تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گلکاریاں

ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 140
چرخ سے بوندیں گریں یا بجلیاں جینا تو ہے
ہو کرم یا قہر ہر دو کے میاں جینا تو ہے
سندھ اور پنجاب کا چاہے عذابِ سَیل ہو
کربلا سا دشت ہو چاہے زباں جینا تو ہے
ہم پہ واجب آمروں کے حکم کی تعمیل بھی
ہوں بھلے جمہوریت کی تلخیاں جینا تو ہے
ہو بھلے نازک بدن پر مہرباں راتوں کی اوس
ہوں بھلے پیروں تلے چنگاریاں جینا تو ہے
چہرہ چہرہ منعکس چاہے ہلالِ عید ہو
رُو بہ رُو شکنوں کی ہوں گلکاریاں جینا تو ہے
چُھٹ کے غیروں سے گرفتِ خویشگاں میں ہوں اسیر
ہوں غلامی کی گلے میں دھاریاں جینا تو ہے
آپ اُنہیں ماجد قفس کی تیلیاں کہہ لیں بھلے
سو بہ سو چاہے ہوں ذمّے داریاں جینا تو ہے
ماجد صدیقی

نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 50
وراثت میں اِنہیں ملنے لگیں عیّاریاں کیا کیا
نئی نسلوں کو لاحق ہو چلیں بیماریاں کیا کیا
کوئی فتنہ کوئی لاشہ اِنہیں مل جائے شورش کو
برائے تخت، نا اہلوں کی ہیں تیّاریاں کیا کیا
ارادت کے تسلسل کی، غلامانہ اطاعت کی
ہماری گردنوں کے گرد بھی ہیں دھاریاں کیا کیا
نمو بھی دیں، تحفّظ بھی کریں ہر پیڑ کا لیکن
جھڑیں تو نام پتوں کے، رقم ہوں خواریاں کیا کیا
جنہیں درکار ہیں قالین چلنے کو نجانے وہ
کرائیں گے لہو سے خاک پر، گُلکاریاں کیا کیا
حقائق سے ڈرانے کو، طلسمِ شر دکھانے کو
سرِ اخبار ماجدؔ نقش ہیں، چنگاریاں کیا کیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑