تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کھل

شاید اوہنوں روکے، بّتی اگلے چوک دے سگنل دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 14
ایس ائی آس تے نسدا جاواں، دھڑکن سُندا پل پل دی
شاید اوہنوں روکے، بّتی اگلے چوک دے سگنل دی
تھوہراں نُوں کھُل دے کے جنّھے، کومل پھُل زنجیرے نیں
باگ کنارے، واڑاں لاؤن دی، سوچ سی ایہہ کِس پاگل دی
کِیہ کہوئیے، کد وڈیاں اپنے، قولاں دی لج رکھنی ایں
نکیاں ہوندیاں توں پئے تکئیے‘ حالت ایہو، اج کل دی
شام دے ویہڑے اودھر، جھوٹ تسلیاں آؤندی فجر دیاں
ایدھر، مارُو پِیڑ کسے وی، دارُو توں پئی نئیں کَھل دی
چار چفیرے کِھلرے تھل نے، ہور اَسن کِیہہ دینا ایں
سِر تے آ کے رُک گئی جیہڑی اوہ دُھپ تے ہُن نئیں ڈھل دی
گلی گلی وچ جتھے، میریاں لختاں، یُوسف بنیاں نیں
ہے بازارِ مصر دا ماجد، یا ایہہ نگری راول دی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ڈھونڈا بہت ہے پر ہمیں وُہ مِل نہیں رہا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 174
اخلاص ہمرہوں کا بھی حاصِل نہیں رہا
ڈھونڈا بہت ہے پر ہمیں وُہ مِل نہیں رہا
سچ بھی تُم اِن پہ لاؤ کبھی تو۔۔۔ بہ رُوئے شاہ
جوڑا لبوں کا کیا جو کبھی سِل نہیں رہا
ہاں ہاں وہی کہ جس میں جھلکتا تھا میں کبھی
کیوں ہونٹ پر تمہارے وہ، اب تِل نہیں رہا
ہاں ہاں یہ ہے مرا ہی بدن، سخت جاں ہے جو
کانٹوں پہ بھی گھسٹتے ہوئے چِھل نہیں رہا
اپنے ہی جانے کیسے بکھیڑوں میں کھو گیا
تُم پر کبھی نثار تھا جو، دِل نہیں رہا
بیشک سُخن ہمارا ہو بادِ صبا مگر
اُس سے بھی اُس کا غُنچۂ دِل، کِھل نہیں رہا
ثابت ہیں اِس میں اب تو برابر کے نُور و نار
ماجد یہ جسم اپنا فقط گِل نہیں رہا
ماجد صدیقی

ہونٹ اچھے لگے ہمیں سِل کے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
بھید کھولیں گے اب نہ یہ دل کے
ہونٹ اچھے لگے ہمیں سِل کے
مجھ سے مِلنا ترا دکھایا ہے
آسماں نے زمین سے مِل کے
بِس کی پُڑیاں تھیں گھُورتی آنکھیں
مُنہ نمونے تھے سانپ کی بِل کے
شرط ہی جب بِدی تھی کچھوؤں سے
خواب کیا دیکھنے تھے منزل کے
وہ بھنور کا غرور کیا جانے
سُکھ جسے مِل گئے ہوں ساحل کے
خوش تھے نامِ صباؔ و سِپراؔ پر
جتنے مزدور بھی ملے مِل کے
دیکھ ماجدؔ! دیا کلی نے ابھی
درس جینے کا شاخ پر کھِل کے
صباوسِپرا:ہمارے دو مزدور مگر وقیع ترشاعر
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑