تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

دکھلانے

ہم پرچم بن کر لہرانے والے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 91
ماں دھرتی کی آن بچانے والے ہیں
ہم پرچم بن کر لہرانے والے ہیں
وہ کہ جنہیں دعویٰ ہے جگائے رکھنے کا
لوگوں کو کچھ اور سُلانے والے ہیں
آئے تو کچھ اور بھی طعنہ زن نکلے
ساروں کی بگڑی جو بنانے والے ہیں
وہ سکّے جو سبک، افراطِ زر سے ہیں
دیس کو اور ہی دن دِکھلانے والے ہیں
جنہیں خریدا ہم میں سے بیگانوں نے
وہی تو ہیں جو ہمیں دہلانے والے ہیں
ماجد ہم کو بھی لا یعنی اندیشے
بستر تک میں، نِت تڑپانے والے ہیں
ماجد صدیقی

پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 113
کم نہ تھا وہ بھی جو ارضِ جاں کے ہتھیانے میں تھا
پر کرشمہ اور ہی اُس کے مکر جانے میں تھا
سر نہ خم کر کے سرِ دربار ہم پر یہ کُھلا
لطف بعد انکار کے کیا، گال سہلانے میں تھا
حق طلب ہونا بھی جرم ایسا تھا کچھ اپنے لیے
جاں کا اندیشہ زباں پر حرف تک لانے میں تھا
سر بہ سجدہ پیڑ تھے طوفانِ ابروباد میں
اور دریا محو اپنا زور دکھلانے میں تھا
سانحے کی تازگی جاں پر گزر جانے لگی
کرب کچھ ایسا ستم کی بات دہرانے میں تھا
جاں نہ تھی صےّاد کو مطلوب اتنی جس قدر
اشتیاق اُس کا ہمارے پَر کتروانے میں تھا
پھر تو ماجد کھو گئے ہم بھی فنا کے رقص میں
خوف سب گرداب کے ہم تک چلے آنے میں تھا
ماجد صدیقی

عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
عمر ڈھل جانے لگی اور قرض بڑھ جانے لگے
بحر میں حالات کے، بے رحم موجیں دیکھ کر
اژدہے کچھ اور ہی آنکھوں میں لہرانے لگے
مِہر کے ڈھلنے، نکلنے پر کڑکتی دھوپ سے
گرد کے جھونکے ہمیں کیا کیا نہ سہلانے لگے
تُند خوئی پر ہواؤں کی، بقا کی بھیک کو
برگ ہیں پیڑوں کے کیا کیا، ہاتھ پھیلانے لگے
وحشتِ انساں کبھی خبروں میں یوں غالب نہ تھی
لفظ جو بھی کان تک پہنچے وہ دہلانے لگے
چھُو کے وسطِ عمر کو ہم بھی شروع عمر کے
ابّ و جدّ جیسے عجب قصّے ہیں دہرانے لگے
اینٹ سے ماجدؔ نیا ایکا دکھا کر اینٹ کا
جتنے بَونے تھے ہمیں نیچا وہ دکھلانے لگے
ماجد صدیقی

وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
زچ ہوئے پر جو ذرا سا تھا بدل جانے لگا
وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا
بچ کے پچھلے دشت میں نکلے تھے جس کے سِحر سے
پھر نگاہوں میں وہی اژدر ہے لہرانے لگا
کر کے بوندوں کو بہ فرطِ سرد مہری منجمد
دیکھ لو نیلا گگن پھر زہر برسانے لگا
جُود جتلانے کو اپنی شاہ ہنگامِ سخا
عیب کیا کیا کچھ نہ ناداروں کے دِکھلانے لگا
سُرخرُو اس نے بھی زورآور کو ہی ٹھہرا دیا
حفظِ منصب کو ستم عادل بھی یہ ڈھانے لگا
دل میں تھا ماجدؔ جو سارے دیوتاؤں کے خلاف
اب زباں پر بھی وہ حرفِ احتجاج آنے لگا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑