تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ہمسر

وہ معرکہ ٔ عشق تھا جو سر نہ ہُواتھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 177
جب تک وہ بدن شَوق کو ازبر نہ ہُواتھا
وہ معرکہ ٔ عشق تھا جو سر نہ ہُواتھا
جمہور کے ہاتھوں سے چِھنا تخت نہ جب تک
دل آمر و فرعون کا پتّھر نہ ہُواتھا
جب جان پہ بن آئی تو ظالم بھی پُکارا
ایسا تو بپا کوئی بھی محشر نہ ہُواتھا
بیداد وہ کرتا رہا ہر داد کے بدلے
جب تک کہ حساب اُس کا برابر نہ ہُواتھا
ٹیکسی اُسے مِل جائے گی، بی اے جو کرے گا
اعزاز یہ پہلے تو میّسر نہ ہُواتھا
یہ دیس لُٹا ہے تو مسیحاؤں کے ہاتھوں
جتنا ہے یہ اب اتنا تو ابتر نہ ہُواتھا
تُو نے تو تب تک کبھی آگے کی نہ ٹھانی
جبتک ترا ماجد کوئی ہمسر نہ ہُواتھا
ماجد صدیقی

یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
سُوکھا پتّا یا میں اُڑتا پر ٹھہروں
یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں
اپنے آپ میں رہنا ہی کیا ٹھیک نہیں
آسمان کا میں کیوں کر ہمسر ٹھہروں
کُوچۂ حرص میں اپنی خیر منانے کو
خیر کا مدِمقابل ٹھہروں، شر ٹھہروں
خبر خبر ہیں چَوکھٹے نت نت ماتم کے
سوچتا ہوں کس کس کا نوحہ گر ٹھہروں
مثلِ صبا اپنا جی بھی بس چاہے یہی
غنچہ غنچہ چٹکوں، پیغمبر ٹھہروں
کسے خبر کل نطق کے ناطے نگر نگر
میں بے قیمت بھی گنجینۂ زر ٹھہروں
ماجد صدیقی

ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
زرِ گل تھے بھی گر تو زر نہ جانا
ہمیں اس نے کبھی ہمسر نہ جانا
جبیں جس پر جھکائی عرش جیسی
ہمارا مرتبہ وُہ در نہ جانا
گھُلی چیخیں بھی ہیں لقموں میں اُس کے
یہ باریکی کوئی اژدر نہ جانا
سزا کے سارے تیور تھے اُسی میں
ہوا کو ہم نے نامہ بر نہ جانا
ذرا مّکے گیا تو جانے ہم نے
خرِ عیسٰی کو کیونکر خر نہ جانا
نہیں اتنا بھی سادہ لوح ماجدؔ
اُسے جانا ہے تم نے پر نہ جانا
ماجد صدیقی

موت کیسی؟ یہ مرا ڈر نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
میں ابھی موت سے بچ کر نکلا
موت کیسی؟ یہ مرا ڈر نکلا
اشک تھے سو تو چھُپائے مَیں نے
پھول کالر پہ سجا کر نکلا
مَیں تو ہوں مُہر بلب بھی لیکن
کام کچھ یہ بھی ہے دُوبھر نکلا
یہ الگ بات کہ پیچھا نہ کیا
گھر سے تو اُس کے برابر نکلا
خاک سے جس کا اُٹھایا تھا خمیر
ہم رکابِ مہ و اختر نکلا
مَیں کہ عُریاں نہ ہُوا تھا پہلے
بن کے اُس شوخ کا ہمسر نکلا
غم کی دہلیز نہ چھوڑی میں نے
میں نہ گھر سے کبھی باہر نکلا
جو اُڑاتا مجھے ہم دوشِ صبا
مجھ میں ایسا نہ کوئی پر نکلا
اُس نے بے سود ہی پتھر پھینکے
حوصلہ میرا سمندر نکلا
درد اظہار کو پہنچا ماجدؔ
دل سے جیسے کوئی نشتر نکلا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑