تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کمان

میرے مگروں، ٹرُیاں ریلاں، کیِہ کِیہ قہر کمان پیّاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 33
ٹیشن ٹیشن، میری مَٹھڑی گّڈی نُوں، رُکوان پیّاں
میرے مگروں، ٹرُیاں ریلاں، کیِہ کِیہ قہر کمان پیّاں
مَیں جیوندے نُوں، نال نجانے کیہڑیاں نظراں، ویکھن ایہہ
گِرجھاں لُدھیان، میرے ائی گھر تے، مُڑ مُڑ تاریاں لان پیّاں
جو موسم آوے، ایہناں دے، اگلے نقش مٹاؤندا اے
میریاں بانہواں، اپنے اُتّے سجرے ناں، اُکران پیّاں
ایہناں اُپّر، چھاپ اے خورے، کیہڑیاں اُتّم عقلاں دی
میریاں سوچاں، مینوں ائی نت، وچ بھُسوڑیاں پان پیّاں
چیت سمے تُوں ہاڑ سمے تک، بِن پھَل چُکیاں، جیواں میں
مُکھ رُکھ تے آساں دیاں کلیاں، کھِڑ کھِڑ کے مُرجھاں پیّاں
ہریاں بھریاں رُتاں دے لئی، وانگ بَرانی کھیتاں دے
کِیہ آکھاں، ایہہ میریاں اکھیاں، کچراں تُوں سدھران پیّاں
ہُن تے ماجدُ چُپ دی میز تے، رکھیاں کانیاں سوچ دیاں
مرزے خان دے،ٹُٹیاں تِیراں وانگ ائی مَین شرمان پیّاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

آون والیاں گھڑیاں، خورے کی کی قہر، کمان گیاں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 22
پچھلے طوق خطاواں والے، گل گل دے وچ، پان گیاں
آون والیاں گھڑیاں، خورے کی کی قہر، کمان گیاں
دل دیاں ورقیاں چوں نکلن گے، پنکھ خیالی موراں دے
یاداں مُڑ مُڑ، بُھلیاں وِسریاں، گلاں نُوں دُہران گیاں
سِہتیاں، جیہڑیاں خبراں سُنگھن، آپ مراد بلوچ دیاں
آئیاں وی سمجھان تے ہیراں نُوں اوہ کی سمجھان گیاں
اِلاّں دے پنجیاں وِچ جکڑے، چُوچے کِنھوں دِسّن گے
چھتاں اُپروں تَیردیاں، کجھ چیکاں ائی سُنیاں جان گیاں
پچھلے سمے تے، فرکُجھ ٹیک سی، دل نُوں بُجھدیاں آساں دی
پر ایتک تے، سِر توں لنگھدیاں کُونجاں، لہو کھولان گیاں
ٹھنڈکاں لے کے، کدے نہ آئے، گُجھے بول شریکاں دے
تتیاں واواں، جد وی گُھلیاں، ہور وی سینے تان گیاں
ویہڑے دے وچ کھنڈسی کّدوں، چانن رات مراداں دی
اکھیاں‘ چڑھدے چن نُوں خورے کچراں تک، سدھران گیاں
پھُل کھڑے تے، وچھڑے مُکھڑے، اکھیں تاریاں لاون گے
مہکاں مُندریاں بن کے ، ساڈے سُتڑے درد جگان گیاں
چھم چھم وگدی، مست ہوا پئی، اُنج ائی پُٹھیاں پڑھدی اے
بُجھدیاں دِیویاں والیاں لاٹاں، ماجدُ کی لہران گیاں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

ہزار نیک سہی کم ہیں پر جہان میں ہم

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 55
بڑے بھی ہیں تو فقط وہم میں گمان میں ہم
ہزار نیک سہی کم ہیں پر جہان میں ہم
توہمات، تمنّائیں اور بے عملی
بسائے رکھتے ہیں کیا کیا یہ قلب و جان میں ہم
پھر اُس کے بعد تھکن اور خواب خرگوشی
دکھائیں تیزیاں کیا کیا نہ ہر اُٹھان میں ہم
نظر میں رکھیے گا صاحب ہمارے تیور بھی
بہت ہی رکھتے ہیں شیرینیاں زبان میں ہم
یہ ہم کہ سبز جزیرہ ہیں بیچ دریا کے
ہیں کتنے سیربس اِتنی سی آن بان میں ہم
کوئی نہیں جو ہم میں سے اتنا سوچ سکے
تنے ہوئے ہیں ہمہ وقت کیوں کمان میں ہم
سخن میں صنفِ غزل جس کا نام ہے ماجد
ہیں محو و مست اِسی اِک سریلی تان میں ہم
ماجد صدیقی

بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
مجھ پر بنے گی گر نہ بنی اُس کی جان پر
بیٹھا ہوں میں بھی تاک لگائے مچان پر
حیراں ہوں کس ہوا کا دباؤ لبوں پہ ہے
کیسی گرہ یہ آ کے پڑی ہے زبان پر
کیا سوچ کر اُکھڑ سا گیا ہوں زمیں سے میں
اُڑتی پتنگ ہی تو گری ہے مکان پر
اُس سے کسے چمن میں توقع امان کی
رہتا ہے جس کا ہاتھ ہمیشہ کمان پر
شامل صدا میں وار کے پڑتے ہی جو ہُوا
چھینٹے اُسی لہو کے گئے آسمان پر
پنجوں میں اپنے چیختی چڑیا لئے عقاب
بیٹھا ہے کس سکون سے دیکھو چٹان پر
کیونکر لگا وہ مارِ سیہ معتبر مجھے
ماجدؔ خطا یہ مجھ سے ہوئی کس گمان پر
ماجد صدیقی

جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 70
گُماں بہار پہ دیپک کی تان جیسا تھا
جو برگ بھی تھا سلگتی زبان جیسا تھا
وُہ دن بھی تھے کہ نظر سے نظر کے ملنے پر
کسی کا سامنا جب امتحان جیسا تھا
یہ کیا ہُوا کہ سہارے تلاش کرتا ہے
وُہ پیڑ بھی کہ چمن میں چٹان جیسا تھا
کسی پہ کھولتے کیا حالِ آرزو، جس کا
کمال بِکھرے پروں کی اُڑان جیسا تھا
تنی تھی گرچہ سرِ ناؤ سائباں جیسی
سلوک موج کا لیکن کمان جیسا تھا
کہاں گیا ہے وُہ سرچشمۂ دُعا اپنا
کہ خاک پر تھا مگر آسمان جیسا تھا
نظر میں تھا ہُنرِ ناخُدا، جبھی ماجدؔ
یقین جو بھی تھا دل کو گمان جیسا تھا
ماجد صدیقی

ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 35
کھٹکا ہے یہ، کسی بھی پھسلتی چٹان پر
ٹوٹے نہ یہ غضب بھی ہماری ہی جان پر
جیسے ہرن کی ناف ہتھیلی پہ آ گئی
کیا نام تھا، سجا تھا کبھی، جو زبان پر
چاہے جو شکل بھی وہ، بناتا ہے اِن دنوں
لوہا تپا کے اور اُسے لا کے سان پر
اُس پر گمانِ مکر ہے اب یہ بھی ہو چلا
تھگلی نہ ٹانک دے وہ کہیں آسمان پر
یک بارگی بدن جو پروتا چلا گیا
ایسا بھی ایک تیر چڑھا تھا کمان پر
تاریخ میں نہ تھی وہی تحریر ، لازوال
جو خون رہ گیا تھا عَلَم پر، نشان پر
ماجدؔ ہلے شجر تو یقیں میں بدل گیا
جو وسوسہ تھا سیلِ رواں کی اٹھان پر
ماجد صدیقی

ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 18
رُخ موڑ دے گا تُند ہوا سے اُڑان کا
ہم پر ہے التفات یہی آسمان کا
کچھ اس طرح تھی ہجر کے موسم کی ہر گھڑی
جیسے بہ سطحِ آب تصوّر، چٹان کا
موسم کے نام کینچلی اپنی اُتار کر
صدقہ دیا ہے سانپ نے کیا جسم و جان کا
کس درجہ پر سکون تھی وہ فاختہ جسے
گھیرے میں لے چکا تھا تناؤ کمان کا
کس خوش دَہن کا نام لیا اِس نے بعدِعمر
ٹھہرا ہے اور ذائقہ ماجد زبان کا
ماجد صدیقی

لیتے رہے امتحان اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 154
ہم تجھ سے ہٹاکے دھیان اپنا
لیتے رہے امتحان اپنا
وہ کچھ نہ بتا کے، جو ہُوا ہے
رکھتی ہے بھرم، زبان اپنا
جُنبش سے ہوا کی ریت پر سے
مٹتا ہی گیا نشان اپنا
حالات بدل چکے تو جانا
برحق تھا ہر اِک گمان اپنا
جتلا کے لچک ذرا سی پہلے
دکھلائے ہُنر کمان اپنا
آیا ہے جو چل کے در پہ تیرے
ماجدؔ ہے اِسے بھی جان اپنا
ماجد صدیقی

عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 122
لبوں پہ گرد ہے اِک زنگ سا زبان پہ ہے
عذاب کیا یہ مسلسل ہماری جان پہ ہے
تمہاری ہاں میں ملائیں گے ہاں نہ کب تک ہم
کچھ اور کوٹئے لوہا ابھی تو سان پہ ہے
نہ اُس شجر کی خبر اِس شجر تلک پہنچے
اِسی خیال سے قدغن ہرِاک اڑان پہ ہے
اُسے یہ ناز ہمارے ہی عجز نے بخشا
بزعمِ خویش قدم جس کا آسمان پہ ہے
پتہ ہے اُس کو نشانوں کے زاویوں کا بھی
وہ جس کی ساری توجہ ابھی کمان پہ ہے
وہ شب کی اوٹ سے کچھ اور ہی نکالے گا
کہ جس کا دھیان دروں پر لگے نشان پہ ہے
اُتر کے دشت میں ماجدؔ رہے نہ یوں شاید
گمان اپنے تحفّظ کا جو مچان پہ ہے
ماجد صدیقی

میں وقت کو دان دے رہا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 6
جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
میں وقت کو دان دے رہا ہوں
موسم نے شجر پہ لکھ دیا کیا
ہر حرف پہ جان دے رہا ہوں
یوں ہے نمِ خاک بن کے جیسے
فصلوں کو اُٹھان دے رہا ہوں
جو جو بھی خمیدہ سر ہیں اُن کے
ہاتھوں میں کمان دے رہا ہوں
کیسی حدِ جبر ہے یہ جس پر
بے وقت اذان دے رہا ہوں
اوقات مری یہی ہے ماجد
ہاری ہوں لگان دے رہا ہوں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑