تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

چھپائے

باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
دھیان اوروں کا حقیقت سے ہٹائے رکھنا
باکرہ ماں کی طرح پیٹ چھپائے رکھنا
کیا خبر آ ہی نہ جائے وہ سرِ صبح کہیں
دل میں موہوم سی امید جگائے رکھنا
درس منبر سے بھی رہ سہہ کے ملا اِتنا ہی
جو بھی خواہش ہو اُسے کل پہ اُٹھائے رکھنا
دل سے بالک کے لئے آ ہی گیا ہے ہم کو
ہڈیاں آس کی چُولھے پہ چڑھائے رکھنا
جو نہ کہنا ہو سرِ بزم وہ کہہ دیں ماجدؔ
کچھ بھرم ہم کو محّبت کا نہ آئے رکھنا
ماجد صدیقی

مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
جن کے لائے ہوئے سندیس، بھُلائے نہ گئے
مّدتوں سے وُہ کبوتر کبھی آئے، نہ گئے
ہم نے کشتی کے اُلٹنے کی، خبر تو دے دی
اِس سے آگے تھے جو احوال، سُنائے نہ گئے
جس میں خود پھول بنے رہتے تھے، اہلِ خانہ
اَب کے اُس کُنج میں، گلدان سجائے نہ گئے
جانے بارش، نہ پرندوں کی برستی کیا کیا
تِیر ترکش میں جو باقی تھے، چلائے نہ گئے
کب منانے اُنہیں آئے گا، بچھڑنے والا
وُہ جنہیں، ضبط کے آداب سکھائے نہ گئے
آنکھ میں کرب اُتر آیا، شراروں جیسا
اشک روکے تھے مگر، زخم چھپائے نہ گئے
وُہ کہ تھا بادِ صبا، دے گیا جاتے جاتے
وُہ بگولے، کہ تصّور میں بھی لائے نہ گئے
اُس کے جانے سے، چھتیں گھر کی اُڑی ہوں جیسے
سر سلامت تھے جو، ژالوں سے بچائے نہ گئے
دل میں گر ہیں تو ارادے ہیں، بقا کے ماجدؔ
یہ وُہ خیمے ہیں، جو دشمن سے جلائے نہ گئے
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑