ سکتا ہوں ویسے بھی مجھے نقاد ہونے کا ہرگز کوئی دعویٰ نہیں اسی لئے تو میں اسے ایک ایسے نقاد کے سپرد کر رہا ہوں جو سب سب بڑا نقاد ہے اور اس کا نام ہے۔ ’’زمانہ‘‘

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑