تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پھیلائیں

بادل کم کم آئیں پہ جب آئیں تو دیکھو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 98
دنوں مہینوں میں مُکھ دکھلائیں تو دیکھو
بادل کم کم آئیں پہ جب آئیں تو دیکھو
عزم بڑھانے کواپنا، صیّاد پرندے
اُڑنے کو پر اپنے پھیلائیں تو دیکھو
مجرم، اہلِ تخت نہ کیوں ٹھہرائے جائیں
اُن کے زیر نگیں پِٹ پِٹ جائیں تو دیکھو
کورے ورق پر کیا سے کیا لکھا جاتا ہے
جھریاں چہرہ چہرہ پڑ پائیں تو دیکھو
ماجد جیب کھلے بندوں، کیسے کٹتی ہے
تاجرجب اپنا فن جتلائیں تو دیکھو
ماجد صدیقی

اپنے خداوندوں سے کیا کیا ڈھونگ رچائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
شادیوں سے پہلے کی ساری محبوبائیں
اپنے خداوندوں سے کیا کیا ڈھونگ رچائیں
حسن و جمال کے پیکر ناریاں ایسی بھی ہیں
قربت سے جن کی جلّاد بھی موم ہو جائیں
عالمِ رقص میں نظر نظر گولائیاں جھلکیں
لطف و سرور کے پرچم ساتھ اُن کے لہرائیں
دیر ہے تو بس اُس مسند کو پہنچنے کی ہے
تخت پہ صاحبِ تخت کی ہیں سب دُور بلائیں
واعظ کے منہ سے بھی عذاب کی باتیں پھوٹیں
اہلِ صحافت بھی پل پل دہشت پھیلائیں
اُن کے دیارِ شوق سے ہجرت ہے اور ہم ہیں
جن کی سمت سے آتی تھیں نمناک ہوائیں
اس نگری میں محال ہے کیا کیا جینا ماجد
راہ بہ راہ جہاں ہیں بدنظمی کی چِتائیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑