تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کم

سرِدشت آہو کا رم دیکھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 195
نشیلا، ترا ہر قدم دیکھتے ہیں
سرِدشت آہو کا رم دیکھتے ہیں
سرِ سرو بھی تیری قامت کے آگے
لگے جیسے اندر سے خم دیکھتے ہیں
مناظر جہاں ہوں دل آزاریوں کے
شہِ وقت اُس سمت کم دیکھتے ہیں
ہماری کسی بات سے تو نہیں ہے؟
یہ کیوں؟تیرے پلّو کونم دیکھتے ہیں
دُھواں دُھول اور شور ہیں عام اِتنے
کہ سانسوں تلک میں بھی سم دیکھتے ہیں
تری آنکھ پر راز افشانیاں ہیں
ترے پاس بھی جامِ جم دیکھتے ہیں
مسلسل ہے ماجد یہ کیوں ژالہ باری
کہ ہر سو ستم پر ستم دیکھتے ہیں
ماجد صدیقی

ہو جو پیری میں دم تو کیا کہنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 133
لے میں ہو زیر و بم تو کیا کہنے
ہو جو پیری میں دم تو کیا کہنے
دم آخر تلک خیالوں میں
ہو غزالوں سا رم تو کیا کہنے
ہائے یہ سرو قامتی اپنی
ہو نہ پائے جو خم تو کیا کہنے
شوخ لفظی، عمیق فکری میں
دے دکھائی صنم تو کیا کہنے
التفات شہان و فرعوناں
بیش ہو اور نہ کم تو کیا کہنے
ہو کہیں، باہمی تعلق میں
رہ سکے جو بھرم تو کیا کہنے
میر و غالب کے درمیاں ماجد
ہو جو مسند بہم تو کیا کہنے
ماجد صدیقی

’جیون رس، کم دیکھ رہے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 94
ہونٹ ہونٹ سَم دیکھ رہے ہیں
’جیون رس، کم دیکھ رہے ہیں
ارضِ وطن پر بیتنے والا
کیا کیا موسم دیکھ رہے ہیں
خواب تلک میں جو نہ تھے، اب ہر سُو
پھٹتے وہ بم دیکھ رہے ہیں
چیں ہے جبینوں پرہر جانب
ابروؤں میں خم دیکھ رہے ہیں
ہم، سازش جس سمت ہے برپا
اُس جانب کم دیکھ رہے ہیں
صحراؤں میں پنپنے والے
پلک پلک نم دیکھ رہے ہیں
ماجِد بس اِک تیرے سخن میں
ہرنوں سا رم دیکھ رہے ہیں
ماجد صدیقی

شہرِ سخن میں لوگ ہمیں کم کم مانیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
اُن میں سے اِک ایک کو بے شک ہم مانیں
شہرِ سخن میں لوگ ہمیں کم کم مانیں
قامتِ یار کہیں ہرغم کے الاؤ کو
جیون کی ہر ٹیڑھ کو زلف کا خم مانیں
آئنہ سا جو چہرہ ہر دم پاس رہے
ہم تو بس اُس کو ہی جامِ جم مانیں
کیا کیا آس نجانے اُس سے لگا بیٹھیں
ہم جس کو ہم جنس کہیں، آدم مانیں
بچپن میں بھی دھوپ ہمیں ہی جلاتی تھی
پِیری میں بھی دھونس اُسی کی ہم مانیں
روتا دیکھ کے غیر ہمیں خوش کیونکر ہوں
اپنی آنکھیں ہم کیوں ماجد نم، مانیں
ماجد صدیقی

کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
جب تک گرد گُلوں پر ہے اِن آنکھوں کو نم ہونا ہے
کون کہے یہ رنج نظر کا کب جا کر کم ہونا ہے
رفتہ رفتہ اندر سے دیمک سا اُنہیں جو چاٹ سکے
ایمانوں میں زہر ریا کا اور ابھی ضم ہونا ہے
جانے کب تک ٹوہ لگانے اِک اِک جابر موسم کی
دل کو ساغر میں ڈھلنا ہے اور ہمیں جم ہونا ہے
ایک خُدا سے ہٹ کر بھی کچھ قادر راہ میں پڑتے ہیں
جن کی اُونچی دہلیزوں پر اِس سر کو خم ہونا ہے
آگے کی یہ بات کہاں بتلائے لُغت اُمیدوں کی
کان میں پڑنے والے کن کن لفظوں کو سم ہونا ہے
اور طرح سے بدلے دیکھے اَبکے گھاٹ مچانوں میں
تیروں پر تحریر جہاں ہر آہو کا رَم ہونا ہے
دل کو جو بھی آس لگی وُہ خوابِ جِناں بن جائے گی
دریاؤں کو جیسے ماجدؔ بحر میں مدغم ہونا ہے
ماجد صدیقی

کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
جیون رُت کی سختی بے موسم لگتی ہے
کام بہت سارے ہیں، فرصت کم لگتی ہے
صبحِ سفر یادوں میں اُترتی ہے یوں جیسے
رفتہ رفتہ رات کی چادر نم لگتی ہے
سوچیں خلق کے حق میں اچّھا سوچنے والے
خلق اُنہی سے آخر کیوں برہم لگتی ہے
ان سے توقّع داد کی ہم کیا رکھیں جن کے
بات لبوں کے بیچ سے پھوٹی سم لگتی ہے
بات فقط اک لمبی دیر گزرنے کی ہے
جگہ جگہ پر کیا کیا کھوپڑی، خم لگتی ہے
بَیری رات کے آخر میں جو جا کے بہم ہو
آنکھ کنارے اٹکی وہ شبنم لگتی ہے
کچھ تو اندھیرا بھی خاصا گمبھیر ہوا ہے
کچھ ماجدؔ لَو دیپ کی بھی مدّھم لگتی ہے
ماجد صدیقی

کبھی وُہ رُخ بھی سپردِ قلم کیا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 141
ورق پہ دشتِ طلب کے رقم کیا جائے
کبھی وُہ رُخ بھی سپردِ قلم کیا جائے
فلک سے فصل نے ژالوں کی کب دعا کی ہے
کسی نے کب یہ کہا ہے، ستم کیا جائے
اساس جس کی مسّرت میں التوا ٹھہرے
نہ ہم پہ اور اب ایسا کرم کیا جائے
ستم کشی کہ جو عادت ہی بن گئی اپنی
اِسے نہ رُو بہ اضافہ، نہ کم کیا جائے
ہر ایک سر کا تقاضاہے یہ کہ تن پہ اگر
لگے تو اُس کو بہرحال خم کیا جائے
بہم نہیں ہیں جو موسم کی خنکیاں ماجدؔ
تو کیوں نہ آنکھ کا آنگن ہی نم کیا جائے
ماجد صدیقی

زیست کا اِک اور دن کم ہو گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 130
مہرِ رخشاں رات میں ضم ہو گیا
زیست کا اِک اور دن کم ہو گیا
لکھ رہا تھا جانے کیا کاغذ پہ میں
آنکھ بھر آنے سے جو نم ہو گیا
دل نجانے ہم سخن کس سے ہوا
حرف کا امرت بھی ہے سم ہو گیا
ڈوبتے ہی اِک ذرا اُس ماہ کے
دیکھیے کیا دل کا عالم ہو گیا
کم نہیں یہ مُعجزہ اِس دَور کا
ذرّہ ذرّہ ساغرِ جم ہو گیا
بچ کے ماجدؔ جس سے نکلے تھے کبھی
سر اُسی دہلیز پر خم ہو گیا
ماجد صدیقی

رکھنے لگے اغیار میں اپنا بھرم اچّھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 87
سمجھیں وُہ ہمارے لیے ابرو میں خم اچّھا
رکھنے لگے اغیار میں اپنا بھرم اچّھا
کہتے ہیں وہ آلام کو خاطر میں نہ لاؤ
ٹھہرے گا تمہارے لیے اگلا جنم اچّھا
وجداں نے کہی بات یہ کیا حق میں ہمارے
چہرہ یہ مرا اور لباس اُس کا نم اچّھا
جو شاخ بھی کٹتی ہے کٹے نام نمو پر
دیکھو تو چمن پر ہے یہ کیسا کرم اچّھا
کس درجہ بھروسہ ہے اُنہیں ذات پہ اپنی
وہ لوگ کہ یزداں سے جنہیں ہے صنم اچّھا
یہ لفظ تھے کل ایک جنونی کی زباں پر
بسنے سے ہے اِس شہر کا ہونا بھسم اچّھا
غیروں سے ملے گا تو کھلے گا کبھی تجھ پر
ماجدؔ بھی ترے حق میں نہ تھا ایسا کم اچّھا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑