تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گر

بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 184
ماں کا اور باپ کا گھر یاد آیا
بِیچ صحرا کے شجر یاد آیا
شیر کا لقمۂ تر یاد آیا
اِک ہرن سینہ سپریاد آیا
عدل میں ٹیڑھ جہاں بھی دیکھی
اپنا اندھیر نگر یاد آیا
اُس سے وُہ پہلے پہل کا ملنا
جیسے گنجینۂ زر یاد آیا
سحر سے جس کے نہ نکلے تھے ہنوز
پھر وہی شعبدہ گر یاد آیا
جب بھی بہروپیا دیکھا کوئی
سر بہ سر فتنہ و شر یاد آیا
میروغالب کی توانا سخنی
ہائے کیا زورِ ہُنر یاد آیا
پڑھ کے ماجد تری غزلیں اکثر
کسی فردوس کا در یاد آیا
ماجد صدیقی
Advertisements

یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
سُوکھا پتّا یا میں اُڑتا پر ٹھہروں
یعنی مرگ و فنا کا نامہ بر ٹھہروں
اپنے آپ میں رہنا ہی کیا ٹھیک نہیں
آسمان کا میں کیوں کر ہمسر ٹھہروں
کُوچۂ حرص میں اپنی خیر منانے کو
خیر کا مدِمقابل ٹھہروں، شر ٹھہروں
خبر خبر ہیں چَوکھٹے نت نت ماتم کے
سوچتا ہوں کس کس کا نوحہ گر ٹھہروں
مثلِ صبا اپنا جی بھی بس چاہے یہی
غنچہ غنچہ چٹکوں، پیغمبر ٹھہروں
کسے خبر کل نطق کے ناطے نگر نگر
میں بے قیمت بھی گنجینۂ زر ٹھہروں
ماجد صدیقی

کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 81
وُہ مرے ٹُوٹے ہوئے پر دیکھ کر
کھِل اُٹھا ہے حاصلِ شر دیکھ کر
حرفِ حق پر ہے گماں کُچھ اور ہی
ہاتھ میں بچّوں کے پتھر دیکھ کر
کیا کہوں کھٹکا تھا کس اِنکار کا
کیوں پلٹ آیا ہُوں وُہ در دیکھ کر
آنکھ میں رقصاں ہے کیا سیندھور سا
آ رہا ہوں کس کا پیکر دیکھ کر
بال آنے پر جُڑے شیشہ کہاں
کہہ رہا ہے آئنہ گر، دیکھ کر
یاد آتا ہے وُہ کم آمیز کیوں
جیب میں مزدور کی زر دیکھ کر
دیکھنا ماجدؔ، دیا بن باس کیا
موج کو دریا نے خود سر دیکھ کر
ماجد صدیقی

ڈنک چبھو کر جیسے اژدر بھُول گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
کرنی کر کے ہے یوں آمر بھُول گیا
ڈنک چبھو کر جیسے اژدر بھُول گیا
جان پہ سچ مچ کی بن آتی دیکھی تو
جتنی شجاعت تھی شیرِ نر بھُول گیا
خلق سے خالق کٹ سا گیا ہے یُوں جیسے
اپنے تراشیدہ بُت آذر بھُول گیا
دُھوپ سے جھُلسے ننگے سر جب دیکھے تو
خوف کے مارے شاہ بھی افسر بھُول گیا
گزرے دنوں کی سنُدر یاد کی آمد کو
چھوڑ کے جیسے دل یہ، کھُلے در بھُول گیا
جسم پہ جمتی گرد ہی شاید بتلائے
وقت ہمیں کس طاق میں رکھ کر بھُول گیا
اُس کی سرونُما قامت ہے یا ماجدؔ
چھیڑ کے تان کوئی نغمہ گر بھُول گیا
ماجد صدیقی

کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
کون سا الزام آیا ہے مرے سر، دیکھنا
کس کے ہاتھوں آ لگا مجھ کو یہ پتّھر دیکھنا
خستوں نے کس قدر قامت تمہاری پست کی
رازقو! یہ فرق بھی دل میں اُتر کر دیکھنا
کرچیوں کی شکل میں پلکوں تلک جو آ گیا
یہ مرا دل ہے اسے بھی آئنہ گر! دیکھنا
پھُول سا ہر صبح رکھ لینا اُسے پیشِ نظر
چاند سا ہر دم اُسے اپنے برابر دیکھنا
گھونسلوں میں پھیلتی اِک آبشارِ نغمگی
اور پھر زیرِ شجر بکھرے ہوئے پر دیکھنا
حفظِ جاں کے عُذر کے ہوتے نجانے کس طرف
لے گئی انساں کو ماجدؔ، قوتِ شر دیکھنا
ماجد صدیقی

سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 45
یابس دنوں کی یاد سے ہے سر بہ سر اداس
سرسوں کی رُت ہے اور ہے کشتِ نظر اداس
جیسے یہ اب ہیں کُند نہ تھیں اِن کی یوں سُریں
دیکھے نہیں تھے ایسے کبھی نغمہ گر اداس
ساقط ہُوا ہے جیسے اُبھرتے ہی آفتاب
اب کے کچھ اِس طرح سے ہوئے بام و در اداس
حیراں نہیں تھے یوں کبھی اشکوں کے آئینے
اُترا نہیں تھا اِن میں نگر کا نگر اداس
یوں تو اٹا نہ تھا کبھی گردِ سکوت سے
راہوں میں اِسطرح تو نہ تھا ہر شجر اداس
دونوں پہ موسموں کا اثر یوں کبھی نہ تھا
ششدر ہوں میں اِدھر تو اُدھر میرا گھر اداس
جیسے الاؤ پر سے کبوتر گزر کے آئے
لَوٹا ہے اب کے ہو کے بہت نامہ بر اداس
پہروں کے پہر،یُوں کبھی گڈ مڈ ہوئے نہ تھے
شب ہے اداس، شام اداس اور سحر اداس
پُورا ہُوا تو ساتھ ہی گھٹنے لگا یہ چاند
ماجد ہے اِس حیات کا سارا سفر اداس
ماجد صدیقی

پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 131
مہرباں جس گھڑی تھا ہم پر وُہ
پھر نہ آیا نظر میں منظر وُہ
تھا جسے اختلاف ناحق سے
اب کہاں پاس اپنے بُوذرؑ وُہ
جس کے دیکھے سے پیاس بجھتی ہو
ملنے آئے گا ہم سے کیونکر وُہ
میں کہ مس ہوں جہاں میں مجھ کو بھی
آنچ دیتا ہے کیمیا گر وُہ
جب سے پیکر مہک اُٹھا اُس کا
بند رکھتا ہے روزن و دَر وُہ
کب سے جاری ہے یہ مہم اپنی
ہم سے لیکن نہیں ہُوا سر وُہ
اُس سے ماجدؔ! کہاں کا سمجھوتہ
موم ہیں ہم اگر تو پتّھر وُہ
ماجد صدیقی

اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
دشت میں رہ کا شجر یاد آیا
اُس کا پیکر ہے مگر یاد آیا
پھر تمّنا نے کیا ہے رُسوا
پھر مسیحاؤں کا در یاد آیا
اُس کی آنکھوں سے لہو تک اُس کے
طے کیا تھا جو سفر یاد آیا
جب بھی بچّہ کوئی مچلا دیکھا
مجھ کو سپنوں کا نگر یاد آیا
ہم کو پنجرے سے نکلنا تھا کہ پھر
برق کو اپنا ہُنر یاد آیا
ابر ڈھونڈوں گا کہاں سر کے لئے
لُطف ماں باپ کا گر یاد آیا
کیا کرم اُس کا تھا ماجدؔ کہ جسے
یاد آنا تھا نہ ، پر یاد آیا
ماجد صدیقی

سسکنے لگے پھر شجر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
جھڑے مثلِ خس، برگ و بر دیکھنا
سسکنے لگے پھر شجر دیکھنا
فضائے مقاصد کی وسعت اُدھر
اِدھر مُشت بھر بال و پر دیکھنا
خراشوں پہ اِس کی بھی کرنا نظر
یہ دل بھی مرے شیشہ گر دیکھنا
یہی آج کا جام جمشید ہے
ذرا جانبِ چشمِ تر دیکھنا
اُبھرنا وہ اس چاند کا اور وہ
بسوئے اُفق رات بھر دیکھنا
شگفتِ نظر جس کا آغاز ہے
یہ موسم کبھی اَوج پر دیکھنا
کہو کیوں جنوں ہے یہ ماجدؔ تمہیں
جِسے دیکھنا باہُنر دیکھنا
ماجد صدیقی

لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
کانٹا ملا تو ضد میں، گُلِ تر بنا دیا
لوگوں نے بانس کو بھی، ثمرور بنا دیا
تھے جس قدر شہاب، گرائے نشیب میں
ذرّوں کو وقت نے، مہ و اختر بنا دیا
جیسے، کنارِ آب کا پودا ہو سخت جاں
صدمات نے، ہمیں بھی ہے پتّھر بنا دیا
تاحشر نفرتوں کا نشانہ رہے، جہاں
ایسی جگہ، مزارِ ستم گر بنا دیا
اِک بات بھی پتے کی، نہ تم نے کہی کبھی
ماجدؔ تمہیں، یہ کس نے سخنور بنا دیا
ماجد صدیقی

تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
کر کے غاصب کو زیر و زبر چھین لے
تجھ سے چھینے گئے جو گہر، چھین لے
ناز ہو ننّھی چڑیوں کے خوں پر جنہیں
اُن عقابوں سے تُو بال و پر چھین لے
جس کی بنیاد تیرے عرق سے اٹھی
اُس سپھل پیڑ سے برگ و بر چھین لے
نرم خُوئی تلک نرم خُو ہو، مگر
دستِ جارح سے تیغ و تبر چھین لے
حق ملے گا تجھے دشتِ وحشت میں کیا
چھین لے، چھین سکتا ہے گر، چھین لے
جس کا حقدار ہے تو وہ تکریمِ فن
تو بھی اے ماجدِ با ہنر! چھین لے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑