تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ڈھانے

آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
جانے کیسا واہمہ ہر دل کو دہلانے لگا
آئنوں میں جابجا اِک بال سا آنے لگا
اپنی اپنی سی فراغت ہر کسی کی ہے یہاں
مکھیوں کو پھانس کر مکڑا بھی سستانے لگا
دیکھنے میں فاختہ بھی تو کُچھ ایسی کم نہ تھی
باز ہی کیوں معتبر، جنگل میں کہلانے لگا
لا کے وڈیو سے کھلونے، کھیل یہ بھی دیکھئے
آج کا بچّہ ہے دادی جی کو بہلانے لگا
گھس گیا ابلیس سا اِک شخص ہر اِک شخص میں
کون ہے جو اَب کئے پر اپنے پچتانے لگا
جو بھی زور آور ہے ماجدؔ اُس کا خاصہ ہے یہی
دیکھ لے دریا کناروں کو ہے خود ڈھانے لگا
ماجد صدیقی

وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 22
زچ ہوئے پر جو ذرا سا تھا بدل جانے لگا
وہ ستمگر پھر ڈگر پہلی سی اپنانے لگا
بچ کے پچھلے دشت میں نکلے تھے جس کے سِحر سے
پھر نگاہوں میں وہی اژدر ہے لہرانے لگا
کر کے بوندوں کو بہ فرطِ سرد مہری منجمد
دیکھ لو نیلا گگن پھر زہر برسانے لگا
جُود جتلانے کو اپنی شاہ ہنگامِ سخا
عیب کیا کیا کچھ نہ ناداروں کے دِکھلانے لگا
سُرخرُو اس نے بھی زورآور کو ہی ٹھہرا دیا
حفظِ منصب کو ستم عادل بھی یہ ڈھانے لگا
دل میں تھا ماجدؔ جو سارے دیوتاؤں کے خلاف
اب زباں پر بھی وہ حرفِ احتجاج آنے لگا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑