تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پر

ہم کس کج نظمی کی، پیہم زد پر ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 202
جگہ جگہ آنکھوں میں چُبھتے منظر ہیں
ہم کس کج نظمی کی، پیہم زد پر ہیں
گُن جتلاتے ہیں کیوں ہم، آقاؤں سے
ہم جو حلقہ بگوشی ہی کے خُوگر ہیں
خودی کمائی ہے کیا؟چھینا جھپٹی سے
اوج نشینوں نے، جو سارے خود سر ہیں
عدل گہوں پر بھی ہے گماں زندانوں کا
عادل تک بھی جہاں کے اسیرانِ زر ہیں
نرخوں اور رویّوں تک میں دہشت کے
چُھپے ہُوئے کیا کیا پُھنکارتے اژدر ہیں
کب سے چِھنی ہے اِن سے جانے خوش خُلقی
شہر شہر کیونکر اُجڑے، بستے گھر ہیں
کانوں میں تو گُونج صدائے فلاح کی ہے
حال ہمارے ہی ماجد کیوں ابتر ہیں
ماجد صدیقی

بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 191
اہلِ دل اہلِ نظر اہلِ ہُنر ہونے تک
بِیج کو وقت ہے درکار شجر ہونے تک
پوچھنا چاہو تو اربابِ طرب سے پوچھو
کیا سے کیا چاہیے سُرخاب کا پر ہونے تک
معتقد قیس کے فرہاد کے ہوکر دیکھو
اپنے قدموں میں سجنوا کا نگر ہونے تک
سینہ زوری کوئی برتے کوئی سٹہ بازی
کیا سے کیا منزلیں ہیں صاحبِ زر ہونے تک
یہ تو شاہین ہی جانیں کہ ہے کب تک ممکن
فاختاؤں کا سفر لقمۂ تر ہونے تک
قربِ جاناں کا ہے محدود میّسر آنا
دل کے جل اُٹھنے تلک، آنکھ کے تر ہونے تک
یہ تو ماجد ہی بتائے گا ہے کتنی کتنی
موت سے دست و گریبانی اَمَرہونے تک
ماجد صدیقی

لگے ہے جیسے کسی شاہ پر کودیکھا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
قلم کو دیکھا ہے رختِ ہنر کو دیکھا ہے
لگے ہے جیسے کسی شاہ پر کودیکھا ہے
وہ جس سے سے لمس و قرابت کے ہیں مزے منسوب
بڑی کریدس سے، ہاں اُس شجرکودیکھا ہے
کسی کے دم سے جہاں رونقیں تھیں رقص کناں
بہت اداس بھی پھر اس نگر کودیکھا ہے
شکار ملنے پہ جو سرفراز لگتا تھا
خفیف رُو بھی اسی شیرِ نر کودیکھا ہے
دلوں کے تاج شب و روز ہیں بہم جس کو
بڑے ہیء ٹھاٹھ میں اُس تاجور کودیکھا ہے
وہ جس کی نِت کی دِہاڑی پہ ہو گزر ماجد
کب اُس غریب نے انبارِ زرکودیکھا ہے
ماجد صدیقی

آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 127
سانس کے پل پل سفر کا لطف لے
آنکھ میں مچلی نظر کا لطف لے
ساتھ لاتا ہے جو پیاروں کا ملاپ
انگناں انگناں اُس سحر کا لطف لے
اوس سے بھیگے جو وصلِ یار کے
پھول جیسے اُس پہر کا لطف لے
کربِ خلقت کے سبب بڑھتا ہے جو
تن میں اُس سوزِ جگر کا لطف لے
وہ کہ جو اظہارِ خوبی پر ملے
جی کہے تو ایسی زر کا لطف لے
جب مخالف ہو ہوائے دہر تو
سنسناتے بال و پر کا لطف لے
ہاں عطا ہے سب سے ہٹ کر جو تجھے
تُو بھی ماجد اُس ہنر کا لطف لے
ماجد صدیقی

جنت ہی کا نمونہ ٹھہرے اپنا گھر بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 110
پھول مرے انگناں میں بھی ہیں ہونٹوں پربھی
جنت ہی کا نمونہ ٹھہرے اپنا گھر بھی
موسم ہی ہے پالنے والا ہمیں پھہاروں
موسم ہی کرنے والا ہے زیر و زبر بھی
کیسے فرشتہ ٹھہرے، اور شیطان ہو کیسے؟
انساں ہی میں خیرہے انساں ہی میں شر بھی
گھر سے نکل کے گھر لوٹ آنا مشکل لاگے
کنواں بنی ہے موت کا اک اک راہگزر بھی
کھلی فضاؤں میں بھی اُڑانیں ہیں آزردہ
موم لگے لگتے ہیں اپنے بال و پر بھی
پاس ہوں یہ تو آدمی سونا ورنہ مٹی
ماجد جی کیا چیزیں ہیں یہ سیم و زر بھی
ماجد صدیقی

زمیں پہ برق کے زورِ ہنر کو دیکھتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 95
وہ جس پہ کوند گئی اس شجر کو دیکھتے ہیں
زمیں پہ برق کے زورِ ہنر کو دیکھتے ہیں
کوئی تو رُخ ہے نہاں جمگھٹے میں زلفوں کے
سیاہ رات کے انگناں سحر کو دیکھتے ہیں
پیامِ یار پہ پیہم لگے ہیں گوش و نگاہ
کبوتروں کے کُھلے بال و پر کو دیکھتے ہیں
عقاب ٹوٹتے دیکھیں جو فاختاؤں پر
ہم اپنے حق میں روا خیروشر کو دیکھتے ہیں
ہم اس کے روپ میں ملزم جو واگزار ہوا
نجانے کیوں پسِ انصاف، زر کو دیکھتے ہیں
جو پھڑپھڑائے فضا میں بہ شکل شاہ سُرخی
جو رن سے آئےُنامہ بر کو دیکھتے ہیں
کبھی نہ اگلا سفر کر سکیں وہ طے ماجد
مآلِ کار جو رنجِ سفر کو دیکھتے ہیں
ماجد صدیقی

جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
آنکھوں سے تری جو ہویدا ہے وہ کیف کسی منظر میں کہاں
جو تیری قرابت میں ہے نشہ وہ اور کسی ساغر میں کہاں
تُو بات کرے توپھول جھڑیں مستی چھلکے تری آنکھوں سے
جو طنطنہ تیرے سخن میں ہے وہ اور کسی کے ہنر میں کہاں
جو باس جلو میں ترے ہے سجن کیا کہنے اُس کی تمازت کے
جو تیری نگاہ میں ہے جاناں! گرمی وہ حصولِ زر میں کہاں
تن من کو جو پل میں جگا ڈالے مائل جو کرے جل مِٹنے پر
جو آنکھ تری میں شرارت ہے، وہ اور کسی بھی شرر میں کہاں
جو ذہن و بدن کو جِلا بخشے، حدّت جو لہو کو دلاتی ہے
جو یاد تری سے ہے وابستہ وہ تازگی رُوئے قمر میں کہاں
قدموں میں جو تاب و تواں اُتری کب جسم میں ایسی توانائی
چلنے میں شرف ہے جو سمت تری وہ اور کسی بھی سفر میں کہاں
جس عمر میں چاہتے ہو کہ بڑھو پھر رفعتِ قاف کی جانب تُم
ایسی بھی توانائی ماجِد! اِس عمر کے بال و پر میں کہاں
ماجد صدیقی

یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
رب نزدیک ہے یا گھونسا زورآور کا
یا ذی عقل بھی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
اُس کے بعد تناؤ ہے جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رب نزدیک ہے یا مُکّا زورآور کا
یا ذی عقل ہی اپنالے خاصہ خر کا
باہرکی افواہیں گردش میں ہیں مدام
کوئی نہیں جو حال سنائے اندر کا
لغزش لیسی ہو فردوس بدر کردے
دیکھنا پڑے بکھیڑا پھر جیون بھر کا
ملکوں کو چرکے کم کم ہی لگتے ہیں
لگے تو لگے سقوطِ ڈھاکہ سا چرکا
وہ جو شکاری کی تسکین کا ساماں ہے
دھڑکا لگا رہے ہرآن اُسی شر کا
آندھی کس کس سے جانے کیا کیا چھینے
اندیشہ ہے ہمیں تو وہ، بال و پر کا
تُو کہ ہے طُرفہ گو آغاز سے ہی ماجد!
چرچاکیوں نہ ہُوا پھر تجھ سے سخنور کا
ماجد صدیقی

Create a free website or blog at WordPress.com.

Up ↑