تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

بڑھا

یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
آنکھوں میں مری سما کے دیکھو
یہ مشعلیں بھی جلا کے دیکھو
ہے جسم سے جسم کا سخن کیا
یہ بزم کبھی سجا کے دیکھو
پیراک ہوں بحرِ لطفِ جاں کا
ہاں ہاں مجھے آزما کے دیکھو
اُترو بھی لہُو کی دھڑکنوں میں
کیا رنگ ہیں اِس فضا کے دیکھو
مخفی ہے جو خوں کی حِدتّوں میں
وہ حشر کبھی اٹُھا کے دیکھو
بے رنگ ہیں فرطِ خواب سے جو
لمحے وہ کبھی جگا کے دیکھو
بہلاؤ نہ محض گفتگو سے
یہ ربط ذرا بڑھا کے دیکھو
ملہار کے سُر ہیں جس میں پنہاں
وُہ سازِ طرب بجا کے دیکھو
طُرفہ ہے بہت نگاہِ ماجدؔ
یہ شاخ کبھی ہلا کے دیکھو
ماجد صدیقی

پَو پھٹے چاند سے اُس کا جوبن لُٹا اور میں کھو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
وقت کی شاخ پر پات پیلا پڑا اور میں کھو گیا
پَو پھٹے چاند سے اُس کا جوبن لُٹا اور میں کھو گیا
پھر نجانے معطل رہے کب تلک میرے اعصاب تک
ہاتھ جابر کا شہ رگ کی جانب بڑھا اور میں کھو گیا
آسماں پر کماں بن کے قوسِ قزح دُور ہنستی رہی
وار جو بھی ہُوا پاس ہی سے ہُوا اور میں کھو گیا
عمر کیا کیا نہیں لڑکیوں کی ڈھلی پاس ماں باپ کے
خوں کے آنسو بنے اُن کا رنگ حنا اور میں کھو گیا
میں کہ ماجد ہوں اہلِ ہنر، اہلِ مکر و ریا کیوں نہیں
بس یہ نکتہ مجھے بے زباں کر گیا اور میں کھو گیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑