تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

ڈرنا

کبھی کبھی خوددار کو بھی ڈرنا پڑتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 141
خوشامد کا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے
کبھی کبھی خوددار کو بھی ڈرنا پڑتا ہے
قائداعظم، بھٹو ہونا بھی آساں ہے
پر یوں ہوتے جیتے جی مرنا پڑتا ہے
پنجابی میں ٹھیک کہا کہنے والوں نے
کوتاہی کا ہرجانہ بھرنا پڑتا ہے
اس کے شوخ بدن پہ حکومت خوب ہے لیکن
بیچ میں تن داری کا بھی دھرنا پڑتا ہے
اپنی زباں کے ہیرے بکھرانے سے پہلے
دوسروں کی باتوں کا بھس چرنا پڑتا ہے
نبی ولی تو اب نہیں آتے لیکن اب بھی
موجدوں خلّاقوں کا دم بھرنا پڑتا ہے
ماجد اس دنیا میں بھگتیں ہم وہ سارا
بچّیوں کو سسرال میں جو جَرنا پڑتا ہے
ماجد صدیقی

ایم سی ایس اک اور بھی آپ نے کرنا ہو گا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
نرم روی اپنا کے اور سُدھرنا ہو گا
ایم سی ایس اک اور بھی آپ نے کرنا ہو گا
اندر کی ٹھنڈک سے رکھ کے پروں کو سلامت
پار بکھیڑوں کے صحرا سے اترنا ہو گا
تازہ عزم و عمل اپنا کے گُن دکھلاکے
جیون میں اک رنگ نیا نت بھرنا ہو گا
شام کی گرد میں کھو کے اور پھر تازہ ہو کے
وادیٔ شب سے مثل گلوں کے ابھرنا ہو گا
رکھنا ہو گا پاس سدا ننھوں کی رضا کا
آپ سے ننھوں کو ہرگز نہیں ڈرنا ہو گا
جینے کے فن سے لے کر تخلیقِ سخن تک
اک اک میں کھو جانا اور نکھرنا ہو گا
آپ کا جیون سہل ہوا گر یاور بیٹے
آسودہ ماجِد نے بھی توٹھہرنا ہو گا
مئی۲۰۰۷ء نیپیروِل۔امریکہ
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑