تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ہوئے

راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
تیری دہلیز پر جُھکے تھے ہم
راکھ سی بن کے پھر اُڑے تھے ہم
تن پہ یُوں داغ برّشوں کے نہ تھے
بِن بہاروں کے ہی بھلے تھے ہم
تھا عجب غلغلہ سا بچّوں کا
ڈور کٹنے پہ جب گرے تھے ہم
جتنے اب ہیں گنوا کے دل کا بھرم
اتنے رُسوا کہاں ہوئے تھے ہم
فخر سے خاک تھی سپہر بنی
جانبِ دار جب چلے تھے ہم
اب کھُلا ہے کہ اپنے حق میں بھی
بڑھ کے ابلیس سے بُرے تھے ہم
شاخ وہ حسرتوں کا پیکر ہے
جس پہ ماجد! کبھی کھِلے تھے ہم
ماجد صدیقی

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑