تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گزر

یادآئے محکوم کا دیہہ بدر ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
حکم پہ پینچوں کے یک دم بے گھر ہونا
یادآئے محکوم کا دیہہ بدر ہونا
سنتے ہیں خُو بُومیں لگے فرعونی سا
صاحبِ رقبہ ہونا، صاحبِ زر ہونا
عمرِ اخیر میں یوں بھی دیکھنا پڑتا ہے
جسم و جسامت کا ویران شجرہونا
ہر مجہول ہمیں ہی دھر لے جاتا ہے
عیب جو ہے تو ہمارا اہلِ ہنر ہونا
کوئی نہ مجھ سا پِٹ جائے، وہ خاک کہے
جس کا نصیبہ ٹھہرے راہ گزر ہونا
سچ پوچھیں تو بادشہی سے کم تو نہیں
آج کے دورِگراں میں اپنا گھر ہونا
ویسے بھلے ماجدہو ہمِیں سا، پہ اندر سے
صاحبِتاج کو چاہیے پیغمبر ہونا
ماجد صدیقی

بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ندیّوں میں آسمانی رنگ بھر جانے لگے
بِن ترے کیا کیا حسیں موسم گزر جانے لگے
کِھلکھلاہٹ بھی وہی اور تمتماہٹ بھی وہی
پُھول تیرے عارضوں جیسے نکھر جانے لگے
تیری جانب تتلیوں جیسی لئے بے تابیاں
ہو کے پہلے سے زیادہ بارور جانے لگے
تشنۂ حسن اِک نظر، اور اِک دلِ ذی حوصلہ
لے کے ہم بھی ساتھ کیا رختِسفر جانے لگے
تو نہ ہو رنج آشنا جانا ں! ہمارے قرب سے
حق میں تیرے دیکھ !ہم کیا کیا نہ ڈر جانے لگے
ماجد صدیقی

آ ۔۔۔ اور مری تشنگیٔ جاں میں اُتر جا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
اک بار تو ایسی بھی جسارت کبھی کر جا
آ ۔۔۔ اور مری تشنگیٔ جاں میں اُتر جا
ویرانیٔ دل پر کبھی اتنا تو کرم کر
اِس راہگزر سے نمِ موسم سا گُزر جا
طُرفہ ہیں بُہت میرے دل و جاں کی پھواریں
اس بزم میں آ اور مثالِ گُلِ تر جا
دیکھوں میں طلُوعِ رُخِ انور ترا یُوں بھی
آ ۔۔۔ مثل سحر لمس کی شبنم سے نکھر جا
رہنے دے کسی پل تو یہ اندازِ شہابی
مختار ہے تو ۔۔۔ پھر بھی کوئی دم تو ٹھہر جا
پڑتا ہے رہِ شوق میں کچھ اور بھی سہنا
ماجدؔ نہ فقط خدشۂ رسوائی سے ڈر جا
ماجد صدیقی

ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 78
یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک
ہوتا نہیں چاند کا گزر تک
یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی
پہنچی ہے جو اَب دل و جگر تک
دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا
محدود تھے فاصلے نظر تک
ہوں راہیِ منزلِ بقا اور
آغاز نہیں ہُوا سفر تک
تھے رات کے زخم یا ستارے
بُجھ بُجھ کے جلے ہیں جو سحر تک
ہے ایک ہی رنگ، دردِ جاں کا
ماجدؔ نمِ چشم سے شرر تک
ماجد صدیقی

کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلیم کر رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 77
یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہا ہے
کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلیم کر رہا ہے
یہ کونسی عمرِ نوح بخشی گئی ہے مجھ کو کہ عہدِ نو میں
گمان اِک ایک پل پہ جیسے صدی صدی کا گزر رہا ہے
لدا پھندا ہے ہر ایک ساعت اِسی سے آنگن دل و نظر کا
یہی تمّنا کا اک شجر ہے چمن میں جو بارور رہا ہے
دل و نظر کی خموشیوں میں چھنکتے قدموں یہ کون آیا
کہ مثلِ مہتاب نطق میرا، لبوں سے میرے اُبھر رہا ہے
یہ زندگی ہے کہ انتشارِ خرام، ابرِ رواں کا ماجدؔ
یہ کیسا منظر نگاہ میں ہے کہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے
ماجد صدیقی

یہ تحفۂ زیست تجھ کو لوٹا کے تجھ پہ احسان دھر نہ جاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
جو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتا میں بکھر نہ جاؤں
یہ تحفۂ زیست تجھ کو لوٹا کے تجھ پہ احسان دھر نہ جاؤں
یہ ایک لمحہ کہ جان لُوں تو اِسی میں ایٹم سی قوّتیں ہیں
مجھے ہے جینا اگر تو پہنائیوں میں اِس کی اُتر نہ جاؤں
سیاہ راتیں چٹان بھی ہیں تو میرے قدموں کی خاک ہوں گی
یہ کس طرح ہو کہ جستجو میں تری، سحر تا سحر نہ جاؤں
غمِ زمانہ تری حقیقت سے چشم پوشی بڑی خطا ہے
مگر مجھے وہم ہے کہ ہستی سے ہی تری میں مکر نہ جاؤں
چمن کے گُلہائے ناز پرور! نہ مجھ مسافر کا حال پوچھو
یہ بارشِ گرد ہو نہ درپے تو میں بھی تم سا نکھر نہ جاؤں
دلوں میں یاروں کے وسوسے ہیں تو میں بھی کیوں دل کو دشت کر لوں
گمان تک بھی کروں جو ایسا تو جاں سے ماجدؔ گزر نہ جاؤں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑