تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کل

شاید اوہنوں روکے، بّتی اگلے چوک دے سگنل دی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 14
ایس ائی آس تے نسدا جاواں، دھڑکن سُندا پل پل دی
شاید اوہنوں روکے، بّتی اگلے چوک دے سگنل دی
تھوہراں نُوں کھُل دے کے جنّھے، کومل پھُل زنجیرے نیں
باگ کنارے، واڑاں لاؤن دی، سوچ سی ایہہ کِس پاگل دی
کِیہ کہوئیے، کد وڈیاں اپنے، قولاں دی لج رکھنی ایں
نکیاں ہوندیاں توں پئے تکئیے‘ حالت ایہو، اج کل دی
شام دے ویہڑے اودھر، جھوٹ تسلیاں آؤندی فجر دیاں
ایدھر، مارُو پِیڑ کسے وی، دارُو توں پئی نئیں کَھل دی
چار چفیرے کِھلرے تھل نے، ہور اَسن کِیہہ دینا ایں
سِر تے آ کے رُک گئی جیہڑی اوہ دُھپ تے ہُن نئیں ڈھل دی
گلی گلی وچ جتھے، میریاں لختاں، یُوسف بنیاں نیں
ہے بازارِ مصر دا ماجد، یا ایہہ نگری راول دی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)

پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
خون میں برپا اِک محشر سا ہر پل لگتا ہے
پُوری عمر کی دُوری پر آتا کل لگتا ہے
سارا رنگ اور رس ہے اُس کی قربت سے ورنہ
دل ویرانہ لگتا ہے دل جنگل لگتا ہے
آنکھ میں شب کی اوٹ میں کھلتی کلیوں کی سی حیا
اُس کے رُخ پر لپٹا چاند کا آنچل لگتا ہے
اپنے اِک اِک دن کا سورج خون آشام لگے
چہرہ اپنے ہر اخبار کا مقتل لگتا ہے
ہونٹوں پر سے پل پل صحرا کی سی آنچ اُٹھے
آنکھ کا آنگن اشکِ رواں سے جل تھل لگتا ہے
نشۂ جُہل نے اپنے یہاں یُوں سب کو سیر کیا
اپنے عقیدے میں ہر شخص ہی پاگل لگتا ہے
لب پہ رکا ہے آ کر جانے کون سا حرفِ گراں
ماجِد ہاتھ میں اپنا قلم تک بوجھل لگتا ہے
ماجد صدیقی

وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
وُہ کہ ڈسا جانے والا ہے، سنبھل جاتا ہے
اُس کی غرض تو بس سانسیں پی جانے تک ہے
جس کو نگلے دریا اُسے، اُگل جاتا ہے
گود کھلاتی خاک بھی کھسکے پَیروں تلے سے
سرپر ٹھہرا بپھرا امبر بھی ڈھل جاتا ہے
پانی پر لہروں کے نقش کہاں ٹھہرے ہیں
منظر آتی جاتی پل میں بدل جاتا ہے
دُشمن میں یہ نقص ہے جب بھی دکھائی دے تو
رگ رگ میں اِک تُند الاؤ جل جاتا ہے
جس کا تخت ہِلا ہے ذرا سا اپنی جگہ سے
آج نہیں جاتا وہ شخص تو کل جاتا ہے
اِس جانب سے ماجد اُس جانب کے افق تک
ساکن چاند بھی چُپ چُپ دُور نکل جاتا ہے
ماجد صدیقی

اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
اب کے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے، آنکھ نہیں بتلا سکتی
نِندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے، یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بد امنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد
اُتری ہے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
ماجد صدیقی

ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 27
خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی
ایسی کیوں ہے آنکھ نہیں بتلا سکتی
نندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی
لا فانی ہے یہ تو کتابیں کہتی ہیں
روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی
رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بدامنی
دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی
منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد
اتری لگے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑