تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ہات

غرورِ فرقِ شجر کھا چکے ہیں مات بہت

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
بہ جبرِ باد اُچھالے گئے ہیں پات بہت
غرورِ فرقِ شجر کھا چکے ہیں مات بہت
یہ ہم کہ بندگی عنواں ہے جن کے ماتھوں کا
خدا گری پہ ہیں اپنے تحفظّات بہت
مقدّمہ جو لڑا بھی تو اہلِ دل نے لڑا
گئے ہیں جِیت بہم تھے جنہیں نُکات بہت
رسا ہوا ہے کہیں بھی نہ کوئی آوازہ
اُٹھے ہیں جو بھی کٹے ہیں وہ سارے ہات بہت
بڑا ہی ارزل و اسفل ہے یا ہے تُخمِ حرام
بَکے ہے صبح و مسا جو مغلظّات بہت
سیاہ دَھن سے سیاہ کاریوں تلک ماجد
یہاں ہمارے سَروں کی ردا ہے رات بہت
ماجد صدیقی
Advertisements

کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
تھی غنچۂ دل میں جو وُہی بات رُکی ہے
کیا جبر جتانے یہ سیہ رات رُکی ہے
کب ریت کی دیوار سے سیلاب ہے ٹھٹکا
فریاد سے کب یورشِ آفات رُکی ہے
ژالہ سا ہر اِک برگ لپکتا ہے زمیں کو
کیسی یہ بھلا باغ میں برسات رُکی ہے
کچھ اور بھی مچلے گی ابھی بُعدِ سحر سے
پلکوں پہ ستاروں کی جو بارات رُکی ہے
عجلت میں رواں، مالِ غنیمت کو سنبھالے
کب موجِ ہوا پاس لئے پات، رُکی ہے
بوندوں نے قفس میں بھی یہی دی ہے تسلی
صیّاد سے کب بارشِ نغمات رُکی ہے
ماجدؔ یہ کرم ہم پہ کہاں موسمِ گل کا
کب ہاتھ میں لینے کو صبا ہات رُکی ہے
ماجد صدیقی

خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
پت جھڑ کی رُت میں پیڑوں پر پات کہاں
خیر سگالی کے اب وُہ جذبات کہاں
لفظوں میں جھنکار کہاں اَب جذبوں کی
ہونٹوں پر جھرنوں جیسے نغمات کہاں
جھُول رہے ہیں جسکے تُند بہاؤ پر
دیکھیں لے کر جاتی ہے یہ رات کہاں
اپنی دُھن میں اُڑنے والا کیا جانے
کون کھڑا ہے اُس کی لگائے گھات کہاں
گُم سُم ہو جائیں مہمان کی دستک پر
گھر والوں کو لے آئے حالات کہاں
اُٹھے ہیں جو فرعونی دستاروں پر
کٹنے سے بچ سکتے ہیں وُہ ہات کہاں
ماجدؔ بنیاؤں سا حصّہ، جیون سے
لینے سے باز آتے ہیں صدمات کہاں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑