تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سستا

کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 148
وہ پاس آ بھی گیا پھر بھی دور بستا ہے
کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے
بہ فیضِ وقت ہیں خیمے تمام استادہ
جو توڑ توڑ طنابیں بھی ان کی کستا ہے
وہ برگ گل ہے وہ تتلی کے ہے پروں جیسا
نظر کی آنچ سے اس کا بدن جھلستا ہے
جو ذی مقام ہے، ذی زر ہے، ذی شرف بھی ہے
اسی کا قولِ مبارک اک اک خجستا ہے
سعادتیں بھی سبھی ایٹنٹھتے ہیں زروالے
انہی کے واسطے قُربِ خدا بھی سستا ہے
بندھی ہیں گنجلکیں جن میں خراب نیّت کی
ہماری زیست بھی پٹواریوں کا بستا ہے
ماجد صدیقی

بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا
بھیڑیوں کی دھاڑ سے ہے دشت بھر دِبکا لگا
اِس طرح کرنے سے اُٹّھے گی عمارت اور بھی
سرفرازی چاہیے تو اور بھی پیسا لگا
جان لے اخلاق سے ہٹ کر بھی کچھ آداب ہیں
مختصر یہ ہے کہ جتنا ہو سکے مسکا لگا
نرخ اِس یوسف کے اَنٹی سے بھی ارزاں ہو گئے
آدمی ہی جس طرف دیکھا ہمیں سستا لگا
لُو چلی تو، وہ کہ منکر تندیِ موسم کے تھے
چیخنا اُن کا ہم اہلِ دل کو بھی اچّھا لگا
کر کے اک قتلِ مسلسل سے ہمیں دو چار وہ
پُوچھتا ہے وار خنجر کا کہو، کیسا لگا
دیکھ کر دھندلا گیا جس کو بدکتا چاند بھی
اب کے یوں روئے سحر ماجد ہے کچھ اُترا لگا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑