تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کو

نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 29
توں جو کجھ کرنی سی، نال اساڈے گئی اے ہو
نہ ہُن نِیویں پا، تے نہ ہُن، اکھیاں پیا لکو
نمبو اِک تے لُسکن آلا، بھُسیاں دا اِک شہر
درد ونڈان آلے توں ایتھے، راضی رہوے نہ کو
جِندے نی، ونگاں دے ساز تے، دُکھ دی رات دَھما
وچ بھنڈار دے بیٹھی ایں تے، لمّی پونی چھو
ایس پتھراں دے شہر چ، تیرے گوشے، سُنسی کون
سر تے رکھ کے بانہہ نوں بیبا، اُچّی رو
زہر وی اِنہیں ہوٹھیں چکھنا، اِنج ائی امرت وی
موتوں پہلے کاہنوں مرنا، جو ہونی سو ہو
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ساتھ بیگانگی کی خو جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 121
تو کہ زر ہے جدھر بھی تو جائے
ساتھ بیگانگی کی خو جائے
دل کے پہلو سے یوں شباب گیا
دھن لٹے جیسے آبرو جائے
ایسی پھیلے خبر قرابت کی
گل رخوں سے، کہ چار سُو جائے
دل میں بچوں کی خیر کا سندیس
باغ میں جیسے آبجو جائے
سو بہ سو ساتھ اپنی خوشبو کے
پھول مہکے تو کو بہ کو جائے
ایسے لاگی ہمیں خطا اپنی
آگ جیسے بدن کو چھو جائے
یار ماجد تیاگ نفرت کو
برق کیونکر یہ مو بہ مو جائے
ماجد صدیقی

جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 102
عزت وہ دیں مجُھے کہ مرا دل لہو کریں
جو کچھ بھی طے کریں وہ مرے رُوبرو کریں
پل میں نظر سے جو مہِ نخشب سا کھو گیا
کس آس میں ہم اُس کی بھلا جستجو کریں
سُوجھے نہ راہِ ترکِ محبت ہی اک اُنہیں
کچھ اور بھی علاج مرے چارہ جُو کریں
پہنچیں نہ ایڑیاں بھی اُٹھا کر جو مجھ تلک
رُسوا وہ لوگ کیوں نہ مجھے کُو بہ کُو کریں
پیروں تلے ہیں اُس کے سبھی کے سروں کے بال
اب منصفی کو کس کے اُسے رُوبروکریں
اُس کے ستم کا خوف ہی اُس کا ہے احترام
چرچا جبھی تو اُس کا سبھی چار سُو کریں
وہ عجز کیا کہ جس پہ گماں ہو غرور کا
ماجدؔ ہم اختیار نہ ایسی بھی خُو کریں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑