تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پٹواری

سانس لینا خلق کا اُس دیس میں بھاری ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 172
حکمراں انصاف سے خودہی جہاں عاری ہوا
سانس لینا خلق کا اُس دیس میں بھاری ہوا
مقتدربالحرص ہیں جو جبرسے اُن کے، یہاں
گردنوں کے گرد طوقِ عجز ہے دھاری ہوا
ختم کرد ے بُعدبھی بکھرے دھڑوں کے درمیاں
اور فسادِ دیہہ کا باعث بھی پٹواری ہوا
کھاؤ آدھا پیٹ، آدھا ہو نثارِ دیوتا
پاپ جھڑوانے کا نسخہ، ہائے کیا جاری ہوا
خامشی آمر کی ماجِد گل کِھلائے اور ہی
اور سخن ایسا کہ جو وجہِ دل آزاری ہوا
ماجد صدیقی

جانچ لیا جس نے گردن کی دھاری سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
بچتے کیا صّیاد کی ہم عّیاری سے
جانچ لیا جس نے گردن کی دھاری سے
ہم اپنے‘ وُہ اپنے جھنجھٹ لے بیٹھے
کام کی کوئی بات نہ ہو اُس ناری سے
پیڑ مسلسل زد پر آئے پانی کی
کب تک لیں گے کام بھلا جیداری سے
ہتھیا لیں گے رقبہ اپنی مرضی کا
پینچ نظر آتے ہیں ملے پٹواری سے
شیشے پر کچھ حرف لہو کے چھوڑ گئی
مشت پروں کی ٹکرا کر اِک لاری سے
ماجدؔ ہم میں کون چمک تھی سُورج سی
جو بھی ملا ہم سے وُہ ملا بے زاری سے
ماجد صدیقی

ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 33
کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی
ساتھ نہ دے کیونکر اُس کا پٹواری بھی
خرقہ پوش ہیں شہر کی جو جو شَہراہیں
دُور رہے اُن سے شہ کی اسواری بھی
جس گوشے میں چاہے حرص کا مال سجے
اُس جانب آ جاتے ہیں بیوپاری بھی
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑