تلاش

ماجد صدیقی

شاعرِ بے مثال ماجد صدیقی مرحوم ۔ شخصیت اور شاعری

ٹیگ

پاسباں

ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 197
امدادِ غیب کا ہمیں کوئی گماں نہیں
ہم وہ ہیں جن کے سر پہ کہیں آسماں نہیں
اِتنا تو اُس کے سامنے مشکل نہ تھا کلام
چھالا ہے اب تو جیسے دہن میں زباں نہیں
تیرِ نظر کی چاہ نے ایسا سُجھا دیا
ابرو ہے تیرا سامنے، کوئی کماں نہیں
کم نرخ کر لیے ہیں شہِ شہر نے تو کیا
کم کر لیے ہیں باٹ ہمیں کچھ زیاں نہیں
بولوں میں کھوٹ ہو تو ملیں رازداں بہت
بولیں کھرا کھرا تو کوئی ہمزباں نہیں
جب سے ہوس ہوئی اُسے ملبوس شاہ کی
اُس روز سے ہمارا کوئی پاسباں نہیں
ضو بھی ہے اِس میں اور تحّرک بھی ہے عجب
ماجد کا ہے کلام یہ ماہِ رواں نہیں
ماجد صدیقی

اور ابھی دکھائیگا زور آسماں اپنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 166
برق و رعد کے ہاتھوں باندھ کر سماں اپنا
اور ابھی دکھائیگا زور آسماں اپنا
دیکھ لو، پُھنکا آخر، کب تلک بچا رہتا
زد پہ سازشوں کی تھا یہ جو آشیاں اپنا
آنکھ آنکھ اُترا ہے زور ژالہ باری کا
کھیتیاں اُجاڑ اپنی، گاؤں بے نشاں اپنا
خود نہ اُس سے کہہ پائے گر تو اُس پہ کیا کُھلتا
رہ گیا وہ ہکلاتا تھا جو ترجماں اپنا
سچ کہیں تو نِت کا ہے المیہ ہمارا یہ
گھر کے راج پر جھپٹے ہے جو پاسباں اپنا
وہ بھی دل میں رکھتی تھیں ساجنا ہمیں سا جو
کرب وُہ نہ کہہ پائیں ہم سے، تتلیاں اپنا
ماں نے جو بھی چاہا تھا ہم نے کر دکھایاہے
فیضِ عزم سے ماجد! نطق ضَو فشاں اپنا
ماجد صدیقی

اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 86
ہمارے آپ کے، ہونے لگے ہر شب، زیاں کیا کیا
اور اس پر عجز دکھلائے گلی کا پاسباں کیا کیا
غلامانِ غرض سے، حال اِس پونجی کا، مت پُوچھو
بسا رکھے ہیں ماتھوں میں، نجانے آستاں کیا کیا
صدی کے نصف تک پر تو، اُنہی کا راج دیکھا ہے
نجانے اِس سے آگے ہیں ابھی محرومیاں کیا کیا
کبھی اشکوں کبھی حرفوں میں، از خود ڈھلنے لگتے ہیں
لئے پھرتی ہے ماجدؔ آبلے، اپنی زباں کیا کیا
ماجد صدیقی

گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
بس اتنا سا زیاں ہونے لگا ہے
گھروندا بے نشاں ہونے لگا ہے
غبارہ پھٹ کے رہ جانے کا قّصہ
ہماری داستاں ہونے لگا ہے
وُہ بھگدڑ کارواں میں ہے کہ جیسے
لُٹیرا پاسباں ہونے لگا ہے
رُکا تھا لفظ جو ہونٹوں پہ آ کر
وُہ اَب زخمِ زباں ہونے لگا ہے
نظر میں جو بھی منظر ہے سکوں کا
بکھرتا آشیاں ہونے لگا ہے
جو تھا منسوب کل تک گیدڑوں سے
اَب اندازِ شہاں ہونے لگا ہے
نظر میں تھا جو چنگاری سا ماجدؔ
وُہ گل اَب گلستاں ہونے لگا ہے
ماجد صدیقی

تن گیا آسماں کماں جیسا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ابروئے چشم دشمناں جیسا
تن گیا آسماں کماں جیسا
جبر کے موسموں سے زنگ آلود
جو بھی تھا برگ، تھا زباں جیسا
بھُولنے پر بھی دھیان جابر کا
پاس رہتا ہے پاسباں جیسا
جو بھی ہوتا ہے دن طلوع یہاں
سر پہ آتا ہے امتحاں جیسا
ہے نظر میں جو خواب سا ماجدؔ
ہے کوئی سروِ گلستاں جیسا
ماجد صدیقی

WordPress.com پر بلاگ.

Up ↑