تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کھال

سینت اِن میں آخر تک کے احوال میاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
کیمرے اِن دو آنکھوں کے سنبھال میاں
سینت اِن میں آخر تک کے احوال میاں
جھاڑ کے پچھلے پتے نئی بہار منا
خود سے عہد نیا کر سال بہ سال میاں
عقل تری بھی ہے مانند، سیاست کے
جان کے چل اِس حرّافہ کی چال میاں
یہی تو سرِ ورق ہے تیرے ظاہر کا
تازہ رکھ تو اپنی روشن کھال میاں
جیتے دم گر دن ہو جائے سیہ بھی کوئی
اُس کو سمجھ اپنے مکھڑے کا خال میاں
جن میں الجھ کے اپنے آپ پہ حرف آئے
جی میں پال نہ ایسے بھی جنجال میاں
ماجِد!رُو بہ عروج ہے تو، بس یہ دنیا
جسکی اک اک شے ہے رُو بہ زوال میاں
ماجد صدیقی

اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
ستّر سے بھی اُوپر ہو گئے، ماجِد! عمر کے سال
اب تو ڈھنگ سے جینے کی کوئی طُرفہ راہ نکال
اپنا غم، اوروں کے غم، ۔۔۔اور، اور کئی جنجال
سانسوں تک میں اُترے دیکھیں اِن فِتنوں کے جال
سورج چندا تک توہمارے انگناں اُتریں روز
کسے بتائیں کس سے کہیں ہم، جا کر اپنا حال
اور نہیں خود ہمِیں اُٹھائیں قدم نئے سے نیا
پھر کاہے کو دُوجوں سے ہم رہنے لگیں نِڈھال
دھڑکن دھڑکن خوں میں ہمارے جو موجود رہے
ہاں یہ وقت ہے ہم سے جو، کھیلے ہر اُلٹی چال
میں ہوں کہ تُو، ہم حرصی خود سے کبھی کہیں نہ یہ بات
’’اپنی قامت مت نیہوڑا، مت نئے بکھیڑے پال”
اچھّا ہے اپنے اندر کا، موسم دِھیما رکھ
شدّتِ سرما سے سمٹے، گرمی سے اُدھڑے کھال
ماجد صدیقی

پیٹتا رہ اپنا سینہ، سُرخ اپنی کھال کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
غم میں سب بچھڑے ہوؤں، کے اور پِیلے گال کر
پیٹتا رہ اپنا سینہ، سُرخ اپنی کھال کر
کاج تیرے صبحِ کاذب سے ہیں ڈھلتی شام تک
فکرِ فردا، فکرِدِی، کو چھوڑ، فکرِ حال کر
جس سے تیرا شاہ اور تیرے پیادے بچ سکیں
اے محافظ!اختیار ایسی بھی کوئی چال کر
بعدِ مدّت وہ کہ ہے آنے کو ماہِ عید سا
مکھ پہ مسکاتی رُتوں سے اُس کا استقبال کر
اس کے ہجرِ عارضی کا کیا پتہ؟ ہو یہ علاج
اپنے کاندھوں پر مزّین، اُس کی کومل شال کر
جیت سکتا ہے تو ہاں! لے جِیت قُربت یار کی
فائدہ کیا ہے، رقیبوں کو ذرا سا ٹال کر
جو متاعِ زندگی ماجد!دوبارہ ہے ملی
خرچ اُس کو کر ذرا تُو سینت کر سنبھال کر
ماجد صدیقی

ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ہم نے کھیلی وقت سے جو بھی چال گئی
ساتھ دنوں کے ہر شکلِ احوال گئی
ڈھانپنے والے تھے ہم جس سے سر اپنا
اُس سودے میں ساتھ ہی اپنی کھال گئی
خواہش، لُطف کی آخری حد چھُو لینے کی
چھین کے ہم سے کیا کیا ماہ و سال گئی
دیکھا رنگ اور رُوپ دلائے جس نے اِنہیں
پیڑوں کو آثار میں وُہ رُت ڈھال گئی
ہمیں چِڑانے باغ سے آتی تھی جو صبا
آخر ہم سے بھی ہو کر بے حال گئی
اُس چنچل کی بات کچھ ایسی پیچاں تھی
رگ رگ میں جو سو سو گرہیں ڈال گئی
ماجدؔ بات ہماری لیکھ سنورنے کی
ہر جاتی رُت اگلی رُت پر ٹال گئی
ماجد صدیقی

ہنسی ہنسی میں مری بات پھر وہ ٹال گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
اِک اور بار بھی غارت مرا سوال گیا
ہنسی ہنسی میں مری بات پھر وہ ٹال گیا
بحال کتنا ہی چہرہ ہو دیکھنے میں مگر
جو آئنے میں تھا دل کے نہیں وہ بال گیا
چہک رہا تھا کہ شاخوں میں سرسراہٹ سے
مرے سَرُور کا یک بارگی جمال گیا
لپک تھی جس کو دکھانے کی چال کا جادو
ہرن وہ آج اُدھڑوا کے اپنی کھال گیا
کھلا حساب خسارے کا پھر نیا ماجدؔ
شمارِ کرب و الم میں اک اور سال گیا
ماجد صدیقی

آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر
آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر
ممنوع جب سے آبِ فراتِ نمو ہوا
کیا کچھ گئی ہے بِیت، گلستاں کی آل پر
مانندِ زخم، محو شجر سے بھی ہو گئے
چاقو کے ساتھ نام کھُدے تھے جو چھال پر
گُرگانِ باتمیز بھی ملتے ہیں کُچھ یہاں
کیجے نہ اعتبار دکھاوے کی کھال پر
ماجدؔ رہیں نصیب یہ دانائیاں اُنہیں
قدغن لگا رہے ہیں جو برقِ خیال پر
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑