تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

زمرہ

ماجد صدیقی

بکھریں سب تسبیح کے دانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 227
وقت نہ پھلنے دے یارانے
بکھریں سب تسبیح کے دانے
تعبیریں سب پا لیتے ہیں
خدشے، خواہشیں، خواب سہانے
کم اندیش جسے سچ سمجھیں
دل کیوں ایسی بات نہ مانے
سچّا ایک ہی رَٹ پر قائم
بدنیّت کے لاکھ بہانے
اشکوں میں جو راز چھپے ہیں
کب لفظوں میں لگے سمانے
ماجد اک اک کرکے بچھڑے
جتنے بھی تھے یار پُرانے
ماجد صدیقی

اوج سے جو گرے، درس دے اوج کا، خاک میں بُوند ویسے سماتی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 226
جو بھی منظر ہے ٹھہرے یہاں دِیدنی، آنکھ اپنی جسے دیکھ پاتی نہیں
اوج سے جو گرے، درس دے اوج کا، خاک میں بُوند ویسے سماتی نہیں
تخت جن سے چِھنے، وَقر جن کا لُٹے، وقت پرغافلِ فرض گر ہوں رہے
چاہے پیدا دوبارہ بھی ہوں تو اُنہیں، خلقتِ شہر عزّت دلاتی نہیں
اک طرف اپنے ہاں ایک مخلوق ہے، خطِ غربت سے نیچے جو رہ کر جیئے
دوسری سمت مخلوق ایسی بھی ہے، قرضِ سرکار کے جو چُکاتی نہیں
لاڈلی ہو کہ لائق ہو جیسی بھی ہو، بعد شادی کے وہ کام والی بنے
جو بھی بیٹی کہیں ہے بیاہی گئی، لَوٹ کراپنے میکے وہ آتی نہیں
عمرِ آخر! کوئی سُر سُنائی نہ دے، ، تاب سُننے کی جانے کہاں کھو گئی
کوئی گُل باغ میں کِھلکھلائے نہ اب، کوئی بلبل کہیں چہچہاتی نہیں
دشت و گلشن میں رقصاں ہوئیں وحشتیں، سارے بھنورے دِبک کر کہیں رہ گئے
خوفِ دہشت سے یوں ہے ڈرائی گئی، فاختہ اب کہیں اُڑنے جاتی نہیں
بات میری یہ سُن ماجِد خستہ جاں! حرفِ حق کا جو تریاق تُجھ پاس ہے
خلقتِ شہر جو بھی سہے سو سہے، تیرا نسخہ یہ، وہ آزماتی نہیں
ماجد صدیقی

مِیڈیا داتا کے نام

مِیڈیا داتا دیکھ اِدھر! کیوں خلق کا خون جلاتا ہے

شر کی اِک اِک چنگاری پر، کیوں تُو تیل لُنڈھا تا ہے

نَو سَو چُوہے جو بلّی بھی کھا کر، حج سے ہوئے

پاک پوِتّر اُس کو کہے تُو، اُس سے ترا کیا ناتا ہے؟

اینکر بال کی کھال اُتاریں، اور سب جانبدار لگیں

پٹّیاں لایعنی چلوانا، طَور ترا، من بھاتا ہے

پیش کرے تُو بنا کے عجوبہ، عقد شعیب و ثانیہ کا

اور آصف کی منگنی تک کو، سَو سَورنگ دِلاتا ہے

سیب و پیاز اِک بھاؤ بِکائیں، توریاں کیلے اِک بھاؤ

لُوٹ کھسوٹ اور ہر تاجر کی سنگدلی کو، چھپاتا ہے

فیسیں جرّاحوں کی طبیبوں کی ہوں یا ہوں سکولوں کی

روز افزوں کتنی ہوں، اُنگلی تُو کب اُن پہ اُٹھاتا ہے

صوبوں میں پولیس کے ہوتے، قتل ہوں پِیرو جواں کیا کیا

تُو خُدّامِ معلّیٰ ہی کے، سَو سَو گُن گِنواتا ہے

کوتاہی دس فیصد بھی ہو تو، صد فیصد دکھلائے

گُن چاہے صد فیصد ہوں، توُ دس فی صد ٹھہراتا ہے

جمہوریت کُش جمہوری، تیرے ’ساکیدار، لگیں

رنگ عوام کے فق کردیں جو، اَوج اُنہیں تُو دِلاتا ہے

جمہوریت پنج سالہ ہی آدھ آدھ دولخت ہو کیوں

حزبِ مخالف کو لیکن یہ درس تُو کب دِلواتا ہے

ساٹھ برس میں آمر آمرجو کچھ تھا سب ٹھیک رہا

جمہوری دو سالوں کو تُو کیوں خاطر میں نہیں لاتا ہے

عدلیہ والوں ہی نے تحفّظ اِک اِک آمر کو بخشا

بات یہ لیکن ہونٹوں پر لانے سے تُو کتراتا ہے

لائے سیل بیانوں کا ہر آنکھ تلک ہر گوش تلک

اور حکومتِ وقت کا بیڑا، ہر شب غرق کراتا ہے

جھوٹ کہو تو عیش ہی عیش ہے، سچ بولو تو جیل چلو

ہاں یہ سب کچھ دیکھ کے ماجِد! کالجہ منہ آتا ہے

ماجد صدیقی

سکندر خارکش!

سکندر خارکش! تُو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

کہ تُو نے ہی مجھے پہلے پہل ذوقِ نظر بخشا

وُہ منظر آنکھ میں اُترا ہو جیسے کنکری جیسا

منادی کی صدا پر ایک ہلچل تھی ہر اک جانب

بہت سے لوگ تھے پنڈال میں اور محتسب بھی تھا

اُسی پنڈال میں تُو تھا، وہیں مَیں بھی تھا بچّہ سا

اور اس پنڈال کی تقریب میں ایمان تُلنے تھے

کنارِ میز تھا رکھا گیا قرآن کا نسخہ

حلف یہ تھا کہ آزادی کا مژدہ سُن کے ہم سب نے

گھروں سے دشمنوں کے وہ کہ تھا مالِ غنیمت جو

بہ صدقِ دل چھوا تک بھی نہ تھا اور اب سرِمیداں

قسم کھا کر یہ کہنا تھاکہ دامن صاف ہے اپنا

ہوا تقریب کا آغاز تو اک چودھری آ کر

لگا کہنے

’’کہو مَیں نے بھی کیا وہ مال ہتھیایا

کہو کس نے مجھے آنکھوں سے دیکھا یہ خطا کرتے، ،

اور اس پر

وُہ جو کمتر تھے سبھی مل کر لگے کہنے

’’نہیں صاحب نہیں، کب آپ ایسا کام کرتے ہیں

وُہ جھوٹے ہیں وہ کاذِب ہیں جو یہ اِلزام دھرتے ہیں، ،

یہی کچھ جس قدر تھے چودھری سب نے کہا آ کر

مگر جب تو اٹھا باری پہ اپنی اور تُو نے بھی

وہی الفاظ دہرائے کہے ہر چودھری نے جو

تو تیری پُشت پر آ کر وہ ضربِ محتسب برسی

ترا سر جا کے پٹخا میز پر اور میخ لوہے کی

ترے ماتھے سے فوّارہ ساخُوں کا اِک بہا لائی

بڑی مشکل سے تو نے ہاتھ میں قرآن کو تھاما

اُسے سر پر اُٹھایااو بہ صدقِ دل کہا تُو نے

’’قسم اِس کے تقدس کی، قسم اولاد و ایماں کی

چھوا تک بھی نہیں میں نے کہیں مالِ غنیمت کو، ،

ترے ہونٹوں پہ تھے یہ لفظ اور میری نگاہوں میں

نجانے بچپنے میں ہی جِلا کیا عود کر آئی

مرا خوں کھول اُٹّھا اور اُٹَھا اک حشر سا جاں میں

مری وہ آنکھ جس نے تجھ کو دیکھا تھا اُس عالم میں

بہ زورِ ضرب جیسے ایک ہی لمحے میں بھر آئی

کہ تو کمتر تھا اور تجھ کو صفائی کمتروں کی بھی

بچا سکتی بھلا اُس روزکی تذلیل سے کیسے

کہ اس تقریب میں موجود تھا جو نسخۂ اولیٰ

کسی نے تو اسے ہاتھوں سے سر پر بھی اُٹھانا تھا

اور اُن سب میں یہ تُو تھا جس کی باری سب سے پہلے تھی

وہ دن اور آج کا دن میں نہیں تجھ کو بھلا پایا

سکندر خارکش! تو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

کہ اب بھی ہر کہیں آنکھوں میں ہیں میری وہی منظر

جہاں پنڈال میں ایمان تُلنے کی ہیں تقریبیں

کوئی میدان ہو جس میں وفا کا ہو حلف کوئی

کوئی بھی فیصلے یا عدل کی تقریب ہو اُس میں

مری تخئیل کو میزاں کے دو پلڑے دکھائی دیں

وہ پلڑے جن میں اک وہ ہے کہ

جس میں تُو ہے اور میں بھی

(وہ تو جس کا کوئی بھی قول ہو حرفِ غلط ٹھہرے

یہ میں جس کی کوئی بھی بات ہو وُہ جھاگ جیسی ہے)

اور اس میزاں کا اک پلڑا ہے وہ

جو خاص ہے اب بھی

فقط اُن کے لئے جو مقتدر اور زور آور ہیں

وہی پلڑا کہ جس میں چودھری جو بھی صفائی دے

صفائی پر نہ اُس کی، فردِ واحد بھی دُہائی دے

یہی سب سے جداگانہ کمال اُس چودھری کا ہے

کہ وہ پنڈال میں آتے نظر میں طنطنہ لاتے

بڑے ہی طمطراق اور زعم سے آ کر لگے کہنے

’’کہو میں نے بھی ہے کیا شہر میں کچھ مال ہتھیایا

کہو کس نے مجھے آنکھوں سے دیکھا یہ خطا کرتے، ،

اور اس پر

وہ جو کمتر ہیں (وہ جن میں تُوبھی ہے میں بھی)

بصد عجز و جبیں سائی سبھی مل کرلگیں کہنے

’’نہیں صاحب، نہیں کب آپ ایسا کام کرتے ہیں

وُہ جھوٹے ہیں وہ کاذب ہیں جو یہ الزام دھرتے ہیں، ،

سکندر خارکش! تو ہانٹ کرتا ہے مجھے اَب بھی

ماجد صدیقی

بات نہیں دوچار برس کی نصف صدی کا قصّہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 223
ماجد کا بھی حفیظ سا جو تخلیق فن میں حصہ ہے
بات نہیں دوچار برس کی نصف صدی کا قصّہ ہے
جانے کیوں آغاز سے ہی لگ جائے اِسے اپنوں کی نظر
ماں اور باپ کا باہم رشتہ پیار ایثار کا رشتہ ہے
جیتے جی بھی کچھ کچھ بیبیاں رکھیں اپنے تاج محل
احمدی اور من موہن کے گھر کا بھی اُدھر اک نقشہ ہے
میڈیا کی ساری بدخبری سچّی ہو یہ ناممکن
حزبِ مخالف کے کردار کا بھی کچھ اِس میں شوشہ ہے
جس کے عوض مختاروں سے پینچوں نے عیب ہیں چھُپوائے
پٹواری کے علم میں اب بھی جانے کیا کیا رقبہ ہے
پہلے بھی اپنایا کیے ہیں جو جو تخت ہِلانے کو
پاس ابھی جمہوری سرداروں کے کیا کیا نسخہ ہے
غراہٹ میں چیتوں کی جیسے ہو سامنا جنگل کا
ذہنوں ذہنوں کرب و بلا کا کچھ ایسا ہی نقشہ ہے
ماجد صدیقی

یہ کیا ؟ سوار’ دوش پر ہوا کے کر دیا گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 222
شجر پہ تو نہ نم تلک بھی نقدِ زر دیا گیا
یہ کیا ؟ سوار’ دوش پر ہوا کے کر دیا گیا
یہ اور بات رہنما بجز شغال کچھ نہیں
ہمیں دیا گیا ہے جو بھی شیرِ نر دیا گیا
ہمِیں ہیں عزم کے سوا’جنہیں نہ کچھ عطا ہوا
جنہیں نہ اور کچھ بھی توشہءِ سفر دیا گیا
جنہیں بہم ہے برتری’وہ ہم سے بس یہی کہیں
جھکے تو ہو فرازتر ‘ہمیں وہ سر دیا گیا
کبھی نہ ہم نے آنکھ کھول کر نگاہ کی کہیں
یہ ہم جنہیں کبوتروں سا نامہ بر دیا گیا
کھلی ہے جب بھی آنکھ’دہشتیں پڑی ہیں دیکھنی
ہمیں نہ کوئی اور مژدہءِ سحر دیا گیا
تجھے ہے ماجِدِ حزیں عطا وہ’ لطفِ خاص ہے
ولائتوں سے کم نہیں جو فکرِ تر دیا گیا
ماجد صدیقی

یہ کہ سامنے کا جو سال ہے

ہمیں کچھ نہیں ہے وصولنا، گئی رُت کی آخری رات سے

جو گیا سو وہ تو نکل گیا، ترے ہاتھ سے مرے ہات سے

کہ بھلے وہ، مایہءِ جان تھا، کہ بھلے ضمیر کی تان تھا

وہ گمان تھا کہ یقین تھا، وہ یقین تھا کہ گمان تھا

وہ جو ٹوٹتا ہے جُڑے کہاں؟وہ جو چل دیا وہ مُڑے کہاں؟

وہ کہ بازوؤں ہی سے جھڑ گئے، کوئی اُن پروں سے اُڑے کہاں؟

بھلے میں ہوں یا ہو وہ تو سجن، جسے سامنا تھا زوال سے

ہمیں جتنا کچھ بھی تھا بھوگنا، وہ ٹلا نہ رنجِ مآل سے

سو یہ میں ہوں یا ہو وہ تُو سجن!یہی جان لیں، تو کمال ہے

یہ نفس رواں ہے جو جسم میں، یہی اپنا مال و منال ہے

یہ نگاہ میں ہے جو نور سا، یہی ظلمتوں کا زوال ہے

یہ جو آ چلا ہے گرفت میں، یہ کہ سامنے کا جو سال ہے

اِسے کیوں نہ جسم پہ اوڑھ لیں، اسے کیوں نہ حصہءِ جاں کریں

یہ ہمیں جو تحفہءِ نَو ملا، اِسے کیوں نہ لطف نشاں کریں

ماجد صدیقی

شہ نگر میں یہ کھلبلی کیوں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 220
دل کی بستی اجاڑ سی کیوں ہے
شہ نگر میں یہ کھلبلی کیوں ہے
کونسی آگ کو ملی یہ ہوا
شہر بھر میں یہ سنسنی کیوں ہے
بھاگ اُلجھائے جو رعایا کے
اُلجھنوں سے وہی بری کیوں ہے
جسم تڑخے ذرا سی آنچ سے کیوں
یہ زمیں اِتنی بُھربھری کیوں ہے
وہ جو دندانِ آز رکھتے ہیں
ڈور ایسوں کی ہی کُھلی کیوں ہے
چال سہنے کی حکمِ ناخلفاں
اِک ہمِیں سے چلی گئی کیوں ہے
بے نیازی ہرایک منصف کی
اِک ہمِیں نے ہی بھگتنی کیوں ہے
تھی جو ماجد! عطائے استغنا
سلطنت ہم سے وہ چِھنی کیوں ہے
ماجد صدیقی

انسان و شیطان

کوئی ایسا حکمراں آئے کہ جو انسان ہو

وہ کہ پہلوں سا، نہ طور اطوار میں خاقان ہو

وہ کہ جس کی ذات سے فیضان پھوٹے سُو بہ سُو

وہ کہ امیدوں تمنّاؤں کا جو کھلیان ہو

وہ کہ جس کے تخت کی دھج ہو دلوں میں جاگزیں

وہ کہ جو ماں باپ جیسا ہر کہیں ذیشان ہو

وہ کہ جو انصاف و عزّت دے سبھی کو ایک سی

وہ کہ جس کے تن بدن میں دوسروں کی جا ن ہو

وہ خزینوں سے جو منہا ہر غرض اپنی کرے

وہ کہ دلداری ہی جس کی منفرد پہچان ہو

اب نہیں تسلیم لوگوں کو کوئی ایسا کہ جو

بِن گُنوں کے اور بغیرِ علم و فن پردھان ہو

وہ کہ ہو ماجِد فرشتہ جو سب اپنوں کے لیے

وہ کہ جو شیطان ہیں، اُن کے لیے شیطان ہو

ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑