تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کھائی

اُس بُتِ طنّاز سے مدّت سے یکجائی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 75
جی رہے ہیں اور اِس جینے پہ شرم آئی نہیں
اُس بُتِ طنّاز سے مدّت سے یکجائی نہیں
رہ گیا لاگے ہمیں بولی سے باہر ہی کہیں
وقت نے قیمت ہمارے فن کی ٹھہرائی نہیں
ہم کو بھی لاحق ہے بغضِ عہد، غالب کی طرح
چاہیے تھی جو ہماری وہ پذیرائی نہیں
عاشقی بھی کی تو ہم نے ہوشمندی ہی سے کی
ہم، ہوا کرتے تھے جو پہلے، وہ سودائی نہیں
دیکھیے یہ کارنامہ بھی شہِ جمہور کا
حق دیا فریاد کا پر اُس کی شنوائی نہیں
بے حسی پر ہم پہ اندر سے جو برسائے ضمیر
چوٹ پہلے تو کبھی ایسی کوئی کھائی نہیں
جو کہا تازہ کہا ماجد بہت تازہ کہا
شاعری میں بات ہم نے کوئی دُہرائی نہیں
ماجد صدیقی

بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 65
لب بہ لب جو ہر کہیں چھائی لگے
بیوگاں سی گُنگ تنہائی لگے
ناتواں کی سمت میزائل کی کاٹ
جابروں کو صَوتِ شہنائی لگے
اسلحہ چھینے نوالے خلق کے
اور روزافزوں یہ مہنگائی لگے
سُو بہ سُو پھیلے ہیں پھندے حرص کے
ہر قدم پر سامنے کھائی لگے
امن کی جانب توجّہ چاہتی
جو صدا بھی ہے وُہ بھرّائی لگے
ہم سخن کی سلطنت کے شاہ ہیں
ہاں ہمیں زیبا یہ دارائی لگے
گُم شدہ محمل جو ڈھونڈے دشت میں
اپنا ماجِد بھی وُہ سَودائی لگے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑