تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

کدھر

شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
بیٹیاں دھن ہے پرایا اِنہیں گھر جانا ہے
شاخ پر کِھل کے گلابوں نے بکھر جانا ہے
ہم کہ ہیں باغ میں پت جھڑ کے بکھرتے پتّے
کون یہ جانتا ہے کس کو کدھر جانا ہے
ڈھل بھی سکتا ہے جو سورج ہے سروں پر سُکھ کا
کانپ کانپ اُٹھنا ہے،یہ سوچ کے ڈر جانا ہے
گرد ہی لکھی ہے پیڑوں کے نصیبوں میں جنہیں
پل دو پل موسمِ باراں میں نکھر جانا ہے
آخرِ کار دکھائی نہ وُہ دے بُھوت ہمیں
ہم نے جس شخص کو رستے کا شجر جانا ہے
ماجد صدیقی

ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
وُہ جس کے نین نقش اپنے ذہن میں اُتر گئے
ہم اِک اُسی کی جستجو لئے نگر نگر گئے
خیال قُرب اُسی کا سر پہ ابر سا جھُکا رہا
میانِ دشتِ روزگار ہم جدھر جدھر گئے
تھیں اُس کے مُڑ کے دیکھنے میں بھی عجب مسافتیں
حدوں سے شب کی ہم نکل کے جانبِ سحر گئے
دُھلے فلک پہ جس طرح شب سیہ کی چشمکیں
پسِ وصال ہم بھی کچھ اِسی طرح نکھر گئے
اُسی کی دید سے ہمیں تھے حوصلے اُڑان کے
گیا جو وہ تو جانئے کہ اپنے بال و پر گئے
وُہ جن کے چوکھٹوں میں عکس تھے مرے حبیب کے
وُہ ساعتیں کہاں گئیں وہ روز و شب کدھر گئے
ماجد صدیقی

رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے
حاصل تجھے ہے تیرے قدر و رُخ سے یہ مقام
اور ہم بزورِ نطق دلوں میں اُتر گئے
آیا جہاں کہیں بھی میّسر ترا خیال
نِکلے دیارِ شب سے بہ کوئے سحر گئے
جن کے چمن کو تُو نے بہارِ خیال دی
ماجدؔ ترے وہ دوست کہاں تھے کدھر گئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑