تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

سارا

ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 165
رکھ دیا دل کھول کر گویا ہو سر تا پا کُھلا
ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا
رات کی رانی کی خوشبو میں صبا کے رقص میں
ہم نے آنکھیں ہی نہ کھولیں ورنہ وہ کیا کیا کُھلا
اپنے ہاں کی جو سیاست ہے، شکستہ خط میں ہے
جیسے اہلِ دِہ پہ پٹواری کا ہو بستا کُھلا
پُھول دِکھلایا تو اُس نے چاند دکھلایا ہمیں
جیسے جیسے ہم کُھلے ہم پر بھی وہ ویسا کُھلا
دیکھنے میں گو ہمارے پاس آن اُترا ہے وہ
جھیل میں اُترا جو چندا ہم پہ وہ اُلٹا کُھلا
رام کرنے کو ہمیں تاکا کبھی جھانکا کیا
وہ کہ پیکر تھا حیا کا ہم پہ کب پُورا کُھلا
ہاں کبھی یوں بھی کیا تھا ہم نے سجدہ شُکر کا
ہاں کسی چنچل کا ماجد ہم پہ بھی در تھا کُھلا
ماجد صدیقی

مکھ ہے ترا کہ یہ پُورا چاند

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
دل جھیلوں میں اُترا چاند
مکھ ہے ترا کہ یہ پُورا چاند
مجھ کو دیکھ کے اِترایا
تجھ کو دیکھ کے سمٹا چاند
ضو اُن سب سے پھوٹ بہی
جن رستوں سے گزرا چاند
دیکھا بیٹھ کے پاس اُس کے
بِن تیرے تھا ادھورا چاند
جس نے اُسے ہے زیر کیا
تھکے نہ اُس کو تکتا چاند
دُور سے کیا رنگیں لاگے
دُھول اڑاتا پھیکا چاند
سجا ہے بیچ شکاگو کے
ماجد میرا سارا چاند
ماجد صدیقی

مُکھ چندا تب جا کے نکھارا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
اور جنم اک لیا دوبارہ
مُکھ چندا تب جا کے نکھارا
حسرت کچھ کر نے کی نہ جائے
بِیت چلا ہے جیون سارا
بنواتے سپنوں کے گھروندے
پھانک رہے ہیں مٹّی گارا
اہلِ دُوَل کی حکمت عملی
چوبارہ۔۔۔۔اُس پر چوبارا
زور ہم پر زردار کا جیسے
بیوی پر ہے میاں کا اجارا
باغی موجۂ آب ہو جیسے
یار نے کیا قد کاٹھ اُسارا
ہم نے اُس سے معانقہ کرنے
چندا بازوؤں میں ہے اُتارا
اُس کے خیال کی ضَو کیا کہنے
بام سے جی میں اُتر آیا مہ پارا
سوچا تھا دل ہاتھ پہ رکھ لیں
سامنے اُس کے ہُوا نہ یارا
تیرا کِیا یہ کہاں بھولے گا
تو نے ہمیں دل سے ہے بِسارا
جب بھی ذرا سے ہوں ہم غافل
اپنا ضمیر بھرے ہنکارا
شوہر پر جب سَوتنیں الجھیں
دیدنی ہوتا ہے نظارا
ٹیکسی والا بھی کہتا تھا
اپنی قیادت بھی ہے کٹھارا
سونے کی چڑیا کہلایا
صدیوں پہلے دیس ہمارا
کھیل شروع ذرا ہو لے تو
از خود ہو جائے گا نِتارا
کاش اُس شوخ کی جھیل آنکھوں میں
میں اُتروں سارے کا سارا
چاند نہ تتلیاں ہوں انگناں میں
کیسے سجنوا بِن ہو گزارا
ہاں اپنا اک اک مجموعہ
’پیار جریدے، کا ہے شمارہ
بے مقصد باتیں ہم سب کی
جیسے چَرنے کو ہو چارا
پھر آمر ہے جِھینت سے جھانکے
بجنے کو ہے پھر نقّارا
آنکھ میں دیکھ نشہ اُترا ہے
جان بھی جا سجناں یہ اشارا
کھوئے ہوئے ہیں اُسی کی لَے میں
جی کا بجے جب تک اکتارا
بڑھتا قدم ہے جِیت تمہاری
عزمِ سفر ہے لیکھ تمہارا
بھنور بھنور الجھاؤ بہت ہیں
دُور لگے دریا کا کنارا
ُپُھنکا ہوائے حرص سے ہو جو
پھٹ جاتا ہے معاً وہ غبارا
وہ کہ جو جبراً مغویہ ٹھہری
سُن کچھ اُس کی بھی، اوتارا!
دل میں اُسے جب ڈھونڈنا چاہا
دُور کے گوشے سے وہ پُکارا
تُو دَھنّی کا گیت الاپ اور
میں یہ کہوں۔۔۔پُٹھوار ہے پیارا
جس نے یتیمی خود نہیں دیکھی
کب وہ یتیموں کا ہو سہارا
ماجد! تیری روش پہ کہے دل
واہ واہ! مرے جیدارا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑