ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
برسے دِل پر تیر جو تیر تھے کڑی کمان کے
کرتے بھی کیا اور ہم سہہ گئے سینہ تان کے
جُڑتے ہیں کب دوستو جھڑتے پتّے شاخ سے
کیا کر لیں گے آپ بھی حال ہمارا جان کے
پھیلے دام نہ دیکھ کر آہو ہوئے اسیر جو
نکلے ہونگے دشت میں جی میں کیا کچھ ٹھان کیا
لب پر ڈیرے آہ کے بکھرے تار نگاہ کے
کیسے ہوئے ملول ہم تم بھی دیکھو آن کے
دل سے اٹُھے درد کو ممکن تھا کب روکنا
ٹپکے آخر آنکھ سے چھالے مری زبان کے
نرم خرامی ابر سی، دریاؤں سا زور بھی
کیا کیا کچھ انداز ہیں ماجدؔ ترے بیان کے
ماجد صدیقی
Advertisements