تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کنارے

پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
رنجش میں پسِ چشم اشارے، مری توبہ
پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ
کس درجہ سبکسار کیا، جذبِ جنوں کو
محفل سے وُہ رخصت کیا اِشارے، مری توبہ
اظہارِ تمّنا ہی کیا تھا مگر اُس پر
انداز عتابی وہ تمہارے، مری توبہ
سُرخی سی لب و چشم میں وہ طیش و حیا کی
بپھرے ہوئے دریا کے کنارے، مری توبہ
اک شور سا رَگ رَگ میں، تمازت دل و جاں میں
آثار قیامت کے وُہ سارے، مری توبہ
جو پیکرِ اُمید تھا دل میں وُہی شق تھا
تھیں شوخ نگاہیں کہ وُہ آرے، مری توبہ
ماجدؔ سرِ اغیار جو گزری وُہی لکھے
کیا رُوپ قلم نے ترے دھارے، مری توبہ
ماجد صدیقی

مل بیٹھے ہیں جھیل کنارے چندا، رات اور مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
اپنی اپنی دھن میں نکلے چندا، رات اور مَیں
مل بیٹھے ہیں جھیل کنارے چندا، رات اور مَیں
اپنے ہاتھوں سورج کھو کر، سو گئے کیونکر لوگ
اتنی ساری بات نہ سمجھے چندا، رات اور مَیں
ایک ذرا سی پَو پھٹنے پر، باہم غیر ہوئے
ہم آپس کے دیکھے بھالے چندا، رات اور مَیں
اک دوجے سے پُختہ کرنے، کچھ لمحوں کا ساتھ
زینہ زینہ خاک پہ اُترے چندا، رات اور مَیں
تاب نظر کی، آنکھ کا کاجل اور سخن کا نُور
ماجدؔ چہروں چہروں لائے چندا، رات اور مَیں
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑