تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کستا

کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 148
وہ پاس آ بھی گیا پھر بھی دور بستا ہے
کہ جیسے جھیل میں چندا اُتر کے ہنستا ہے
بہ فیضِ وقت ہیں خیمے تمام استادہ
جو توڑ توڑ طنابیں بھی ان کی کستا ہے
وہ برگ گل ہے وہ تتلی کے ہے پروں جیسا
نظر کی آنچ سے اس کا بدن جھلستا ہے
جو ذی مقام ہے، ذی زر ہے، ذی شرف بھی ہے
اسی کا قولِ مبارک اک اک خجستا ہے
سعادتیں بھی سبھی ایٹنٹھتے ہیں زروالے
انہی کے واسطے قُربِ خدا بھی سستا ہے
بندھی ہیں گنجلکیں جن میں خراب نیّت کی
ہماری زیست بھی پٹواریوں کا بستا ہے
ماجد صدیقی

آنے لگا ہوں میں بھی نظر کچھ آدھا سا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
جب سے اُسے دیکھا ہے خود سے کھنچتا سا
آنے لگا ہوں میں بھی نظر کچھ آدھا سا
اُترا تھا جو کل تک ارضِ سماعت میں
آنکھوں سے وہ زہر لگے اب رِستا سا
پوچھتے کیا ہو حال مرا یہ جان ہے اور
ایک شکنجہ چاروں اور سے کستا سا
دشتِ نظر میں کب نت لوٹ کے آتا ہے
اُس کی دید کا موسم بھیگا بھیگا سا
کیا جانوں یہ جان سلگتی ہے کیونکر
پل پل دیکھوں خون رگوں میں جلتا سا
انت ملے کب جانے سُکھ کے سپنوں کو
جو پل آئے دے جائے اک جھانسا سا
ماجدؔ ریت جھنکی پھر اپنی آنکھوں میں
دیکھا ہے پھر منظر ایک اجڑتا سا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑