تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پشیماں

دھجیوں کا ہُوا گلدان، گریباں نہ ہُوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 170
شدّتِ خبط کا یہ تو کوئی عنواں نہ ہُوا
دھجیوں کا ہُوا گلدان، گریباں نہ ہُوا
تلخیوں کی کوئی حد اور نہ ہے کوئی حساب
بس یہ اِک دل ہے ہمارا کہ پریشاں نہ ہُوا
اِس خرابی کو بھی تم کفر کے لگ بھگ سمجھو
جو بھی ضدّی ہے کیے پر وہ پشیماں نہ ہُوا
مائیں بچّوں سے بچھڑتی ہیں تو روئیں جیسے
یوں تو بادل بھی کبھی پیار میں گریاں نہ ہُوا
باغ کا یوں تو نہ مفہوم بدلتے دیکھا
زردیوں کا ہُوا طوفان، گلستاں نہ ہُوا
نام پیاروں کے رِہا ہوتے پرندے دیکھے
نہ ہُوا گر تو ہماراکوئی پُرساں نہ ہُوا
تُو نے دی اِس کو لغت اور طرح کی ماجد!
تُجھ سا پہلے تو کوئی شخص غزلخواں نہ ہُوا
ماجد صدیقی

بادلوں سا ہے میّسر مجھے ذیشاں ہونا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 167
مجتمع ہونا، بہ یک وقت پریشاں ہونا
بادلوں سا ہے میّسر مجھے ذیشاں ہونا
زندگی میں کبھی وہ دن بھی فراہم تھے مجھے
بیٹھنا بِیچ میں بچّوں کے، گُلِستاں ہونا
میں ہوں شہکارِ خدا، میں نہ خدا کہلاؤں
مجھ کو یہ طَور سکھائے مرا انساں ہونا
گاہے گاہے جو سخن میں نہیں حدّت رہتی
طبعِ شاعر کا ہے یہ، مہرِ زمستاں ہونا
زر کہ جو وجہِ بشاشت ہے کہاں اپنا نصیب!
ہے تو قسمت میں فقط، رنجِ فراواں ہونا
وہ کہ ہیں اہلِ وسائل انہیں کھٹکا کس کا
ہے اُنہیں ہیچ غمِ جاں، غمِ جاناں ہونا
گاہے گاہے کی خطا ہے مرا خاصہ ماجد!
اور یہ عظمت ہے مری اس پہ پشیماں ہونا
ماجد صدیقی

ہو کے معزول حدِ ملک سے عُریاں نکلا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 164
غاصبِ تخت نہ جو صاحبِ ایقاں نکلا
ہو کے معزول حدِ ملک سے عُریاں نکلا
لوٹ کر پر بھی نشیمن میں نہ اُس کے پہنچے
گھونسلے سے جو پرندہ تھا پرافشاں نکلا
ہاں وہی کچھ ہی تو رکھتے ہیں سیاست داں بھی
ہیروئن والوں کے گھر سے ہے جو ساماں نکلا
عدل خواہی کی اذاں کیسے لبوں پر آتی
شہر کا شہر ہی جب شہرِ خموشاں نکلا
فیصلے اور کے توثیق تھی جن پر اُس کی
وہ بھی انصاف کے حُجلوں سے پشیماں نکلا
تھا بدن جس کا ہمیں حفظ کتابوں جیسا
ہم سے وہ شخص بھی ابکے ہے گریزاں نکلا
تیرا ہر بَیت ہے کھنگال کے دیکھاہم نے
آج کا عہد ہی ماجد ترا عنواں نکلا
ماجد صدیقی

پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
خلق نے تو اس کو ایسے میں بھی ذی شاں کہہ دیا
پر شہِ بے پیرہن کو میں نے عریاں کہہ دیا
رزق نے جس کے مجھے پالا ہے جس کا رزق ہوں
کہہ دیا اس خاک کو میں نے رگِ جاں کہہ دیا
اِس تمنّا پر کہ ہاتھ آ جائے نخلستاں کوئی
خود غرض نے دیکھ صحرا کو گلستاں کہہ دیا
ہمزبانِ شاہ وہ بھی تھے جنہوں نے آز میں
رات تک کو، یار کی زلفِ پریشاں کہہ دیا
میں وہ خوش خُو جس نے دو ٹانگوں پہ چلتا دیکھ کر
شہر کے بن مانسوں تک کو بھی انساں کہہ دیا
کیا کہوں کیوں میں نے سادہ لوح چڑیوں کی طرح
وقفۂ شب کو بھی تھا صبحِ درخشاں کہہ دیا
اس کے ناطے، درگزر جو محض عُجلت میں ہوئی
گرگ کو بھی بھیڑ نے ماجدؔ پشیماں کہہ دیا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑