تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کیا

رخت میں نقدِ بقا باندھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 196
ہم جو مضموں کی ہوا باندھتے ہیں
رخت میں نقدِ بقا باندھتے ہیں
اہلِ فن لفظ و ندا میں دیکھو!
کیسے سپنوں کا لکھا باندھتے ہیں
دل کے مَیلے ہیں جو کھولیں کیسے
جو گرہ اہلِ صفا باندھتے ہیں
جور بے طرح سخن میں لائیں
وہ جو زینب کی ردا باندھتے ہیں
وہ جنہیں اَوج نشینوں سے ملے
طرّۂ ناز بڑا باندھتے ہیں
وسوسہ دل میں نہ پالیں کوئی
ہم کہ ہر عہد کُھلا باندھتے ہیں
سوداکاری میں اَنا کی پڑ کے
لوگ جسموں کی بہا باندھتے ہیں
جو ہنرور ہیں نئی نسلوں کے
مٹھی مٹھی میں جلا باندھتے ہیں
وہ کہ موجد ہیں۔۔درونِ مادہ
نو بہ نو عکس و صدا باندھتے ہیں
بیٹیاں عمر بِتائیں روتے
اُن کو ماں باپ کُجا باندھتے ہیں
زور تن میں ہو تو ہر بات میں ہم
ناروا کو بھی روا باندھتے ہیں
ہو جہاں ذکرِ عقائد اس میں
ہم صنم تک کو خدا باندھتے ہیں
اپنے جیسوں پہ جو ڈھاتے ہیں ستم
اپنے پلّو میں وہ کیا باندھتے ہیں
سینہٗ شب میں کرے چھید وہی
ہم کہ جگنو کو دِیا باندھتے ہیں
ہم کبوتر کے پروں میں ماجد
لطفِ یاراں کا صلہ باندھتے ہیں
ماجد صدیقی
Advertisements

جبر ہم پر وگرنہ کیا نہ ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 169
ہاں جو فرعون تھا خُدا نہ ہُوا
جبر ہم پر وگرنہ کیا نہ ہُوا
شرم کیا کیا دلائی شیطاں کو
ٹس سے مس وہ مگر ذرا نہ ہُوا
جیسا مینار بھی بنا ڈالو
وہ کبھی زیر آشنا نہ ہُوا
ماں چِھنی، ماں کی گود سے لیکن
کوئی بچّہ کبھی جُدا نہ ہُوا
رونا دھونا سدا کا کارِ ثواب
لب کِھلانا مگر روا نہ ہُوا
ساتھ تھا اُس کا محض دریا تک
بادباں سر کا آسرا نہ ہُوا
خود سے ہر چھیڑ لی سبک اُس نے
تھا غنی، ہم سے وہ خفا نہ ہُوا
جب بھی اُترا ہمارے انگناں وہ
تیرہواں روز چاند کا نہ ہُوا
جام ہونٹوں پہ رکھ کے کچھ تو اُنڈیل
یوں تو کچھ قرضِ مے ادا نہ ہُوا
آکے بانہوں میں یُوں نہ زُود نکل
یہ تو عاشق کا کچھ صِلا نہ ہُوا
مجھ سے حاسد نہ چھین پائے تجھے
ماس ناخون سے جدا نہ ہُوا
تھا جو چاقو قریبِ خربوزہ
وار اُس کا کبھی خطا نہ ہُوا
اُس سے جو جوڑ تھا نہ ماجد کا
کھنچ گیا گر تو کچھ بُرا نہ ہُوا
ماجد صدیقی

ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 165
رکھ دیا دل کھول کر گویا ہو سر تا پا کُھلا
ہم سے کُھلنے پر وہ آیا تو بہت سارا کُھلا
رات کی رانی کی خوشبو میں صبا کے رقص میں
ہم نے آنکھیں ہی نہ کھولیں ورنہ وہ کیا کیا کُھلا
اپنے ہاں کی جو سیاست ہے، شکستہ خط میں ہے
جیسے اہلِ دِہ پہ پٹواری کا ہو بستا کُھلا
پُھول دِکھلایا تو اُس نے چاند دکھلایا ہمیں
جیسے جیسے ہم کُھلے ہم پر بھی وہ ویسا کُھلا
دیکھنے میں گو ہمارے پاس آن اُترا ہے وہ
جھیل میں اُترا جو چندا ہم پہ وہ اُلٹا کُھلا
رام کرنے کو ہمیں تاکا کبھی جھانکا کیا
وہ کہ پیکر تھا حیا کا ہم پہ کب پُورا کُھلا
ہاں کبھی یوں بھی کیا تھا ہم نے سجدہ شُکر کا
ہاں کسی چنچل کا ماجد ہم پہ بھی در تھا کُھلا
ماجد صدیقی

دُعا کا ہاتھ اپنا کاش ایسے بھی اُٹھا ہوتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 159
خُدا سے مانگتے جو، اُس سے پہلے مِل چکا ہوتا
دُعا کا ہاتھ اپنا کاش ایسے بھی اُٹھا ہوتا
کئی فرعون چھوڑے، پر نہ خود فرعون بچ پایا
اگر بندہ نہ ہوتا تو وُہی اب بھی خُداہوتا
ہم اُس سے پُوچھتے، کم مائیگی شاہکار کی کیوں ہے
خُدائے عزّو جَل سے سامنا گر ہو سکا ہوتا
کسی جارح کے منہ پر ہم طمانچہ ہی لگا سکتے
ہمیں بھی اختیار ایسا کوئی تو دے دیا ہوتا
ہمیں دریا میں اپنی بے بسی پر کیوں پڑا کہنا
ہمارے نام تِنکے ہی کا کوئی آسرا ہوتا
بغیرِ پِیر تھی دُشوار گر تجھ تک رسائی تو
ہمارا پِیر پھر غالب سے کم بھی کوئی کیا ہوتا
دہانِ مرگ چھُو چُھو کر مُڑے جو، گر نہ مُڑ پاتے
نہ ہم ہوتے نہ ماجد قصۂ کرب و بلا ہوتا
نذرِ غالب
ماجد صدیقی

اُٹھا کے ہاتھ اُنہیں کاسۂ دُعا مانوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
مرا نصیب یہ ہے خود کو بے نوا مانوں
اُٹھا کے ہاتھ اُنہیں کاسۂ دُعا مانوں
خمیر جس کا فقط گرد ہی سے اُٹھا ہو
میں ایسے ابر کو کس کھیت کی ردا مانوں
مری مراد پہ قابض ہیں بندگانِ خدا
کسے صغیر کہوں کس کو کِبریا مانوں
اِک عزم کا ہے سمندر تو اک کرم کا سحاب
جگر کو قلب سے کس طرح میں جدا مانوں
جسے کھنگال کے دیکھا وہ تھا اسیرِ ہوس
کسے حریص کہوں، کس کو باصفا مانوں
دباؤ کے ہیں کرشمے جسے جدھر لے جائیں
کسے میں فحش کہوں کس کو باحیا مانوں
یہ میرے فرق پہ چھاتا سی ہے جو صحرا میں
اِس اُڑتی ریت کو جُز ریت اور کیا مانوں
بروئے ارض ہم اہلِ خدا ہی کیوں کم ہیں
میں اہلِ شر کا یہ کیوں قولِ فتنہ زا مانوں
بڑا تضاد ہے ماجد کہے میں ہردو کے
بڑوں کا یا میں نئی نسل کا کہا مانوں
ماجد صدیقی

پیر کبھی نہ اکھڑتا دیکھیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 72
عزم ہے یہ، دُکھ جتنا دیکھیں
پیر کبھی نہ اکھڑتا دیکھیں
رحم کریں اُس پر اُتنا ہی
جتنا جس کو سفلہ دیکھیں
گانٹھیں ساتھ تنے کے ایکا
جب بھی پیڑ اُکھڑتا دیکھیں
اگلا مطلع دھیان میں رکھیں
سورج جب جب ڈھلتا دیکھیں
کم دیکھا ہے جو کچھ دیکھا
اور نہ جانے کیا کیا دیکھیں
ماجدچال میں ٹیڑھ نہ آئے
جانبِ منزل سیدھا دیکھیں
ماجد صدیقی

خود بھی رہ جنبش میں اور پیسہ بھی کچھ جنبش میں لا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
یہ ہے وہ نسخہ کہ جس میں ہے تری کامل شفا
خود بھی رہ جنبش میں اور پیسہ بھی کچھ جنبش میں لا
حرص میں جنس و پِسَر کے اور وسطِ عمر میں
دیدنی ہیں بچّیوں کے باپ جو کھو دیں حیا
اُن کے ناتے سایۂ قانون کو تم ناپ لو
گاڑیاں جو چھین لیتے ہیں کُھلے میں برملا
اتّحادی سے وزارت چھین کر دو اور کو
تخت والو!بعد میں تم دیکھنا ہوتا ہے کیا
وہ جسے ایکا کہیں، مشکل ہے دو شخصوں کے بیچ
بعد مدّت کے، یہ رازِ خاص ہے، ہم پر کُھلا
آگ تک میں بھی تو اکثر کِھل اُٹھا کرتے ہیں پھول
آبِ رحمت میں بھی ہوتا ہے نہاں سَیلِ بلا
ہنس دیا کرتا رہا ماجد۔۔۔بہ میدانِ عمل
کھا کے کنکر نفر توں کے، اہلِ نفرت سے سدا
ماجد صدیقی

شہر بھر کو خامشی کا پیرہن پہنا دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
جبر نے ہم سب کے چپ رہنے کو کیا اچھّا کیا
شہر بھر کو خامشی کا پیرہن پہنا دیا
کچھ نہیں نایاب لیکن ہے گراں یابی بہت
تاجروں نے بھی خلافِ خلق کیا ایکا کیا
اُس دھڑے نے جو اُسے اونچا اُٹھا کر لے گیا
بالا دستی میں اُسی سے ہے سلوک الٹا کیا
کیا کہیں اِس عہد کے منصف بھی آمر ہو گئے
ہاں جنہوں نے بھی کیا جو، آمروں جیسا کیا
وہ کہ جو بھی تھا گُنی، ترسا کیا پہچان کو
جو بھی پتّے باز تھا قد اُس نے ہی بالا کیا
بالادستوں کا جو بالا دست ہے اُس ڈھیٹ نے
جو بھی برتاؤ کیا ہم سے وہ دانستہ کیا
وہ کہ نکلے ڈھونڈنے ماں باپ سے راہِ فرار
کیا کہوں ماجد! یہ دل، کیسے اُنہیں دیکھا کیا
ماجد صدیقی

میں آئنہ ہوں ٹھیک سے چہرہ بتاؤں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
ہو جس طرح کا۔۔ہاں اُسے ویسا بتاؤں گا
میں آئنہ ہوں ٹھیک سے چہرہ بتاؤں گا
دیکھو! عزیز عزّتِ انساں نہ ہو جسے
خلقت میں، میں اُسے ہی کمینہ بتاؤں گا
شوہرہے محترم، تو ہے بیوی بھی محترم
میں جاں نثار اُس کو بھی ماں سا بتاؤں گا
جرّاحِ بے مثال جو اِس دَورِ نو کے ہیں
ہر حال میں اُنہیں میں مسیحا بتاؤں گا
خلقت کی رہ سے جو بھی ہٹائیں رکاوٹیں
میں اُن سبھوں کو عہد کا آقا، بتاؤں گا
بہرِ عوام نظم ہو ڈھیلا جہاں، وہاں
ہر دل کو آئنوں سا شکستہ بتاؤں گا
قاری ہی خوب و زشت کہیں جوکہیں، کہیں
ماجد سخن کے باب میں میں کیا بتاؤں گا
ماجد صدیقی

سجدۂ بے بسی ادا کیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
شاخ سے ایک اِک جھڑا کیجے
سجدۂ بے بسی ادا کیجے
دستِ گلچین و برق و ابر و ہوا
کس سے بچئے کسے خدا کیجے
زخم بن جائے جو سماعت کا
بات ایسی نہ تم کیا کیجے
اُس کو حرفوں میں ڈھالنے کے لئے
انگلیوں میں قلم لیا کیجے
خواہشِ اَوج کی سزا ہے یہی
ہوکے شعلہ بہ سر بُجھا کیجے
کُیوں دُکھے دل دُکھائیے ماجدؔ
چُپ نہ رہئے تو اور کیا کیجے
کیجے کو’’کی جے‘‘ پڑھا جائے
ماجد صدیقی

کھولی کتاب اور سرِ مَتن جا رُکا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
دیکھا نہ گرد پوش تھا کیا، ابتدا تھی کیا
کھولی کتاب اور سرِ مَتن جا رُکا
طے ہے کہ کھُل گیا بھی تو بھنچنا ہے پھر اُسے،
قاروں کے دَر کو ضربِ سُبک سے نہ کھٹکھٹا
ویسے ہی آپ شوخئِ عنوان پر گئے
چہرے پہ دل کا درد بھی بین السطور تھا
درسِ قبول تیرگئ عہدِ نو بھی دیکھ
بجتے ہی سائرن کے دِیا دل کا بُجھ گیا
تھی ابتدا کچھ اور مگر انتہا ہے اور
ماجدؔ تضاد ہے یہ تمہاری غزل میں کیا
ماجد صدیقی

کم ہوں نہ شورشیں ہی لہو کی تو کیا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
خواہش تو ہے کہ دل کو سکوں آشنا کریں
کم ہوں نہ شورشیں ہی لہو کی تو کیا کریں
کچھ لطفِ بے نیازئ صحرا بھی چاہئے
ہر دم نہ زیر بارِ چمن ہی رہا کریں
شامل ہے مثلِ درد جو ماجدؔ بہ ہر نفس
اُس کرب ناروا کا مداوا بھی کیا کریں
ماجد صدیقی

میں ایسے اظہار سے جانے کیا لیتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
پیشانی پر دل کے درد سجا لیتا ہوں
میں ایسے اظہار سے جانے کیا لیتا ہوں
اپنے کاج سنوار بھی لوں تو اِس سے کیا ہے
میں آخر کس ٹوٹے دل کی دُعا لیتا ہوں
رکھ کر عذر پرانا وہی مشقّت والا
میں بچّوں سے چُھپ کر کیا کچھ کھا لیتا ہوں
جس سے عیاں ہو میری کوئی اپنی نادانی
کس عیّاری سے وہ بات چھپا لیتا ہوں
یہ نسبت تو باعثِ رسوائی ہے ماجدؔ
شاخ سے جھڑکے موجِ صبا سے کیا لیتا ہوں
ماجد صدیقی

کرتے بھی کیا اور ہم سہہ گئے سینہ تان کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
برسے دِل پر تیر جو تیر تھے کڑی کمان کے
کرتے بھی کیا اور ہم سہہ گئے سینہ تان کے
جُڑتے ہیں کب دوستو جھڑتے پتّے شاخ سے
کیا کر لیں گے آپ بھی حال ہمارا جان کے
پھیلے دام نہ دیکھ کر آہو ہوئے اسیر جو
نکلے ہونگے دشت میں جی میں کیا کچھ ٹھان کیا
لب پر ڈیرے آہ کے بکھرے تار نگاہ کے
کیسے ہوئے ملول ہم تم بھی دیکھو آن کے
دل سے اٹُھے درد کو ممکن تھا کب روکنا
ٹپکے آخر آنکھ سے چھالے مری زبان کے
نرم خرامی ابر سی، دریاؤں سا زور بھی
کیا کیا کچھ انداز ہیں ماجدؔ ترے بیان کے
ماجد صدیقی

دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 61
شاہ نگر سے وہ کہ ہے شہرِ ریا او یار!
دیکھ کے کیا پلٹا ہے کچھ تو بتا او یار!
کب تک اور ہمیں بے دم ٹھہرائے گی
ذکر سے شاہوں کے مسموم ہوا او یار!
اپنا مقدّر جنیں یا آفت سمجھیں
جس میں گھرے ہیں ہم وہ حبس ہے کیا او یار!
زورآور خوشبو بردار بتائیں جسے
کیوں وہ صبا لگتی ہے تعفّن زا او یار!
ذہن میں در آئے ہیں یہ کون سے اندیشے
بستر تک کیوں لگنے لگا ہے چِتا او یار!
جبر نے کونسا اور اب طیش دکھایا ہے
عدل کے حجلوں میں بھی شور بپا او یار!
رُخ پہ سرِ میداں نہ یہ کالک مَل اپنے
ماجِد تجھ سے کہے مت پیٹھ دکھا او یار!
ماجِد جبر کی رُت میں سخن کو دھیما رکھ
دھیان میں اپنے پیری بھی کچھ لا او یار!
ماجد صدیقی

رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
ہر جسم پہ گرد کی ردا ہے
رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے
وُہ دوستی ہو کہ دُشمنی ہو
اِک کرب ہے دُوسری بلا ہے
دیتا ہے افق افق دکھائی
اک شخص کہ چاند سا ڈھلا ہے
کیا درس دِلا رہا ہے دیکھو!
پانی پہ جو بُلبُلہ اُٹھا ہے
بدلی نئی رُت نے اور کروٹ
پِھر شاخ پہ تازہ چہچہا ہے
پہچان کب اس کی جانے ہو گی
ماجِد کہ جو کُنج میں پڑا ہے
ماجد صدیقی

کیا اور نجانے دیکھنا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
ہر سمت ہی حشر اِک بپا ہے
کیا اور نجانے دیکھنا ہے
نِت اپنی جھلک دکھانے آئے
وُہ بُوم کہ بام پر بسا ہے
اِک اور کی ڈور سے وُہ دیکھو
اِک اور پتنگ لُٹ چلا ہے
جارِح کو گئے تھے جو دکھانے
وُہ زخم تو پھر بھی اَن سِلا ہے
گر دِل نہ رکاوٹوں کو مانے
مشکل ہو کوئی بھی سو وُہ کیا ہے
دِن کتنے ہیں اور کام کتنے
ماجِد تُجھے یہ بھی سوچنا ہے
ماجد صدیقی

جہان دیکھتا اپنا سلوک کیا ہوتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
ملا نہ تخت ہمیں اور اگر ملا ہوتا
جہان دیکھتا اپنا سلوک کیا ہوتا
کھلے کی دھوپ میں کوئی تو آسرا ہوتا
وہ چاہے سایہ کسی گرد باد کا ہوتا
نظامِ دہر نجانے سنبھالتا کیسے
ہُوا بہشت بدر جو اگر خدا ہوتا
ماجد صدیقی

شور سُورج سے بچھڑ کر دن بھی کچھ ایسا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 54
گر کے پتّا شاخ سے جس طرح واویلا کرے
شور سُورج سے بچھڑ کر دن بھی کچھ ایسا کرے
تھے ہمِیں وُہ گُل جو گلدانوں میں بھی مہکا کئے
کون ہے ورنہ جو نُچ کر بھی سلوک اچّھا کرے
خواب تک میں بھی یہی رہتی ہے جانے آس کیوں
چاند جیسے ابر سے، کھڑکی سے وُہ جھانکا کرے
التفات ہم پر ہے یُوں اہلِ کرم کا جس طرح
دشت پر بھٹکا ہُوا بادل کوئی سایا کرے
فکر ہو بھی تو رعایا کو خود اپنی فکر ہو
شاہ کو کیا ہے پڑی ایسی کہ وہ سوچا کرے
کیا کہیں کتنی اپھل ہے نوکری اِس دَور کی
آدمی اِس سے تو دانے بھُون کر بیچا کرے
مُکھ دمک اُٹھیں سبھی تو رقص پر موقوف کیا
ہو گیا ایسا تو ماجدؔ جانے کیا سے کیا کرے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
صحنِ امروز میں بچپن کا اُجالا مانگوں
تجھ سے کچھ اور نہ اے میرے مسیحا! مانگوں
بہرِ عرفان، عطا زیست مکّرر ہو اگر
میں جو مانگوں تو فقط دیدۂ بینا مانگوں
ہونٹ مانگوں وہ تپش جن سے، سخن کی جھلکے
اور درونِ رگِ جاں، خون مچلتا مانگوں
حرفِ حق منہ پہ جو ہے، اُس کی پذیرائی کو
پیشِ فرعون، خدا سے یدِ بیضا مانگوں
جس نے دی عمر مجھے، وام ہی، چاہے دی ہے
وہ سخی مدِّ مقابل ہو تو کیا کیا مانگوں
جو بھی دیکھے اُسے صنّاع مرا، یاد آئے
میں سرِ خاک بس ایسا قدِ بالا مانگوں
جس پہ ٹھہرے نہ کوئی چشمِ تماشا ماجدؔ
لفظ در لفظ وہ معنی کا اُجالا مانگوں
ماجد صدیقی

آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
در کاہے کو کُھلا ہے اِتنی دیر گئے
آنکھ مری کیوں وا ہے اِتنی دیر گئے
کس نے کس کی پھر دیوار پھلانگی ہے؟
کس سے کون خفا ہے اِتنی دیر گئے
کس کی آنکھ کی آس کا تارا ٹُوٹا ہے
کس کا چین لُٹا ہے اِتنی دیر گئے
دل کے پیڑ پہ پنکھ سمیٹے سپنوں میں
ہلچل سی یہ کیا ہے اِتنی دیر گئے
کن آنکھوں کی نم میں، گُھلنے آیا ہے
بادل کیوں برسا ہے اِتنی دیر گئے
سو گئے سارے بچّے بھی اور جگنو بھی
پھر کیوں شور بپا ہے اِتنی دیر گئے
کس کو بے کل دیکھ کے ماجدؔ چندا نے
آنگن میں جھانکا ہے اِتنی دیر گئے
ماجد صدیقی

آپ سے ہو گیا بھی اگر سامنا ہم نہ کچھ کہہ سکے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
دل میں اندوہ جتنا تھا دل میں رہا ہم نہ کچھ کہہ سکے
آپ سے ہو گیا بھی اگر سامنا ہم نہ کچھ کہہ سکے
منعکس ہو سکی ہم سے بس اِس قدر اپنی رودادِ دل
ایک قطرہ سا پلکوں سے ڈھلکا کیا ہم نہ کچھ کہہ سکے
دل کے اندر تھا جو کچھ وہ چہرے پہ مرقوم ہوتا رہا
حشر سا اک پسِچشم ولب تھا بپا ہم نہ کچھ کہہ سکے
نارسائی کی کثرت نے ہم کو دلائے حجاب اس قدر
چھیڑتی رہ گئی آنچلوں کی ہوا ہم نہ کچھ کہہ سکے
عذر کیا کیا زباں پر نہ لائے، دئیے کوسنے کیا سے کیا
آپ ہی نے ہمیں جو کہا سو کہا ،ہم نہ کچھ کہہ سکے
ماجد صدیقی

ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
آپ ہی نے رازِدل پوچھا نہیں
ہم نہ بتلا تے، نہیں، ایسا نہیں
آپ سے ملنے کا ایسا تھا نشہ
رنگ تھا جیسے کوئی ،اُترا نہیں
سنگ دل تھے اہلِ دنیا بھی بہت
آپ نے بھی ،پیا ر سے دیکھا نہیں
دمبدم تھیں اِک ہمِیں پر یورشیں
تختۂ غیراں کبھی الٹا نہیں
توڑنا، پھر جوڑنا، پھر توڑنا
ہم کھلونوں پر کرم کیا کیا نہیں
ماجد صدیقی

اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 124
مُو بہ مُو تھی جو ظلمت ضیا ہو گئی
اپنی صورت بھی ہے کیا سے کیا ہو گئی
لے کے نکلے غرض تو ہمارے لئے
خلق ساری ہی جیسے خدا ہو گئی
دیکھ ٹانگہ کچہری سے خالی مُڑا
ہے سجنوا کو شاید سزا ہو گئی
اَب نمِ برگ بھی ساتھ لاتی نہیں
اتنی قلّاش کیونکر ہوا ہو گئی
جس پہ تھا مرغ، صّیاد کے وار سے
شاخ تک وُہ شجر سے جدا ہو گئی
عدل ہاتھوں میں آیا تو اپنے لئے
جو بھی شے ناروا تھی روا ہو گئی
ہم نے کیونکر ریا کو ریا کہہ دیا
ہم سے ماجدؔ! یہ کیسی خطا ہو گئی
ماجد صدیقی

پھر بھی خاموش میرا خُدا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 90
سر کہیں اور جھُکنے لگا ہے
پھر بھی خاموش میرا خُدا ہے
گرد ہے نامرادی کی پیہم
اورِادھر میرا دستِ دعا ہے
ہاتھ میں برگ ہے پھر ہوا کے
پھر ورق اک الٹنے لگا ہے
محو ہیں ابر پھر قہقہوں میں
پھر نشیمن کوئی جل اٹھا ہے
معتبر ہی جو ٹھہرے تو مجھ پر
جو ستم بھی کرو تم، روا ہے
خود کلامی سی ہے ایک، ورنہ
شاعری میں دھرا اور کیا ہے
میرے حصے کا من و سلویٰ
جانے ماجدؔ کہاں رُک گیا ہے
ماجد صدیقی

جو کیا ہے صاحبو! اچّھا کیا اچّھا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 88
سامنے غیروں کے اپنے یار کو رُسوا کیا
جو کیا ہے صاحبو! اچّھا کیا اچّھا کیا
رفعتوں کی سمت تھیں اونچی اڑانیں آپ کی
اور میں بے چارگی سے آپ کو دیکھا کیا
آسماں ٹوٹا نہ گر، پھٹ جائے گی خود ہی زمیں
آنگنوں کے حبس نے یہ راز ہے افشا کیا
کل تلک کھُل جائے گا یہ بھید سارے شہر پر
ڈھانپنے کو عیب اپنے تم نے بھی کیا کیا کیا
گو سرِ ساحل تھا لیکن سیل ہی ایسا تھا کچھ
گال اپنے دیر تک ماجدؔ بھی سہلایا کیا
ماجد صدیقی

اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 49
جس کو باوصفِ ستم اپنا کہا
اُس نے بھی اب کے ہمیں رُسوا کہا
دَمبدم ہوں ضو فشاں اُس روز سے
جب سے ماں نے مجھ کو چاند ایسا کہا
عاق ہو کر رہ گئے پل میں سبھی
پیڑ نے پتّوں سے جانے کیا کہا
برق خود آ کر اُسے نہلا گئی
جس شجر کو ہم نے تھا میلا کہا
قولِ غالب ہے کہ اُس سے قبل بھی
ایک شاعر نے سخن اچّھا کہا
اک ہماری ہی زباں تھی زشت خُو
اُس نے تو ماجدؔ نہ کچھ بے جا کہا
ماجد صدیقی

مگر وُہ بھید مجھ پر کھُل چکا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
بدن اُس شوخ کا اِک بھید سا ہے
مگر وُہ بھید مجھ پر کھُل چکا ہے
ہوا میں اَب کے وُہ بّرش ہے جیسے
کوئی آرا سرِ جاں چل رہا ہے
یہ کس کے قرب کا لمحہ گل آسا
سر شاخِ نظر کھلنے لگا ہے
سماعت پر وُہ حرفِ تند اُس کا
کہ جیسے سنگ شیشے پر گرا ہے
یہ سورج کون سے سفّاک دن کا
مرے صحنِ نظر میں آ ڈھلا ہے
پرندہ ہانپتے اُترا تھا جس پر
وُہ دانہ چونچ ہی میں رہ گیا ہے
نہیں گر زہرِ خاموشی تو ماجدؔ!
لبوں پر پھر یہ نیلاہٹ سی کیا ہے
ماجد صدیقی

جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 28
بنے نہ بات تو بندوں کو بھی خُدا کہنا
جو ناروا ہے تم اُس کو بھی اَب روا کہنا
نہیں ہے کچھ بھی کسی پر گر آسماں ٹوٹے
جو اپنی جان پہ گزرے اُسے سَوا کہنا
کوئی طبیب ہو رکھتا ہے وہ عزیز ہمیں
کہ آ گیا ہے ہمیں درد کو دوا کہنا
نہیں نصیب میں جب حرف کے پذیرائی
تو دل میں کرب ہے جو بھی کسی سے کیا کہنا
کسی کا درد ہو آئے نظر وُہ سوتیلا
ہے آشنا کو بھی مشکل اب آشنا کہنا
ہے حرفِ حق کا تقاضا کہ دل میں ہو تو اُسے
کھلِے گلاب کی مانند برملا کہنا
تمیز، فہم سے اَب یہ اُٹھا ہی دو ماجدؔ!
کہ جو بُرا ہے اُسے بھی نہیں بُرا کہنا
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 0
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

رُوح میں تُجھ کو سمایا دیکھوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
تن بدن لُطف سے نِکھرا دیکھوں
رُوح میں تُجھ کو سمایا دیکھوں
اشک در اشک ہوں عنواں تیرے
آئنوں میں تجھے اُترا دیکھوں
فیصلہ یہ بھی سُنا دے مجھ کو
مَیں ٹھہر جاؤں کہ رستہ دیکھوں
دیکھ کر چاند اُفق پر اُبھرا
تُجھ کو دیکھوں ترا ماتھا دیکھوں
ہاتھ پر لمس کی تحریر تری
ان لبوں سے تُجھے چکھا دیکھوں
کیسا موسم ہے یہ دِل پر ماجدؔ
تہ بہ تہ رنگ یہ کیا کیا دیکھوں
ماجد صدیقی

ننّھی ننّھی خواہشیں خلقت کی، جو اغوا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 53
وہ کمانڈو بھی تو ہوں ایسوں کو جو سِیدھا کریں
ننّھی ننّھی خواہشیں خلقت کی، جو اغوا کریں
ہر نگارِ شام اُن کے واسطے ہو مہ بکف
ہم ہلالِ عید بعد از سال ہی دیکھا کریں
اُن کے جتنے تیر ہیں موزوں ہوں وہ اہداف پر
اور ہمیں تلقین یہ ،ایسا کریں ویسا کریں ،
خود ہی جب اقبال سا لکھنا پڑے اس کا جواب
اے خدا تجھ سے بھی ہم شکوہ کریں تو کیا کریں
وہ ادا کرتے ہیں جانے موسموں کو کیا خراج
بدلیاں جن کے سروں پر بڑھ کے خود سایا کریں
۲۲ فروری ۹۴ کو اسلام آباد میں افغانی اغوا کنندوں کے چنگل سے پاکستانی کمانڈوز نے سکول کے ننھے منے سٹوڈنٹس کو آزاد کرایا ۔ یہ غزل اُسی واقعہ سے متاثر ہو کر لکھی گئی
ماجد صدیقی

سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
ماتھے کی سلوٹوں سے ہے اتنا گلا مجھے
سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے
چھابہ بغل میں اور ہے خوانچہ، کنارِ دوش
عمرِ اخیر! اور یہ کیا دے دیا مجھے
اے خاک! آرزو میں نگلنے کی تن مرا
کیسا یہ بارِ خارکشی دے دیا مجھے
ایسا ہی تیرا سبزۂ نورس پہ ہے کرم
کیا بوجھ پتھروں سا دیا اے خدا ! مجھے
کج ہو چلی زبان بھی مجھ کُوز پشت کی
کیا کیا ابھی نہیں ہے لگانی صدا مجھے
اک اک مکاں اٹھا ہے مرے سر کے راستے
کیسا یہ کارِ سخت دیا مزد کا، مجھے
بچپن میں تھا جو ہمدمِ خلوت، ملا کِیا
مکڑا قدم قدم پہ وُہی گھورتا مجھے
میں تھک گیا ہوں شامِ مسافت ہوا سے پوچھ
منزل کا آ کے دے گی بھلا کب پتا مجھے
محتاج ابر و باد ہوں پودا ہوں دشت کا
لگتی نہیں کسی بھی رہٹ کی دعا مجھے
لاتی ہے فکرِ روزیِ یک روز، ہر سحر
آہن یہ کس طرح کا پڑا کوٹنا مجھے
بارِ گراں حیات کا قسطوں میں بٹ کے بھی
ہر روز ہر قدم پہ جھُکاتا رہا مجھے
اتنا سا تھا قصور کہ بے خانماں تھا میں
کسبِ معاش میں بھی ملی ہے خلا مجھے
حکمِ شکم ہے شہر میں پھیری لگے ضرور
سُوجھے نہ چاہے آنکھ سے کچھ راستا مجھے
میں بار کش ہوں مجھ پہ عیاں ہے مرا مقام
اِحساسِ افتخار دلاتا ہے کیا مجھے
میری بھی ایک فصل ہے اُٹھ کر جو شب بہ شب
دیتی ہے صبح گاہ نیا حوصلہ مجھے
کہتا ہے ہجرتوں پہ گئے شخص کو مکاں
آ اے حریصِ رزق ! کبھی مل ذرا مجھے
ماجد صدیقی

پئے رقص، لطفِ ہوا چاہتا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
گِرا ہوں شجر سے اُڑا چاہتا ہوں
پئے رقص، لطفِ ہوا چاہتا ہوں
وہی جو منگیتر سا ہے مجھ سے، مخفی
وہ منظر، نظر پر کھُلا چاہتا ہوں
سبھی ناؤ والے ہیں، اِک میں نہیں ہوں
کہ تنکے کا جو، آسرا چاہتا ہوں
گریزاں ہوں ابنائے قابیل سے میں
کہ شانوں پہ یہ سر، سجا چاہتا ہوں
وہی شہ رگوں میں جو پنہاں ہے، اُس کا
سرِ طُور کیوں سامنا چاہتا ہوں
گوارا ہو بے ناپ خلعت مجھے کیوں
جو زیبا مجھے ہو قبا چاہتا ہوں
نہیں چاہتا تاج میں پاپیادہ
میں توقیر، حسبِ انا چاہتا ہوں
لگے جیسے پہرے ہوں ہر اور میری
کہوں کس سے ماجدؔ، میں کیا چاہتا ہوں
ق
ماجد صدیقی

دل کیوں بیکل سا ہے اتنی دیر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
کس نے یاد کیا ہے اتنی دیر گئے
دل کیوں بیکل سا ہے اتنی دیر گئے
کس نے کس کی پھر دیوار پھلانگی ہے
کس کا چین لٹا ہے اِتنی دیر گئے
کس کی آنکھ سے آس کا تارا ٹوٹا ہے
کس پر کون کھُلا ہے اِتنی دیر گئے
دل کے پیڑ پہ پنکھ سمیٹے سپنوں میں
ہلچل سی یہ کیا ہے اِتنی دیر گئے
کن آنکھوں کی نم میں گھلنے آیا ہے
بادل کیوں برسا ہے اِتنی دیر گئے
سو گئے سارے بچّے بھی اور جگنو بھی
پھر کیوں شور بپا ہے اِتنی دیر گئے
دیکھ کے ماجدؔ چندا نے بیدار کسے
آنگن میں جھانکا ہے اِتنی دیر گئے
ماجد صدیقی

آگے انت اُس کا دیکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 26
شاخ پہ پھول کھِلا دیکھا ہے
آگے انت اُس کا دیکھا ہے
زور رہا جب تک سینے میں
تھا نہ روا جو، روا دیکھا ہے
فریادی ہی رہا وہ ہمیشہ
جو بھی ہاتھ اُٹھا دیکھا ہے
ہم نے کہ شاکی، خلق سے تھے جو
اب کے سلوکِ خدا دیکھا ہے
سنگدلوں نے کمزوروں سے
جو بھی کہا ، وُہ کِیا ، دیکھا ہے
جس سے کہو، کہتا ہے وُہی یہ
کر کے بَھلا بھی ، بُرا دیکھا ہے
اور نجانے کیا کیا دیکھے
ماجد نے ، کیا کیا دیکھا ہے
ماجد صدیقی

اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا
اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا
ہُوا یہ سایۂ ابلق بھی اَب جو نذرِ خزاں
تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا
سموم عام کروں گا اِسی کے ذرّوں سے
فضائے دہر کو اَب پیرہن نیا دوں گا
وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے
یہ فیصلہ بھی کسی روز اَب سُنا دوں گا
سزا سُناؤ تو اِس جُرم زیست کی مُجھ کو
صلیبِ درد کی بُنیاد تک ہلا دوں گا
ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور
میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا
جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجدؔ
شبِ سیاہ کو بھی رُوپ چاند سا دوں گا
ماجد صدیقی

اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں
اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں
تجھ کو جو بہ غور دیکھتا ہوں
مَیں خود ہی پہ رشک کر رہا ہوں
منسوب ہے مجھ سے یہ ستم بھی
انجان دلوں سے کھیلتا ہوں
آؤ کہ یہ رُت نہ پھر ملے گی
مَیں آپ کی راہ دیکھتا ہوں
حالات سے مانگ کر خدائی
حالات سے کھیلنے لگا ہوں
شرماؤ گے دیکھ کر مجھے تُم
مَیں بھی تو تمہارا آئنہ ہوں
آگے کا سلوک جانے کیا ہو
غنچہ سا چمن میں کھِل چلا ہوں
قسمت میں شرر لکھے ہیں ماجدؔ
انگارہ صفت دہک رہا ہوں
ماجد صدیقی

اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
کاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں سا
اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا
پاگلوں کی طرح وہ تجھے چاہنا
تھا مری سوچ کا وہ بھی اِک زاویہ
مُرغ تھا زد پہ تِیرِ قضا کی مگر
آشیاں تھا کھُلے بازوؤں دیکھتا
ساغرِ مئے پیے، ساتھ خوشبو لیے
در بدر ٹھوکریں کھا رہی تھی ہوا
وہ تو وہ اُس کے ہونے کا احساس بھی
تھا مہک ہی مہک، رنگ ہی رنگ تھا
چاند نکلا ہے ڈوبے گا کچھ دیر میں
چاہیئے بھی ہمیں اِس سمے اور کیا
کیسے بخشے گا آئینِ گلشن ہمیں
ہم نے مَسلا اِسے، دل کہ اِک پھُول تھا
عمر بھر ہم بھی خوشیوں کے منکر رہے
شکر ہے یہ بھی اِک مرحلہ طے ہوا
کیوں ہمیں چھُو کے ماجدؔ گزرنے لگی
آگ میں کیوں جھُلسنے لگی ہے صبا
ماجد صدیقی

کیا جُرم نجانے دِلِ وحشی نے کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے
کیا جُرم نجانے دِلِ وحشی نے کیا ہے
جو آنکھ جھکی ہے ترے سجدے میں گرے ہے
جو ہاتھ تری سمت اُٹھا، دستِ دُعا ہے
اُس درد کا ہمسر ہے ترا پیار نہ تُو ہے
تجھ سے کہیں پہلے جو مرا دوست ہوا ہے
آتا ہے نظر اور ہی اَب رنگِ گلستاں
خوشبُو ہے گریزاں تو خفا موجِ صبا ہے
دل ہے سو ہے وابستۂ سنگِ درِ دوراں
اور اِس کا دھڑکنا ترے قدموں کی صدا ہے
ماجدؔ ہے کرم برق کا پھر باغ پہ جیسے
پھر پیڑ کے گوشوں سے دھواں اُٹھنے لگا ہے
ماجد صدیقی

کیاکیا سلوک ہم سے چمن کی ہوا کرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
جھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے
کیاکیا سلوک ہم سے چمن کی ہوا کرے
جاؤں درِ بہار پہ کاسہ بدست میں
ایسا تو وقت مجھ پہ نہ آئے خدا کرے
ہم کیوں کریں دراز کہیں دستِ آرزو
اپنی بلا سے کوئی مسیحا ہُوا کرے
ہاں ہاں مری نگاہ بھی سورج سے کم نہیں
آنکھوں میں کس کی دم کہ مرا سامنا کرے
ہاں ہاں مجھے ضیائے تخیّل عطا ہوئی
ایسا کوئی ملے بھی تو اِس دل میں جا کرے
ماجدؔ یہ طرزِ حُسنِ بیاں اور یہ رفعتیں
دل اس سے بڑھ کے اور تمّنا بھی کیا کرے
ماجد صدیقی

مَیں پھر بھی تُجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
تو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا
مَیں پھر بھی تُجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا
جل بُجھ کے رہ گیا ہوں بس اپنی ہی آگ میں
کِس زاویے پہ آ کے مقابل ترے ہوا
شب بھر ترے جمال سے چُنتا رہا وہ پھُول
پھُوٹی سحر تو میں بھی سحر کی مثال تھا
مَیں ہی تو تھا کہ جس نے دکھایا جہان کو
تیشے سے اِک پہاڑ کا سینہ چِھدا ہوا
بدلا ہے گلستاں نے نیا پیرہن اگر
گُدڑی پہ ہم نے بھی نیا ٹانکا لگا لیا
مَیں تھا اور اُس کا وقتِ سفر تھا اور ایک دھند
ہاں اُس کے بعد پھر کبھی دیکھا نہ زلزلہ
بعدِ خزاں ہے جب سے تہی دست ہو گئی
سہلا رہی ہے شاخِ برہنہ کو پھر ہوا
مَیں تو ہوا تھا تِیر کے لگتے ہی غرقِ آب
تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا
ہر اِک نظر پہ کھول دیا تُو نے اپنا آپ
دل کا جو بھید تھا اُسے ماتھے پہ لکھ لیا
واضح ہیں ہر کسی پہ ترے جسم کے خطوط
تُو تو چھپی سی چیز تھی تُو نے یہ کیا کیا
اِک بات یہ بھی مان کہ ماجدؔ غم و الم
پیروں کی خاک میں نہ اِنہیں سر پہ تو اُٹھا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑