تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گراں

کیہدا جپدی اے ناں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 42
چھلاں مار دی جھناں
کیہدا جپدی اے ناں
کدوں سُکھ نوں کھلیر
کیہڑی ہاسیاں دی تھاں
کتھے ساڈی نمھی ٹور
کتھے ماہی دا گراں
بُسی لگدی اے وا
کنّھوں اکھاں نال لاں
پَیریں سِیکرے دے سُول
سِریں کنڈیاں دی چھاں
دَس ماجداُ کدائیں
کیہدا جپدا سیں ناں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

وہ کہ ہے جو خاکِ پا وہ آسماں ہو جائے گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 163
پینچیاں بانٹے ہے جو گر مہرباں ہو جائے گا
وہ کہ ہے جو خاکِ پا وہ آسماں ہو جائے گا
پر نکالے گا سیاست کی فضا میں گر کوئی
اُس کو ازبر نُسخۂ پٹواریاں ہو جائے گا
کل کمائی گھر کے چوگے پر ہی گر لگتی رہی
جو بھی گھر ہے چیل ہی کا آشیاں ہو جائے گا
دور میں نااہل مختاروں کے تھا کس کو پتہ
سیب جیسا ہی ٹماٹر بھی گراں ہو جائے گا
نازِ قامت جس کو ہوخود وقت اُس سے یہ کہے
دیکھ تیرا سروِ قامت بھی کماں ہو جائے گا
دہشتیں خانہ بہ خانہ یہ خبر پھیلا چکیں
امن کا اک اک پنگھوڑا بے اماں ہو جائے گا
عشق کی رُت جا چکی پھر بھی یہ ماجد دیکھ لے
’دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہو جائے گا،
ماجد صدیقی

بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
نہ باز آئے یہ لُو اور نہ تن سے جاں نکلے
بجائے زمزمہ بیرونِ لب زباں نکلے
ہمیں بہار کے ہونٹوں کی نرمیوں کے امیں
ہمیں وہ برگ کہ پیغمبرِ خزاں نکلے
جہاں گلاب سخن کے سجائے تھے ہم نے
شرر بھی کچھ اُنہی حرفوں کے درمیان نکلے
زخستگی لبِ اظہار کا تو ذکر ہی کیا
کشش سے جیسے قلم کی بھی اب دھواں نکلے
ہمارا حال جبیں سے ہی جاننا اچھا
زباں سے کیا کوئی اب کلمۂ گراں نکلے
حضورِ یار ہیں وہ جاں سپار ہم ماجدؔ
ہو حکمِ قتل بھی اپنا تو منہ سے ہاں نکلے
ماجد صدیقی

جس سے مرے پیکر پہ بھی سائل کا گماں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
دیکھو تو یہ کیا لفظ مرے زیبِ زباں ہے
جس سے مرے پیکر پہ بھی سائل کا گماں ہے
رکھنے کو مرے کاسۂ اُمید کو خالی
جس سمت بھی جاتا ہوں وہیں شورِ سگاں ہے
یہ کیسا غضب ہے کہ جو خوشبو سا سبک تھا
وُہ خون بھی رگ رگ میں رُکا سنگِ گراں ہے
چھینی مرے قدموں سے یہ کس رُت نے روانی
قامت پہ یہ کیوں برف کے تودے سا گُماں ہے
کیا بزم میں مَیں حالِ دلِ زار چھپاؤں
ہونٹوں میں دباؤں بھی تو آنکھوں سے عیاں ہے
ماجد صدیقی

شجر کونپلوں کے نکلتے ہی نذرِ خزاں ہو گیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
پرندوں سے تھا ہم سخن جو، وُہی بے زباں ہو گیا ہے
شجر کونپلوں کے نکلتے ہی نذرِ خزاں ہو گیا ہے
کسی برگ پر جیسے چیونٹی کوئی تیرتے ڈولتی ہو
ہواؤں کی زد پر کچھ ایسا ہی ہر آشیاں ہو گیا ہے
کسی ابر پارے کو بھی آسماں پر نہ اَب شرم آئے
بگولہ ہی جیسے سروں پر تنا سائباں ہو گیا ہے
سمٹتے ہوئے کور لمحوں کی بوچھاڑ برسا رہا ہے
مہِ نو بھی جیسے اُفق پر تنی اِک کماں ہو گیا ہے
لگے اِس طرح جیسے دل بھی شکم ہی کے زیرِنگیں ہو
کہ دربار بھی اَب تو، مُحبوب کا آستاں ہو گیا ہے
مسافت سے پہلے بھی کم تو نہ تھی کچھ گھُٹن ساحلوں کی
چلے ہیں تو اَب مشتِ کنجوس کی بادباں ہو گیا ہے
نجانے بھروسہ ہے کیوں اُس کی نیّت پہ ؔ دلوں کو
وہ حرفِ تسلی تلک جس کا سنگِ گراں ہو گیا ہے
ماجد صدیقی

دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور
دے دی ہے اُسی حبس نے پیڑوں کو زباں اور
کہتی ہیں تجھے تشنہ شگوفوں کی زبانیں
اے ابر کرم ! کھینچ نہ تو اپنی کماں اور
ہر نقشِ قدم، رِستے لہو کا ہے مرّقع
اِس خاک پہ ہیں، اہلِ مسافت کے نشاں اور
نکلے ہیں لئے ہاتھ میں ہم، خَیر کا کاسہ
اُٹھنے کو ہے پھر شہر میں، غوغائے سگاں اور
صیّاد سے بچنے پہ بھی ، شب خون کا ڈر ہے
اب فاختہ رکھتی ہے یہاں ، خدشۂ جاں اور
دیکھیں گے، گرانی ہے زمانے کی یہی تو
سبزے کے کچلنے کو ابھی ، سنگِ گراں اور
ماجد وُہی کہتے ہیں، تقاضا ہو جو دل کا
ہم اہلِ سیاست نہیں، دیں گے جو بیاں اور
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑