تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

چمن

سارا پیکر اُجاڑ بن ہے مرا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
گرد ہی گرد پیرہن ہے مرا
سارا پیکر اُجاڑ بن ہے مرا
پیرہن میں یہیں بہاروں کا
اور عریاں یہیں بدن ہے مرا
شاخِ پیوستۂ شجر ہوں ابھی
سارے موسم مرے، چمن ہے مرا
وار سہہ کر خموش ہوں ماجدؔ
ہاں یہی تو جیالا پن ہے مرا
ماجد صدیقی
Advertisements

طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 63
کلی کلی کو لپک جس کے بانکپن کی ہے
طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے
ہزار بھنوروں سا اُس کا کریں احاطہ ہم
بدن میں اُس کے بھی خُو بُو بھرے چمن کی ہے
مقامِ شکر ہے وجدان مطمئن ہے مرا
یہی بہا، یہی قیمت مرے سخن کی ہے
ہر اک نظر پہ عیاں ہو بقدرِ حَظ طلبی
تمہیں یہ قید سی کاہے کو پیرہن کی ہے
کھُلی ہے دعوتِ نظارۂِ جمال یہاں
زباں دراز قباؤں کی ہر شکن کی ہے
ترا سلوک تو ماجدؔ بجا ہے جو کُچھ ہے
اُسے بھی جانچ کہ نیّت جو انجمن کی ہے
ماجد صدیقی

جیسے ہربات میں ہو تیرے بدن کی خوشبو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 123
لفظ در لفظ ہے یُوں اب کے سخن کی خوشبو
جیسے ہربات میں ہو تیرے بدن کی خوشبو
اذن کی آنچ سے بے ساختہ دہکے ہوئے گال
جسم امڈی ہوئی جس طرح چمن کی خوشبو
نقش ہے یاد پہ ٹھہرے ہوئے ہالے کی طرح
وصل کے چاند کی اک ایک کرن کی خوشبو
گلشنِ تن سے ترے لوٹ کے بھی ساتھ رہی
کُنج در کُنج تھی کیا سرو و سمن کی خوشبو
تجھ سے دوری تھی کچھ اس طرح کی فاقہ مستی
جیسے مُدّت سے نہ آئے کبھی اَن کی خوشبو
ذکرِ جاناں سے ہے وُہ فکر کا عالم ماجدؔ!
جیسے آغاز میں باراں کے ہو بن کی خوشبو
ماجد صدیقی

لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 38
خاموشیوں میں ڈوب گیا ہے، گگن تمام
لو کر چلے ہیں، سارے پرندے، سخن تمام
وہ خوف ہے، کہ شدّتِ طوفاں کے بعد بھی
دبکے ہوئے ہیں باغ میں، سرو و سمن تمام
وُہ فرطِ قحطِ نم ہے کہ ہر شاخ ہے سلاخ
پنجرے کو مات کرنے لگا ہے، چمن تمام
کس تُندیٔ پیام سے بادِ صبا نے بھی
فرعون ہی کے، سیکھ لئے ہیں چلن تمام
ماجد یہ کس قبیل کے مہتاب ہم ہوئے
لکّھے ہیں، اپنے نام ہی جیسے گہن تمام
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑