تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

غلام

عقداِک اور ہُوا ایک غلام اور بنی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 106
آل کی چاہ نبھانے کو نیام اور بنی
عقداِک اور ہُوا ایک غلام اور بنی
سینت رکھنے کو جو دل میں ہیں اُنہی شاموں سی
دفعتاً آپ کے مل جانے سے شام اور بنی
راہ چلتے ہوئے اک شوخ سے رستہ پوچھا
وجہ کچھ اور تھی پر وجہِ کلام اور بنی
حسرتِ تخت کے مارے ہوئے شاہوں کے لیے
سقّہ بچّے کی خدائی ہے پیام اور بنی
حسن و اعزاز میں بھی فرد تھے حضرت یوسف
اُن کا نیلام بھی اک وجہِ دوام اور بنی
چل کے آگے یہ کھلا ہم پہ کہ خوش خلقی کو
قید جو خود پہ لگائی تھی لگام اور بنی
سُرخیٔ شام سی ماجد ہے جو ہرشام تری
منفرد زینتِ پیشانیٔ بام اور بنی
ماجد صدیقی

ہم غلام، ابنِ غلام، ابنِ غلام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
لے کے سینوں میں پھریں حبس دوام
ہم غلام، ابنِ غلام، ابنِ غلام
پُوچھتا ہے کون مایہ دار اُنہیں
دھوپ میں جاتے ہیں جل جل جن کے چام
فنڈز ڈیموں کے کرو تم غت رَبُود
سَیل کو ٹھہراؤ مقسومِ عوام؟
ہر عقیدہ پختہ تر زردار کا
خام ہے تو ہے یقیں مفلس کا خام
ہے کہاں یاروں کا وہ چنچل طلوع
چاروں جانب کیوں اُتر آئی ہے شام
ہاں ٹھہرتے ہیں وُہی ضَو کے سفیر
جن کے ماتھے ہیں منوّر، جن کے بام
تم سخن ماجد! کہاں ہو لے چلے
اینٹیاں ٹھہریں جہاں یوسف کے دام
ماجد صدیقی

جتنا ترا ہے؟ روشن کس کا نام ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 23
ماجد تجھ پہ خصوصی یہ انعام ہُوا
جتنا ترا ہے؟ روشن کس کا نام ہُوا
پیشِ نظر رہتا ہے ہمیشہ اُس کا بدن
وہ کہ جو تُندیٔ صہبا سے ہے جام ہُوا
جیسا ہوا ہم سے اُس کے دُور ہونے پر
ایسا کس کے بچھڑنے پر کُہرام ہُوا
قاتلِ محسن تک بھی جہاں برحق ٹھہرے
کون اُس دیس سا مفروضوں کا غلام ہُوا
حاکم جیسے تخت پہ اِک دن کو اتریں
سکّہ تک ہے اُن کے سبب سے چام ہُوا
جیسے بُھنے دانوں کا اُگنا ناممکن
اچّھے دنوں کا خواب خیالِ خام ہُوا
ماجد صدیقی

گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں
گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں
ہمیں وہ لوگ، کہ ہم جنس جن سے کترائیں
ہمیں وہ لوگ، کہ یزداں سے بھی کلام کریں
مِلی فلک سے تو جو آبرو، ملی اِس کو
ہمیں بھی چاہیئے انساں کا احترام کریں
ہوا نہ کوہِ الم جن سے آج تک تسخیر
ہزار موسم مہتاب کو غلام کریں
ہر ایک شخص جو بپھرا ہوا مِلے ہے یہاں
حدودِ ارض میں اُس کو تو پہلے رام کریں
گرفت میں ہیں جو ماجدؔ اُنہی پہ بس کیجے
نہ آپ اُڑتے پرندوں کو زیرِ دام کریں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑