تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ہواؤں

یا شاعری میں اُتری دعاؤں کے زور پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
جینا ہے اب ارادوں، دواؤں کے زور پر
یا شاعری میں اُتری دعاؤں کے زور پر
مقبولِ خلق راہنما جو بھی ہیں سو ہیں
بدنامیوں سے پھوٹی بلاؤں کے زور پر
شاہی میں انقلاب جو آئے سو آئے ہے
یک دم تڑخ کے اُٹھتی صداؤں کے زور پر
ہم ہیں جہاں یہاں کوئی حِلم آشنا نہیں
اُجڑا نگر یہ جھوٹی اَناؤں کے زور پر
انساں کی کاوشیں بھی بجا ہیں سبھی مگر
اُڑتا ہے ہر جہاز ہواؤں کے زور پر
ماجِد ہم ایسے غاصبِ خوش خُو کو کیا کہیں
دِل لے اُڑے جو اپنی اداؤں کے زور پر
ماجد صدیقی

بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 64
گھرنے لگے ہم آپ یہ کیسی خزاؤں میں
بے دم ہے پیڑ پیڑ چمن کا چِتاؤں میں
کچھ دودو گردوشور ہی نقصاں رساں نہیں
خبروں کا زہر بھی تو ملا ہے ہواؤں میں
دھن دھونس دھاندلی کے مسلسل داباؤ سے
لرزہ سنائی دینے لگا ہے صداؤں میں
گوشہ کوئی کہ جس میں درندوں سے ہو اماں
ہر شخص چل پڑا ہے پلٹ کر گُپھاؤں میں
اللہ اس کو اور نمو اور تاب دے
یاور وہ پیڑ ہم ہیں مگن جس کی چھاؤں میں
پینچوں کے بل پہ شہ تو ہوا اور مقتدر
ماجِد غلامیوں کے چلن پھر ہیں گاؤں میں
ماجد صدیقی

دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 99
شاہ اِس طرح گداؤں سے ملے
دھوپ جیسے کبھی چھاؤں سے ملے
سیدھے ہاتھوں نہ ملے کُچھ بھی یہاں
جو ملے اوج وہ داؤں سے ملے
آنچ سب میں تھی لہو جلنے کی
جتنے پیغام ہواؤں سے ملے
پُوچھتا کون ہے شہروں میں اُنہیں
ولولے جو ہمیں گاؤں سے ملے
کیا کریں ہم اِسے روشن ماجدؔ!
فیض اب کون سا ناؤں سے ملے
ماجد صدیقی

جیسے افواہ کوئی گاؤں میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
زہر پھیلا ہے وُہ فضاؤں میں
جیسے افواہ کوئی گاؤں میں
چھین لی تھی کمان تک جس سے
آ گئے پھر اُسی کے داؤں میں
پھر جلی ہے کوئی چِتا جیسے
بُو ہے بارود کی ہواؤں میں
کشتیٔ آرزو گھری دیکھی
جانے کتنے ہی ناخداؤں میں
نت گھمائے جو دائروں میں ہمیں
کیسی زنجیر ہے یہ پاؤں میں
آگ برسی اُسی پرندے پر
دم بھی جس نے لیا نہ چھاؤں میں
اَب تو ماجدؔ سکونِ دل کے لئے
چل کے رہیے کہیں خلاؤں میں
ماجد صدیقی

بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
دل سے یُوں اٹُھتے ہیں حرف دعاؤں کے
بول ہوں جیسے ہونٹوں پر بیواؤں کے
بُعد نجانے تا بہ نشیمن کتنا ہے
تیور ہیں کچھ اور ہی تُند ہواؤں کے
اب کے آس کا عالم ہی کچھ ایسا ہے
ہاتھ میں سکے جیسے آخری داؤں کے
پل پل چھینیں چہروں سے نم راحت کی
حلق میں اٹکے کنکر خشک صداؤں کے
پیشانی میں عجز کی میخیں اُتری ہیں
اور زباں کی نوک پہ وِرد خداؤں کے
رفتہ رفتہ پیار کا ابجد بھول گئے
شہر میں جو جو لوگ بھی آئے گاؤں کے
ماجدؔ نقش برآب سمجھتے تھے جس کو
نقش کھُدے ہیں دل پر اُس کے ناؤں کے
ماجد صدیقی

آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
جان جیسے گھری پھر چتاؤں میں ہے
آنچ سی اِک مسلسل ہواؤں میں ہے
پھر سے غارت ہُوا ہے سکوں دشت کا
کھلبلی پھر نئی فاختاؤں میں ہے
آگ سی کیا یہ رگ رگ میں اُتری لگے
دھوپ کا سا گماں کیوں یہ چھاؤں میں ہے
میرے جینے کے اسباب سب شہر میں
میری تسکیں کا سامان گاؤں میں ہے
آج تک ہم نے بنتی تو دیکھی نہیں
بات ماجدؔ چھپی جو اناؤں میں ہے
ماجد صدیقی

پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
حُسن اور مقتضی جفاؤں کا
پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا
وحشتِ غم ہے دل میں یوں جیسے
کوئی میلہ لگا ہو گاؤں کا
سایۂ ابر بھی چمن سے گیا
خوب دیکھا اثر دعاؤں کا
جو گریباں کبھی تھا زیبِ گلو
اَب وہ زیور بنا ہے پاؤں کا
اُن سے نسبت ہمیں ہے یُوں ماجدؔ
ربط جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑