تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کی

کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
دھونس، دھن، دھاندلی کا جو ٹھہرا، وُہی فیصلہ لکھ دیا
کل کے اوراق میں لیجیے ہم نے بھی، فیصلہ لکھ دیا
قصر محفوظ تھے، بے اماں جھونپڑے، راکھ کیونکر ہوئے
حق میں غفلت کے، تھی جو شہِ وقت کی، فیصلہ لکھ دیا
تھا اندھیروں پہ قابو نہ اپنا کبھی، پھر بھی اِتنا کیا
حبسِ بے جا میں دیکھی جہاں روشنی، فیصلہ لکھ دیا
جور کے جبر کے، جس قدر سلسلے تھے، وہ بڑھتے گئے
آنے پائی نہ جب، اُن میں کچھ بھی کمی، فیصلہ لکھ دیا
ہاتھ فریاد کے، اُٹھنے پائے نہ تھے اور لب سِل گئے
دیکھ کر ہم نے ماجدؔ، یہی بے بسی، فیصلہ لکھ دیا
ماجد صدیقی

ذات اپنی ہی دے اُٹھی خوشبُو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
ہے جنوں عطر، آگہی خوشبُو
ذات اپنی ہی دے اُٹھی خوشبُو
دل معطّر ہے یادِ حسن کے ساتھ
لب پہ ہے ذکرِ یار کی خوشبُو
اَب بھی ہیں سلسلے وُہی تیرے
گل پیمبر، پیمبری خوشبُو
آنے لگتی ہے تیرے نام کے ساتھ
ہر گماں سے یقین کی خوشبو
جسم مہکا ہے پھر کوئی ماجدؔ
ہے پریشاں گلی گلی خوشبُو
ماجد صدیقی

ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
رستے میں جو شام پڑ گئی ہے
ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے
دشوار نہ تھی کچھ ایسی رہ بھی
کیوں سانس اُکھڑ اُکھڑ گئی ہے
دیکھا تھا جو دُکھ عروج پر بھی
اَب شام اُسی کی ڈھل چلی ہے
کِس چاند کی ضَو زمیں پہ لایا
یہ جسم ترا، کہ چاندنی ہے
ماجدؔ ترے ہونٹ چُوم لوں مَیں
کیا بات پتے کی تُو نے کی ہے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑