تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کہے

کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 37
گئے دنوں کے نئے ولولے تلاش کروں
کھنچے ہوؤں سے مراسم نئے تلاش کروں
جو حرفِ حق ہے اُسے، دلنشیں بنانے کو
کچھ اور سابقے اور لاحقے تلاش کروں
میں ربط دیکھ کے سورج مکھی سے سورج کا
برائے چشم نئے رتجگے تلاش کروں
وہ جن میں جھانک کے سنبھلیں مرے نواح کے لوگ
میں اُس طرح کے کہاں آئنے تلاش کروں
جو آنچ ہی سے مبّدل بہ آب ہوتے ہیں
میں گرم ریت میں وہ آبلے تلاش کروں
بھگو کے گال، سجا کر پلک پلک آنسو
’ اُداس دل کے لئے مشغلے تلاش کروں‘
بیاضِ درد کی تزئین کے لئے ماجدؔ
وہ حرف رہ گئے جو، اَن کہے تلاش کروں
ماجد صدیقی

دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 103
عرش قدموں میں ہو، لگے ایسا
دن مجھے بھی کوئی تو دے ایسا
مجھ سے بھی ہیں قرابتیں اُس کی
کاش وہ شخص بھی کہے ایسا
جس سے میرا بدن دو نِیم ہوا
وار دوراں نہ پھر کرے ایسا
دل یہ کہتا ہے خِرمن خواہش
راکھ بن کر اُڑے، جلے ایسا
جس سے واضح ہو وحشتِ انساں
کوئی نکلا نہ ایکسرے ایسا
ہو تاسّف پہ ختم جو ماجدؔ
مول خطرہ کوئی نہ لے ایسا
ماجد صدیقی

پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
گھِر کر بہ سحرِ قُرب بھلا اب کھنچے گا کیا
پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا
خاموش کیوں ہے دے بھی مُجھے اِذنِ سوختن
شُعلہ نظر سے اور بھی کوئی اُٹھے گا کیا
یہ ولولہ مرا کہ ضیا بار تُجھ پہ ہَے
سُورج ہے گر تو میرے اُفق سے ڈھلے گا کیا
خواہش کا چاند آ ہی گیا جب سرِ اُفق
باقی کوئی حجاب بھلا اب رہے گا کیا
یہ لطفِ دید، یہ ترا پیکر الاؤ سا
منظر نگاہ پر کوئی ایسا کھُلے گا کیا
کرتا ہے کیُوں سخن میں عبث نقش کاریاں
ماجدؔ صلہ بھی کوئی تُجھے کچھ ملے گا کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑