ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
پاندھیوں کو نہ راہ میں رکھنا
ربّ عالم پناہ میں رکھنا
عرش تک کو ہِلا کے جو رکھ دے
تاب ایسی بھی آہ میں رکھنا
لے نہ بیٹھیں یہ باتفنگ تمہیں
کوئی مُخبر سپاہ میں رکھنا
شیر جو ہو گیا ہے آدم خور
اُس کی یہ خُو نگاہ میں رکھنا
تاجور! نسخۂ حصولِ تخت
سینت رکھنا، کُلاہ میں رکھنا
ہو جو ماجِد سُخن پسند تو پِھر
فرق کیا واہ واہ میں رکھنا
ماجد صدیقی
Advertisements