تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ہنر

بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 184
ماں کا اور باپ کا گھر یاد آیا
بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا
شیر کا لقمۂ تر یاد آیا
اِک ہرن سینہ سپریاد آیا
عدل میں ٹیڑھ جہاں بھی دیکھی
اپنا اندھیر نگر یاد آیا
اُس سے وُہ پہلے پہل کا ملنا
جیسے گنجینۂ زر یاد آیا
سحر سے جس کے نہ نکلے تھے ہنوز
پھر وہی شعبدہ گر یاد آیا
جب بھی بہروپیا دیکھا کوئی
سر بہ سر فتنہ و شر یاد آیا
میروغالب کی توانا سخنی
ہائے کیا زورِ ہُنر یاد آیا
پڑھ کے ماجد تری غزلیں اکثر
کسی فردوس کا در یاد آیا
ماجد صدیقی
Advertisements

ضَو سے ہر کنکری گُہَر کر دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 157
چاند چہرہ کبھی اِدھر کر دے
ضَو سے ہر کنکری گُہَر کر دے
کاش محصورِ شب دیاروں میں
انگناں انگناں کوئی سحر کر دے
اُس پہ قدرت لٹائے قادر بھی
جس کو وہ صاحبِ ہنر کر دے
شاہ ایسا کوئی بہم نہ ہُوا
بڑھ کے جو زیر کو زبر کر دے
تو کہ ہے خیر بانٹنے والا
کم ہمارے یہاں کی شر کر دے
گردِ ادبار ہے جمی جن پر
اُجلے اُجلے وہ سب نگر کر دے
میں بھی تو چھاؤں بانٹنا چاہوں
تُو مجھے راہ کا شجر کر دے
وُہ کہ جنّت میں ہے جو موعودہ
اس جہاں میں وہ میرا گھر کر دے
زردیاں بھیج کر خزاؤں کی
سارے ہم سوں کو اہلِ زر کر دے
نذرفیض
ماجد صدیقی

گلی گلی کے بدامنی کے نہ شرر ہوتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 131
کاش فساد سبھی سرکار کے سر ہوتے
گلی گلی کے بدامنی کے نہ شرر ہوتے
ہم نہ پہنچ پائے ایوانوں میں ورنہ
سب کے سب ایوان عوامی گھر ہوتے
لعنت بھجیے ایسی راہنمائی پر
ہم نہ کبھی خودساختہ ملک بدر ہوتے
بول ہمارے بھی سچ ہوتے گر ہم بھی
صاحب رقبہ ہوتے صاحب زر ہوتے
کیا گیا ہوتا گر روشن چہروں کو
بے آباد نہ یئوں یہ اپنے نگر ہوتے
بات کی تہہ میں بھی اے کاش اتر سکتے
شاہ ہمارے گر کچھ اہلِ ہنر ہوتے
ذوق کو شاہ کی قربت کیسے بہم ہوتی
وہ بھی اگر ماجد ہم سے خودسر ہوتے
ماجد صدیقی

آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 127
سانس کے پل پل سفر کا لطف لے
آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے
ساتھ لاتا ہے جو پیاروں کا ملاپ
انگناں انگناں اُس سحر کا لطف لے
اوس سے بھیگے جو وصلِ یار کے
پھول جیسے اُس پہر کا لطف لے
کربِ خلقت کے سبب بڑھتا ہے جو
تن میں اُس سوزِ جگر کا لطف لے
وہ کہ جو اظہارِ خوبی پر ملے
جی کہے تو ایسی زر کا لطف لے
جب مخالف ہو ہوائے دہر تو
سنسناتے بال و پر کا لطف لے
ہاں عطا ہے سب سے ہٹ کر جو تجھے
تُو بھی ماجد اُس ہنر کا لطف لے
ماجد صدیقی

زمیں پہ برق کے زورِ ہنر کو دیکھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 95
وہ جس پہ کوند گئی اس شجر کو دیکھتے ہیں
زمیں پہ برق کے زورِ ہنر کو دیکھتے ہیں
کوئی تو رُخ ہے نہاں جمگھٹے میں زلفوں کے
سیاہ رات کے انگناں سحر کو دیکھتے ہیں
پیامِ یار پہ پیہم لگے ہیں گوش و نگاہ
کبوتروں کے کُھلے بال و پر کو دیکھتے ہیں
عقاب ٹوٹتے دیکھیں جو فاختاؤں پر
ہم اپنے حق میں روا خیروشر کو دیکھتے ہیں
ہم اس کے روپ میں ملزم جو واگزار ہوا
نجانے کیوں پسِ انصاف، زر کو دیکھتے ہیں
جو پھڑپھڑائے فضا میں بہ شکل شاہ سُرخی
جو رن سے آئےُنامہ بر کو دیکھتے ہیں
کبھی نہ اگلا سفر کر سکیں وہ طے ماجد
مآلِ کار جو رنجِ سفر کو دیکھتے ہیں
ماجد صدیقی

جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
آنکھوں سے تری جو ہویدا ہے وہ کیف کسی منظر میں کہاں
جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں
تُو بات کرے توپھول جھڑیں مستی چھلکے تری آنکھوں سے
جو طنطنہ تیرے سخن میں ہے وہ اور کسی کے ہنر میں کہاں
جو باس جلو میں ترے ہے سجن کیا کہنے اُس کی تمازت کے
جو تیری نگاہ میں ہے جاناں! گرمی وہ حصولِ زر میں کہاں
تن من کو جو پل میں جگا ڈالے مائل جو کرے جل مِٹنے پر
جو آنکھ تری میں شرارت ہے، وہ اور کسی بھی شرر میں کہاں
جو ذہن و بدن کو جِلا بخشے، حدّت جو لہو کو دلاتی ہے
جو یاد تری سے ہے وابستہ وہ تازگی رُوئے قمر میں کہاں
قدموں میں جو تاب و تواں اُتری کب جسم میں ایسی توانائی
چلنے میں شرف ہے جو سمت تری وہ اور کسی بھی سفر میں کہاں
جس عمر میں چاہتے ہو کہ بڑھو پھر رفعتِ قاف کی جانب تُم
ایسی بھی توانائی ماجِد! اِس عمر کے بال و پر میں کہاں
ماجد صدیقی

یادآئے محکوم کا دیہہ بدر ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
حکم پہ پینچوں کے یک دم بے گھر ہونا
یادآئے محکوم کا دیہہ بدر ہونا
سنتے ہیں خُو بُومیں لگے فرعونی سا
صاحبِ رقبہ ہونا، صاحبِ زر ہونا
عمرِ اخیر میں یوں بھی دیکھنا پڑتا ہے
جسم و جسامت کا ویران شجرہونا
ہر مجہول ہمیں ہی دھر لے جاتا ہے
عیب جو ہے تو ہمارا اہلِ ہنر ہونا
کوئی نہ مجھ سا پِٹ جائے، وہ خاک کہے
جس کا نصیبہ ٹھہرے راہ گزر ہونا
سچ پوچھیں تو بادشہی سے کم تو نہیں
آج کے دورِگراں میں اپنا گھر ہونا
ویسے بھلے ماجدہو ہمِیں سا، پہ اندر سے
صاحبِتاج کو چاہیے پیغمبر ہونا
ماجد صدیقی

آثار قرائن سے ہویدا ہیں سحر کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
کھُلتے ہوئے لگتے ہیں دریچے جو نظر کے
آثار قرائن سے ہویدا ہیں سحر کے
صُورت کوئی صّیاد نے چھوڑی ہی نہ باقی
میں سوچ رہا تھا ابھی امکان مفر کے
ہاں بھیک بھی پاؤگے تو ٹھوکر بھی کہیں سے
مصرف ہیں ابھی اور کئی کاسۂ سر کے
پھل ضربِ سرِ پا سے گرے صُورتِ باراں
اُترا تو مرے حصے میں پتّے تھے شجر کے
پہنچیں گے تہِ دام جو نکلے ہیں گُرِسنہ
منزل کا پتہ دیتے ہیں انداز سفر کے
کنکر وہ گرائے ہیں ابابیلِ جنوں نے
عاجز ہوئے انبوہ سبھی اہلِ خبر کے
کچھ دیکھ تو لینا تھا یہ کس شہر میں ماجدؔ
خالق ہُوئے تم شعر و سخن ایسے ہُنر کے
ماجد صدیقی

گزر رہی ہے اِسی رات کی سحر کرتے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
فضائے تار میں تنہا نفس سفر کرتے
گزر رہی ہے اِسی رات کی سحر کرتے
ہے اختلافِ نظر وجہِ خاموشی، ورنہ
ہم اُس کے پیار کا چرچا نگر نگر کرتے
یہ بات قرب کے منصب پہ منحصر تھی ترے
بچا کے رکھتے کہ دامن کو ہم بھی تر کرتے
درِ قفس پہ رُتیں دستکیں تو دیتی رہیں
ہُوا نہ ہم سے کہ ہم فکرِ بال و پر کرتے
جو تو نہیں تھا تو جل جل کے خود ہی بجھتے رہے
ہم اور نذر کسے شعلۂ نظر کرتے
تری نظر کا اشارہ نہ مل سکا، ورنہ
وہ اوج کون سا تھا ہم جسے نہ سر کرتے
ابھی تلک تو نہ مخدوم ہم ہوئے ماجدؔ
اگرچہ عُمر ہوئی خدمتِ ہنر کرتے
ماجد صدیقی

ڈھل کے حرفوں میں، تری شاخِ نظر ایسا ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
جی میں آتا ہے کوئی مصرعۂ تر ایسا ہو
ڈھل کے حرفوں میں، تری شاخِ نظر ایسا ہو
مشغلہ ہو پسِ دیوار تری تاک ایسا
لُطف ہو جس میں تری دِید کا، ڈر ایسا ہو
میں حدوں سے نہ ترے حسن کی باہر نکلوں
زندگی بھر مجھے درپیش سفر ایسا ہو
قوس در قوس ترا جسم ہو پابندِ قلم
تو اُتر آئے لکیروں میں ہُنر ایسا ہو
چین سے ایک بھی پل رہنے نہ دے تیرا خیال
شوق دل میں ترا، مٹھی میں شرر ایسا ہو
جس کے پہلو سے اُبھرتے ترا چہرہ دیکھوں
کوئی دیوار ہو ایسی کوئی در ایسا ہو
جس کا سایہ ہو اِن آنکھوں کا مداوا ماجدؔ
اِس رہِ زیست میں کوئی تو شجر ایسا ہو
ماجد صدیقی

ہر ایک رت کو رہا دعوئے ہنر کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
دئے جو روند نکھارے بھی ہیں شجر کیا کیا
ہر ایک رت کو رہا دعوئے ہنر کیا کیا
تھے کتنے خواب جو تعبیر کو ترستے رہے
قریبِ موسم گل کٹ گئے شجر کیا کیا
نہ اب وہ آنکھ میں جنبش نہ ابروؤں میں وہ خم
ترے بغیر ہیں سنسان بام و در کیا کیا
ہوا زمیں سے تمازت فلک سے درپے تھی
چلے ہیں اب کے برس شاخ پر تبر کیا کیا
ملی پناہ بھی آخر تو دستِ گلچیں میں
گلوں کو نرغۂِ صر صر سے تھا مفر کیا کیا
یہ آنسوؤں کے گہر بالیاں یہ آہوں کی
ملی ہمیں بھی ہے ورثے میں سیم و زر کیا کیا
ماجد صدیقی

ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
تھے جو آشنائے دل و نظر ترے شہر میں
ہُوئے اجنبی وہی بام و در ترے شہر میں
کبھی سر پہ میرے بھی باز بیٹھا تھا آن کے
کسی روز میں بھی تھا تاجور ترے شہر میں
وہ نظر کہ جس سے تھے دل کو تجھ سے معاملے
ہے اُجاڑ اب وہی راہگزر ترے شہر میں
وہ ستم کبھی سر عام جس کو رواج تھا
وہی اب روا ہے پسِ نظر ترے شہر میں
ہمیں تھے کبھی ترے نیّرِ اُفقِ نگاہ
ہمیں ذرّہ ذرّہ گئے بکھر ترے شہر میں
کیا اختیار سخن تو کب یہ گمان تھا
کہ کرے گا خوار یہی ہنر ترے شہر میں
ماجد صدیقی

ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
مری صورت ہے جو بے بال و پر ، اچّھا نہیں لگتا
ٹھکانہ تھا جہاں اب وُہ شجر ،اچّھا نہیں لگتا
ذرا سا بھی جو چہرے کو تکدّر آشنا کردے
اُنہیں ہم سا کوئی شوریدہ سر اچّھا نہیں لگتا
بہت کم گھر نفاذِ جبر پر چُپ تھے، سو اچّھے تھے
مگر یوں ہے کہ اب سارا نگر اچّھا نہیں لگتا
قدم بے سمت ہیں اور رہنما منصب سے بیگانہ
ہمیں درپیش ہے جو وُہ سفر اچّھا نہیں لگتا
مثالِ کودکاں بہلائے رکھنا بالغوں تک کو
ہنر اچُھا ہے لیکن یہ ہنر اچّھا نہیں لگتا
چہکنا شام کو چڑیوں کا ماتم ہے گئے دن کا
مگر ماتم یہ ہنگامِ سحر اچّھا نہیں لگتا
گلوں نے جن رُتوں سے ہیئتِ پیغام بدلی ہے
غضب یہ ہے ہَوا سا نامہ بر اچّھا نہیں لگتا
کہیں کیونکر نہ ماجِد زر سے ہی جب سُرخیٔ خوں ہے
نہیں لگتا ہمیں فقدانِ زر، اچّھا نہیں لگتا
ماجد صدیقی

وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
سچ کہنے پر شہر بدر ہوتے، بُوذرؓ دکھلائے گا
وقت نجانے اور ابھی کیا کیا منظر دکھلائے گا
اِک اِک گوشۂ شہر سے تو ہم خاک جبیں پر مَل لائے
خواہش کا عفریت ہمیں اَب کون سا در دکھلائے گا
سُورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ دمکتے اِک جیسے
کون مُبارک دن ایسا، جو سارے نگر دکھلائے گا
راہبروں کی سنگ دلی سے بچ نہ سکا جو دبنے سے
کون سا ایسا عزم ہمیں مائل بہ سفر دکھلائے گا
ہم بھاڑے کے وُہ مزدور ہیں پیٹ کا یہ تنّور جنہیں
دریاؤں کی تہہ میں چھپُا اِک ایک گہر دکھلائے گا
دُور لگے وُہ وقت ابھی جب ٹھہری رات کے آنگن میں
پھیکا پڑ کے چاند ہمیں آثارِ سحر دکھلائے گا
ہاں وُہ شہر کہ جس کا اِک اِک باسی اُونچا سُنتا ہو
ماجدؔ ایسے شہر میں تو کیا رنگِ ہُنر دکھلائے گا
ماجد صدیقی

مختصر یہی جانو، جانگسل ہے جو منظر وہ مرے ہُنر میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
درد جاں بہ جاں اُترا، کرب کُو بہ کُو پھیلا، سب مری نظر میں ہے
مختصر یہی جانو، جانگسل ہے جو منظر وہ مرے ہُنر میں ہے
آنچ ہے جو سانسوں میں آخرش وُہ پُھونکے گی ہر سلاخ زنداں کی
کشت میں تمّنا کے پھول ہی اُگائے گی نم جو چشم تر میں ہے
کب تلک چھپائے گی بھینچ کر ورق اپنے وقت کی لغت آخر
فرق کیوں نہ آئے گا سامنے نگاہوں کے، وُہ جو اسپ وخر میں ہے
روک لو گے دریا کو پر جو نم سمائے گی خاک میں وہ کیا ہو گی
اُس کا کیا کرو گے تم زور جو کرن ایسا فکر کے سفر میں ہے
جو خبر بھی آتی ہے ساتھ اپنے لاتی ہے بات اِس قدریعنی
قافلہ اُمیدوں کا اب تلک یونہی لپٹا گردِ رہگزر میں ہے
طشتِ وقت میں ماجدؔ رکھکے جب بھی دیکھوں تو دل یہی کہے مجھ سے
اِک عجیب سی رفعت دُور دُور تک پھیلی اپنے بام و در میں ہے
ماجد صدیقی

بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
جگنو سے سرِمژگاں دہکا کے سحر کرنا
بچّوں سا ہمیں آئے اظہارِ ہُنر کرنا
کوندا سا دلا دینا آنکھوں کی چمک جیسا
ہونٹوں کو تبّسم سے ہمرنگِ شرر کرنا
جاں ہو کہ خیالوں کی بے نام سی بستی وُہ
تم زیرِ نگیں اپنے اِک ایک نگر کرنا
کر ڈالیں تمنّا کو دل ہی سے الگ، لیکن
شاہوں سا ہمیں آئے کب شہر بدر کرنا
ہیں جتنی خراشیں بھی دی ہیں یہ اِسے کس نے
اِس شیشۂ دل پر بھی بھولے سے نظر کرنا
ہم لوگ ہیں وُہ ماجدؔ بالائے زمیں جِن کے
لِکھا ہے نصیبوں میں کولہو کا سفر کرنا
ماجد صدیقی

میرے قدموں میں یہ ہنر کب ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 114
کامراں شوق کا سفر کب ہے
میرے قدموں میں یہ ہنر کب ہے
ریگِ صحرا سے لفظ ہوں جس کے
خشک ہے وہ زبان، تر کب ہے
آئے بے وقت چاہنے پہ مرے
مہرباں اِس قدر سحر کب ہے
جِتناکرتی پھرے ہوا چرچا
اِتنا شاداب ہر شجر کب ہے
ہے خُود انساں خسارہ جُو، ورنہ
وقت بے رحم اِس قدر کب ہے
دھڑکنوں میں بسا ہے جو ماجدؔ
دل سے جاتا وُہ رُوٹھ کر کب ہے
ماجد صدیقی

بدن کو لگتا ہے زہر، سایہ ہر اک شجر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 111
کُھلا ہے در، دل پہ جب سے مارِسیہ کے ڈر کا
بدن کو لگتا ہے زہر، سایہ ہر اک شجر کا
ہمیں گوارا ہے عمر جیسے بھی کٹ رہی ہے
کسی سے کرنا ہے ذکر کیا کرب کے سفر کا
کھلی تھی جیسے بساط پہلے ہی ہم پہ اپنی
نہ پوچھ پائے پتہ جبھی یارکے نگر کا
حقیر دشمن دکھائی دیتا ہو جس کسی کو
سلوک کھلیان سے وہ پوچھے کبھی شرر کا
نمک کو جیسا مقام حاصل ہے کھیوڑے میں
ہمارے ہاں بھی ہے حال ایسا ہی کچھ ہنر کا
ہمیں ہی اقرار اب نگاہوں کے عجز کا ہے
ہمِیں نے دیکھا تھا خواب ماجدؔ کبھی سحرکا
ماجد صدیقی

اُداس شام مگر ایک ہی کے گھر اُترے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 92
سحر تو ایک سی گُرگ و غزال پر اُترے
اُداس شام مگر ایک ہی کے گھر اُترے
سنی پکار نہ آئی صدا سسکنے کی
نجانے کون سی گھاٹی میں ہم سفر اُترے
نکل کے چاند سے کیوں راہ بھول جاتی ہے
وُہ چاندنی کہ جو بیوہ کے بام پر اُترے
انہی پہ سانپ نگلتے ہیں ناتوانوں کو
سفیر بن کے سکوں کے ہیں گو شجر اُترے
مری بھی رُوح کا ساگر ہُوا کرم فرما
مری بھی آنکھ میں دیکھو تو ہیں گہر اُترے
سمیٹ لائے جہاں بھر کے رتجگے ماجدؔ
وہ ذہن جس پہ فلک سے کوئی ہُنر اُترے
ماجد صدیقی

اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
دشت میں رہ کا شجر یاد آیا
اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا
پھر تمّنا نے کیا ہے رُسوا
پھر مسیحاؤں کا در یاد آیا
اُس کی آنکھوں سے لہو تک اُس کے
طے کیا تھا جو سفر یاد آیا
جب بھی بچّہ کوئی مچلا دیکھا
مجھ کو سپنوں کا نگر یاد آیا
ہم کو پنجرے سے نکلنا تھا کہ پھر
برق کو اپنا ہُنر یاد آیا
ابر ڈھونڈوں گا کہاں سر کے لئے
لُطف ماں باپ کا گر یاد آیا
کیا کرم اُس کا تھا ماجدؔ کہ جسے
یاد آنا تھا نہ ، پر یاد آیا
ماجد صدیقی

وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
وا جس کے لیے رہ گیا دامان ، شرر کا
میں اشک ہوں، میں اوس کا قطرہ ہوں، شرر ہوں
انداز بہم ہے مجھے پانی کے سفر کا
کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی
دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا
تہمت سی لئے پھرتے ہیں صدیوں سے سر اپنے
رُسوا ہے بہت نام یہاں اہلِ ہُنر کا
قائم نہ رہا خاک سے جب رشتۂ جاں تو
بس دھول پتہ پوچھنے آتے تھی شجر کا
جو شاہ کے کاندھوں کی وجاہت کا سبب ہے
دیکھو تو بھلا تاج ہے کس کاسۂ سر کا
اشکوں سے تَپاں ہے کبھی آہوں سے خنک ہے
اک عمر سے ماجد یہی موسم ہے، نگر کا
ماجد صدیقی

ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
ہاتھ دستِ یزید میں جو نہ دے حق سرائی میں اپنا سر دے دے
اہلِ حق کو جو فتحِ مکہ دے اے خدا تجھ سے کچھ بعید نہیں
اشک ہیں جس طرح کے آنکھوں میں دامنوں کو وہی گہر دے دے
ہوں بھسم آفتوں کے پرکالے بُوندیوں میں بدل چلیں ژالے
جو بھی واماندگانِ گلشن ہیں رُت انہیں پھر سے بال و پر دے دے
لَوث جس کونہ چھُو کے گزری ہو جس میں خُو خضرِ دستگیر کی ہو
جس کے چہرے پہ لَو ضمیر کی ہو کوئی ایسا بھی رہبر دے دے
ہو مبارک ستم عقابوں کو کرگسوں کو نصیب آز رہے
فاختاؤں کو جو بہم ہے یہاں زندہ رہنے کا وہ ہُنر دے دے
ماجد صدیقی

تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کر کے غاصب کو زیر و زبر چھین لے
تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے
ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں
اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے
جس کی بنیاد تیرے عرق سے اٹھی
اُس سپھل پیڑ سے برگ و بر چھین لے
نرم خُوئی تلک نرم خُو ہو، مگر
دستِ جارح سے تیغ و تبر چھین لے
حق ملے گا تجھے دشتِ وحشت میں کیا
چھین لے، چھین سکتا ہے گر، چھین لے
جس کا حقدار ہے تو وہ تکریمِ فن
تو بھی اے ماجدِ با ہنر! چھین لے
ماجد صدیقی

جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
سجل حویلیوں کی ، بام و در کی بات اور ہے
جہاں کے ہم مکیں ہیں، اُس نگر کی بات اور ہے
محال ہو گیا ہے، دھُند سے جسے نکالنا
چمن میں آرزو کے اُس شجر کی، بات اور ہے
صدف سے چشمِ تر کے، دفعتاً ٹپک پڑا ہے جو
گراں بہا نہیں ، پہ اُس گہر کی بات اور ہے
ہُوئی ہے روشنی سی، جگنوؤں کے اجتماع سے
لگی نہیں جو ہاتھ، اُس سحر کی بات اور ہے
کوئی کوئی ہے شہر بھر میں، تجھ سا ماجدِ حزیں
ہُوا جو تجھ پہ ختم ، اُس ہنر کی بات اور ہے
ماجد صدیقی

اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
جو حق میں تمہارے بند رہیں وہ لب گنجینۂ زر کر دو
اور شور اٹھے جن گلیوں سے وہ گلیاں خون سے تر کر دو
جو سادہ منش ہیں ان سب کو تم دین کے نام پہ دھوکا دو
جو کھولے ڈھول کا پول اُسے اسلام آباد بدر کر دو
جو رات وطن پر چھائی ہے تم سب کے بھاگ جگانے کو
کچھ جگنو چھوڑ کے وعدوں کے اُس میں اعلانِ سحر کر دو
جو کھیت ترستے ہیں نم کو اُن کھیتوں کے اِک کونے کو
خِفّت کے عرق سے تر کر کے وقفِ تشہیرِ ہُنر کر دو
جو ہاتھ اُٹھیں وہ کٹ جائیں جو آنکھ اٹھے وہ پھوٹ بہے
ہر چلتی سانس کچلنے کو پیمانۂ فتح و ظفر کر دو
ہاں پیڑ پہ بیٹھی چڑیوں پر، کاہے کو کرو تم وار بھلا
ہاں ان کا شور دبانے کو شاہو! تو بیِخ شجر کر دو
ماجد صدیقی

جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں
دِل کے دئیے سے اُٹھتی رہیں یاد کی لَویں
تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں
پل پل برنگِ برق ترا سامنا رہے
رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں
پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل
دن رات تیری راہگزر دیکھتا رہوں
ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کِسے
اِس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا رہوں
ماجد صدیقی

مَیں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا
مَیں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا
کرچیاں اُتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی
اور اُدھر مژدہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا
ننھی ننھی خواہشوں کا مدفنِ بے نُور سا
زندگی ہے اب تو جیسے اپنے گھر کا سامنا
تجربہ زنداں میں رہنے کا بھی مجھ کو دے گیا
بعد جانے کے ترے دیوار و در کا سامنا
پیرہن کیا جسم کا حصہ سمجھئے اَب اسے
تا بہ منزل ہے اِسی گردِ سفر کا سامنا
دیکھنے زیبا ہیں کب ایسے کھنڈر بعدِ خزاں
کون اب کرنے چلے شاخ و شجر کا سامنا
کچھ کہو یہ کس جنم کی ہے سزا ماجدؔ تمہیں
روز و شب کیوں ہے یہ تخلیق ہُنر کا سامنا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑