تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

گئے

مجرم شاہ بھی بچ نکلے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
مصلحتوں کے یہ سب فتنے ہیں
مجرم شاہ بھی بچ نکلے ہیں
ڈفلی ڈفلی رقص کریں ہم
ہم جو عقل کے سب اندھے ہیں
ہم بھی جیب کُھلے میں کٹا کے
گھر کا رستہ بھول گئے ہیں
بے سمتی کے قضیوں پر ہی
ہنگامے برپا دیکھے ہیں
بدخواہوں تک کے حق میں بھی
اپنی زباں سے پھول جھڑے ہیں
غاصبوں، مجرموں کے آپس میں
سمجھوتے ہی سمجھوتے ہیں
ماجد تو نے بَیت جو لکھے
آتے وقتوں کے ہیرے ہیں
ماجد صدیقی

وہ وفا کا عہد نبھا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
وہ کہ آمروں سے کیا تھا جو
وہ وفا کا عہد نبھا دیا
مرے منصفوں نے بہ جبر و زر
سرِدار مجھ کو سجا دیا
ہوئے حکمراں بھی تو کیا ہوئے،
جنہیں تھا جنونِ برابری
وہ کہ خاص و عام میں فرق تھا
وُہی فرق گرنہ مٹا دیا
تھی غرض تو بس مری جاں سے تھی،
گئی جاں تو غیر ہوئے سبھی
مجھے نذرِ خاک و زمیں کیا
مجھے اپنے ہاتھوں جلا دیا
کہیں تاجور کہیں خاک پا
کہیں خاکِ پا سے بھی ماورا
میں کہ اس کے چاک کی خاک تھا
مجھے جیسا چاہا بنادیا
کبھی برتری جو دکھا سکے
تو فرشتگاں پہ بھی چھا گئے
کہیں آزمائی وہ سفلگی
کہ ہمِیں نے عرش ہلادیا
جو فلک پہ پائے گئے کبھی
، تو ہمیں تھے راندۂ چرخ بھی
یہ زمیں کہ مادرِ مہرباں ہے،
اسے بھی ہم نے ہے کیا دیا
یہ وہی ہے جو ترے لطف سے
کبھی شاعری کا الاؤ تھا
یہ تمہارا ماجدِ مبتلا
ہے دئے سا جس کو بجھا دیا
ماجد صدیقی

شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
طلب پر مُنصفوں کی لو، عدالت میں چلے ہم بھی
شکم کی پرورش میں دیکھیئے مجرم ہوئے ہم بھی
بس اِتنی سی خطا پر، کھوجتے ہیں رزق کیوں اپنا
نگاہوں میں خداوندوں کی کیا کیا کچھ گرے ہم بھی
رگڑتے ایڑیاں، عزّت کی روزی تک پہنچنے میں
نہیں کیا کیا کہیں روکے، کہیں نوچے گئے ہم بھی
پرندوں سا یہ بّچے پالنا بھی، عیب ٹھہرا ہے
بنائیں دشت میں جا کر کہیں اَب گھونسلے ہم بھی
کہیں بے روزگاری پر وظیفے، اور کہیں دیکھو
یہ ہم جو خود کماؤُ ہیں، گئے ہیں دھر لئے ہم بھی
اَب اِس سے بڑھ کے ماجدؔ اور دوزخ دیکھنا کیسا
کہ ادراکِ حقائق سے نہیں کیا کچھ جلے ہم بھی
ماجد صدیقی

دل کو بے چین کر گئے نغمے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
لب پہ آئے، بکھر گئے نغمے
دل کو بے چین کر گئے نغمے
جنبشِ لب سے وا ہوئے غنچے
صورتِ گل نکھر گئے نغمے
دُور تک تیرا ساتھ قائم تھا
دُور تک ہم سفر گئے نغمے
دھڑکنوں کی زباں سے نکلے تھے
پتّھروں تک بکھر گئے نغمے
اُڑ گئے جیسے اوس کے ہمراہ
تھے جو ماجدؔ سحر سحر نغمے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑