ادب کی اصناف سے لطف اندوز ہونے کے لئے ادبی ذوق کا پیدا کرنا ادب اور دیب دونوں کے لئے ضروری ہے۔ پھلوں کے رس اور مٹھاس کے لئے ہر شخص کے منہ میں ایسے قدرتی عضلات موجود ہوتے ہیں مگر ادب سے لطف اندوز ہونے کے لئے وسیع مطالعہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ قاری کے اندر صحت مند (Taste) پیدا ہو سکے یہی ادبی ذوق قاری اور ادیب کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔ اور غزل کی کلاسیکی روایت اور جدید غزل کے مزاج کو سامنے رکھا جائے تو ماجد کی غزل واضح طور پر الگ شناخت بناتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اس کی غزل اپنے موضوعات لفظیات اور تاثیر میں منفرد ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے ایسے اکثر الفاظ سے واسطہ پڑتا ہے جو دوسرے قدیم و جدید شعراء کے کلام میں شاذ و نادر ہی اس بے تکلفی سے استعمال ہوئے ہوں اس لئے ماجد صدیقی کا قاری لذتِ کام و دہن کے لئے جس اندازِ سخن کا عادی ہے اسے نہ پا کر کچھ بِدکتا ہے مگر جلد ہی اس نئی فضا میں سانس لینے کا عادی ہو جاتا ہے۔ ماجد صدیقی کی غزل کا بہاؤ پہاڑوں پر پگھلتی ہوئی برف کے صاف شفاف پانی جیسا ہے جو بلندیوں کے غرور کے منجمد کیفیات کے حصار کو توڑ کر نشیب کی طرف بہہ نکلتا ہے مگر اس کی یہ فروتنی انکساری ہے محرومی نہیں۔ بہاؤ بہتر ہے انجماد سے۔ انجماد کی مٹھی میں بند تخلیقی امکانات میں اضافہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے اور پھر پانی انجماد کی صعوبت سے نکل کر یا زمین پر بہہ نکلتا ہے یا بھاپ بن کر اڑنے لگتا ہے۔ اور یہ دونوں حالتیں نہ صرف خود اس کے لئے بلکہ جملہ موجودات کے لئے بھی افادیت کا باعث ہوتی ہیں مٹی کے ساتھ مٹی ہو جانا اس کے انداز میں شامل ہے اس جبلت کی وجہ سے ہم پانی کو پھلوں کے رس میں، مٹی میں اور پھولوں کے ہونٹوں پر رنگ کی صورت میں پاتے ہیں۔ اسی کے باریک قطروں کے سورج کی کرنوں میں حل ہو جانے سے دھنک رنگ قوس قزح کی صورت میں ابھرتے ہیں مگر جونہی قطروں اور کرنوں کا یہ ملاپ ختم ہو جاتا ہے سارے رنگ آسمان کی نیلاہٹوں میں گم ہو جاتے ہیں یہی حال اب غزل کا ہے اپنے ماحول سے الگ اور مسائل زمانہ سے جدا رہ کر اس میں وہ نکھار ممکن نہیں تھا جو اسے ماجد صدیقی جیسے حساس شعراء کے ہاتھوں نصیب ہوا ہے۔ اردو غزل جب تک شاہی درباروں میں رہی ایک لونڈی سے زیادہ کچھ نہ تھی اگر اسے موتی کی طرح تاج و تخت میں سجایا گیا تو اس نے چمک دمک دکھائی مگر وہ حقیقت میں جمے ہوئے خون کا ایسا قطرہ تھی جو زندگی کی حدت سے محرم ہو اس کے سپرد کچھ خدمات بھی ضرور تھیں مگر وہ کوئی زیادہ دت طلب نہ تھیں نسائی معشوقوں سے چہل، باغوں میں گلگشت، شہزادوں کے مزاج کی عکاسی، عشاق کے پیغام اور محبوبوں کے ناز نخرے الفاظ کے سانچے میں ڈھالنا اور تفننِ طبع عشاق کے لئے محفوظ رکھنا اس کے فرائض میں شامل تھا۔ زبان و بیان کی کڑی پابندیاں اس پر عائد تھیں کوئی لفظ عام ڈگر سے ذرا ہٹ کر زبان پر لانا گردن زدنی سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ غزل کی شاعری نے اس ٹکسالی دور میں نہ تو کبھی زمین پر قدم رکھا اور نہ ہی اس کی سختی اور سنگلاخی کا اسے احساس ہوا تھا لیکن اب غزل کی وہ رات گئی وہ بات گئی۔ حسن و عشق دونوں گرم و سرد زمانہ کو اپنے نرم و نازک لو کے بے رحم جھونکوں کی طرح سہہ رہے ہیں اور یہی کچھ جدید غزل کے خدوخال میں اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ سامنے آ رہا ہے اب غزل میں معشوقوں جیسی نازک بدنی ہے اور نہ عشاق جیسی نازک خیالی۔ جو پہلے پیٹ بھروں کا مشغلہ تھی اب معاشی سیاسی سماجی انفرادی اجتماعی ہر سطح پر ایک نہایت سنجیدہ مصروفیت بھی ہے استحصال، ظلم اور ہر طرح کے استبداد کے خلاف ڈھال بھی ٹوٹ پھوٹ کی اس فضا میں انسانی رشتوں کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ مقصدیت کے آسیبی چھلاوے ہر سطح پر نفسیاتی الجھن کا باعث بن رہے ہیں۔ اقدار تیزی سے بد رہی ہیں۔ سیاسی اقتصادی، معاشرتی و سماجی کھچاؤ داخلی الجھاؤ عدم استحکام کی صورت میں بے یقینی اور عدم تحفظ کی ایسی فضا کو جنم دے رہا ہے جس سے انسان پہلے کبھی اس طرح دو چار نہ ہوا تھا پس نئے دور کا انسان دو دنیاؤں کے درمیان سسک رہا ہے ایک دنیا مر رہی ہے اور دوسری دنیا ابھی جنم لینے کے قابل نہیں۔ ایسی ہی صورتِ حال غزل کی فضاؤں میں در آئی ہے۔ بھوک، پیاس، تنگ دستی، کسمپرسی کبھی غزل کے موضوعات نہ تھے۔ زمینی رشتے غزل کی فضا سے میل نہیں کھاتے۔ مگر ماجد صدیقی کی غزل سماجی کیفیات کو اپنے قاری کے لئے جمالیاتی خط کا ذریعہ بنا رہی ہے اردو غزل پہلے صرف گاتی اور گنگناتی تھی اب ماجد صدیقی کے ساتھ ہر سطح پر سوچتی اور باتیں کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کام گاری و ناکامی کی باتیں آجر و مجبور کی باتیں سماجی شعور کی باتیں۔ اس کی غزل کا بہاؤ انسانی زندگی کے تمام ذائقے ساتھ لئے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یو ں ماجد صدیقی کی شاعری کا نمایاں پہلو سماجی شعور کا پہلو ہے۔ 

خاک ہے جس کا مقدر وہ نگینہ دیکھا
ہم نے مزدور کے ماتھے پسینہ دیکھا

اس قبیل کے اشعار میں شدتِ احساس کے ساتھ ساتھ سماجی شعور کی کرشمہ سازی کا احساس بی ابھرتا ہے ماجد صدیقی ہر وقت اپنی ہی ذات کے کھنڈر میں آوارہ خرام نہیں رہتا اس کی نظر در و دیوار سے باہر کا منظر بھی دیکھتی ہے یہاں تک کہ در ہمسایہ کی ہلکی سی دستک بھی اسے تنہائی کے ٹھہرے ہوئے پانیوں میں سوچ کے لامتناہی دائروں کو جنم دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے امکانات کے ہزاروں در کھلتے ہیں اور اسے اپنی طرف بلاتے ہیں وہ احساس کے اس آئینہ خانے میں اپنے آپ کو تنہا نہیں پاتا بلکہ ایک کائنات کو ہم رکاب دیکھتا ہے ایسے میں لمحہ بھر کے لئے وہ کچھ نہیں رہتا اور سب کچھ ہو جاتا ہے۔ یہی لمحہ اس کی تخلیقی زندگی کا اہم ترین لمحہ ہوتا ہے وہ ہر دکھ کو اپنا دکھ اور موجودات کی ہر حالت کو اپنی حالت محسوس کرتا ہے اس دکھ بھرے استحصالی معاشرے میں دوسروں کو اذیت کی چکی میں پستے دیکھتا ہے تو اپنے آپ کو محفوظ نہیں پاتا دوسروں پر ہر گزرنے والا عذاب اس کی ذات پر پوری شدت کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ 

آجر سوچے دیکھ کے تن مزدوروں کے
کتنا سونا نکلے گا ان کانوں سے

لارڈرسل نے لکھا تھا مشین انسانی جذبات کو کچل دے گی یا انسان جذبات میں آ کر مشین کو تباہ کر دے گا ایسا معلوم ہوتا ہے ہم پہلی صورت حال کی طرف بڑی سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ماجد صدیقی نے یہاں بھی معاشرتی اور سماجی علت کو تلاش کیا ہے جو اس بے حسی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ 

چاہتیں وقفِ غرض، نیتیں نفرت والی
تخت ہم نے بھی وراثت میں سنبھالے کیا کیا

نفرت کا دھواں ہر طرف پھیلتا جا رہا ہے مقابلے کی عام فضا نے ہر طرف آدمی کو آدمی اور ممالک کو ممالک کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور عالمی سطح پر سب ٹھیک نہیں ہے ماجد صدیقی کی دور رس نگاہ ان آثار کو یوں پڑھتی ہے۔ 

وہ جس کی تصویر سے منور ہے آشتی کا ہر ایک پرچم
وہی پرندہ لٹک رہا ہے شجر پہ زخموں سے چور دیکھو

سماجی اور معاشرتی سطح پر ہر شخص اپنی ذات میں ایک بے معنی بکھراؤ کا شکار ہے اس غیر فطری تقسیم ذات کی طرف ماجد نے اشارہ کیا ہے۔ 

میرے جینے کے اسباب سب شہر میں 
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے

ماجد صدیقی کے کلام میں سماجی شعور کے ساتھ ساتھ شدتِ احساس بھی کمال درجے پر ہے۔ دراصل جذبے کی داخلیت کا نام احساس ہے اور خارجیت کا نم اظہار چوٹ جس قدر شدید ہو چیخ میں اتنی ہی گہرائی اور آنسوؤں میں اتنا ہی زیادہ کھارا پن پایا جاتا ہے اپنی اس بات کے ثبوت میں ایک شعر پیش کروں گا جس کے خالق کا نام مجھے یاد نہیں۔ 

کالی گھٹا سے کوندا لپکا کوئل کوک گئی
جتنی گہری سانس کھنچی تھی اتنی ہوک گئی

ماجد صدیقی جتنی شدت سے محسوس کرتا ہے اتنی ہی قوتِ اظہار کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے اس کا ثبوت وہ تمام اشعار ہیں جو اس کی مطبوعہ کتب میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں اور اپنے قاری کے لئے جمالیاتی حظ کا ذریعہ بنتے ہیں ماجد صدیقی کے کچھ اشعار دلدوز چیخ سے زیادہ اثر رکھتے ہیں کیونکہ وہ فنی سطح کے علاوہ سماجی پس منظر کو کئی زاویوں سے منعکس کرتے ہیں۔ 

ہم دونوں میں رنجش تھی اور بچے گھر میں سہمے تھے
ناداری کی لعنت سے ہم عید کے دن بھی الجھے تھے

ماجد صدیقی ہمیں اس لئے بھی متاثر کرتا ہے کہ اس کے اظہار کے پیچھے ہمیشہ زندگی کا کوئی نہ کوئی بھرپور تجربہ پوری معنوی پرتوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے نہ صرف یہ بلکہ احساس کی یا ایسی چنگاری دمک رہی ہوتی ہے جو قاری کی وابستگی کے فانوس کو بجھنے نہیں دیتی۔ وہ ماجد صدیقی کے ساتھ نئی نئی تصویریں دیکھتا سوچتا اور محسوس کرتا چلا جاتا ہے۔ 

پوچھا یہ کس نے حال مری بو و باش کا
چھینٹا دیا یہ کس نے دہکتے تنور میں 

ماجد صدیقی کا یہ شعر اس کے مشاہدے، شدتِ احساس، اور قوتِ اظہار کا ایسا معیار قائم کرتا ہے جو اس کا انعام بھی ہے اور پہچان بھی۔ 

Advertisements