تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گلاب

اج دا دن تے ماجداُ دن سی جویں، عذاب دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 48
دُکھ نے انت وکھا لیا، خورے کیہڑے خواب دا
اج دا دن تے ماجداُ دن سی جویں، عذاب دا
موت جھلارا خوف دا، مُڑیا اِنج پچھتاوندا
جیئوں جیون دی تاہنگ سی، کھِڑیا پھل گلاب دا
لاپرواہی سی آپنی، کجھ اوہدیاں بے مہریاں
اِک اِک ورقہ پھولیا، دُکھ دی بھری کتاب دا
کل تیکن تے زہر سی، دُکھاں دی کڑوان وی
اج میں سمجھاں موت وی، ہے اک جام شراب دا
جینا کَیڈ گناہ سی اوہ وی جھولی موت دی
رّب مینتھوں کی پچھسی، کی اے روز حساب دا؟
کنّے لوک نگاہ وچ، رہئیے سن رنگ بکھیر دے
کوئی کوئی ماں دا لعل سی ماجدُ تیرے جواب دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)
Advertisements

چہرے کے پھول رکھ لیے’ دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 205
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے’ دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو رہے تھے دلیر ہم
کمزور تھے تو صرف’ محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ’ جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اُسی کے سبب خیمہئ حیات
تھا جتنا زور’ خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجدگِھری ہے خلقِ خدا’ کس عذاب میں؟
ماجد صدیقی

چہرے کے پھول رکھ لیے دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو بہت تھے دلیر ہم
دور از تضاد پر تھے محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اسی کے سبب خیمۂ حیات
تھا جتنا زور خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجد گھری ہے خلقِ خدا کس عذاب میں
ماجد صدیقی

چہرے کے پھول رکھ لیے، دل کی کتاب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
بچھڑے جب اُس سے ہم تو بڑے پیچ و تاب میں
چہرے کے پھول رکھ لیے، دل کی کتاب میں
میدانِ زیست میں تو رہے تھے دلیر ہم
کمزور تھے تو صرف، محبّت کے باب میں
کیا کیا بُرائیاں نہ سہیں جان و دل پہ اور
لوٹائیں نیکیاں ہی جہانِ خراب میں
تازہ نگاہ، جس نے کیا ہم کو بار بار
کیا خوبیاں تھیں اُس کے بدن کے گلاب میں
قائم رہا اُسی کے سبب خیمۂ حیات
تھا جتنا زور، خاک میں اُتری طناب میں
مدّت سے دل مرا ہے جو تاریک کر گیا
آتا ہے چودھویں کو نظر ماہتاب میں
نااہل ناخداؤں کی ناؤ میں جب سے ہے
ماجدگِھری ہے خلقِ خدا، کس عذاب میں؟
ماجد صدیقی

یہ ارتباط بھی آب و حباب جیسا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
سلوک مجھ سے ترا اجتناب جیسا ہے
یہ ارتباط بھی آب و حباب جیسا ہے
مرے لبوں پہ رواں ذکرِ التفات ترا
بدستِ صبح گُلِ آفتاب جیسا ہے
متاعِ زیست ہے پیوستگئِ باہم کا
یہ ایک لمحہ کہ کھلتے گلاب جیسا ہے
کھُلا یہ ہم پہ ترے جسم کے چمن سے ہے
کہ برگ برگ یہاں کا کتاب جیسا ہے
نکل ہوا میں کہ عالم کچھ اِن دنوں اس کا
مثالِ گفتۂ غالب شراب جیسا ہے
ہے جستجوئے خیابانِ تشنہ لب میں رواں
مرا یہ شوق کہ اُمڈے سحاب جیسا ہے
ہم اِس حیات کو محشر نہ کیوں کہیں ماجدؔ
سکونِ دل بھی جہاں اضطراب جیسا ہے
ماجد صدیقی

دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 48
دیکھیں تو دِل میں ٹہنی تمّنا کی داب کے
دن پھوٹنے کے ہیں یہی شاخِ گلاب کے
کل جسکے چہچہے تھے منڈیروں پہ جا بہ جا
پنجے میں آج تھی وہی چڑیا عقاب کے
رہتا ہمیں ہے جن پہ گماں کائنات کا
منظر ہیں کچھ درونِ فضائے حباب کے
محوِ رقم قلم تھا مؤرخ کا جن پہ کل
اوراق تھے وہ میری ہزیمت کے باب کے
اُچھلے تھے ساحلوں سے کبھی ہم بھی موج موج
آئے تھے ہم پہ بھی کبھی کچھ دن شباب کے
ماجدؔ اُدھر تھا قوم کا نیلام اور اِدھر
اُڑتے بہ قصرِ خاص تھے ساغر شراب کے
ماجد صدیقی

مَیں بھی گھِرا ہوں جیسے فضائے حباب میں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
حجلے سے واہموں کے نکلتا ہوں خواب میں
مَیں بھی گھِرا ہوں جیسے فضائے حباب میں
کیوں سر پہ آ پڑا ہے یہ خیمہ سکون کا
آیاہے جھول کس کی نظر کی طناب میں
شایدکہیں تو لطف کا دریا رواں ملے
کہسار سر کئے ہیں اِسی اضطراب میں
وہ ابرِ لخت لخت حجابوں کا اور وہ تو
کیا لذّتیں تھیں مجھ سے ترے اجتناب میں
پیاسی زمیں پہ وہ بھی مجھی سا تھا مہرباں
خُو بُو تھی کچھ مجھی سی مزاجِ سحاب میں
ہر حرف چاہتا تھا اُسی پر رکے رہیں
کیا کیا تھے باب اُس کے بدن کی کتاب میں
انساں تھا وہ بھی میری طرح ہی انا شکار
تھوکا ہے، اس نے بھی مرے منہ پر جواب میں
ماجدؔ قلم کو تُو بھی نمِ دل سے آب دے
نکلی ہیں دیکھ کونپلیں شاخِ گلاب میں
ماجد صدیقی

وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
آنکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا
لو ہم سے چھُپے وُہ حسن بھی جو
ہے حفظ ہمیں کتاب جیسا
اُس شوخ سے آنکھ تک ملانا
ممنوع ہُوا شراب جیسا
بَنیا نہ خُدا کو بھی بنا دیں
ہم لوگ کریں حساب جیسا
ہر مرحلۂ مراد ماجدؔ
لگتا ہے ہمیں سراب جیسا
ماجد صدیقی

سخن کی شاخ پہ رقصاں اِدھر گلاب وہی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
اُدھر کنارِ لب و چشم ہیں عتاب وہی
سخن کی شاخ پہ رقصاں اِدھر گلاب وہی
وہی ہے جبرِ زماں، خود فریبیاں بھی وہی
سفید بال ہمارے وہی، خضاب وہی
ردائے ابر کو جو کشتِ بے گیاہ سے ہے
یہاں سروں سے ہے چھایا کو اجتناب وہی
فرازِ عرش سے نسبت رہی جسے ماجد
دل و نظر پہ اُترنے لگی کتاب وہی
ماجد صدیقی

منظر ہے پھر نگاہ میں پھٹتے حباب کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
چھیڑا یہ کس نے ذکر ہَوا کے عتاب کا
منظر ہے پھر نگاہ میں پھٹتے حباب کا
برسے تو پیڑ پیڑ جڑوں سے اکھیڑ دے
یہ بھی تو اِک چلن ہے اُمڈتے سحاب کا
کس سے کہوں کہ اس کی چمن میں خطا ہے کیا
نُچنے پہ آ گیا ہے بدن کیوں گلاب کا
دیکھی جہاں کہیں بھی کوئی جانِ ناتواں
پنجہ وہیں پہ آ کے پڑا ہے عقاب کا
ماجدؔ ہیں ہم وہ گوشۂ صحرا کہ جس کی اور
پھرنے کو رُخ نہیں ہے کسی جُوئے آب کا
ماجد صدیقی

کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
سر سے تا پا حجاب سا وُہ
کمیاب ہے لعلِ ناب سا وُہ
اُبھرے بھی جو سطحِ آرزُو پر
رُوکے نہ رُکے حباب سا وُہ
خوشبُو سا خیال میں دَر آئے
آنکھوں میں بسے گلاب سا وُہ
سب تلخ حقیقتوں پہ حاوی
رہتا ہے نظر میں خواب سا وُہ
حاصل ہے سرشکِ لالہ رُو کا
محجوب سا‘ دُرِّ آب سا وُہ
چھایا ہے بہ لُطف ہر ادا سے
خواہش پہ مری نقاب سا وُہ
ہُوں جیسے، اُسی کے دم سے قائم
تھامے ہے مجھے طناب سا وُہ
بارانِ کرم مرے لئے ہے
غیروں کے لئے عتاب سا وُہ
ماجدؔ ہو یہ جسُتجو مُبارک
ہاتھ آ ہی گیا سراب سا وُہ
ماجد صدیقی

نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
جو نہیں ہے تُو، تو یہ ماہتاب ہے سامنے
نہ سہی پہ کُچھ تو ترا جواب ہے سامنے
ہے رواں لُہو میں ترے ہی لمس کا ذائقہ
شب و روز اک یہی عکسِ خواب ہے سامنے
وُہی جس کی آس مشامِ جاں کو رہی سدا
سرِ شاخِ شب وُہ کھِلا گلاب ہے سامنے
تری دید ہے کہ نظر میں حرف سُرور کے
ترا قرب ہے کہ کھُلی کتاب ہے سامنے
یہی شے تو وجہِ قیام خیمۂ لُطف ہے
یہ جو دو حدوں میں تنی طناب ہے سامنے
ہے تجھی سی پیاس اِسے بھی لختِ زمین جاںِ
یہی جو نظر میں تری سحاب ہے سامنے
وُہی کھو گئی تھی جو تُجھ سے ماجدِ ؔ بے سکوں
وُہی دیکھ! ساعتِ اضطراب ہے سامنے
ماجد صدیقی

جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
پتھر کے تلے اگتے اور زیرِ عتاب آئے
جُگ بیت گئے ماجدؔ، اِس جاں پہ عذاب آئے
پھر اِذن دیا اُس نے، اظہارِ غم دل کا
پھر شاخِ لب و جاں پر، کھِلنے کو گلاب آئے
مائل ہوں جو شفقت پر اور جانیں، برسنا بھی
کھیتوں پہ لئے بوندیں ایسی، نہ سحاب آئے
ایوان نشینوں سے کیا آس، مُرادوں کی
کٹیاؤں کو پہلے بھی کب ایسے جواب آئے
جب بادِ صبا تک نے، لی ذات بدل اپنی
پودوں کے قد و رُخ پر، کیا رنگِ شباب آئے
جس طور لپکتی ہیں لینے کو، ہمیں موجیں
اُس پار کا ساحل بھی، اے کاش! شتاب آئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑