تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کھلائے

حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
گُن سخن میں وُہ رُخِ یار کے لائے ہم نے
حرف در حرف نئے پُھول کِھلائے ہم نے
نزد اِن کے بھی کسی شہ کی سواری اُترے
اِس گماں پر بھی در و بام سجائے ہم نے
جن کی تنویر میں کام آیا ہم ایسوں کا لہو
آنگنوں آنگنوں وُہ دِیپ جلائے ہم نے
ہاں رسا ہونے نہ پائی کوئی فریاد و دُعا
عرش کے پائے بھی کیا کیا نہ ہِلائے ہم نے
جھڑکیوں سے کہیں،افیون سے وعدوں کی کہیں
شاہ کہتے کہ ’’یُوں لوگ سُلائے ہم نے’‘
عقل سے شکل سے جِن جِن کی، نحوست ٹپکے
ایسے بُودم بھی سر آنکھوں پہ بِٹھائے ہم نے
کسی انساں کی دولتّی سے لگیں جو ماجِد
جانتے بُوجھتے وُہ زخم بھی کھائے ہم نے
ماجد صدیقی

بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
ناز لبوں پر اُس کے لائے ہم نے بھی
بگھیا میں کچھ پھُول کھلائے ہم نے بھی
یاد دلا کر خاصے دُور کے دن اُس کو
کیا کیا کچُھ قصّے دُہرائے ہم نے بھی
حیف! کہ رکھتا تھا جو بھیس خدائی کا
اُس جوگی کو ہاتھ دکھائے ہم نے بھی
شہر میں، سُن کر، اُس چنچل کے آنے کی
پلکوں پر کچھ دیپ جلائے ہم نے بھی
دل میں، جن کے ہوتے سانجھ سویرا ہو
کچھ ایسے ارمان جگائے ہم نے بھی
اَب جو مِلے تو ماجدؔ اُس کو اوڑھ ہی لیں
کب سے انگ نہیں سہلائے ہم نے بھی
ماجد صدیقی

خاک میں اشک بھلے مِل جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
صدیوں اپنی جوت جگائے
خاک میں اشک بھلے مِل جائے
ساون، کُوڑے کرکٹ میں بھی
اپنے ڈھب کے پھُول کھلائے
دید خُدا کی، چودھویں جس کی
وُہ چندا کب مُکھ دکھلائے
اِک پل پھُول سا کِھلنے والا
چہرہ، دُوجی پل کملائے
پیڑ وُہ تازہ دم کیا ہو گا
اُڑتی گرد جِسے سہلائے
ماجدؔ ہر اُمید کا پیکر
چاند کی صورت گھٹتا جائے
ماجد صدیقی

پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
وہ کہ اُجڑے ہوئے جُوڑوں میں سجائے جائیں
پھول چاہت کے کچھ ایسے بھی کھلائے جائیں
سیل کیا کیا نہ اُٹھائیں یہ کروڑوں آنکھیں
خشکیِ بخت پہ گر اشک بہائے جائیں
خشت سے چوب تلک قرض کی ہر چیز لئے
بیچ کٹیاؤں کے کچھ قصر اٹھائے جائیں
محض تائید ہی ہم نام نہ اِن کے لکھ دیں
احتجاجاً بھی کبھی ہاتھ اُٹھائے جائیں
ماجد صدیقی

حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
خود کو ہم سے وُہ چھپائے کیا کیا
حشر اِس دل میں اُٹھائے کیا کیا
دمبدم اُس کی نظر کا شعلہ
مشعلیں خوں میں جلائے کیا کیا
ہم نے اُس کے نہ اشارے سمجھے
لعل ہاتھوں سے گنوائے کیا کیا
گلُ بہ گلُ اُس کے فسانے لکھ کر
درد موسم نے جگائے کیا کیا
لفظ اُس شوخ کے عشووں جیسے
ہم نے شعروں میں سجائے کیا کیا
حرف در حرف شگوفے ہم نے
اُس کے پیکر کے، کھلائے کیا کیا
لُطف کے سارے مناظر ماجدؔ
جو بھی دیکھے تھے دکھائے کیا کیا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑