تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

رقصاں

چنگاری کو رقصاں دیکھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
اُس کا حسنِ درخشاں دیکھا
چنگاری کو رقصاں دیکھا
تھوڑ ہی تھوڑ رہی خوشیوں کی
رنج ہی رنج فراواں دیکھا
چاند اُسے ہی رگیدنے آیا
جو تارا بھی نمایاں دیکھا
جسم پگھل کے چٹختا لاگے
روح کو جب سے پرِیشاں دیکھا
گل پہ نجانے اوس پڑی کیا
صبح اسے بھی گریاں دیکھا
بام و افق سے ہم نے اکثر
حسن کو آنکھ پہ عریاں دیکھا
وجد سے پھر نکلا نہ وہ جس نے
ماجد! تجھ کو غزلخواں دیکھا
ماجد صدیقی

جھیل میں اُس کو میں نے عریاں دیکھ لیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
مجھ سے تھا، جو چاند گریزاں دیکھ لیا ہے
جھیل میں اُس کو میں نے عریاں دیکھ لیا ہے
دیکھ لیا ہے، تنکے کو، پانی پر بہتے
دل نے ہو کر، عدل کا خواہاں دیکھ لیا ہے
راحت کا عرفان بھلا کیا اور مجھے ہو
برگ پہ قطرہ اوس کا رقصاں دیکھ لیا ہے
آخر کو ہونٹوں پر لا کر، حرف دُعا کا
ایک بگولا سا، پرافشاں دیکھ لیا ہے
آز میں خواہش کی تکمیل کے، پڑ کر ماجدؔ
جبر کا کیا کیا بار، سرِ جاں دیکھ لیا ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑