تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پھول

مردُود، بہت مقبول ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
مردُود، بہت مقبول ہُوا
ہر طُول کو عرض کیا اُس نے
اور عرض تھا جو وہ طُول ہُوا
پھولوں پہ تصّرف تھا جس کا
وہ دشت و جبل کی دھُول ہُوا
اِک بھول پہ ڈٹنے پر اُس نے
جو کام کیا، وہ اصول ہُوا
گنگا بھی بہم جس کو نہ ہُوا
جلنے پہ وہ ایسا پھول ہُوا
ہو کیسے سپھل پیوندوں سے
ماجد جو پیڑ، ببول ہُوا
ماجد صدیقی

آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 19
رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
آگ لگتے ہوں جس کے پھول مجھے
جس سے ٹھہرا تھا میں بہشت بدر
سخت مہنگی پڑی وہ بھُول مجھے
بزم در بزم، کرب کا اظہار
کر نہ دے اور بھی ملول مجھے
بات کی میں نے جب مرّوت کی
وہ سُجھانے لگے اصول مجھے
دیکھ کر دشت میں بھی طالبِ گل
گھُورتے رہ گئے ببول مجھے
جس کا ابجد ہی اور سا کچھ تھا
بھُولتا کب ہے وہ سکول مجھے
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑