ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
رتجگوں کی آنچ سے کُملائیاں
ساری آوازیں لگیں بھرّائیاں
کل جو گزرا تھا گلی سے کون تھا
پُوچھتی ہیں اُس سے یہ ہمسائیاں
آنکھ سے پھُوٹی وہ نم اب کے برس
جم گئیں منظر بہ منظر کائیاں
رہ بہ رہ شہروں میں میلہ حشر سا
اور گھر گھر قبر سی تنہائیاں
ہاتھ سے اک بار جو ماجدؔ گئیں
کب بھلا وہ ساعتیں لوٹ آئیاں
ماجد صدیقی
Advertisements