تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ڈھلے

پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
گھِر کر بہ سحرِ قُرب بھلا اب کھنچے گا کیا
پگھلے بدن کے ساتھ مجھے تُو کہے گا کیا
خاموش کیوں ہے دے بھی مُجھے اِذنِ سوختن
شُعلہ نظر سے اور بھی کوئی اُٹھے گا کیا
یہ ولولہ مرا کہ ضیا بار تُجھ پہ ہَے
سُورج ہے گر تو میرے اُفق سے ڈھلے گا کیا
خواہش کا چاند آ ہی گیا جب سرِ اُفق
باقی کوئی حجاب بھلا اب رہے گا کیا
یہ لطفِ دید، یہ ترا پیکر الاؤ سا
منظر نگاہ پر کوئی ایسا کھُلے گا کیا
کرتا ہے کیُوں سخن میں عبث نقش کاریاں
ماجدؔ صلہ بھی کوئی تُجھے کچھ ملے گا کیا
ماجد صدیقی

لیکن شکستِ عزم کا طعنہ نہ دے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے
لیکن شکستِ عزم کا طعنہ نہ دے مجھے
جس موج کو گلے سے لگاتا ہوں بار بار
ایسا نہ ہو یہ موجِ الم لے بہے مجھے
میں خود ہی کھِل اُٹھوں گا شگفتِ بہار پر
موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے
سایہ ہوں اور رہینِ ضیا ہے مرا وجود
سورج کہیں نہ ساتھ ہی لے کر ڈھلے مجھے
ماجدؔ ہو کوئی ایسی تمّنا کہ رات دن
بادِ صبا کے ساتھ اُڑاتی پھرے مجھے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑