تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سجھاتا

نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
زرونقدِراحت تمہی پر لٹاتا تم آئے تو ہوتے
نجانے یہ دل جشن کیا کیا مناتا تم آئے تو ہوتے
گلے میں حمائل سجل ضَو کے ہالے، سرِبام چندا
جہاں بھر کو میں اپنی پونجی دکھاتا تم آئے تو ہوتے
کلی کی چٹک سی ،زمیں پر نئی بوندیوں کی کھنک سی
نرالی دھنیں میں لبوں پر سجاتا تم آئے تو ہوتے
مجھے کس طرح تم جلاتے بجھاتے رہے فرقتوں میں
تمہیں جَور اک اک تمہارا سُجھاتا تم آئے تو ہوتے
ان اشکوں کے آنکھوں سے فرطِمسرت میں جو پھوٹتے ہیں
نئے دیپ پلکوں پہ اپنی جلاتا تم آئے تو ہوتے
ماجد صدیقی

اشک سا خاک میں سماتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 100
شاخ پر جو بھی پھول آتا ہے
اشک سا خاک میں سماتا ہے
شیر کس انتقام کی آتش
خون پی پی کے نِت بُجھاتا ہے
کیا یہ شب ہے کہ جس میں جگنو بھی
دُور تک راستہ سُجھاتا ہے
جانے قصّہ ہے کیا قفس میں جسے
نت پرندہ زباں پہ لاتا ہے
اَب تو ماجدؔ بھی چند قبروں کو
چُومتا ہے گلے لگاتا ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑