تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پڑ

مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 62
کم اوقات بھی زور آور سے اکڑ سکتا ہے
مہ کا اثر بھی مہر کی ضَو پر پڑ سکتا ہے
بے غیرت کو اپنے کیے پہ ملال کہاں کا
غیرت مند ہی شرم سے خاک میں گڑ سکتا ہے
سُوکھ کے برگِ گلاب بھی نوکیلا ہو جائے
ہونٹوں میں جو، اُلجھ سکتا ہے، اَڑ سکتا ہے
کام میں لانے کی تنظیم کی بات ہے ساری
دام کا دھاگا شیر تلک کو جکڑسکتا ہے
کرتا ہے فریاد کی لَے وُہ سپرد ہَوا کے
پتّا ورنہ بِن لرزے بھی جھڑ سکتا ہے
آب میں اُترا چاند کسی سے نہ ساکن ٹھہرے
اور پہاڑ بھی اپنی جگہ سے اُکھڑ سکتا ہے
شرط اگر ہے تو وہ مالی کی نااہلی
ماجِد جس سے باغ کا باغ اُجڑ سکتا ہے
ماجد صدیقی

الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 43
احوال ذرا جو بگڑ جائیں
الجھن میں ہمِیں کیوں پڑ جائیں
اچکے کیوں چرخ ہمیں ہی ھلا
کیوں پَیر زمیں سے اُکھڑ جائیں
کیونکر فرمان پہ شاہوں کے
کھالیں جسموں سے اُدھڑ جائیں
طوفاں میں جلالِ ستمگر کے
انگیں کاہے کو اُجڑ جائیں
کیوں کشتی عمر کنارے پر
پہنچے تو لوگ بچھڑ جائیں
موسم کی تُند مزاجی سے
پتّے کیوں پیڑ سے جھڑ جائیں
ماجِد کیوں پینچ وہی ٹھہریں
جو اپنے کہے پر اڑ جائیں
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑